ست ربڑی گیند اور گھڑوں کے ٹکڑے

پورا گاؤں ہی ہمارا کھیل کا میدان تھا۔ ہم بچے جہاں کھیلنے لگتے وہی ہمارا گراونڈ بن جاتا۔ کھیلنے کی ایک جگہ تو ایسی تھی کہ دنیا بھر میں ایسا خوبصورت اور موزوں گراؤنڈ کہیں نہ ہوگا۔ گورنمنٹ پرائمری سکول کا صحن۔ صحن کیا تھا جی! رب نے بچوں کے لئے جنت کا ایک ٹکڑا توڑ کر ہمارے گاؤں رکھ دیا تھا۔ نیم، بیری، شرینہہ، لسوڑی اور ٹاہلی کے ’ساوے کچوچ‘ ، ٹھنڈے ٹھار، سایہ دار پیڑ تھے۔ گرما کی چھٹیوں میں جون، جولائی کی دہکتی دوپہروں میں بھی سکول کے صحن میں یوں ٹھنڈک رہتی جیسے گاؤں کی عورتیں روٹیاں لگانے کے بعد تندور کی آگ پہ چلو بھر بھر پانی چھڑک جاتیں۔

Read more

چولستان جیپ ریلی، روہی یاد کریندی

کبھی یہاں گھاگر دریا (ہاکڑا) بہتا تھا۔ علاقے کی پیاس بجھاتا ہوگا۔ پھر دریا نے منہ پھیر لیا۔ رخ نہیں بدلا بلکہ خشک ہوگیا اورخشک سالی چھوڑ گیا۔ گھاگر کا پانی کیا روٹھا یہاں ریت، تپتی لو، دھوپ، پیاس اور ویرانی نے ڈیرہ جمالیا۔ چولستان (جسے مقامی لوگ روہی کہتے ہیں ) کی پیاسی گود…

Read more

کچا کمرہ: بہت رک رک کے چلتی ہے ہوا خالی مکانوں میں

گاؤں میں سبھی گھروں کے کمروں کی بناوٹ ایک سی ہوتی تھی۔ کمرے میں داخل ہوں تو سامنے دیوار پر چھت سے دو اڑھائی فٹ نیچے ’کنس‘ ہوتی تھی۔ پوری دیوار کی چوڑائی جتنی۔ نیچے آدمی کے سینے تک کی بلندی پر ’انگیٹھی‘ ہوتی تھی جس کی لمبائی پانچ فٹ ہوتی ہو گی۔ انگھیٹی کے…

Read more

ٹڈی دل کو کھا لیتے ہیں

نوبیل انعام یافتہ ادیبہ ڈورس لیسنگ کی کہانی The Mild Attack of Locusts پڑھی تھی تو دل دہل گیا تھا۔ حشرات کے طوفان کے سامنے کسان کتنے بے بس تھے۔ ٹڈیوں نے ان کی فصلیں چٹ کر دی تھیں اور لاچار کسانوں نے اپنے تیئیں بہت چارہ کیا مگر ٹڈی دل کے حملے کو پسپا…

Read more

بوٹا رام بھون

پاکپتن کی قدیم ڈھکی (جس پہ چودھویں صدی کے مشہور صوفی بزرگ اور پنجابی شاعر بابا فرید گنج شکرکی درگاہ ہے ) کا طواف کرتی گول سڑک سے آپ منڈی کی طرف نکلیں تو بائیں طرف آپ کو بوٹا رام کی حویلی ملے گی۔ وقت کی دھوپ نے اس کے سب رنگ اڑا دیے ہیں۔…

Read more

سر طارق احمد، میرے استاد

تقریبا پندرہ سال قبل اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں ایم اے انگریزی کرنے گئے تو پہلے تین ماہ پتہ ہی نہ چلا کہ ہم کیا پڑھ رہے اور استاد کیا پڑھا رہے۔ کچھ بھی پلے نہ پڑا۔ ایک تو ہم پینڈو تھے دوسرے بی کام کر کے انگریزی ادب پڑھنے گئے۔ اللہ قسم حواس…

