گل شیر سنگھ کی دادی حسینو کو بچھڑے بھائیوں کا انتظار

کئی دنوں سے واٹس ایپ پہ لگاتار کال آ رہی تھی اور کتنی ہی دیر گھنٹی بجتی ہی رہتی تھی۔ جب سبز بٹن دبایا تو سرحد پار کہیں سے کسی گل شیر خان کی گھگھی سی آواز میرے کانوں میں گونجنے لگی۔ انڈین پنجاب کے ضلع مکتسر کے گاؤں ’چبھڑاں والی‘ سے کریانے کی ایک چھوٹی سی دکان پہ بیٹھا گل شیر کوئی بہت ضروری بات کرنا چاہتا تھا۔ انیس سو سنتالیس کی ہجرت کے وقت چبھڑاں والی کا ضلع

Read more

ستاروں اور جگنووں کی بارات

سورج شاید کمبل اوڑھے آکاش کے پلنگ پہ کہیں دبک کر سویا ہوتا تھا۔ دھوپ کی ایک بھی کرن دکھائی نہیں دیتی تھی۔ جاڑے کے موسم میں، ہماری بستی میں یخ بستہ اور دھند آلود صبح پھوٹتی تھی۔ نیم کی ٹنڈ منڈ شاخوں سے شبنم کی بوندیں برس رہی ہوتیں۔ ٹپ ٹپ ٹپ۔ ہم آنکھیں ملتے، ٹپ ٹپ برستی اوس سے بچتے بچاتے صحن میں لگے نلکے تک جاتے۔ نلکے کی ہتھی تب تک ’گیڑتے‘ رہتے جب تک کوسا کوسا

Read more

دلی چار سو چوبیس کلومیٹر

ہم پاک پتن نہر کے ساتھ ساتھ اس سڑک پر جا رہے تھے جسے کبھی دہلی ملتان روڈ کہا جاتا تھا۔ مشرق میں پھیلے نیلے گگن کے کھیت سے سورج کی کونپل ابھی ابھی پھوٹی تھی۔ اس کی سنہری کرنیں زمیں پر اتر کر، نہر کے پانی میں ڈبکیاں لگا رہی تھیں۔ نور کی کرنیں جب پانی میں جھلملاتیں تو نہر کا گدلا پانی بھی سونا ہو جاتا۔ نہر کا پانی پچھم کی سمت بہتا چلا جا رہا تھا۔ جیسے

Read more

’موسم والا‘ کا مہتاب رام اور صادقیہ نہر کا ’منیاں والا پل‘

دسمبر کی روشن دوپہر تھی۔ دھند چھٹ چکی تھی اور اجلی اجلی دھوپ نے گیہوں کے پودوں پر پڑی اوس کے قطروں کو خوب جگمگا دیا تھا۔ یوں دکھائی پڑتا تھا جیسے گندم کے کھیتوں میں آج ننھے ننھے سورج اگ آئے ہوں۔ احمد اور میں منچن آباد سے بہاول نگر جاتی سڑک کنارے، زنگ آلود ریلوے پٹڑی پر کھڑا سنسان اور اجڑا ہوا ’چبھیانہ ریلوے اسٹیشن‘ دیکھ کر پلٹ رہے تھے۔ فورڈواہ نہر کا پل پار کر کے ہمارا

Read more

چیتر کے رنگ اور میٹرک کا امتحان

نانی اماں کے گھر، صحن میں کھڑی بکائن کی شاخوں پر ننھے ننھے سبز پتے پھوٹ رہے تھے۔ گیہوں کے کھیتوں سے بل کھا کر گزرتی پگڈنڈیوں پہ اگی خود رو بوٹیوں پر زرد، گلابی، جامنی، طوطیے اور مہندی رنگ کے دل کش پھول کھل گئے تھے۔ لگتا تھا کسی کسان کے سر پہ رکھی دھنک کی گٹھڑی کی ایک گانٹھ کھل گئی ہو اور چلتے چلتے گاؤں کو جاتی پگڈنڈی پر قوس قزح کے سارے رنگ بکھرتے چلے گئے

Read more

پریذائیڈنگ افسر کی کہانی

سرکاری ملازمین کو چونکہ کام چور اور گناہ گار تصور کیا جاتا ہے اسی لیے ان کے گناہوں کی سزا دینے کے لیے الیکشن ڈیوٹی لگا دی جاتی ہے۔ سزا بہترین طریقے سے دینے کے لیے الیکشن کمیشن بھی قائم کر رکھا ہے اہل اقتدار نے۔ کیوں کہ ہم اوسطاً زیادہ خطا کار ہیں اس لیے ہماری ڈیوٹی ہماری تحصیل کے آخری گاؤں چک نمبر 75 ڈی میں لگ گئی تھی۔ آرڈر دیکھ کر ہمارے حواس اڑ کر 75 ڈی

Read more

مدرسہ ریلوے اسٹیشن کا بند ٹکٹ گھر

چک مدرسہ کا نام بچپن سے آج تک بار بار سنتے آئے ہیں۔ ابو کی یادوں میں یہ نام تر و تازہ پڑا ہوا ہے۔ ابو جب بھی بیتے دنوں کی اجلی اجلی یادوں کی بھاری گٹھڑی کھولتے ہیں تو گانٹھ کھلتے ہی ان گنت لوگوں اور جگہوں کے نام شاخ سے گرے پتوں کی طرح ادھر ادھر بکھر جاتے ہیں۔ ’مدرسہ‘ بھی انہی ناموں میں سے ایک نام ہے۔ شاخ سے ٹوٹا ہوا ایک زرد پتا۔ دادا کی شادی

Read more

چبھیانہ اسٹیشن اب خاموش رہتا ہے

چھبیانہ، کیا اچھوتا اور دل کش نام ہے۔ سر راہ آباد ایک چھوٹے سے گاؤں کا نام ہے۔ یہی نام اس ریلوے اسٹیشن کا بھی ہے جو منچن آباد سے بہاول نگر جاتی سڑک کے پہلو میں کھڑا دھیرے دھیرے ختم ہو رہا ہے۔ منچن آباد سے تقریباً بارہ کلومیٹر اور بہاول نگر سے تقریباً چوبیس کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ نام اس کا خوب صورت ہے لیکن اس کی کہانی درد ناک ہے۔ دسمبر کی ٹھنڈی اور سنہری

Read more

’تخت محل‘ جو اجڑ گیا

بہاول نگر سے بہاول پور کو جاتی قدیم سڑک کے دائیں کندھے پہ یہ چھوٹا سا ریلوے اسٹیشن موجود ہے۔ تخت محل ریلوے اسٹیشن۔ نام کتنا جادوئی اور خوب صورت ہے۔ تخت۔ محل۔ جیسے پرانے وقتوں میں کسی بادشاہ نے محل بنوایا ہو، تخت سجایا ہو، دربار لگایا ہو، داد رسی کی ہو۔ اور پھر کوچ کر گیا ہو کہیں۔ بہاول نگر شہر سے ڈھلتے سورج کی کرنیں پکڑنے نکلیں تو پندرہ کلومیٹر دور یہ بجھا چراغ آپ کو نظر

Read more

گرما کی چھٹیاں

سکول جانا تو عذاب ہی لگتا تھا۔ صبح سویرے چڑیا کی پہلی چوں چوں کے ساتھ اٹھو، آنکھیں ملتے لڑکھڑاتے مسجد میں سیپارہ پڑھنے جاؤ، ناشتہ کر کے بوجھل دل سے سکول جاؤ، دن بھر ڈنڈے، ٹھڈے اور تھپڑوں کے سائے میں گزارو، بات کرنے یا ہنسنے پہ مرغا بنو اور دن ڈھلے گھر واپس آؤ۔ کون کافر یہ پسند کرے گا سب کچھ۔ سکول لائف میں بس ایک ہی آرزو ہوتی تھی۔ دل نے اور کچھ کبھی مانگا ہی

Read more

ریلوے اسٹیشن جو انڈیا سے کٹ گیا

فورڈ واہ نہر منچن آباد (ضلع بہاول نگر) کے جنوب میں شہر کے پہلو کو چھو کر بہتی چلی جا رہی ہے۔ سورج اور نہر ایک ہی منزل کے مسافر لگتے ہیں۔ دونوں مشرق سے آتے ہیں اور مغرب کی طرف کسی ان دیکھی منزل کی طرف نکل جاتے ہیں۔ بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں ہیڈ سلیمانکی ہیڈ ورکس سے نکلنے والی فورڈ واہ اور صادقیہ نہریں پیاس سے سسکتے اور جلتے صحرائے چولستان کے لیے امرت دھارا ثابت

Read more

عید کارڈ تو خواب ہوئے

زمانہ ہو چلا عید کارڈ نہیں دیکھا۔ عید کارڈ خریدنے، لکھنے اور بھیجنے کا دور ختم ہوا۔ بس یادوں میں عید کارڈ کے رنگ گھلے ہیں۔ ہمارے جیون کی کونپل اپنے بچپن میں تھی اور عید کے پر مسرت موقع پر عید کارڈ بھیجنے کا رواج عالم شباب سے گزر کر پیران سالی میں داخل ہو چکا تھا۔ رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتے ہی ابو شہر سے ایک خوب صورت سا عید کارڈ خرید لاتے۔ عید کے چاند کی

Read more

تھائی لینڈ: مسکراہٹوں کا دیس

تھائی لینڈ کے لوگ مسکرانے کے عادی ہیں۔ بات بات پر مسکراتے ہیں۔ بلکہ بات بے بات ہنستے رہتے ہیں۔ آپ سڑک چلتے کسی تھائی باشندے سے کسی جگہ کا پتا پوچھیں تو وہ جواباً مسکرا دے گا۔ خواہ اس کو آپ کی بات سمجھ میں آئی ہو یا نہ آئی ہو۔ بنکاک میں سڑک کنارے لگے سٹالز پر سیلز مین سے کسی چیز کی قیمت پوچھیں تو فوراً اپنے دانت آپ کو دکھائے گا بعد میں قیمت بتا کر

Read more

عمر بھر لمبی جدائی

پہلا حصہ: بہن پاکستان میں، بھائی انڈیا میں عمر دراز نے بتایا کہ وہ صورت گڑھ میں نائی کی دکان پر بال کٹوا رہا تھا کہ ساتھ کپڑے کی دکان چلانے والے سردار جی نے پوچھا کہاں سے آئے ہو۔ میں نے کہا ’پاک پتن، پاکستان سے۔ چک 26 ایس پی ہے‘ ۔ گاؤں کا نام سنتے ہی وہ مجھ سے لپٹ گیا۔ میں ہکا بکا تھا کہ اسے کیا ہو گیا ہے۔ عجب اتفاق دیکھئیے کہ تقسیم سے قبل

Read more

بہن پاکستان میں، بھائی انڈیا میں

اب کے برس تو ساون رت کے بادل ٹوٹ کے برس رہے تھے۔ اگست کا حبس بھرا مہینہ شروع ہو چکا تھا۔ آسماں پر سیاہ بادلوں نے ڈیرے جما رکھے تھے۔ ہم پاک پتن (پنجاب۔ پاکستان) کے قریبی گاؤں چک نمبر 36 ایس پی میں ایک بزرگ کی سن سنتالیس کی یادیں ریکارڈ کرنے جا رہے تھے۔ 36 ایس پی گاؤں انیس سو سنتالیس میں ضلع منٹگمری (ساہیوال) کا حصہ تھا اور یہاں سکھ، مسلمان اور ہندو مل کر رین

Read more

بزرگ اپنے گاؤں دیکھنا چاہتے ہیں

تقریباً ڈیڑھ برس پہلے ارادہ باندھا تھا کہ ان بزرگوں کی یادوں کو ریکارڈ کیا جائے جنہوں نے سن سنتالیس کے بٹوارے اور المناک ہجرت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے جسموں اور روح پر جھیلا ہو۔ تقسیم کی ان کہی کہانیوں کو لوگوں تک پہنچایا جائے۔ اب تک پاکپتن اور بہاول نگر (پنجاب، پاکستان) کے مختلف علاقوں میں بسنے والے تقریباً ایک سو بزرگوں کی یادوں کو ہم ’پارٹیشن ڈائری‘ (Partition Diary) نام کے یوٹیوب چینل پر محفوظ

Read more

گردوارہ ٹبہ صاحب

پاکپتن (پنجاب۔ پاکستان) شہر سے آپ ڈھلتے سورج کی انگلی تھام لیجئیے اور ریل کی پٹڑی کے ساتھ ساتھ جلتے جائیے۔ چار کلومیٹر کی دوری پر ’ٹبہ نانک سر‘ کی چھوٹی سی بستی آتی ہے۔ کہتے ہیں اسی جگہ پر سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک اور مشہور صوفی بزرگ بابا فرید الدین گنج شکر کے گدی نشین شیخ ابراہیم کی ملاقات ہوئی تھی۔ اسی ملاقات میں بابا فرید کے شعر گرو نانک تک پہنچے۔ اور بعد میں وہ

Read more

چھوٹی بہن

ارے ماشاءاللہ! گڑیا سی پیاری بیٹی کی مبارکباد قبول کرو عائشہ۔ وقت کتنا تیزی سے گزرتا ہے۔ ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے جب تم پیدا ہوئی تھی۔ ہم پانچ بہن بھائیوں میں تم سب سے چھوٹی اور میں سب سے بڑا ہوں۔ عمر کا فرق اتنا تو ہے کہ مجھے وہ دن یاد ہے جب تم دنیا میں آئی۔ رات ہمارے گاؤں میں اتر چکی تھی۔ گھر کے صحن میں بھری تاریکی میں مدھم سے سنہری روشنی پھیلی

Read more

گاؤں کی ’کینو‘ بیری اور لانگرول

چیتر کا مہینہ جلتے سورج کی آنچ تیز کر دیتا تو کسانوں کے چہرے دھوپ میں تپ کر گندمی ہو جاتے۔ یہی کڑک دھوپ گندم کے خوشوں میں لپٹے دودھیا دانوں کو دھیرے دھیرے پکاتی رہتی۔ سنہری رنگ کرنوں کی سیڑھی لگا کر سورج سے اتر کر گندم کے ’سٹوں‘ میں رہنے لگتا۔ کھیتوں میں کام کرتے کسانوں کے جسم پہ پسینے کی ندیاں بہنے لگتیں اور انہیں ٹاہلی کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھ کر سبز مرچ کی چٹنی، مکھن

Read more

گندم کے خوشوں میں بسے خواب

جب تھریشر لگتی، کنک نکلتی تو کسانوں کے من نیم کی شاخوں پہ لگے بور کی طرح کھل جاتے۔ ہم بچوں کے گندمی رنگ بھی وساکھ کی دھوپ کی مانند چمک اٹھتے۔ کھوہ پہ جائیں گے۔ بھینسوں کے باڑے کے عقب والی بیر کے رتے لال بیر وٹے مار مار اتاریں گے یا جھانبڑ سے گرائیں گے اور جیب میں بھر کر ایک ایک مزے سے کھائیں گے۔ تھریشر سے اڑتی توڑی کے بگولوں میں سے بھاگ کر گزریں گے

Read more

بابا فرید اور بابا نانک کا سانجھا گاؤں

جنوری کی ایک ٹھٹھرتی ہوئی دوپہر تھی۔ سورج نرم روئی جیسے بادلوں کی اوٹ سے جھانک رہا تھا۔ ہلکی حرارت بھری کرنیں سورج سے سنہری رنگ کی جھولیاں بھر کر کھیتوں میں اگے سرسوں کے پھولوں کے دامن میں انڈیل رہی تھیں۔ گندم کے سبز پودوں پہ اوس کی لڑیوں میں پروئے سبھی قطرے جگمگا رہے تھے۔ جیسے سورج گگن سے اتر کر ایک ایک قطرے میں طلوع ہو گیا ہو۔ ہم پاکپتن سے مغرب کی جانب نکلتی ایک پختہ

Read more

سرسوں، ساگ اور کرکٹ

جب سرسوں کے پھول زرد رنگ کی لوئی اوڑھے ہمارے گاؤں کے کھیتوں میں اترتے تھے۔ جب ہر آنگن میں بنے مٹی کے چولہے پہ ساگ کے دیگچے چڑھ جاتے تھے۔ جب سورج چاچا نور دین کھرل کے گھر کے عقب سے ہلکی دھیمی دھوپ لے کر گاؤں آتا تھا۔ جب کھوہ کو جاتی پگڈنڈیوں پہ دھول جم جاتی اور راہگیروں کے قدموں کے نشاں اگلی شام تک باقی رہتے تھے۔ جب مسجد کی طرف سیپارہ پڑھنے کے لیے بچے

Read more

ہمارے بچپن کا محرم

دس محرم کے دن گاؤں کے اکثر مرد و خواتین قبرستان کا رخ کرتے۔ ہاتھوں میں جھاڑو، پھول پتیاں اور ٹانگر، پھلیوں سے بھرے شاپر، اگر بتیوں کے پیکٹ، ’کیہی‘ اور بالٹی، قرآن پاک اور سپارے لیے قبرستان جاتی سڑک پر سنجیدہ چہروں کے ساتھ چلتے جاتے۔ کچی قبروں کو ’بھونہہ‘ ملی مٹی سے لپائی کرتے۔ مردہ جسموں اور بے جان ہڈیوں کو ڈھانپتی، ٹوٹ پھوٹ کا شکار قبریں پھر سے جی اٹھتیں۔ لوگ اپنے پیاروں کی قبروں پر قرآن

Read more

چولستان کا گم نام ریلوے اسٹیشن

ہم ایک پرائمری سکول میں کھڑے تھے جس کی چار دیواری نہیں تھی۔ چولستان اسکول کے کمروں تک آ چکا تھا۔ صحن میں ریت بھری تھی۔ یوں لگتا تھا کہ بس چند دن میں پیاسا ریگستان سکول کی چھوٹی سی عمارت کو ایک ہی گھونٹ میں نگل جائے گا۔ چاردیواری نہیں تھی تو گویا پورا چولستان ہی اسکول کا صحن ٹھہرا۔ شمال میں چھوٹا سا گاؤں تھا جو درخت نہ ہونے کی وجہ سے ویران اور سنسان دکھائی دے رہا

Read more

گوری گاں

ہمارے گاؤں میں تو یہ معمول تھا۔ بالکل ایسے جیسا حقہ پینا عام تھا۔ گاؤں کے سبھی لوگ تمباکو میں ذرا سا گڑ ملا کر چلم بھرتے، انگاروں کو چمٹے یا ’ڈپھی‘ سے پھل میں دھرتے، لال سرخ انگاروں سے بھرے پھل کو ’بدھو‘ سے ڈھانپتے، حقے کا پانی بدلتے، تازہ کرتے اور سنہری اور سفید تلے سے سجی ’نڑی‘ کو منہ سے لگا کر گڑ گڑ کرتے اور دھوئیں کے بادل منہ اور ناک سے نکالتے رہتے۔

جیسے بستی کی ہر شادی بیاہ میں ڈھول کی تھاپ پر، گول دائرے میں، ایک ردھم میں، منہ سے چھی چھی کی آواز کے ساتھ جھومر ڈالنا کوئی نہیں بھولتا تھا۔ جیسے جمعرات کو مسجد میں چندہ دینا، حلوہ پکانا اور خاندان کے مرحومین کے ایصال ثواب کے لیے ختم پڑھانا معمول تھا۔

Read more

چک داتار سنگھ ریلوے اسٹیشن

پاکپتن سے ڈھلتے سورج کے تعاقب میں ایک چھوٹی سی سڑک نکلتی ہے۔ پاکپتن سے کراچی جاتی صد سالہ بوڑھی ریلوے لائن بھی اسی سڑک کے ساتھ ساتھ بچھی چلی جاتی ہے۔ آس پاس گندم کے سرسبز کھیت لہرا رہے ہیں۔ کھیتوں سے ریل گاڑی چھک چھک کرتی گزرتی ہے تو ذرا فاصلے سے یوں دکھائی پڑتا ہے گویا کسی بچے کی کھلونا گاڑی سبز مخملی قالین پہ پھسلتی چلی جا رہی ہو۔ بھٹوں کی چمنیوں سے دھوئیں کے مرغولے

Read more

ڈاروں وچھڑی کونج

ایک وقت تھا کہ ہمارے گاؤں میں ہندو خاندان بھی آباد تھے۔ زیادہ پرانی بات بھی نہیں، بس ستر پچھتر برس پہلے۔ بیچ بازار ان کی دکانیں تھیں، کاروبار تھا۔ ستلج کے قریب بسی اس بستی میں مسلمان اور ہندو کئی پشتوں سے اکٹھے بسیرا کرتے آئے تھے۔ جیون پگڈنڈی پہ مل کر چلتے آئے تھے۔ چلتے چلتے کسی کا پاؤں پھسلتا یا قدم ڈگمگاتا تو کئی ہاتھ اسے سنبھالنے کو بڑھ جاتے تھے۔ دکھ سکھ ایک ساتھ جی لیتے

