لیجنڈری شکیل عادل زادہ: ابھی تمھیں بہت جینا ہے


شکیل عادل زادہ اُن خوش بختوں میں سے ایک ہیں، جو اپنی زندگی ہی میں لیجنڈ بن گئے ہیں۔ میری خوش قسمتی ہے کہ اُن کی قربت نصیب ہوئی۔ میں آج تک کسی ایک شخص سے نہیں ملا، جو شکیل عادل زادہ کا نام سن کر، ان کے لیے کوئی برا لفظ کہتا ہو۔ یہ بات میرے لیے بڑی حیرت ناک ہے؛ یوں کہ آدم زاد غیبت کرنے والا جان ور ہے؛ ہم کسی کی غیر حاضری میں اس کی چھوٹی موٹی برائی کا تذکرہ کرجاتے ہیں؛ خواہ وہ کتنا ہی عزیز کیوں نہ ہو۔ شکیل عادل زادہ کا اپنا احوال یہ ہے، کہ وہ کسی کے لیے برے کلمات ادا نہیں کرتے؛ اُن کے حضور کسی کا بھی نام لیں، وہ اس کے لیے توصیفی جملہ کہیں گے۔ میں نے اٹھارہ انیس سال کی اس تعلق میں، صرف ایک شخص کا نام سن کر، اُن کی پیشانی پر بل پڑتے دیکھا تھا، وہ شخص جس نے ان کے کام کو اپنے نام سے شایع کروالیا تھا۔

جب تک میری ان سے ملاقات نہ تھی، میں مدیر کے طور پہ ان کا زبردست مداح تھا۔ جوں جوں ان سے تعلق بڑھا، ان کی شخصیت کا بھی اسیر ہوتا چلاگیا۔ غالبا 1998/99 کا کوئی دن تھا، کہ پنڈی سے کراچی فون کال کرکے ان سے پوچھا تھا، میں لکھنا چاہتا ہوں، (’سب رنگ‘ کے لیے) کیسے لکھوں؟ انھوں نے مختصر سا جواب دیا تھا، ”بہت آسان ہے؛ کاغذ قلم اٹھائیے اور لکھیے“۔ مجھے ایسا روکھا پھیکا سا جواب پسند نہیں آیا؛ یوں لگا تھا، کہ مبتدی کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ آج برسوں بعد کوئی مجھ سے پوچھے کہ کیسے لکھا جائے، تو میرے پاس یہی جواب ہوتا ہے، ’بہت آسان ہے؛ کاغذ قلم اٹھائیے، اور لکھیے‘۔

میں نے کاغذ قلم اٹھایا اور (اپنے تئیں) ایک افسانہ لکھ کے انھیں بھیج دیا۔ کچھ عرصے بعد کراچی جانا ہوا، ان سے پہلی بار ملا، تو اپنی تحریر کی بابت استفسار کیا۔ انھوں نے مع لفافہ وہ تحریر میرے حوالے کی، کہ اس پر نظر ثانی کیجیے۔ میں نے چاہا کہ وہ کچھ بتائیں کیا کمی تھی، کیا نہیں؛ انھوں نے کچھ ایسا کہا، کہ اس لکھے کو بھول کے دوبارہ لکھیں۔ ظاہر ہے، میری دل شکنی ہوئی تھی۔

اس کے بہت بعد کا واقعہ ہے؛ ایک بار ٹیلے ویژن ڈرامے کا خلاصہ لکھ کر ان کے پاس لے گیا، کہ اس کی زبان درست کردیں۔ اس ایک صفحے کی تحریر کی اصلاح کرنے بیٹھے تو ہر سطر قلم زد ہوگئی۔ ہر جملے کی ساخت بدل دی گئی۔ میں ان کے پہلو میں بیٹھا اندر ہی اندر اس احساس کے مارے، مرا چلا جارہا تھا، کہ میں کبھی نثر نہیں لکھ سکتا۔ مجھے ڈھنگ سے لکھنا ہی نہیں آتا۔ میرا اُترا چہرہ دیکھ لیا ہوگا کہ میرا حوصلہ بڑھانے لگے، ”لفظ اہم نہیں ہوتے، خیال اہم ہوتا ہے“۔ زبان و بیان پر محنت کرنے والے شکیل عادل زادہ ہمیشہ لکھنے والے کا حوصلہ بڑھاتے ہیں؛ کہتے ہیں زبان و بیان سنوارے جاسکتے ہیں، کہنے کو کچھ ہونا چاہیے۔ 2009ء میں اس کہانی کو دوبارہ لکھا، جسے نئے سرے سے لکھنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ انھیں یاد دلایا کہ یہ وہی کہانی ہے، جو تقریبا دس سال پہلے لکھ بھیجی تھی۔ مسکرائے؛ دو صفحوں کی کہانی میں املا کی دو اغلاط دور کیں۔ باقی سب ویسے کا ویسے رہنے دیا؛ گویا پاس کردیا۔ ایک بار میں نے ایک کہانی کا خاکہ سنایا، تو بہت داد دی کہ یہ عمدہ خیال ہے۔ اس کے علاوہ کبھی میری جرات نہیں ہوئی کہ انھیں اپنا لکھا دکھاوں۔ وہ واحد شخص ہیں، جنھیں اپنی تحریر دکھاتے ہاتھ پاوں ٹھنڈے پڑجاتے ہیں۔ اس تھوڑے کے باوجود میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے، جسے لفظوں میں نہیں بیان کیا جاسکتا۔

ایک دن میں نے پوچھا، ”ڈرو اس علم سے جو اکتسابی ہو“، اس کا کیا مطلب ہوا؟
حیرانی سے کہا، ”ارے؟ یہ کہاں سے سنا؟“
میں نے بتایا کہ ”بازی گر“ میں ایک جگہ آپ نے ایک کردار کے منہ سے کہلوایا ہے۔ انھیں یہ یاد نہیں تھا، کہ انھوں نے لکھا ہے، لیکن بتانے لگے کہ یہ کہاں سے لیا ہوگا۔ نوجوانی کے دنوں میں وہ زیڈ اے بخاری کے معتقد تھے۔ کوئی بات چلی، تو شکیل عادل زادہ نے ان کے سامنے اعتراف کیا، کہ اردو ان کی مادری زبان نہیں ہے، یہ زبان رئیس امروہوی کے گھر سے سیکھی۔ جواب میں زیڈ اے بخاری نے کہا، ”ڈرو اس علم سے جو اکتسابی ہو“۔

جس روز میں نے کہا، ”شکیل بھائی، میں نے ’بازی گر‘ سے بہت سی تھاٹس کو اپنے ایک ڈراما سیریئل میں برتا ہے۔ ہو بہ ہو نہیں، لیکن انھیں اپنے انداز میں نقل کیا ہے؛ لیکن ڈرامے میں مجبوری یہ ہے کہ میں آپ کو کریڈٹ نہیں دے سکتا“۔ فراخ دلی سے گویا ہوئے، ”کوئی خیال مجرد نہیں ہوتا؛ میں نے جو لکھا ہے، وہ بھی کہیں نہ کہیں سے لیا ہوگا“۔ تب مجھے ”ڈرو اس علم سے جو اکتسابی ہو“، کا قصہ یاد آیا۔

کراچی لٹریری فیسٹیول، فروری 2017ء عدنان خان کاکڑ، شکیل عادل زادہ، ظفر عمران اور مجاہد مرزا

شکیل عادل زادہ ماہر لسان نہیں ہیں۔ یہ بات وہ خود کہتے ہیں، لیکن زبانوں سے ان کی دل چسپی دیکھنے لائق ہے۔ ان سے کسی لفظ کے بارے میں سوال کیجیے، جواب دیں گے۔ پھر لغت اٹھائیں گے، یہ نہیں کہ ایک لغت؛ وہ لفظ اردو زبان میں کس زبان سے آیا، اس زبان کی لغت کھول کے دیکھیں گے، کہ وہاں اس لفظ کا تلفظ کیا ہے، معنے کیا ہیں۔ وہ اردو زبان میں انگریزی الفاظ کو کھپانے سے زیادہ مقامی زبانوں کے الفاظ کی آمیزش کو سراہتے ہیں۔ کسی روز ”سب رنگ“ کے دفتر میں لاہور سے آئے ایک مہمان کسی سے فون پر بات کر رہے تھے، کال منقطع ہوئی تو شکیل عادل زادہ نے اشتیاق سے پوچھا، ”آپ نے وہ کیا لفظ کہا تھا“؟
مہمان نے جواب دیا، ”ففٹی ٹو“۔
”نہیں نہیں، آپ نے کچھ اور کہا تھا“۔
مہمان نے شرماتے ہوئے کہا، ”بوِنجا؛ پنجابی میں ففٹی ٹو کو بوِنجا کہتے ہیں“۔
پرجوش لہجے میں گویا ہوئے، بہت اچھا لگا تھا؛ ففٹی ٹو سے اچھا ہے۔ انگریزی الفاظ سے بہ تر ہے ہم اردو میں مقامی زبانوں کے الفاظ شامل کریں۔

انھوں نے ”سب رنگ ڈائجسٹ“ کی پیش کش میں املا کی درستی کا بہت خیال رکھا۔ ابتدائی شماروں میں تو اتنا نہیں، لیکن اواخر میں تو اتنا زیادہ کہ کچھ لفظ نامانوس دکھائی دیتے ہیں؛ ان کا ماننا ہے کہ قاری تک درست زبان پہنچانا، مدیر کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔ دوسری خاص بات یہ کہ وہ لفظوں کو توڑ کے لکھنے کے قائل ہیں؛ جیسا کہ ’دلچسپ‘ کو ’دل چسپ‘، ’چنانچہ‘ کو ’چناں چہ‘؛ سوال یہ اٹھا کہ کن الفاظ کو کہاں تک توڑا جائے، تو جواب ملا، ’بلکہ‘ لکھنے کے بہ جائے، ’بل کہ‘ لکھا جائے۔ ”سب رنگ“ کی املا و زبان کو انور شعور دیکھا کرتے تھے؛ آج انور شعور اس نتیجے پر پہنچے ہیں، کہ زبان کی اصلاح کی کوشش میں اس حد تک چلے جانا مناسب نہیں تھا۔

2015ء؛ میں ایبٹ آباد میں تھا؛ شکیل عادل زادہ سے اپنی پہلی ملاقات کا احوال لکھ کے فیس بک کی دیوار پر چھاپ دیا۔ گمان بھی نہیں تھا، کہ ان تک پہنچے گا۔ ان تک پہنچانے کے لیے تھا بھی نہیں۔ دوسرے یا تیسرے روز عقیل عباس جعفری کی فون کال آگئی؛ کہنے لگے، میں بھائی شکیل کے ساتھ بیٹھا ہوں، انھیں تمھارا مضمون پڑھ کے سنایا ہے یہ لو ان سے بات کرو۔ میں بری طرح بوکھلا گیا کہ یہ کیا ہوگیا؛ مجھے ڈر تھا، کہ ناراض نہ ہوں؛ یہ نہ کہ دیں، کیا لکھ دیا؛ تمھیں کبھی لکھنا بھی آئے گا، یا نہیں؟ آواز سن کر کسی کی مسکراہٹ دیکھے جانے کی گواہی قبول ہوتی ہو، تو میری گواہی لیجییے، میں نے ان کی مسکراہٹ محسوس کی تھی۔ پوچھا، کہاں ہو؟ میں نے ہکلاتے ہوئے جواب دیا، تو اگلا سوال کیا۔ کراچی کب آرہے ہو؟ کہا، دس پندرہ روز میں آ جاوں گا۔ بتایا کہ میری اوپن ہارٹ سرجری ہونے جارہی ہے، آو تو ملنا۔ یہ خبر سن کے میرا جی اُداس ہوگیا۔ اُن کی اوپن ہارٹ سرجری ہوئی؛ صحت یاب ہوئے۔

کل کی بات ہے، تیس جنوری 2018ء کواُن سے ملاقات کے لیے گیا۔ اگلے روز مجھے راول پنڈی جانا تھا۔
”میں اپنی کتابیں عقیل (عباس جعفری) کو دے جاوں گا! زیادہ تو نہیں رہیں، جو تھوڑی بہت ہیں“۔
آئی آئی چندری گر روڈ پر واقع ”اخبار منزل“ میں بیٹھے شکیل عادل زادہ نے باتوں ہی باتوں میں جب یہ الفاظ کہے، تو میں گپ چپ سا بیٹھا رہ گیا، کہ انھیں ایک دن جانا بھی ہے۔ ابھی تو مجھے بہت کچھ سیکھنا ہے؛ ابھی تو بہت سی ملاقاتوں کے احوال ہیں؛ آپ کے جیتے جی آپ پر بہت کچھ لکھنا ہے۔ نہیں شکیل بھائی، ابھی نہیں!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 320 posts and counting.See all posts by zeffer-imran