طوطا، طوطی اور منصف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر ذی روح اور جاندار کا یہ بنیادی حق ہے کہ اس کو ایسی جگہ اور ماحول میسر ہو جہاں وہ اپنے اور اپنے خاندان کے ساتھ خوش و خرّم اور بے خوف زندگی گزار سکے۔ جب سے یہ زمین بنی ہے اس کے اوپر بسنے والے چاہے انسان ہوں پرندے ہوں جانور ہوں اپنی بہتر زندگی گزارنے کے لے ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتے آے ہیں اور یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور جاری رہے گا۔

پرانے زمانے کا قصّہ ہے کہ ایک طوطا اور طوطی نے کسی بنجر اور بیابان جگہ کو چھوڑ کر ایسی کسی جگہ کے لے رخت سفر باندھا جہاں پر انھیں کھانے پینے کی کوئی دقّت نہ ہو۔ وہ روزانہ کئی کئی میل سفر کرتے، جب تھک جاتے اور جہاں پر رات پڑ جاتی تو آرام سے زمین پر کسی بھی جگہ کو رات گزارنے کے لے استعمال کرتے اور صبح سویرے مونھ اندھیرے پھر محو پرواز ہوتے اور اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہو جاتے۔

کئی دنوں کی مسافت کے بعد کسی ایسی جگہ پر پہنچے جو ایک ویران سا شہر تھا جہاں پر کوئی زی روح انھیں نظر نہیں آیا۔ دونوں نے اپس میں مشورہ کیا کہ رات ہو گئی ہے چلیں آج رات اسی بنجر و برباد شہر میں گزارتے ہیں۔ دونوں زمین پر اتر آتے ہیں اور ایک ویران سے درخت پر بیٹھ جاتے ہیں۔ اب انہوں نے باقی راتوں کی طرح اس رات کو بھی کسی طرح گزارنا ہے اور آپس میں باتیں کرنی شروع کر دیتے ہیں۔ رات نے تو بسر ہو ہی جانا تھا مگر:

فرق ہے رات رات میں پیارے
رات کس کی بسر نہیں ہوتی

اپنے ارد گرد بنجر اور ویرانی کو دیکھ کر طوطی بولی کہ میں نے سنا ہے جہاں ایسی ویرانی اور نحوست ہو گی وہاں پر الو ضرور ہوتا ہے اور یہ سب نحوست اس الو کی وجہ سے بستیوں پر آتی ہے۔ یہ بہت منحوس پرندہ ہے پتا نہیں ہمارے پرندوں میں یہ کیوں پیدا ہو گیا ہے۔ طوطے نے بھی اپنی بیوی کی ہاں میں ہاں ملائی اور کافی دیر تک الو پر سیر حاصل گفتگو ہوتی رہی اور ایک دوسرے کی تائید سے دونوں کو یقین کامل ہو گیا کہ واقعی یہ بستیاں الو کی وجہ سے برباد ہوتی ہیں۔

اتفاق سے یہ میاں بیوی کی ساری گفتگو کہیں نزدیک بیٹھا الو سن رہا تھا جب ساری گفتگو سن چکا تو اپنی جگہ سے اڑ کر طوطا اور طوطی کے پاس ا گیا اور ان دونوں کے ساتھ گفتگو شروع کر دی۔ دونوں میاں بیوی کو اب تو پکا یقین ہو گیا کہ ہم جو گفتگو کر رہے تھے وہ واقعی صحیح تھی۔ الو نے کہا کہ آپ آج رات میرے مہمان ہیں مجھے آپ خدمت کا موقع دیں۔ دونوں میاں بیوی نے الو کی مہمان داری قبول کی اور الو نے اس رات ان دونوں کی بہت خاطر مدارت کی۔ الو کی خاطر مدارت دیکھ کر دونوں دل ہے دل میں شرمندہ ہوئے کہ ہم الو کے بارے کیا کیا باتیں کر رہے تھے اور یہ تو بہت بھلا مانس پرندہ نکلا اور ہمارے ساتھ بہت عزت اور احترام سے پیش آیا۔

طوطا اور طوطی نے رات بہت سکون سے گزاری اور صبح دونوں اپنے سفر پر روانہ ہونے کے لے تیار ہوئے اور الو سے جانے کی اجازت چاہی الو نےطوطے سے کہا جی آپ شوق سے جائیں مگر طوطی نہیں جا سکتی۔ طوطا بولا وہ کیوں نہیں جا سکتی؟ الو نے کہا وہ اس لے کہ طوطی میری بیوی ہے۔ طوطا حیران ہوا کہ یہ کیسے ممکن ہے طوطی میری بیوی ہے ہم اتنے دنوں سے اکٹھے سفر کر رہے ہیں اور یہ میری نسل سے ہے آپ کی بیوی کیسے ہو سکتی ہے؟ طوطی اور طوطا دونوں پریشان ہو گئے کہ اس آفت سے کیسے جان چھڑائیں؟ اسی شش و پنج میں طوطے کے ذہن ممیں ایک تجویز آئی اور اس نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں کسی انسان سے انصاف کروا لیتے ہیں جو کہ نہ تمہاری نسل سے ہیں اور نہ ہے ہماری نسل سے۔ طوطے کو یقین ہو گیا کہ یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔

اتفاق ہو گیا دونوں فریقین کا کہ انصاف کسی انسان سے ہی کروانا ہے۔ اب یہ تینوں کسی انسان کے انتظار میں بیٹھ گئے۔ طوطی نے دعا مانگنی شروع کر دی کہ اے اللہ کوئی اپنا بندہ بھیج دے یہاں پر تو دور دور تک کوئی انسان نظر نہیں آتا۔ طوطی کی دعا قبول ہوئی اور نیچے کسی انسان کو گزرتے ہوئے دیکھا اور فورا طوطے سے کہا کہ اس کو روکو تاکہ یہ ہمارامسئلہ حل کرتا جائے۔ مسافر کو آواز دی گئی اور طوطے نے رو رو کر اپنی بپتا سنائی اور الو کی نا انصافی کا بتایا کہ الو کہتا ہے طوطی میری بیوی ہے آپ خود انصاف کریں کیا ایسا ممکن ہے؟

منصف انسان نے دونوں کا موقف سنا اور فیصلہ الو کے حق میں کر دیا کہ طوطی الو کی بیوی ہے اور یہ فیصلہ سنانے کے فورا بعد وہاں سے چلا گیا۔ طوطا حیران اور پریشان ہو گیا کہ منصف انسان نے یہ کیسا فیصلہ دے دیا مگر منصف بھی اس نے خود تجویز کیا تھا اس لے کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا ناچار وہاں سے اکیلا جانے کی تیاری کرنے لگا بہت ہی مغموم تھا دل برداشتہ تھا کیا کر سکتا تھا۔ طوطی کو خدا حافظ کہا اور جانے لگا تو الو نے اسے روکا اور کہا کہ یہ تمہاری بیوی ہے اس کو اپنے ساتھ لیتے جاؤ میں تو تمہیں یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ بستیاں اور شہر الو کی نحوست کی وجہ سے نہیں اجڑتے بلکہ جہاں انصاف نہ ہو وہاں بستیاں اور شہر ایسے ویران اور بنجر ہو جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •