یہاں کا باوا آدم نرالا ہے


گاؤں کی ایک سرد شام تھی؛ بابا جی بکل مارے موڑھے پہ بیٹھے تھے۔ حقے کی گڑ گڑ تھی۔ آگ کا چھوٹا سا الاؤ جل رہا تھا، جس کے گرد ہم چند افراد دائرہ بنائے بیٹھے تھے۔ حسب معمول بابا جی زمانے کے چلن کا رونا رو رہے تھے۔ الٹی گنگا بہنے کا شکوہ کررہے تھے۔ یہاں کے باوا آدم نرالے ہونے پہ تلملا رہے تھے۔ میں نے کہا ’بابا جی، آپ ہر وقت ہر بات میں میم میخ نکالتے رہتے ہیں؛ کہیں کچھ اچھا بھی تو ہوتا ہوگا۔ آپ کیسے کہتے ہیں کہ یہاں کا باوا آدم نرالا ہے؟‘ بابا جی بولتے گئے اور ہمیں نرالے باوا آدم کی جھلک دکھاتے گئے۔

یہاں کا باوا آدم نرالا ہی تو ہے۔ پولیس کو دیکھ لیجیے۔ تھانے کے گیٹ پہ لکھا ہوتا ہے، ’شریفوں کے لیے دارالامان، بدمعاشوں کے لیے دارالحساب‘، پولیس تھانے کو ہونا تو ایسا ہی چاہیے؛ لیکن اگر کوئی تھانیدار بدمعاش کا محافظ بن جائے تو شریف آدمی کی زندگی تو دارالحساب ٹھہرتی ہے۔ قانون کا نفاذ کرنے والے قانون کی دھجیاں اُڑاتے ہیں۔ ڈاکو، چور، لٹیرے اور قبضہ مافیا وڈیروں سے دوستی کرتے ہیں۔ حالاں کہ انھی لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا پولیس کا اصل کام ہے۔ امن امان کے رکھوالے اگر امن امان تباہ کرنے والوں کے یار بن جائیں گے، تو پھر بتاؤ زندگی اجیرن نہ ہوگی عوام کی؟ گھر کا چوکیدار چور کے ساتھ مل کے نقب لگائے تو پھر گھر کو لٹنے سے کون بچائے گا؟ قانون شکن کو پولیس کا خوف ہونا چاہیے۔ عام غریب آدمی کیوں پولیس سے خوفزدہ رہتا ہے؟ پولیس راؤ انوار بن گئی اور معاشرے کا امن نقیب اللہ محسود کی طرح لہو لہو ہوگیا۔ اب بتاؤ یہاں کو باوا آدم نرالا ہے یا نہیں؟

سیاست دان عوام کے نمایندے ہیں۔ عوام کی بھلائی کے کام کرنا ان کا فریضہ ہے۔ مگر یہاں بھی گنگا الٹی بہتی ہے۔ فلاح و بہبود کے علم تھامنے والے ہی فلاح کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ عوام جن کو اپنا مہربان سمجھ کر اسمبلی میں پہنچاتے ہیں، وہی عوام کو نچوڑنے لگتے ہیں۔ کیا ووٹ اس لیے لیتے ہیں، کہ اقتدار و اختیارات کا غلط استعمال کریں؟ زمین پہ قبضہ کریں؟ قرضے معاف کروائیں؟ تھانے کچہری پہ حکمرانی کریں؟ حلقے کے ہر ادارے کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھیں؟ سیاست کو کاروبار کا درجہ دے کر سرمایہ کاری کریں اور پھر آم کے آم اور گٹھلیوں کے دام وصول کریں؟ باوا آدم نرالا نہیں تو اور کیا ہے؟

اگر ایک معالج مسیحائی نقاب پہن کر موت کا فرشتہ بن بیٹھے، پیسے کے لالچ میں انسانی صحت اور زندگی کی قدر گھٹ جائے، مزدور معدے کا علاج کروانے جائے اور گردے سے بھی محروم ہوجائے، کوئی کھانسی کی پڑیا لینے جائے اور بخار لے کر گھر لوٹے، اس کو کیا نام دیں گے؟ ستم ظریفی؟ الٹی گنگا یا نرالا باوا آدم؟ کچھ بھی نام دے لیں۔

بلاشبہ مذہب کا مقصد انسان کی زندگی میں سکون اور آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ ہم مذہب کے نام پہ بے چینی بانٹنا چاہتے ہیں۔ مذہب ہمیں تمام انسانوں سے بلا تفریق محبت کا درس دیتا ہے۔ ہم نام نہاد مذہبی چولا پہن کر آدم سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ مذہب کے دائرے کو تنگ کرنے کی تگ و دو میں لگ گئے۔ اپنے عقیدے سے مختلف عقیدے کے حامل لوگوں کو مشرک اور کافر کا لیبل لگا کر دائرے سے باہر دھکیلنے لگے۔ بے گناہ اور معصوم مشال پہ شک کرنے اور نفرت کے بیوپاریوں کو غازی کا لقب دے کر ہار پہنانے لگے ہیں۔

مذہب جو اجڑی روح پہ پھاہا رکھنے کا کام دیتا ہے، اس کو ہم نے تیز دھار آلہ بنا لیا ہے۔ ہم خود ستائی اور نرگسیت میں یوں ڈوب چکے ہیں کہ اپنے سوا ہماری آنکھ میں کوئی جچتا ہی نہیں۔ کوئی عاصمہ جہانگیر جیسی آدم زاد کے حقوق کی جنگ لڑنے نکلے، تو اسے بھی نفرت سے بجھے تیروں سے چھلنی کردیتے ہیں۔

وہ مذہب جو ایک انسانی جان لینے کو پوری انسانیت کا قتل قرار دے، ہم اس مذہب کے نام پہ دوسروں کی جان لینے کے درپے ہوگئے ہیں۔ بم دھماکوں، معصوم بچوں کے قتال، بارود کے کھیل کے مذہبی جواز تراشے جانا کہاں کی انسانیت ہے؟

کرپشن، قتل عام، انسانی حقوق کی پامالی اور ناانصافی جیسے ناسوروں کے خلاف ہم چپ سادھے رہتے ہیں اور مختلف ثقافتی تہواروں، لباس کی لمبائی چوڑائی اور داڑھی کی تراش جیسے معاملات کو حرام و حلال کی کسوٹی پہ چڑھانے میں ساری توانائیاں خرچ کر دیتے ہیں۔ دنیا کے سارے مذاہب کی بنیاد محبت اور انسانی حقوق کی پاس داری کے فلسفے پر رکھی نظر آتی ہے۔ بد قسمتی سے ہم نے نفرت اور تفرقے کو مذہبی اقدار کے ساتھ گڈ مڈ کردیا۔

مذہب انسان اور خدا کے درمیان تعلق کا نام بھی ہے۔ خدا دلوں کے احوال جاننے والا ہے۔ مذہب کے چند خود ساختہ ٹھیکیدار خدا بن کر انسانوں کے فیصلے کرنے لگے۔ کون سچا مسلمان ہے، کس کا ایمان ناقص ہے، کس کو جینے کا حق ہے اور کس کو مارنا عین عبادت ہے۔

اگر غور کیا جائے تو تمام عبادات کا مقصد انسان کو ایسی مشق کروانا ہے، جس سے گزر کر وہ دوسرے لوگوں کے لیے اچھا انسان بن جائے۔ دوسروں کے حقوق کی پاس داری کرنے والا بن جائے۔ عجیب بات ہے ہم دوسروں سے نفرت بھی کرتے جاتے ہیں، ان کا نقصان بھی کرتے جاتے ہیں اور عبادات سمیٹ کر اپنے آپ کو نیک انسان کا سرٹفکیٹ بھی خود ہی عطا کرتے جاتے ہیں۔ دوسروں کو بھٹکے ہوئے، بے راہ رو اور ایمان سے خارج قرار دیتے ہیں۔ کیا کیا کہوں بس یہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔

تعلیم کا مقصد بچے کو ملک و قوم کا مفید شہری بنانا ہے۔ ہم نے رٹا لگا کے ڈگری کے حصول کو مقصد بنا لیا۔ نمبروں کی دوڑ میں ہم نے مشاہدے اور تحقیق کو بھی کہیں پیچھے چھوڑدیا ہے۔ استاد جس نے طالب علم کے دل میں علم کی شمع روشن کرنا ہوتی ہے اور بچے کو اعتماد جیسی نعمت سے روشناس کروانا ہوتا ہے۔ اس استاد نے بچے کی ڈانٹ اور ڈنڈے سے یوں تواضع شروع کی کہ بچے کا اعتماد کرچی کرچی ہوگیا۔

میں نے کہا بابا جی باوا آدم نرالا ہی ہے یا کہیں نارمل بھی ہے؟ کہیں گنگا سیدھی بھی بہتی نظر آتی ہے یا نہیں؟ بابا جی بولے ’میں نا امید نہیں ہوں؛ محنتی، ایمان دار اور انسان سے محبت کرنے والے بھی بہت ہیں‘۔

کسی نے شرارت سے کہا، بابا جی آپ بھی الٹی گنگا بہا رہے ہیں۔ صحت کا خیال رکھنے کی بجائے تمباکو کے کش لگا رہے ہیں اور حقہ گڑگڑائے جاتے ہیں۔ یہ آئرنی (irony) نہیں؟
سب ہنسنے لگے۔ بابا جی طیش میں آ کر بولے ’نوجوانوں کو سنجیدہ ہونا چاہیے۔ سچ کو بڑھاوا دینا چاہیے اور جھوٹ کا خاتمہ کرنا چاہیے۔ آپ خی خی ہنس رہے ہو۔ میں یہی تو رونا رو رہا ہوں کہ یہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے‘۔

رات کا اندھیرا گہرا ہو چکا تھا۔ سب خاموش تھے بس حقے کی گڑ گڑ تھی۔ دور کسی کتے کے بھونکنے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔

Facebook Comments HS

احمد نعیم چشتی

احمد نعیم چشتی درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ سادہ اور چھوٹے جملوں میں بات کہتے ہیں۔ کائنات اور زندگی کو انگشت بدنداں تکتے رہتے ہیں۔ ذہن میں اتنے سوال ہیں جتنے کائنات میں ستارے۔ شومئی قسمت جواب کی تلاش میں خاک چھانتے مزید سوالوں سے دامن بھر لیا ہے۔

ahmad-naeem-chishti has 81 posts and counting.See all posts by ahmad-naeem-chishti