Read more

چھانگیا رکھ – بلبیر مادھوپوری کی آپ بیتی

’چھانگیا رکھ‘ بلبیر مادھوپوری کی آپ بیتی ہے جو سن دو ہزار دو میں پنجابی زبان میں شائع ہوئی تھی۔ اس کتاب کے متعدد زبانوں میں تراجم کیے جا چکے ہیں۔ دو ہزار دس میں آکسفورڈ پریس نے اس کا انگریزی ترجمہ شائع کیا۔ یوں ’چھانگیا رکھ‘ دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں تک پہنچ گئی۔

’چھانگیا رکھ‘ کو ’دلت لٹریچر‘ میں اہم مقام حاصل ہے۔ دلت لٹریچر میں ہندوستان کے اچھوت ذاتوں سے تعلق رکھنے والے ادیبوں اور شاعروں نے اپنے مسائل کو اجاگر کیا ہے۔ دلت لٹریچر مظلوم اور پسے ہوئے طبقے کی پکار ہے۔

Read more

اللہ سائیں مینہ وسا

ہمارے گاؤں اور بادلوں میں ان بن سی رہتی تھی۔ تبھی بادل گاؤں میں کم کم ہی آتے تھے۔ کبھی بھولے سے آ نکلتے تو اکثر بن برسے ہی لوٹ جاتے۔ کبھی کبھار یوں امڈ کے آتے لگتا کہ جل تھل کر دیں گے۔ ایسی کالی گھٹائیں اٹھتیں کہ دھوپ سے بھرے دن میں بھی رات سا اندھیرا چھا جاتا۔ پھر بھی بادل چھٹ جاتے تھے۔ جیسے گاؤں میں آکر ایک دم انہیں معلوم ہوتا کہ اس گاؤں میں تو برسات نہیں کرنی۔

گرمی میں جھلسے بدن، لو میں جلتے پیڑ، تنور سی دہکتی زمین سبھی بارش کی تمنا لیے آسمان تکتے رہتے۔ لیکن بادل تھے کہ آنکھ بچا کر ادھر ادھر اٹکھیلیاں کرتے گزر جاتے۔

مجھے یاد پڑتا ہے ایک بار جب پورا ساون سوکھا بیت گیا تو گاؤں کے سبھی مردوں نے ہائی اسکول کے گراؤنڈ میں اکٹھے ہو کر بارش کے لیے نماز پڑھی اور امام صاحب نے بازو لمبے اور ہتھیلیاں الٹی کروا کر دعا مانگی تھی۔ دعا اتنی لمبی ہو گئی تھی کہ بازو تھک گئے اور کافی سارے نمازیوں نے بازو نیچے کر لیے تھے۔ اس دن بوٹی والے کھوہ کے اوپر سے سیاہ بادلوں کا ہجوم امڈ آیا تھا۔ لگتا تھا کہ دعائیں بارآور ثابت ہوئیں اور بادل دعا مانگتی الٹی ہتھیلیوں پہ ہی برسنے لگیں گے۔ لیکن اس روز بھی گھٹاؤں نے برسنے کا ارادہ ملتوی کر دیا تھا۔

Read more

خیر کہاں ڈھونڈیں

کووڈ انیس نے پوری دنیا میں تباہی مچا رکھی ہے۔ لاکھوں لوگ اس وبا کا شکار ہو چکے ہیں اور دو لاکھ لوگ اس بیماری سے لڑتے لڑتے جانیں ہار چکے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ خدشہ ہے کہ خدا نخواستہ مریضوں کی تعداد لاکھوں میں ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو عام آدمی علاج کے لئے کہاں جائے گا؟ اتنے ہسپتال، ڈاکٹرز، بیڈز اور وینٹی لیٹرز نہیں ہیں ہمارے دیس میں۔ حکومت

Read more

ہماری کرکٹ اور بابا محمد یار کمہار

کوئی پھیری والا ہوتا تو کبھی کبھار اس سے شکرقندی، جموں یا لچھے لے کر کھا لیتے۔ لیکن پھیری والے کم ہی کھڑے رہ کر اپنا وقت ضائع کرتے۔ اتنے کم عقل تو ہوتے نہیں تھے کہ مفلسی سے اٹے بچوں کے پاس چند دھیلوں کی امید لیے کھڑے رہتے۔ ہاں ذرا سستانے کو ضرور چھاؤں میں آ ٹھہرتے تھے۔ ہماری کرکٹ میں کچھ غیر متوقع وقفے بھی ہوتے تھے۔ کسی کا جنازہ قبرستان کی طرف لے جایا جاتا تو

Read more

کرکٹ، آڑ جھاڑ اور پکھیرو

جب ٹیمیں نہ بانٹتے تو ہم نمبر لگا لیتے۔ ایک لڑکا زمین پر کھلاڑیوں کی تعداد کے مطابق لائنیں کھینچ دیتا اور لائنوں کے نیچے اپنی مرضی سے نمبر لگا دیتا۔ نمبروں کو بلے سے چھپا کر رکھتا۔ سبھی ایک ایک لائن پہ انگلی رکھتے۔ بلا اٹھتا تو بیٹنگ آرڈر کا تعین ہو جاتا۔ یا پھر ہم ’پگ‘ کر باریاں لیتے۔ تین لڑکے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر دائرہ بناتے۔ ایک ہی وقت میں تینوں ہاتھ چھوڑ کر بائیں ہتھیلی

Read more

ست ربڑی گیند اور گھڑوں کے ٹکڑے

پورا گاؤں ہی ہمارا کھیل کا میدان تھا۔ ہم بچے جہاں کھیلنے لگتے وہی ہمارا گراونڈ بن جاتا۔ کھیلنے کی ایک جگہ تو ایسی تھی کہ دنیا بھر میں ایسا خوبصورت اور موزوں گراؤنڈ کہیں نہ ہوگا۔ گورنمنٹ پرائمری سکول کا صحن۔ صحن کیا تھا جی! رب نے بچوں کے لئے جنت کا ایک ٹکڑا توڑ کر ہمارے گاؤں رکھ دیا تھا۔ نیم، بیری، شرینہہ، لسوڑی اور ٹاہلی کے ’ساوے کچوچ‘ ، ٹھنڈے ٹھار، سایہ دار پیڑ تھے۔ گرما کی چھٹیوں میں جون، جولائی کی دہکتی دوپہروں میں بھی سکول کے صحن میں یوں ٹھنڈک رہتی جیسے گاؤں کی عورتیں روٹیاں لگانے کے بعد تندور کی آگ پہ چلو بھر بھر پانی چھڑک جاتیں۔

Read more

چولستان جیپ ریلی، روہی یاد کریندی

کبھی یہاں گھاگر دریا (ہاکڑا) بہتا تھا۔ علاقے کی پیاس بجھاتا ہوگا۔ پھر دریا نے منہ پھیر لیا۔ رخ نہیں بدلا بلکہ خشک ہوگیا اورخشک سالی چھوڑ گیا۔ گھاگر کا پانی کیا روٹھا یہاں ریت، تپتی لو، دھوپ، پیاس اور ویرانی نے ڈیرہ جمالیا۔ چولستان (جسے مقامی لوگ روہی کہتے ہیں ) کی پیاسی گود کی اسی ویرانی میں قلعہ جام گڑھ واقع ہے۔ فورٹ عباس سے تقریبا 35 کلومیٹر اور مروٹ سے تقریبا 20 کلومیٹر کی دوری پر۔ سترہ

Read more

کچا کمرہ: بہت رک رک کے چلتی ہے ہوا خالی مکانوں میں

گاؤں میں سبھی گھروں کے کمروں کی بناوٹ ایک سی ہوتی تھی۔ کمرے میں داخل ہوں تو سامنے دیوار پر چھت سے دو اڑھائی فٹ نیچے ’کنس‘ ہوتی تھی۔ پوری دیوار کی چوڑائی جتنی۔ نیچے آدمی کے سینے تک کی بلندی پر ’انگیٹھی‘ ہوتی تھی جس کی لمبائی پانچ فٹ ہوتی ہو گی۔ انگھیٹی کے دونوں اطراف طاقچے ہوتے تھے۔ کنس، انگیٹھی، طاقچے سب پہ برتن سجے رہتے تھے۔ برتن ٹھکانے بھی لگ جاتے اور کمرے کی سجاوٹ کا روایتی

Read more

ٹڈی دل کو کھا لیتے ہیں

نوبیل انعام یافتہ ادیبہ ڈورس لیسنگ کی کہانی The Mild Attack of Locusts پڑھی تھی تو دل دہل گیا تھا۔ حشرات کے طوفان کے سامنے کسان کتنے بے بس تھے۔ ٹڈیوں نے ان کی فصلیں چٹ کر دی تھیں اور لاچار کسانوں نے اپنے تیئیں بہت چارہ کیا مگر ٹڈی دل کے حملے کو پسپا نہ کر سکے۔ اپنی محنت، کمائی اور امید کو اپنی آنکھوں سے ڈوبتا دیکھتے رہے۔ نئے سرے سے زمین کا سینہ چیر کر مٹی میں

Read more

بوٹا رام بھون

پاکپتن کی قدیم ڈھکی (جس پہ چودھویں صدی کے مشہور صوفی بزرگ اور پنجابی شاعر بابا فرید گنج شکرکی درگاہ ہے ) کا طواف کرتی گول سڑک سے آپ منڈی کی طرف نکلیں تو بائیں طرف آپ کو بوٹا رام کی حویلی ملے گی۔ وقت کی دھوپ نے اس کے سب رنگ اڑا دیے ہیں۔ درو دیوار پہ اداسی کا بے رونق ڈیرہ ہے۔ یوں لگتا ہے اس کے مکینوں کو ان دیواروں سے ذرا سی بھی الفت نہیں۔ مکینوں

Read more

سر طارق احمد، میرے استاد

تقریبا پندرہ سال قبل اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں ایم اے انگریزی کرنے گئے تو پہلے تین ماہ پتہ ہی نہ چلا کہ ہم کیا پڑھ رہے اور استاد کیا پڑھا رہے۔ کچھ بھی پلے نہ پڑا۔ ایک تو ہم پینڈو تھے دوسرے بی کام کر کے انگریزی ادب پڑھنے گئے۔ اللہ قسم حواس باختہ ہو گئے کہ یا رب یہ ہم کہاں پھنس گئے۔ سب طلبا مایوس تھے۔ ناکامی دانت نکوسے سامنے کھڑی دکھائی دیتی تھی۔ پھر ہم

Read more

منشی اتاڑ کا دیس راج گھر نہیں پہنچا

نانی اماں کو اگست کے مہینے سے گھن آتی ہے۔ کہتی ہیں شدید حبس اور عجیب گھٹن کا موسم ہوتا ہے اس ماہ میں۔ آج سے ستر سال قبل اسی اگست کے حبس میں سورج آگ برسا رہا تھا جب ان کے گاؤں کے ہندو اپنا سب کچھ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ پیپل کی ٹھنڈی چھاؤں سے نکلے اور اگست کی گھٹن اور دھوپ لیے ان دیکھی منزل کے راہی ہوئے۔ اپنا گھر بار، مال مویشی، زمیں، کاروبار، دوست احباب سب پیچھے چھوڑ کر بے سرو سامان جانے والے قافلے میں نانی اماں کی دو سہیلیاں بھی تھیں۔ نند لال کی پوتیاں۔ کیلاش اور پاش۔ بارہ تیرہ برس کی وہ بچیاں گھر کی لاڈلیاں تھیں۔ سن سنتالیس کے اگست کی سخت دھوپ میں ان کو بھی کٹھن راہوں پہ چلنا پڑا تھا۔

Read more

نیوزی لینڈ ہارا نہیں تھا مگر انگلینڈ جیت گیا

کرکٹ کی پوری تاریخ میں ایسا میچ شائقین کرکٹ نے نہ دیکھا تھا نہ شاید آئندہ دیکھ پائے۔ ایسے لمحے روز روز نہیں آتے۔ لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں ورلڈ کپ کا فائنل میچ ٹائی ہوا۔ سپر اوور پہ میچ کا فیصلہ تھا۔ وہ بھی ٹائی ہوا۔ نہ کوئی جیتا نہ ہارا۔ باؤنڈری کاؤنٹ کا ظالم تیر نیوزی لینڈ کے سینے میں پیوست ہو گیا۔ پہلا ورلڈ کپ جیتنے کا خواب حسرت بن کے رہ گیا۔ انگلینڈ کو ورلڈ کپ اٹھانے

Read more

شاہین بچوں کے پیپر چیکر کے نام خطوط

ان چھٹیوں میں ہم انٹرمیڈیٹ (بورڈ) کے طالب علموں کے پیپر مارک کر رہے ہیں۔ چند بچے انگریزی کے پیپر میں اردو زبان میں پیپر چیک کرنے والے کے نام خط یا نوٹ لکھ دیتے ہیں۔ جس کا پیپر جتنا برا ہوتا ہے اس کا خط اتنا ہی رقت انگیز اور درد سے لبریز ہوتا ہے۔

ان خطوط میں بچے یہ یقین دلانے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں کہ وہ بہت لائق اور محنتی ہیں مگر حالات کے مارے ہیں۔ ان کا پیپر ان کی ذہانت اور علم دوستی کا عکاس ہرگز نہیں ہے۔

Read more

ہمارے شاہین طالب علموں کے پرلطف جوابات

انگریزی مضمون سے جان جاتی تھی۔ اللہ کی کرنی ایسی ہوئی کہ ایم اے انگلش ہو گیا اور یہی زبان پڑھانے بھی لگے۔ اب آپ خود اندازہ لگا لیں کہ کیسا پڑھاتے ہوں گے۔ جو چیز خود کو نہیں آتی وہ دوسروں کو خاک پڑھائیں گے۔