Read more

منشی اتاڑ کا دیس راج گھر نہیں پہنچا

نانی اماں کو اگست کے مہینے سے گھن آتی ہے۔ کہتی ہیں شدید حبس اور عجیب گھٹن کا موسم ہوتا ہے اس ماہ میں۔ آج سے ستر سال قبل اسی اگست کے حبس میں سورج آگ برسا رہا تھا جب ان کے گاؤں کے ہندو اپنا سب کچھ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ پیپل کی ٹھنڈی چھاؤں سے نکلے اور اگست کی گھٹن اور دھوپ لیے ان دیکھی منزل کے راہی ہوئے۔ اپنا گھر بار، مال مویشی، زمیں، کاروبار، دوست احباب سب پیچھے چھوڑ کر بے سرو سامان جانے والے قافلے میں نانی اماں کی دو سہیلیاں بھی تھیں۔ نند لال کی پوتیاں۔ کیلاش اور پاش۔ بارہ تیرہ برس کی وہ بچیاں گھر کی لاڈلیاں تھیں۔ سن سنتالیس کے اگست کی سخت دھوپ میں ان کو بھی کٹھن راہوں پہ چلنا پڑا تھا۔

Read more

نیوزی لینڈ ہارا نہیں تھا مگر انگلینڈ جیت گیا

کرکٹ کی پوری تاریخ میں ایسا میچ شائقین کرکٹ نے نہ دیکھا تھا نہ شاید آئندہ دیکھ پائے۔ ایسے لمحے روز روز نہیں آتے۔ لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں ورلڈ کپ کا فائنل میچ ٹائی ہوا۔ سپر اوور پہ میچ کا فیصلہ تھا۔ وہ بھی ٹائی ہوا۔ نہ کوئی جیتا نہ ہارا۔ باؤنڈری کاؤنٹ کا ظالم…

Read more

شاہین بچوں کے پیپر چیکر کے نام خطوط

ان چھٹیوں میں ہم انٹرمیڈیٹ (بورڈ) کے طالب علموں کے پیپر مارک کر رہے ہیں۔ چند بچے انگریزی کے پیپر میں اردو زبان میں پیپر چیک کرنے والے کے نام خط یا نوٹ لکھ دیتے ہیں۔ جس کا پیپر جتنا برا ہوتا ہے اس کا خط اتنا ہی رقت انگیز اور درد سے لبریز ہوتا ہے۔

ان خطوط میں بچے یہ یقین دلانے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں کہ وہ بہت لائق اور محنتی ہیں مگر حالات کے مارے ہیں۔ ان کا پیپر ان کی ذہانت اور علم دوستی کا عکاس ہرگز نہیں ہے۔

Read more

ہمارے شاہین طالب علموں کے پرلطف جوابات

انگریزی مضمون سے جان جاتی تھی۔ اللہ کی کرنی ایسی ہوئی کہ ایم اے انگلش ہو گیا اور یہی زبان پڑھانے بھی لگے۔ اب آپ خود اندازہ لگا لیں کہ کیسا پڑھاتے ہوں گے۔ جو چیز خود کو نہیں آتی وہ دوسروں کو خاک پڑھائیں گے۔

انٹرمیڈیٹ طلبا (بورڈ ) کے انگریزی پیپر مارک کر رہے ہیں۔ زبان و بیان کے ایسے شاہکار پرچے ہیں کہ دل گارڈن گارڈن ہو جاتا۔ تسلی ہو جاتی ہے کہ شاہین اساتذہ کے پڑھائے شاہین بچوں کے ہی پیپرز ہیں۔ اطمینان ہوتا ہے کہ جیسا پڑھایا ہے ویسا ہی پرفارم کر رہے ہیں۔

Read more