پشاور میٹرو ووٹ نہیں دلوائے گی کپتان صاحب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا ٹریفک ہی پشاور کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ـ  پشاور لاہور، روالپنڈی اور کراچی جیسا بڑا شہر نہیں ہے ـ نہ ہی اس کی ویسی آبادی ہے  ـ پشاور چمکنی سے شروع ہوکر کارخانو مارکیٹ پر ختم ہوجاتا ہے ـ سارا شہر 92یونین کونسل پر مشتمل ہے۔ اس شہر سے آنے جانے کے کل  122راستے نکلتے ہیں۔ ان راستوں سے آپ پشاور میں داخل ہو سکتے ہیں ۔

افغان جہاد کے دوران پشاور کو بڑا نقصان ہوا ـ  25لاکھ سے زیادہ افغانی پاکستان میں داخل ہوئے۔ زیادہ تر یہ لوگ پشاور ہی پہنچے۔ اس سے مقامی معیشت کو نقصان پہنچا جبکہ افغانوں نے یہاں روزگار کے مواقع حاصل کیے۔ امریکہ جب ستمبر گیارہ کے بعد افغانستان پر حملہ آور ہوا تو پھر پشاور کو نقصان پہنچا ۔   نیٹو سپلائی نے یہاں کی سڑکوں کو تباہ کر کے رکھ دیا ۔ آگ پرائی ہے اور رل پشاور کے لوگ رہے ہیں ۔

مختلف حکومتیں آئیں لیکن پشاور شہر کے مسائل بڑھتے رہے ۔ ایم ایم اے کا دور گزرا اے این پی آئی اب پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ سب نے اپنے تجربات کیے ۔ پی ٹی آئی نے بیوٹیفیکیشن کے نام پر شہر کی سڑکوں پر پھول لگائے ۔ اس کام پر  جس پر ایک اندازے کے مطابق 52کروڑ روپے لگے۔ یہ خرچہ اس حکومت نے اس وقت کیا جب یہ پشاور میٹرو (بی آر ٹی، بس ریپڈ ٹرانزٹ ) کا منصوبہ بنا چکے تھے۔ جماعت اسلامی پشاور  میں ریل چلانے کے منصوبے پر اصرار کر رہی تھی ۔

سیاسی سکورنگ کے لئے حیات اباد فلائی اوور بنا کر بھی عوام کو ذلیل ہی کیا گیا ۔ یہ فلائی اوور اب سیلفی برج کے نام سے مشہور ہے ۔ اب پشاور میٹرو شروع کر کے جو سڑکوں کے کنارے بیوٹیفیکشن کے نام پر کام کیاتھا ان کا ستیاناس کردیا گیا۔ اور وہ 52کروڑ روپے کا نقصان الگ ہوا ہے ۔بی آر ٹی کا منصوبہ  یہ کہہ کر شروع کیا گیا ہے کہ ٹریفک پشاور کا سب سے بڑا مسلہ ہے ۔

کہا جا رہا ہے کہ اس سے عوام کو ریلیف ملے گا ـ سڑکیں کشادہ ہونگی 52ارب کا منصوبہ اب تک 61ارب کی لاگت تک پہنچ گیا ہے ـ منصوبے پر دن رات کام ہو رہا ہے ۔ اس کام کی حقیقت یہ ہے کہ بنیادی ڈیزائن منظور کیے بغیر ہی شروع کر دیا گیا ہے ۔ خبریں چھپ چکی ہیں کہ اکیس مقامات کی ری ڈیزائننگ ہو رہی ہے ۔ بغیر سوچے سمجھے شروع کیے کام کی وجہ  سے عوام کی تکالیف میں اضافہ ہوگیا ہے ـ

ریلیف پہنچانے والا منصوبہ فی الحال مصیبت بن چکا ہے ـ صبح سے رات گئے تک ٹریفک جام کا مسئلہ طویل تر ہوتا جا رہا ہے ـ جس میں کمی کی بجائے تیزی آرہی ہے ـ لوگوں  نے نت نئے راستے ڈھونڈ لیے ہیں ۔ ان چھوٹی سڑکوں پر بھی رش بہت بڑھ چکا ہے۔ بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے گاڑیاں پھنسی رہتی ہیں ۔ لڑائیاں الگ ہوتی ہیں لوگ کڑہتے ہوئے جاتے ہیں ۔ بدحال گھروں کو واپس آتے ہیں ۔

سکول کالجوں یونیورسٹی کے طلباء سمیت ملازمت پیشہ افراد کو ڈیوٹیوں پر جانے میں شدید مشکلات کا سامنا  ہے ـ. لوگوں کی اکثریت تحریک انصاف کی حکومت کو جو کچھ کہہ رہی ہے وہ لکھا نہیں جا سکتا ۔ اک تاثر بنتا جا رہا ہے کہ سیاسی ساکھ بچانے کے لئے پرویز خٹک نے بی ار ٹی منصوبہ شروع کیا ہے ۔ یہ منصوبہ مکمل کر کے پرویز خٹک پشاور سے ووٹ لینا چاہ رہے ہیں ۔پشاور کی قومی اور صوبائی سیٹوں میں پہلے ہی اضافہ ہو چکا ہے ۔