انٹرمیڈیٹ طلبا (بورڈ ) کے انگریزی پیپر مارک کر رہے ہیں۔ زبان و بیان کے ایسے شاہکار پرچے ہیں کہ دل گارڈن گارڈن ہو جاتا۔ تسلی ہو جاتی ہے کہ شاہین اساتذہ کے پڑھائے شاہین بچوں کے ہی پیپرز ہیں۔ اطمینان ہوتا ہے کہ جیسا پڑھایا ہے ویسا ہی پرفارم کر رہے ہیں۔

Read more

خوشونت سنگھ لمبی اور صحت مند زندگی پانے کا راز بتاتے ہیں

ہندوستان کے بے حد مقبول مصنف خشونت سنگھ نے پڑھنے والوں کے دل و دماغ روشن بھی کیے اور ان میں غصے کی لہریں بھی پیدا کیں۔ انہوں نے اپنے مزاح، ایماندارانہ انداز بیاں، چبھتے ہوئے خیالات اور گہرے مشاہدات سے قارئین کو مسحور کیے رکھا۔ ’دہلی‘ اور ’ٹرین ٹو پاکستان‘ ان کی معروف تخلیقات ہیں۔ انیس صد اسی سے چھیاسی تک پارلیمنٹ کے ممبر رہے۔ ان کو انیس سو چوہتر میں پدما بھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا جو انہوں نے انیس سو چوراسی میں امرت سر گولڈن ٹیمپل پر انڈین آرمی کے آپریشن پر احتجاجا واپس کر دیا۔

آپ دو ہزار چودہ میں ننانوے برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ آپ نے لمبی اور بھرپور زندگی بسر کی۔ عمر کے آخری سال تک کام کرتے رہے۔ خشونت سنگھ لمبی عمر پانے اور صحت مند اور خوش باش رہنے کے لیے چند ہدایات دیتے ہیں جن کا مفہوم درج ذیل ہے۔

Read more

اچھا لکھنے کے لیے کیا ضروری ہے؟

خشونت سنگھ ہندوستان کے مشہور مصنف اور صحافی تھے جو پاکستان کے ضلع خوشاب کے ایک قصبے ہڈالی میں پیدا ہوئے تھے۔ برصغیر پاک و ہند اور دنیا بھر میں ان کے کروڑوں مداح موجود ہیں۔ ان کے ناول، افسانے، آپ بیتی اور کالم بے حد پسند کیے جاتے ہیں۔ جو بھی ان کو پڑھتا ہے ان کا معترف ہو جاتا ہے۔ انہوں نے صرف انگریزی زبان کو ہی اظہار کا ذریعہ بنایا۔ ان کی زبان سادہ اور بے حد

Read more

دھاری دار پاجامے والا لڑکا

فلم بہت جاندار ہے۔ آپ دیکھنا شروع کریں تو پھر آپ دیکھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ ایک سحر ہے جو آپ کو جکڑ لیتا ہے۔ کہانی ایسی ہے کہ دل میں اترتی جاتی ہے۔ بلکہ یوں کہیے کہ دل میں ہی کہیں ٹھہر سی جاتی ہے۔ فلم کا اختتام ایسا ہے کہ آپ دم بخود رہ جاتے ہیں اور آنکھوں میں نمی پھیل جاتی ہے۔ فلم The Boy in Striped Pajamas اسی نام کے ناول پہ مبنی ہے جو سن

Read more

رمضان کا مہینہ اور حاجی صاحب

رمضان کے مہینے میں حاجی صاحب کی شخصیت میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ ویسے تو پورا سال ہی ان کا غصہ عروج پہ رہتا ہے۔ بات بات پہ ان کا میٹر گھوم جاتا ہے۔ کوئی ان کی رائے سے اختلاف کرے، کوئی بچہ مسجد میں ذرا سا ہنس لے یا کوئی شخص ان کے نام کے ساتھ ’حاجی‘ کا سابقہ لگانا بھول جائے تو آپ آگ بگولا ہو جاتے ہیں۔ گاؤں میں لوگ مسجد کو چندہ دیں تو لاؤڈ اسپیکر میں چندہ دینے والے کا نام مع چندہ اعلان کیا جاتا ہے۔ اور دنیا و آخرت میں کامیابی کی دعائیں بھی دی جاتی ہیں۔ حاجی صاحب کا نام لیتے ہوئے مولوی صاحب ’حاجی‘ کہنا بھول گئے۔ ان سے سخت ناراض ہوئے۔ اور چھ ماہ ہو گئے مولوی صاحب سے اب بھی بات نہیں کرتے۔

Read more

اب نہیں آئے گا گلیوں میں غبارے والا

’کھلونے‘ نظم برطانوی شاعر Coventry Patmore کی تخلیق ہے جس میں ایک بچہ اپنے باپ سے بڑوں کی طرح بات کرتا ہے۔ باپ کو بچے کا یہ رویہ ناگوار لگتا ہے۔ بیٹے کی ساتویں بار نافرمانی پر باپ اسے پیٹتا ہے اور معمول کا بوسہ لیے بغیر اسے سونے کے لیے کمرے میں بھیج دیتا ہے۔ بچے کی ماں کب کی فوت ہو چکی ہے۔ ضمیر کی خلش باپ کو چین سے سونے نہیں دیتی۔ اسے ڈر ہے کہ دکھ

Read more

چڑیوں کی لمبی اڈاری

ہمارے گھر میں چڑیوں کا بسیرا تھا۔ ان کی چہچہاہٹ ہماری زندگی کا حصہ تھی۔ ہمارے کچے کمرے کی چھت پہ چڑھے شہتیر اور لکڑی کے ’بالوں‘ کے ساتھ دریچوں میں چڑیوں نے اپنے گھروندے بسائے ہوئے تھے۔ نہ جانے کہاں سے سوکھے تنکے اٹھا لاتیں اور اپنے گھونسلے بناتیں۔ کمرے میں تنکے بکھرے رہتے تھے جس پر امی بڑبڑاتی اور کہتی تھیں کہ یہ چڑیاں کم بخت کہیں اور ٹھکانا کیوں نہیں بنا لیتیں۔ جب ان کے بچے انڈوں

Read more

مرتے ہوئے لوگوں کے پانچ بڑے پچھتاوے

انسان جب موت کے انتہائی قریب پہنچ جاتا ہے تو سارے سراب ایک دم سے اس کے دماغ سے اڑ جاتے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو پا لیتا ہے کہ وہ ساری عمر من گھڑت اور جھوٹی امیدوں کے سہارے جیتا آیا ہے۔ جب موت دہلیز پہ آ دھمکتی ہے تو زندگی کی حقیقت کا صیحح ادراک حاصل ہوتا ہے۔مرتے ہوئے انسان زندگی کو کیسے دیکھتے ہیں؟ اگر ان کو دوبارہ جیون بیتانے کو ملے تو وہ کیسے جینا پسند کریں گے؟ ان کے بڑے پچھتاوے کون کون سے ہیں؟ ان سوالوں کے جواب آسٹریلین مصنفہ اور موٹیویشنل سپیکر برونی وئیر نے اپنے بلاگ Regrets of the dying میں بیان کیے ہیں۔

Read more

پنجر: بٹوارے کی کہانی امرتا پریتم کی زبانی

بٹوارے کی داستان ہو اور امرتا پریتم اسے بیان کرے تو وہ دوآتشہ ہو جاتی ہے۔ دکھوں بھری کہانی کو امرتا پریتم ایسی حساس دل رکھنے والی ادیبہ لکھے تو لفظ لفظ لہو بن جاتا ہے۔ سنتالیس میں ہونے والی تقسیم کے پس منظر میں لکھے گئے شہرہ آفاق ناول ’پنجر‘ کے صفحات سے ہندوؤں، مسلمانوں اور سکھوں کا خون رستا دکھائی دیتا ہے۔ یہ تقسیم سے قبل گجرات (پاکستان) کے گاؤں چھتوانی میں بستی ہندو لڑکی پارو کی کہانی

Read more

انڈین پنجاب میں بنی فلم: لاہورئیے

انڈین سکھوں کی پنجابی فلم دیکھنا ایک خوبصورت تجربہ ہوتا ہے۔ زبان مٹھاس بھری لگتی ہے۔ اپنی جو ٹھہری۔ بولنے والے اداکار بھی اپنے اپنے لگتے ہیں۔ گویا میرے ہی گاؤں واسی ہوں۔ ‘لاہورئیے’ فلم میں مسکراہٹوں کی پھلجھڑیاں بھی ہیں اور آنسوؤں کی ندیاں بھی۔ بٹوارے کی بات ہو تو پرانے زخموں سے رستا خون آنسوؤں کا روپ دھارے آنکھوں سے چھلک پڑتا ہے۔ فلم تقسیم کے گہرے زخموں کو بھی کریدتی ہے اور ان پہ مرہم رکھنے کا جتن

Read more

خالد حسینی کی چوتھی کتاب، بے بس باپ کی صدا

‘سی پرئیر‘ (Sea Prayer) خالد حسینی کی چوتھی کتاب ہے۔ یہ ایک مختصر سی کہانی ہے۔ اگرچہ کتاب کے کل چھیالیس صفحے ہیں لیکن اگر کہانی کے الفاظ کو اکٹھا کیا جائے تو دو تین صفحوں میں سمٹ آئے۔ جنگ سے اجڑے علاقوں سے ہجرت کر کے دوسرے ملکوں میں محفوظ ٹھکانوں کے متلاشی پناہ گزینوں کا درد اس کہانی میں بھرا ہوا ہے۔ اپنا گھر بار، اپنا ملک، سب کچھ پیچھے چھوڑ کر جان بچا کر نکلنے والوں کے دلوں پہ کیا بیتتی ہے وہ اس چھوٹی سی کہانی میں نظر آتا ہے۔

Read more

نانی اماں کا گھر

نانی اماں کا گھر گرما میں ٹھنڈی چھاؤں اور سرما میں ہلکی دھوپ سا تھا۔ بچپن میں یہ خیال تھا کہ دنیا کے سارے اچھے اور سکھی گھر شاید نانی اماں کے گھر جیسے ہوتے ہیں۔ گارے مٹی کے بنے دو کچے کمرے، ایک ہوادار برآمدہ اور کھلا صحن۔ صحن کے دو حصے تھے۔ کمروں سے متصل آدھا صحن باقی نصف سے ذرا اونچا تھا جسے ہم ’چونترا‘ کہتے تھے۔ نچلے حصے میں بکائن کا ایک چھتری نما، خوبصورت سر

Read more

ہمارے بچوں کو ٹاٹ سکول والا ماحول واپس لوٹا دیں

محترم پرنسپل صاحب۔ آداب! دو سال قبل بیٹے کو آپ کے سکول میں اس لیے داخل کروایا تھاکہ اس کے پھوپھی زاد اور خالہ زاد کزنز آپ کے سکول میں تھے۔ اب بیٹی کو بھی اس وجہ سے داخل کروایا کہ بھائی کے ہوتے اسے ایڈجسٹ ہونے میں آسانی ہو گی۔ ورنہ ہمارے شہر کے سارے سکول ایک جیسے ہیں۔ ہمہ وقت ایک خود کار مشین کی طرح پڑھائی اور صرف پڑھائی کروانے والے۔ بچے صبح سکول جاتے وقت عجیب

Read more

کوک فریدا کوک

صدیوں پہلے پاکپتن اجودھن ہوا کرتا تھا۔ تیرہویں صدی میں صوفی بزرگ بابا فریدالدین گنج شکر اجودھن آئے تو اسی کو اپنا مسکن بنا لیا۔ ستلج کنارے آباد اس بستی پہ بابا فرید کا ایسا رنگ چڑھا کہ اس نے اجودھن نام کی پرانی اوڑھنی اتار پھینکی اور ’پاک پتن‘ نام کا چولا پہن لیا۔ تب سے اب تک اس چھوٹے شہر کی بڑی پہچان یہی ہے کہ یہاں سلسلہ چشتیہ کے عظیم صوفی بزرگ بابا فریدالدین کا آستانہ ہے۔

Read more

بیٹی کا سکول میں پہلا دن

”تین ساڑھے تین سال بھی بھلا عمر ہے سکول جانے کی!“۔ عزیز از جاں دوست سید علی رضا نے مجھے سخت الفاظ میں متنبہ کیا۔ (علی ایک روشن خیال، روایت شکن، کتاب دوست اور انسانوں سے محبت کرنے والا نوجوان ہے)۔ علی کے مطابق یہ عمر رنگ برنگی تتلیاں پکڑنے کی ہے۔ جگنوؤں کو آنچل میں چھپا کر کھلکھلا کر ہنسنے کی ہے۔ مٹی کے گھروندے بنا کر پھر سے ڈھا دینے کی عمر ہے۔ گڈی پٹولوں سے کھیلتے رہنے

Read more

ظہور حسین ظہور کی کتاب ”کوڑے گھٹ“

پاکپتن کے نامور عوامی شاعر ظہور حسین ظہور کی پنجابی شاعری کی کتاب ’کوڑے گُھٹ‘ معاشرے کی سچی تصویر پیش کرتی ہے۔ ظہور حسین ظہور نے لفظوں کے دھاگے سے زندگی کی ایسی تصویر بنی ہے جو بیک وقت آنکھوں کے لیے خوبصورت بھی ہے اور تلخ بھی۔ ’کوڑے گُھٹ‘ میں انسانی زندگی کو اپنے تمام تر روشن اور تاریک پہلوؤں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ظہور حسین ظہور حساس دل رکھتے ہیں۔ وہ خوابوں کی بستی بساتے ہیں

Read more

پریزائیڈنگ آفیسر کی ڈائری

جس گاؤں کے پولنگ اسٹیشن پہ میری ڈیوٹی بطور پریزائیڈنگ آفیسر لگی تھی اس کا نام بہت منفرد تھا کہ اگر آپ کو بتا دوں تو غلط فہمی سے آپ اس کو کوئی بے ہودہ لفظ نہ سمجھ بیٹھیں۔ بہرحال گوگل پہ سرچ کیا کہ پتہ تو چلے دنیا کے کس نکڑ پہ واقع ہے۔ گوگل نے نشاندہی کی کہ راجھستان، انڈیا میں مطلوبہ جگہ موجود ہے۔ ہماری صلاحیتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن نے شاید انٹر نیشنل

Read more

آج فخر زمان کا دن ہے

مردان سے تعلق رکھنے والے پاکستانی بلے باز فخر زمان نے ابھی پاکستان کے لیے اٹھارہ ون ڈے میچ کھیلے ہیں۔ مگر اس ننھے سے کیرئیر میں انہوں نے دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کے دل موہ لیے ہیں۔ صرف دو سال پہلے فخر زماں ایک گمنام سا پاکستانی فرسٹ کلاس میچوں میں کہیں کھیل رہا تھا۔ دسمبر 2016 میں منعقدہ قائداعظم ٹرافی کے فائنل میں فخر نے 170 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیل کر پاکستان کرکٹ کے افق

Read more

تھائی لینڈ کے غار میں پھنسے بچے کیسے بچائے گئے؟

تئیس جون(2018) کو تھائ لینڈ کے سرحدی قصبے مائ سائ کی دی بورز فٹ بال اکیڈمی کے نو عمر کھلاڑی معمول کی پریکٹس کے بعد گھروں کو نہیں لوٹے. پیراپٹ ‘نائٹ’ سترہ برس کا ہو چکا تھا. اس کی سالگرہ کو یادگار انداز سے منانے کے لیۓ انہوں نے قریبی پہاڑ کے تھام لیونگ نامی غار کا رخ کیا. نو عمر بارہ بچے جن کی عمریں 12 سے 17 سال کے درمیان تھیں اپنے پچیس سالہ کوچ ایکا پول کے

Read more

تھائی لینڈ کے پتایا ساحل کی سیر

دن کے اختتام پہ ٹریننگ کوآرڈینیٹر میڈم منٹی نے اعلان کیا کہ کل ہم نے پتایا ساحل کی سیر کو جانا ہے۔ وہاں انڈین بریانی کا لنچ بھی ہو گا۔ بریانی کا نام سنتے ہی ہماری رال ٹپکنے لگی اور ہال تالیوں سے گونجنے لگا۔ ہم بلاوجہ تالیاں بجانے کے عادی نہیں۔ کرکٹے میچ کے چھکے پہ، قریبی رشتہ دار یا دوست کی ناکامی پہ یا پھر مفت کھانے کی آفر پہ ہی تالی بجاتے ہیں۔ ہمارے تھائی میزبان حیران

Read more

کالے جسموں کی ریاضت

فیس بک پہ کتاب کا سر ورق شاید پبلشرز نے شئیر کیا تھا۔ کتاب کا نام اتنا دلکش تھا کہ نظریں ایک دم سے اٹک گئیں۔ ’کالے جسموں کی ریاضت‘۔ کیا خوبصورت عنوان ہے۔ کالے جسموں کی صدیوں پہ محیط ریاضت کا درد سرورق سے چھلک رہا تھا۔ ترجمہ کرنے والوں کے نام درج تھے۔ ڈاکٹر خالد سہیل اور جاوید دانش۔ ڈاکٹر خالد سہیل کے کئی کالم ’ہم سب‘ پہ میں پڑھ چکا تھا۔ ان کی انسان دوستی، محبت، رواداری،

Read more

چرن جیت سنگھ، ماسٹر نور محمد اور سبز پرچم

ماسٹر نور محمد ‘پیپل والے کھوہ’ سے روزانہ بارہ چودہ میل سائیکل چلا کر ہمارے گاؤں پڑھانے آتے تھے۔ دھول سے اٹے کچے راستوں پہ سائیکل چلانے کے باوجود ان کے چہرے پہ تھکاوٹ کا کوئی نشاں نہ ہوتا بلکہ سرخ و سفید چہرے پہ ایک دلکش مسکراہٹ پھیلی رہتی۔ موسم بدلتا تو درختوں کے پتے جھڑ جاتے یا ان کے رنگ پھیکے پڑ جاتے لیکن نور صاحب کی مسکراہٹ ایسا پھول تھا جو ہر موسم میں کھلا رہتا۔ درمیانہ

Read more

سنہ 2053 کی ویران دنیا

”جب آپ انسان کے پاس جا سکتے ہیں تو مشین سے مدد لینے کی کیا ضرورت ہے؟ “۔ کتنا خوبصورت خیال ہے! یہ خیال امریکی ادیب رے بریڈ بری (1920۔ 2012) کے ذرخیز ذہن کی پیداوار ہے۔ رے بریڈ بری نے سائنس فکشن کے میدان میں شہرت پائی اور شہرہ آفاق ناول ’فارن ہائیٹ 451‘ کے علاوہ کئی افسانوں کے مجموعے تخلیق کیے۔ ان کی کہانیاں ہمیں تخیلاتی دنیا میں لے جاتی ہیں جس میں سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسانی

Read more

اسلامیہ کالج لاہور سے جڑی یادیں

کالج میں بیتے دنوں کی یادیں امر بیل کی طرح انسان کے ساتھ لپٹی رہتی ہیں۔ عمر بھر کانوں میں سرگوشیاں کرتی رہتی ہیں یا پھر روبرو بیٹھے زیر لب مسکراتی رہتی ہیں۔ بارہ برس قبل ایم اے انگریزی ادب کے طالب علم کی حثیت سے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں گزرے دن عشق پیچاں کی صورت میرے ساتھ چمٹے ہیں۔ مجھے یہ ساتھ بے حد عزیز ہے۔ داخلہ ملنے پہ میں خوش تھا کہ بی کام پاس دیہاتی

Read more

رابرٹ فراسٹ، بوڑھا شخص اور جاڑوں کی رات

شہرہ آفاق امریکی شاعر رابرٹ فراسٹ کی نظم An old man‘s winter night کا منظر سادہ سا ہے جس میں ایک بوڑھا شخص اپنے فارم ہاؤس پہ تنہا پھرتا ہے۔ سردیوں کی ایک گھپ اندھیری اور یخ بستہ رات ہے۔ ہر طرف ہو کا عالم ہے۔ لالٹین ہاتھ میں لیے وہ تہہ خانے میں اداس کھڑا ہے۔ اسے یاد نہیں آ رہا کہ وہ کمرے میں کیا کرنے آیا ہے۔ ایک ان جانا سا خوف اس پہ طاری ہے۔ عجیب

Read more

ہڑپہ کا پانچ ہزار سالہ جوان مچھیرا

وادی سندھ کی تہذیب کے بارے دلچسپ معلومات لینی ہوں، تین چار ہزار سال قبل مسیح کے لوگوں سے آشنا ہونا ہو اور قدیم دور کے انساں کی زندگی کے رنگ دیکھنے ہوں تو ہڑپہ ضرور جانا چاہیے جو ساہیوال سے پچیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ہڑپہ میوزیم اور ہڑپہ کے آثار قدیمہ ایسا دریچہ ہیں جس سے کئی ہزار سال قبل مسیح میں بستے انسانوں کی بستی میں جھانکا جا سکتا ہے۔ ہماری خوش قسمتی کہ ہڑپہ میوزیم

Read more