نیوزی لینڈ ہارا نہیں تھا مگر انگلینڈ جیت گیا

کرکٹ کی پوری تاریخ میں ایسا میچ شائقین کرکٹ نے نہ دیکھا تھا نہ شاید آئندہ دیکھ پائے۔ ایسے لمحے روز روز نہیں آتے۔ لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں ورلڈ کپ کا فائنل میچ ٹائی ہوا۔ سپر اوور پہ میچ کا فیصلہ تھا۔ وہ بھی ٹائی ہوا۔ نہ کوئی جیتا نہ ہارا۔ باؤنڈری کاؤنٹ کا ظالم…

Read more

شاہین بچوں کے پیپر چیکر کے نام خطوط

ان چھٹیوں میں ہم انٹرمیڈیٹ (بورڈ) کے طالب علموں کے پیپر مارک کر رہے ہیں۔ چند بچے انگریزی کے پیپر میں اردو زبان میں پیپر چیک کرنے والے کے نام خط یا نوٹ لکھ دیتے ہیں۔ جس کا پیپر جتنا برا ہوتا ہے اس کا خط اتنا ہی رقت انگیز اور درد سے لبریز ہوتا ہے۔

ان خطوط میں بچے یہ یقین دلانے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں کہ وہ بہت لائق اور محنتی ہیں مگر حالات کے مارے ہیں۔ ان کا پیپر ان کی ذہانت اور علم دوستی کا عکاس ہرگز نہیں ہے۔

Read more

ہمارے شاہین طالب علموں کے پرلطف جوابات

انگریزی مضمون سے جان جاتی تھی۔ اللہ کی کرنی ایسی ہوئی کہ ایم اے انگلش ہو گیا اور یہی زبان پڑھانے بھی لگے۔ اب آپ خود اندازہ لگا لیں کہ کیسا پڑھاتے ہوں گے۔ جو چیز خود کو نہیں آتی وہ دوسروں کو خاک پڑھائیں گے۔

انٹرمیڈیٹ طلبا (بورڈ ) کے انگریزی پیپر مارک کر رہے ہیں۔ زبان و بیان کے ایسے شاہکار پرچے ہیں کہ دل گارڈن گارڈن ہو جاتا۔ تسلی ہو جاتی ہے کہ شاہین اساتذہ کے پڑھائے شاہین بچوں کے ہی پیپرز ہیں۔ اطمینان ہوتا ہے کہ جیسا پڑھایا ہے ویسا ہی پرفارم کر رہے ہیں۔

Read more

خوشونت سنگھ لمبی اور صحت مند زندگی پانے کا راز بتاتے ہیں

ہندوستان کے بے حد مقبول مصنف خشونت سنگھ نے پڑھنے والوں کے دل و دماغ روشن بھی کیے اور ان میں غصے کی لہریں بھی پیدا کیں۔ انہوں نے اپنے مزاح، ایماندارانہ انداز بیاں، چبھتے ہوئے خیالات اور گہرے مشاہدات سے قارئین کو مسحور کیے رکھا۔ ’دہلی‘ اور ’ٹرین ٹو پاکستان‘ ان کی معروف تخلیقات ہیں۔ انیس صد اسی سے چھیاسی تک پارلیمنٹ کے ممبر رہے۔ ان کو انیس سو چوہتر میں پدما بھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا جو انہوں نے انیس سو چوراسی میں امرت سر گولڈن ٹیمپل پر انڈین آرمی کے آپریشن پر احتجاجا واپس کر دیا۔

آپ دو ہزار چودہ میں ننانوے برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ آپ نے لمبی اور بھرپور زندگی بسر کی۔ عمر کے آخری سال تک کام کرتے رہے۔ خشونت سنگھ لمبی عمر پانے اور صحت مند اور خوش باش رہنے کے لیے چند ہدایات دیتے ہیں جن کا مفہوم درج ذیل ہے۔

Read more

اچھا لکھنے کے لیے کیا ضروری ہے؟

خشونت سنگھ ہندوستان کے مشہور مصنف اور صحافی تھے جو پاکستان کے ضلع خوشاب کے ایک قصبے ہڈالی میں پیدا ہوئے تھے۔ برصغیر پاک و ہند اور دنیا بھر میں ان کے کروڑوں مداح موجود ہیں۔ ان کے ناول، افسانے، آپ بیتی اور کالم بے حد پسند کیے جاتے ہیں۔ جو بھی ان کو پڑھتا…

Read more

دھاری دار پاجامے والا لڑکا

فلم بہت جاندار ہے۔ آپ دیکھنا شروع کریں تو پھر آپ دیکھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ ایک سحر ہے جو آپ کو جکڑ لیتا ہے۔ کہانی ایسی ہے کہ دل میں اترتی جاتی ہے۔ بلکہ یوں کہیے کہ دل میں ہی کہیں ٹھہر سی جاتی ہے۔ فلم کا اختتام ایسا ہے کہ آپ دم بخود…

Read more

رمضان کا مہینہ اور حاجی صاحب

رمضان کے مہینے میں حاجی صاحب کی شخصیت میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ ویسے تو پورا سال ہی ان کا غصہ عروج پہ رہتا ہے۔ بات بات پہ ان کا میٹر گھوم جاتا ہے۔ کوئی ان کی رائے سے اختلاف کرے، کوئی بچہ مسجد میں ذرا سا ہنس لے یا کوئی شخص ان کے نام کے ساتھ ’حاجی‘ کا سابقہ لگانا بھول جائے تو آپ آگ بگولا ہو جاتے ہیں۔ گاؤں میں لوگ مسجد کو چندہ دیں تو لاؤڈ اسپیکر میں چندہ دینے والے کا نام مع چندہ اعلان کیا جاتا ہے۔ اور دنیا و آخرت میں کامیابی کی دعائیں بھی دی جاتی ہیں۔ حاجی صاحب کا نام لیتے ہوئے مولوی صاحب ’حاجی‘ کہنا بھول گئے۔ ان سے سخت ناراض ہوئے۔ اور چھ ماہ ہو گئے مولوی صاحب سے اب بھی بات نہیں کرتے۔

Read more

اب نہیں آئے گا گلیوں میں غبارے والا

’کھلونے‘ نظم برطانوی شاعر Coventry Patmore کی تخلیق ہے جس میں ایک بچہ اپنے باپ سے بڑوں کی طرح بات کرتا ہے۔ باپ کو بچے کا یہ رویہ ناگوار لگتا ہے۔ بیٹے کی ساتویں بار نافرمانی پر باپ اسے پیٹتا ہے اور معمول کا بوسہ لیے بغیر اسے سونے کے لیے کمرے میں بھیج دیتا…

Read more

چڑیوں کی لمبی اڈاری

ہمارے گھر میں چڑیوں کا بسیرا تھا۔ ان کی چہچہاہٹ ہماری زندگی کا حصہ تھی۔ ہمارے کچے کمرے کی چھت پہ چڑھے شہتیر اور لکڑی کے ’بالوں‘ کے ساتھ دریچوں میں چڑیوں نے اپنے گھروندے بسائے ہوئے تھے۔ نہ جانے کہاں سے سوکھے تنکے اٹھا لاتیں اور اپنے گھونسلے بناتیں۔ کمرے میں تنکے بکھرے رہتے…

Read more

مرتے ہوئے لوگوں کے پانچ بڑے پچھتاوے

انسان جب موت کے انتہائی قریب پہنچ جاتا ہے تو سارے سراب ایک دم سے اس کے دماغ سے اڑ جاتے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو پا لیتا ہے کہ وہ ساری عمر من گھڑت اور جھوٹی امیدوں کے سہارے جیتا آیا ہے۔ جب موت دہلیز پہ آ دھمکتی ہے تو زندگی کی حقیقت کا صیحح ادراک حاصل ہوتا ہے۔مرتے ہوئے انسان زندگی کو کیسے دیکھتے ہیں؟ اگر ان کو دوبارہ جیون بیتانے کو ملے تو وہ کیسے جینا پسند کریں گے؟ ان کے بڑے پچھتاوے کون کون سے ہیں؟ ان سوالوں کے جواب آسٹریلین مصنفہ اور موٹیویشنل سپیکر برونی وئیر نے اپنے بلاگ Regrets of the dying میں بیان کیے ہیں۔

Read more