ہمارے گاؤں اور بادلوں میں ان بن سی رہتی تھی۔ تبھی بادل گاؤں میں کم کم ہی آتے تھے۔ کبھی بھولے سے آ نکلتے تو اکثر بن برسے ہی لوٹ جاتے۔ کبھی کبھار یوں امڈ کے آتے لگتا کہ جل تھل کر دیں گے۔ ایسی کالی گھٹائیں اٹھتیں کہ دھوپ سے بھرے دن میں بھی رات سا اندھیرا چھا جاتا۔ پھر بھی بادل چھٹ جاتے تھے۔ جیسے گاؤں میں آکر ایک دم انہیں معلوم ہوتا کہ اس گاؤں میں تو برسات نہیں کرنی۔
گرمی میں جھلسے بدن، لو میں جلتے پیڑ، تنور سی دہکتی زمین سبھی بارش کی تمنا لیے آسمان تکتے رہتے۔ لیکن بادل تھے کہ آنکھ بچا کر ادھر ادھر اٹکھیلیاں کرتے گزر جاتے۔
مجھے یاد پڑتا ہے ایک بار جب پورا ساون سوکھا بیت گیا تو گاؤں کے سبھی مردوں نے ہائی اسکول کے گراؤنڈ میں اکٹھے ہو کر بارش کے لیے نماز پڑھی اور امام صاحب نے بازو لمبے اور ہتھیلیاں الٹی کروا کر دعا مانگی تھی۔ دعا اتنی لمبی ہو گئی تھی کہ بازو تھک گئے اور کافی سارے نمازیوں نے بازو نیچے کر لیے تھے۔ اس دن بوٹی والے کھوہ کے اوپر سے سیاہ بادلوں کا ہجوم امڈ آیا تھا۔ لگتا تھا کہ دعائیں بارآور ثابت ہوئیں اور بادل دعا مانگتی الٹی ہتھیلیوں پہ ہی برسنے لگیں گے۔ لیکن اس روز بھی گھٹاؤں نے برسنے کا ارادہ ملتوی کر دیا تھا۔
Read more