لوگوں کو یاد ہے کہ کیسے عمران خان نے میٹرو  کی مخالفت کی تھی ۔ وہ کہا کرتے تھے کہ نواز شریف میٹرو پر سیاست کر رہا ہے ـ یہ وہ منصوبے بناتے ہیں جو دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ قوم کے پیسوں کا ضیاع ہے ۔ کپتان کا دعوی تھا کہ وہ ادارے تعمیر کرے گا۔ اب وہ نوازشریف کی نقل مار رہا ہے ۔ کپتان جو مرضی کہتا رہے میٹرو کو لوگ نوازشریف کا ہی منصوبہ مانتے ہیں ۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت جب کچھ نہیں کر سکی تو اب نوازشریف کی ہی نقل مار کر اپنی عزت بچانا چاہتی ہے ۔

یہ پرویز خٹک  اور تحریک انصاف کی پشاور سیاست کا حال ہے لوگوں میں ۔ ان کو پتہ ہی نہیں کہ یہ  کس چیز پر سیاست کر رہے ہیں ۔ پشاور کی وہ سڑکیوں جو سیکیورٹی کے نام پر بند کر دی گئی ہیں ۔ جہاں سیکیورٹی چیک پوسٹ بنائی گئی ہیں ۔ ان کو ہی پہلے کی طرح بحال کر دیا جاتا تو اس منصوبے کی شائد ضرورت ہی نہ ہوتی۔

خیبر روڈ جس پر آرمی اسٹیڈیم واقع ہے  دن رات  کھلی ہوتی تھی۔  مگر  اب اس پر چیک پوسٹیں بن چکی ہیں ۔ جب دل چاہے سیکیورٹی کے نام پر اسے بند کر دیا جاتا ہے ۔ سارے شہر کی ٹریفک جام ہو جاتی ہے ۔ اسی طرح کینٹ بھی ایک زمانے میں کھلا ہوتا تھا۔ وہاں بھی ایسی ہی پابندیاں لگ گئیں ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہو گئی ۔

جب سے یہ حکومت آئی ہے اس نے خیبر پختونخوا کو بھی پشاور کو  بھی  پھاٹک لگا لگا کر پھاٹکستان بنا کر رکھ دیا ہے ۔

پھاٹک بھی ایسے ہیں جہاں شہریوں پر بندوقیں تان لی جاتی ہیں ۔ شہریوں کے سامنے خواتین کے سامنے سڑک پر ہی لوگوں کو مرغا بنا دیا جاتا ہے ۔ صوبائی حکومت کو ان مسلوں کی جانب دھیان دینا چاہئے تھا ۔ ٹریفک کو اگر یہ مسلہ سمجھتے تو ٹریفک میں رکاوٹ کی وجوہات ختم کرتے ۔ یہ میٹرو منصوبہ صوبائی حکومت کا واحد میگا پراجیکٹ ہے ۔

یہ منصوبہ ان کے خیال میں ان کے لیے ووٹ اور نوٹ کی مشین ہو گا ۔ اس پراجیکٹ کے باعث عوام رل رہے ہیں ۔ یہ بن بھی گیا تو اس کے ڈیزائن میں کئی خرابیاں ہیں ۔ ان خرابیوں کی وجہ سے لوگ بعد میں بھی خوار ہی ہونگے ۔ میٹرو کے روٹ پر بی آر ٹی کی بسیں ہی چلیں گی ۔ باقی بسیں دوسرے روٹ استعمال کریں گے ۔ کئی یو ٹرن ختم ہو جائیں گے ۔ کئی سڑکوں کا مین روڈ سے لنک بلاک ہو جائے گا ۔ ٹریفک کا مسلہ پہلے سے بھی بڑھ جائے گا ۔

اس منصوبے سے کہیں بہتر تھا کہ اتنے بڑے بجٹ کے ساتھ نئی سڑک ہی بنا لی جاتی ۔ پشاور ایک ہی سڑک پر آباد ہے اسی سڑک کے اوپر ایک اور سڑک فلائی اوور کی طرح تعمیر کر لی جاتی تو سارے مسائل حل ہو جاتے ۔ پشاور میں داخل ہونے والے   پوائنٹ کو بہتر کر لیا جاتا ۔  جو روڈ جا بجا بند کئے گئے ہیں وہ کھول دئیے جائیں تو بھی شہر کی ٹریفک کا مسلہ حل ہو سکتا ہے ۔

اپریل کے مہینے میں افتتاح کی تاریخ دے کر صوبائی حکومت خود کو لوگوں کو فول بنا رہی ہے ۔ پشاور میٹرو پراجیکٹ بننے کے بعد بھی اپنے مسائل کی وجہ سے پی ٹی آئی کے ووٹ ہی خراب کرے گا۔کپتان صاحب اس پر سوچ لیں ورنہ پشاور میٹرو آپ کو ووٹ نہیں دلوائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •