ماہرِ نفسیات کی ڈائری: پیر، مریض، مجنوں یا مجذوب؟


انگریزی زبان کی مشہور ادیبہ ورجینیا وولف نےجب خود کشی کا فیصلہ کیا تو انہوں نے اپنے اوورکوٹ کی جیبیں پتھروں سے بھر دیں اور پھر سیر کرتی ہوئی سمندر میں اتنی دور تک چلی گئیں کہ لوٹ کر نہ آئیں۔ ورجینیا وولف ڈیپریشن کی مریضہ تھیں اور وہ اس ذہنی بیماری کی اذیت سے تنگ آ چکی تھیں۔

اسی طرح ونسنٹ وین گو نے اپنی ذہنی بیماری کی وجہ سے پہلے اپنا کان کاٹا اور پھر جب خود کشی کا فیصلہ کیا تو وہ کھیتوں میں چلے گئے اور اپنی کنپٹی پر بندوق رکھ کر گولی چلا دی۔ وین گو سکزوفرینیا کے مریض تھے۔

ورجینیا وولف اورونسنٹ وین گو کی طرح سلویا پلیتھ اور ارنسٹ ہیمنگوے نے بھی اپنی ذہنی بیماری کے ناقابلِ برداشت کرب کی وجہ سے خودکشی کا فیصلہ کر کے موت کو گلے سے لگایا۔
مشہور لوگوں کی زندگی کی طرح ان کی ذہنی بیماری، موت اور خودکشی بھی مشہور ہو جاتی ہے لیکن ہمارے ارد گرد ہر روز نجانے کتنے عام اورگمنام لوگ اپنی ذہنی بیماری کے دکھوں کی وجہ سے خود کشی کرتے ہیں لیکن ان کی خود کشی کسی اخبار، ریڈیو اور ٹی وی کی خبر نہیں بنتی۔

مغرب کے ہمدرد اور انسان دوست ڈاکٹروں، وکیلوں، ججوں اور سیاست دانوں نے بہت عرصہ پہلے یہ محسوس کیا تھا کہ ذہنی بیماروں کا مناسب علاج ہم سب کی سماجی ذمہ داری ہے اس لیے انہوں نے ایسے قوانین بنائے جن کی روشنی میں ہم ان مریضوں کا عزت و احترام سے علاج کر سکیں۔

ہر ملک اور قوم کے قوانیں مختلف ہیں۔ میں چونکہ کینیڈا میں پچھلے چالیس سال سے نفسیاتی معالج کے طور پر کام کر رہا ہوں اس لیے آپ کا کینیڈا کے قوانین سے تعارف کرواتا ہوں۔
کینیڈا میں ذہنی مریضوں کی اکثریت اپنی زندگی اور علاج کے فیصلے خود کرتی ہے لیکن اس اقلیت کے فیصلے جن کی بیماری ایک حد سے تجاوز کر جاتی ہے اور شدت اختیار کر لیتی ہے ان کے ہمدرد اور معتبر ڈاکٹر کرتے ہیں۔

ٹورانٹو میں اگر کوئی ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کا مریض اپنا ذہنی توازن کھو چکا ہے اور وہ خودکشی کرنا چاہتا ہے تو وہ MENTAL HEALTH ACT پر عمل کرتے ہوئے FORM ONE بھر سکتا ہے اور مریض کو اس کی مرضی کے بغیر ہسپتال میں داخل کروا کر سکتا ہے تا کہ اس کا مناسب علاج ہو سکے۔ اسی طرح اگر مریض کے رشتہ دار عدالت میں جا کر جج سے کہیں کہ ان کا رشتہ دار ذہنی توازن کھو کر خود کشی کرنا چاہتا ہے تو جج بھی FORM TWO بھر کر پولیس کو حکم دے سکتا ہے کہ وہ مریض کو ہسپتال پہنچا آئیں تا کہ ڈاکٹر اس کی بیماری کی تشخیص اور علاج کر سکیں۔

پچھلی کئی دہائیوں میں بہت سے قوانین بدلے ہیں تا کہ ذہنی مریضوں کا بہتر علاج ہو سکے۔ میں چند ایک تبدیلیوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں
اگر کوئی ذہنی مریض SUICIDE کی بجائے HOMICIDE کرنا چاہے اور کسی معصوم رشتہ دار یا دوست کی PARANOIA کی وجہ سے جان لینا چاہے تب بھی ڈاکٹر اس مریض کو ہسپتال میں داخل کر سکتا ہے۔

کینیڈا میں بھی مختلف صوبوں میں قوانین مختلف ہیں جو اس صوبے کے مخصوص حالات اور مسائل کے آئینہ دار ہیں۔ ایک صوبے میں ایک نوجوان جب ذہنی توازن کھو دیتا تھا تو انسانوں پر حملہ کرنے کی بجائے کھیتوں میں جا کر جانوروں کو قتل کر دیتا تھا۔ اس لیے اس صوبے نے انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کے نقصان کو بھی قانون کا حصہ بنا دیا ہے۔

