راستے مجھے گھر نہیں جانے دیتے
مکانوں کے جنگل میں ایک گھر مل گیا ہے۔
بڑا پرانا، مانوس سا گھر جہاں پہنچ کر خیال آیا جیسے بہت دنوں کے بعد گھر واپس آگئے ہیں۔ وہاں آنے کے بعد پہلا احساس یہی ہوا۔ دائود فائونڈیشن نے اس گھر کو تباہ حالی سے بازیاب کرکے ایک یادگار کی طرح قائم کر دیا ہے۔ اس لیے اس کا نام بھی یہی ہوگیا ہے ___ ٹی ڈی ایف گھر۔
اس کا پتہ سیدھا سادا ہے۔ گرومندر کی طرف سے قائداعظم کے مزار کے عین سامنے۔ کراچی کا کون شخص اس پتے پر پہنچ نہیں سکتا؟ لیکن آج کل یہ امر محال بن گیا ہے۔ سڑک کے وسط میں مٹّی کی ڈھیریاں رکھی ہوئی ہیں اور فضَا میں خاک بھری ہوئی ہے کہ سانس کے ساتھ داخل ہونے لگتی ہے۔ آپ سانس روک سکتے ہیں تو روک کر سُن لیں کہ یہ نئی میٹرو لائن بن رہی ہے۔ اس لیے نمائش سے لے کر خدا معلوم کہاں تک سڑک کُھدی پڑی ہے جیسے کسی لاش کے اوپر خراش نظر آتی ہے جو پہلے کبھی خون کی پتلی لکیر رہی ہوگی، اب کھُرنڈ بن گئی ہے۔ مختلف لوگ اس کے مختلف نام بتاتے ہیں لیکن یہ جو کچھ بھی بن رہا ہے، کب تک بنتا رہے گا اور کیا بنے گا، یہ کون جانتا ہے۔ اس کا پتہ بھی مجھے نہیں معلوم۔ بہت بچپن میں سُنا تھا کہ قائداعظم کا مزار بن رہا تھا، بنے چلا جا رہا تھا۔ بن کے نہیں دیتا تھا تو اس کے بارے میں شہر کے لوگوں میں فقرے مشہور ہوگئے تھے سزائے موت کے قیدی سے اس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو اس نے کہا، قائداعظم کے مقبرے پر فاتحہ پڑھنا چاہتا ہوں۔ بہت اللہ آمین کے بعد مقبرہ بن گیا مگر اب مقبرے کے عین سامنے یہ سڑک ایک بار پھر بکھرائو کا منظر پیش کر رہی ہے۔ نہیں، نہیں، میں اپنی آخری خواہش کے طور پر اس کو مکمل حالت میں دیکھنے کی ضد نہیں کروں گا۔ کیوں کہ اس کے بعد کوئی اور سڑک کُھدنے لگی ہوگی۔ اس شہر کا حال بھی زمانے جیسا ہے کہ ثبات بس ایک تغیّر کو ہے۔ ورنہ خاک اُڑ رہی ہے اور کھُدائی جاری ہے۔
دُھند اور خاک کے ہلکے پردے سے گزر کر وہاں پہنچا تو حیران رہ گیا۔ ارے، یہ تو بالکل سامنے ہے۔ اسے ڈھونڈنا کیا مشکل تھا۔
اس محلّے کا نام پہلے عامل کالونی تھا۔ اب مشرّف بااسلام ہونے کے بعد کیا ہوگیا ہے، میں نے پوچھنے کی زحمت نہیں کی۔ میرے لیے یہی نام ٹھیک ہے۔ اس نام کا ذکر قرۃ العین حیدر نے ’’سیتا ہرن‘‘ میں بھی کیا ہے۔ سیتا یہیں کہیں رہتی ہوگی۔ کئی سال پہلے اخبار میں پڑھا کہ اپنے زمانے کی مشہور فلمی ہیروئن سادھنا کراچی آئی ہیں اور وہ ایک دن اپنا اسکول اور عامل کالونی میں اپنا پرانا گھر دیکھنے گئیں۔ عامل کالونی متّمول ہندوئوں کا علاقہ تھا، اس وقت کے کراچی کا ’’پوش‘‘ علاقہ جو شہر کے آخری کونے پر تھا۔ بڑھتے بڑھتے وہ شہر کے بیچ میں آگیا ہے۔ اب اسے سیتا پہچان سکے گی اور نہ سادھنا۔
اور نہ وہ بزرگ شخصیت جن کی آخری آرام گاہ اس کے عین سامنے واقع ہے۔
کون کیا سوچتا ہوگا، اس پر غور کرنے کا موقع نہیں مل سکا اس لیے کہ سُفیہ پھاٹک ہمارے دستک دینے سے پہلے کُھل گیا۔ اندر داخل ہونے کے لیے پچاس روپے کا ٹکٹ ہے اور اس کے بالکل سامنے ایک درخت جس میں گھونسلے کی وضع کے لیمپ اور بتّیاں لٹکی ہوئی تھیں جیسے درخت پر روشنی کے پھول اُگ آئے ہوں۔ رنگین ٹائلوں سے سجا ہوا برآمدہ اور پرانی وضع کا دروازہ جو اب بھی پرانے گھروں میں نظر آتا ہے۔ چند سیڑھیاں چڑھ کر دیلیز تک آیئے تو دروازے، کھڑکیاں اور روشن دان یہ احساس دلاتے ہیں کہ اب اس وضع کے گھر نہیں بنتے۔
اتنے خوب صورت ٹائلز پر چلتے ہوئے اندر آتے ہیں جو خود بھی فن کا رنگین نمونہ معلوم ہوتے ہیں۔ اب ایسے ٹائل بھی عجائب گھر میں نظر آتے ہیں۔ کمرےکو پرانے فرنیچر سے سجایا گیا ہے، آرام کرسی اور سنگھار میز پرانے وقت کی یاد دلاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کسی پرانی تاریخی فلم کے سیٹ پر سے یہ ساری چیزیں یہاں لاکر سجا دی گئیں ہیں۔ ’’پیریڈ‘‘ ماحول بڑی عُمدگی سے تیار کیا گیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ کراچی کے لوگ اس زمانے میں کیسے رہتے ہوں گے۔ یہ ساری عمارت یہی بتا رہی تھی۔
کھُلے کھُلے، ہوادار کمروں میں فرنیچر رکھا ہوا تھا اور کمروں کے سامنے صحن جس کے فرش پر ٹائل لگے ہوئے تھے اور کیاریوں میں پودے۔ شہر کے بیچوں بیچ ہونے کے باوجود اس عمارت میں اندھیرا تھا نہ گھٹن کا احساس۔ شام کی ہلکی خنک ہوا میں بے حد تازگی محسوس ہو رہی تھی۔
صحن کے ایک کونے میں پتلا سا زینہ جو پہلی منزل پر لے جاتا تھا جہاں کمروں کی ترتیب وہی تھی۔ اس کے اوپر چھت جہاں سے قائد اعظم کا مزار اور شہر کا منظر شام کی ٹھنڈی ہوا میں بے حد دل فریب لگ رہا تھا۔ صحن میں کھانے پینے کی چیزیں موجود تھیں اور ایک چھوٹا سا ریستوراں کام کر رہا تھا۔ ریستوراں کو دیکھ کر میرا دل ڈر گیا کہ کہیں یہ بڑھ کر پوری جگہ نہ گھیر لے۔ اور یہ تاریخی ورثے والی عمارت صرف کھانے پینے کی ایک پُرفضا جگہ بن کر نہ رہ جائے۔ کمرشلائزیشن کا دبائو اسی طرح تاریخی ورثے کو نگل جاتا ہے۔ شہر میں اس کے آثار جابجا بکھرے ہوئے ہیں۔
تاریخی ورثہ کیا ہے، عمارت کے اندر لگے بینرز اور پوسٹرز اس کی دل چسپ تفصیلات بتاتے ہیں۔ اس علاقے کا نام جمشید ٹائون ہے ___ اوہو، میں نے اپنی غلطی نوٹ کی۔ یہ نام جمشید نسر واں جی کے نام پر رکھا گیا جو شہر کے میئر اور تعمیر ترقّی سے وابستگی رکھنے والے معزّز شخص تھے۔ مجھے خوشی ہوئی کہ شہر نے اپنے محسن کا نام یاد رکھا اور یہ نام اب تک باقی ہے۔ انہوں نے یہ علاقہ 1922ء میں تعمیر کروانا شروع کیا تھا اور جلد ہی یہ شہر کا عمدہ محلّہ بن گیا۔ شہر کی بے پناہ بربادی کے اس دور میں بھی یہاں کے کشادہ مکانوں اور کُھلی سڑکوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی منصوبہ سازی عُمدگی سے کی گئی ہوگی۔
ایک اور پوسٹر پر اس عمارت کی مختصر سی تاریخ ہے جو بظاہر چند جُملوں میں سمٹ گئی ہے مگر اس کے اندر پوری ایک داستان پنہاں ہے، ایسی داستان جو سیتا ہرن کی نہیں، ’’آگ کا دریا‘‘ کی یاد دلا دیتی ہے۔ وہاں لکھا ہے کہ یہ مکان ایک ہندو خاتون ہری بائی موتی رام کی ملکیت تھا۔ جون 1948ء میں انہوں نے مکان ایک اور خاتون حنیفہ بائی حاجی غنی کو فروخت کر دیا۔ حنیفہ بائی نے یہ مکان اپنی بیٹی عائشہ بائی دائود کے لیے خریدا تھا اور اس کے بعد سے یہ ویران پڑا تھا۔ ہری بائی موتی رام اور حنیفہ بائی کے دستخط بھی موجود ہیں۔ ہری بائی کے دستخط غالباً گجراتی زبان میں ہیں۔ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ تک ملکیت کیسے بدلتی ہے، اس کہانی کی باقی تفصیلات وہاں درج نہیں ہیں۔ حاشیے پر سمٹی ہوئی کہانی کی جگہ خاموشی، دو نسلوں پر محیط گہری گھور چُپ۔
اس نئی آرائش اور تعمیر نو کا مقصد کیا ہے، یہ میں نے چند دن ایک اخباری مضمون میں پڑھا تھا۔ اس فائونڈیشن کی ایک اعلیٰ عہدے دار سبرینہ دائود نے اخبار نویس سے کہا کہ ٹی ڈی ایف گھر امن، ہم آہنگی اور برابری کے نظریات کی نمائندگی کرتا ہے اور جدید کراچی کے بنیاد گزاروں کا یہی نظریہ تھا۔ اس کے مطابق یہ جگہ ایسی ’’پبلک اسپیس‘‘ ہے جہاں تعلیمی، ثقافتی پروگرام اور تربیتی ورک شاپ پیش کی جا سکتی ہیں۔
پہلی منزل پر ایک چھوٹی سی نمائش لگی ہوئی ہے جس کا موضوع ہے جناح صاحب اپنی زندگی میں شامل تین خواتین کے حوالے سے۔ یعنی فاطمہ جناح، رّتی جناح اور ڈینا۔ میں اپنے طالب علموں کے ساتھ یہ نمائش اور اس بہانے سے یہ عمارت دیکھنے گیا۔ اہم بات یہ ہے کہ نوعمر طالب علموں کو یہ عمارت جادو کا دروازہ سا معلوم ہوئی جس کے ذریعے اس شہر کے ماضی میں داخلہ ممکن ہو جاتا ہے۔ تصویروں اور خطوط کے اقتباسات پر مشتمل یہ نمائش چھوٹی سی تھی مگر ایک طالب علم نے مجھ سے اپنا تاثر بیان کیا کہ ان تین خواتین کی نظر سے جناح صاحب بہت قریب محسوس ہوئے جو درسی کتابوں والی امیج سے مختلف نظر آئے۔ ہاں قائداعظم کو بھی تو اس جھوٹی امیج سے آزادی کی ضرورت ہے جس میں ان کو نظریۂ ضرورت والا نصاب بنانے والوں نے بند کر دیا ہے۔
اس سے پہلے کہ میں بھول جائوں، یہ تحریر تو میری ہے مگر اس کے ساتھ جو تصویریں شائع ہو رہی ہے وہ باصلاحیت طالبہ فاطمہ نسیم کی کارکردگی ہے۔ وہ اپنے کیمرے سے ایسا کام لیتی ہے جو مصّور برش سے لیتے ہیں، یعنی منظر بولنے لگتا ہے۔