ایک اور صوبے میں ایک مرد جب ذہنی توازن کھوتا تھا تو شوپنگ مال میں جا کر کھڑکیاں توڑ دیتا تھا۔ اس صوبے نے پراپرٹی کے نقصان کو بھی قانون کا حصہ بنا دیا ہے۔
کینیڈا میں سردی بھی بہت پڑتی ہے۔ درجہ حرارت منفی 30 سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے جس کی وجہ سے لوگ سردی سے ٹھٹھر اور اکڑ کر مر سکتے ہیں۔ اس لیے اب یہ قانون بھی ہے کہ کوئی ذہنی مریض اگر DEMENTIA کی وجہ سے جوتوں اور مناسب کپڑوں کے بغیر گھوم پھر رہا ہے تو ڈاکٹر اس کی حفاظت اور علاج کے لیے اسے ہسپتال بھیج سکتا ہے۔

یہ سب باتیں کینیڈا کے MENTAL HEALTH ACT میں شامل ہیں لیکن اگر کوئی مریض یہ سمجھتا ہے کہ ڈاکٹر یا ہسپتال نے اس کے ساتھ زیادتی اور نا انصافی کی ہے تو حکومت اسے ایک وکیل ایک PATIENT’S ADVOCATE فراہم کرتی ہے جو اس کے انسانی حقوق کا تحفظ کرنے میں اس کی مدد کرتا ہے۔

اگر ہم دنیا کی مختلف قوموں کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا کہ کہ بعض میں مریضوں کا احترام کیا جاتا ہے اور بعض میں مریض کو پاگل اور مجنوں سمجھ کر پتھر مارے جاتے ہیں۔ غالبؔ نے کہا تھا
؎ میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ ۔ سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

اردو کے مشہور شاعر میر تقی میرؔ جوانی میں ذہنی توازن کھو بیٹھے تھے۔ علی سردار جعفری لکھتے ہیں وہ سات مہینے تک "زندانی و زنجیری” ہو گئے تھے اور انہیں ایک کمرے میں بند کر کے زنجیر سے باندھ دیا گیا تھا کیونکہ وہ گلیوں میں جاتے تھے تو لڑکے انہیں پتھر مارتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب انہیں چاند میں ایک حسینہ دکھائی دیتی تھی۔ اس حسینہ کا ذکر ان کی ایک مثنوی میں بھی ہے۔ کئی مہینوں کے بعد ان کی طبیعت بہتر تو ہو گئی لیکن وہ ساری عمر پوری طرح صحتیاب نہ ہوئے کیونکہ انہیں وہ علاج میسر نہ آیا جس کی انہیں سخت ضرورت تھی۔

یہ کالم لکھتے ہوئے مجھے بچپن کا ایک واقعہ یاد آ رہا ہے جب میری لالی پھپھو، جو مجھے بہت چاہتی تھیں، لاہور کے ایک مجذوب بزرگ کے دیدار کے لیے جا رہی تھیں تو مجھے بھی ساتھ لے گئی تھیں۔ وہ بزرگ ایک کمرے میں تیس سال سے بند تھے۔ وہیں کھانا کھاتے تھے وہیں سوتے تھے۔ دور و نزدیک سے لوگ ان کی زیارت کرنے آتے تھے۔ وہ بڑبڑاتے رہتے تھے اور انگلیوں سے کچھ اشارے کرتے تھے جن کو لوگ اپنی مرضی سے معانی دیتے تھے۔ اب میں ایک ماہرِ نفسیات کے ذہن سے سوچتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ بزرگ شاید سکزوفرینیا کے مریض تھے لیکن لوگوں نے انہیں مجذوب سمجھ رکھا تھا۔ پاکستان ہندوستان میں نجانے کتنے ذہنی مریض ہیں جن کا علاج کرنے کی بجائے کم تعلیم یافتہ لوگوں نے انہیں پیر فقیر سنت سادھو اور مقدس مجذوب بنا دیا ہے۔ جو لوگ خود ذہنی بیمار ہیں وہ اوروں کی کیا مدد کریں گے انہیں تو خود مدد اور علاج کی ضرورت ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے ذہنی مریضوں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہتے ہیں کیا ہم چاہتے ہیں کہ
ان کا عزت سے علاج ہو
ان کو بچے مجنوں سمجھ کر پتھر ماریں
یا
وہ سنت سادھو اور مجذوب سمجھے جائیں اور وہ ہمارے لیے دعائیں کریں
ایک ماہرِ نفسیات ہونے کے ناطے میری نگاہ میں اپنے ذہنی بیماروں کا عزت سے علاج کرنا ہم سب انسانوں کی اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail