بابا رحمتا، سوموٹو کا جمعہ بازار اور گنے کے کھیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب سے بابا جی نے ملک میں ‘جوڈیشل ایکٹیوزم’ کا صدری نسخہ دن رات بیچنا شروع کیا ہے تب سے زیادہ تر کیسز میں جلدبازی کے تحت ہونے والے فیصلوں کے منفی پہلو بھی سامنے آرہے ہیں۔ جنوری 2018 میں بابا جی کی اسی جلد بازی نے جنوبی پنجاب کے لاکھوں کسانوں کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیا.

 جنوبی پنجاب، اور بالخصوص رحیم یار میں 90 فیصد زرعی رقبے پر اس سال گنے کی کاشت کی گئی ہے۔ چند برس قبل شریف خاندان نے 3 شوگر ملیں جنوبی پنجاب منتقل کیں تو کسانوں نے پہلے سے انتہائی زیادہ مقدار میں اگائے جانے والے گنے کی کاشت اس امید پر بڑھا دی کہ نئی قائم شدہ شوگر ملیں ان سے ان کا سارا گنا خرید لیں گی۔ چھوٹی عدالتوں اور لاہور ہائیکورٹ کے بعد پچھلے سال یہ کیس سپریم کورٹ میں پہنچا تو سپریم کورٹ نے نئی قائم شدہ 3 ملیں بند کردیں۔ کیس ایک بار پھر لاہور ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ پہنچا لیکن بابا جی نے جہانگیر ترین کی طفل تسلیوں پر بھروسہ کرتے ہوئے عدالت میں ہی موجود کسانوں کو سنے بغیر کیس کا فیصلہ جہانگیر ترین کے حق میں کر دیا اور یقین دہانی کرائی کہ جنوبی پنجاب کے ہر کسان کے گنے کی فروخت پر وہ خود نظر رکھیں گے.

صرف رحیم یار خان میں اس سال 17 ارب روپے کا گنا ابھی تک کھیتوں میں کھڑا ہے اور درجہ حرارت 35 ڈگری تک پہنچ چکا ہے جو گنے کا وزن نصف سے زیادہ گھٹا دے گا۔ ضلع رحیم یار خان میں اس وقت 2 لاکھ 94 ہزار ایکڑ پر گنا موجود ہے اور شوگر ملیں 30 اپریل تک چلیں گی۔

ضلع میں 5 شوگر ملیں اس وقت کام کر رہی ہیں۔ ان میں اتحاد شوگر ملز، حمزہ شوگر ملز، آر وائی کے شوگر ملز، یونائٹڈ شوگر ملز اور جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز شامل ہیں۔ چند سال قبل یہاں منتقل ہونے والی 3 نئی شوگر ملز کی وجہ سے کسانوں نے گنے کی پیداوار میں بے تحاشا اضافہ کر دیا لیکن سپریم کورٹ کے حکم پر ان 3 ملوں کو فی الفور بند کردیا گیا۔ ان میں حسیب وقاص شوگر ملز، چوہدری شوگر ملز اور اتفاق شوگر ملز شامل ہیں. یہ ساری شوگر ملز بھی اگر ٹھیک طرح سے کام کریں تو 1 لاکھ 83 ہزار ایکڑ گنا کھیتوں میں ہی کھڑا رہ جائے گا اور یوں پاکستان کی تاریخ میں کسانوں پر ٹوٹنے والی یہ سب سے بڑی قیامت ہوگی جس کا کریڈٹ عدالت کی اس جلد بازی کو جاتا ہے جو انہوں نے پچھلے ماہ کسانوں کو سنے بغیر ہی فیصلہ دیتے وقت کی۔

جب سے بابا رحمت جی نے سوموٹو کا جمعہ بازار لگایا ہے تو ایک بار ان کی نگاہ سے اوجھل کیس دوبارہ اسی پیچیدہ صورت میں چلے جاتے ہیں جبکہ بابا جی اس وقت تک مزید درجنوں سوموٹو لے چکے ہوتے ہیں۔ ترقی یافتہ اور مہذب معاشروں میں اسی لیے سوموٹو نوٹسز کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے کیونکہ اس سے ادارے، سسٹم اور ملک کمزور ہوتے ہیں۔ جب سب کچھ آپ ہی نے کرنا ہے تو باقی ادارے پھر پہلے سے بھی زیادہ نا اہل اور سست ہوتے چلے جاتے ہیں۔

محتاط اندازے کے مطابق رحیم یار خان کے کسانوں نے اس بار پونے 2 لاکھ ایکڑ گنا اضافی کاشت کیا ہے۔ اب پورے جنوبی پنجاب، بالخصوص رحیم یار خان میں کسانوں پر قیامت آئی ہوئی ہے کیونکہ ان کی پورے سال کی محنت اور تمام جمع پونجی ابھی تک کھیتوں میں ہی کھڑی ہے اور گرم دھوپ اس جمع پونجی اور امیدوں کی محور گنے کی فصل کو پگھلا رہی ہے اور کسان، با با جی کی یقین دہانی سامنے رکھ کر ایک دوسرے کا منہ دیکھنے پر مجبور ہیں.

 کسانوں کی بربادی کا یہ تاریخی فیصلہ لکھواتے ہوئے با با جی نے کہا تھا کہ وہ خود اس پورے معاملے کو دیکھتے رہیں گے اور کسان اس کیس میں درپیش کسی بھی مشکل کے بارے میں براہ راست انہیں بتائیں۔

رحیم یار خان کا غریب کسان کس طرح  اب 800 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے باباجی کو بتانے جائے کہ اس کا گنا 180 کی بجاۓ صرف 80 روپے فی من بک رہا ہے۔ کسان کس طرح باباجی کو بتا سکے کہ رحیم یار خان میں کرپٹ ڈی سی او سے لے کر اے سی تک، ایس ایس پیز سے لے کر ایس ایچ اوز تک، پٹواریوں سے لے کر گرداوروں تک، بڑے زمین داروں سے لے کر سرمایہ داروں تک سبھی کو شوگر ملون سے گنوں کے پرمٹ مل رہے ہیں سواۓ اس غریب کسان کے جس کی کاشت کی گئی دو چار ایکڑ فصل ویسی ہی کھڑی ہے۔

کل اسی کیس کی سپریم کورٹ میں دوبارہ سماعت کے دوران باباجی نے کہا کہ کسانوں کو کس نے کہا تھا کہ اتنا گنا اگائیں، اب اس میں شوگر ملز والوں کا کیا قصور؟

جی بابا، قصور نہ تو آپ کا ہے اور نہ ہی ارب پتی ملز مالکان کا، قصور یہاں موجود نکمے اور بد نیت افسران کا بھی نہیں، قصور تو ان بد قسمت کسانوں کا ہے جو اس نام نہاد اسلامی ملک میں اپنی ساری جمع پونجیاں لٹانے کے بعد اب انصاف کے لیے آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ لیکن باباجی، آپ تو صرف سیاسی کیسز میں ہی اپنی پھکی آج کل بیچ رہے ہیں، آپکو ان اچھوت کسانوں سے کیا مطلب جو چند لاکھ کےیے آپ کا قیمتی وقت ضائع کرنا چاہتے ہیں۔

باباجی، کل، 21 فروری کو اس کیس کی سماعت آپ کے پاس دوبارہ ہے۔ مل مالکان اور علاقے کے انتہائی عیار افسران کی بجاۓ اپنی نگرانی میں سابق ججوں پر مشتمل کمیشن بنا کر اس ضلع میں بھیجیں جو کسانوں کی دی جانے والی پاس بک اور ملوں میں موجود ریکارڈ پر نظر رکھتے ہوئے معاملات کو شفافیت کی طرف لے کر جائیں کیونکہ ذرا سی غفلت کے نتیجے میں 30 اپریل تک اس ریجن کے سارے چھوٹے کاشت کار اپنی جمع پونجی لٹا چکے ہوں گے۔ بڑھتی گرمی کے ساتھ مزدور کی مزدوری بڑھ رہی ہے جبکہ فی ایکڑ پیداوار میں تقریبا 600 من کی کمی واقع ہوجاۓ گی۔ اگر انصاف پسند اور مخلص کمیشن کے تحت پرمٹوں کی تقسیم کو ابھی سے منصفانہ بنایا جاۓ تو یہ بحران بہت حد تک حل ہو سکتا ہے۔ باباجی شریف خاندان کی 3 بند شوگر ملوں کا فیصلہ بھی جلد کر دی جیے تاکہ کسان اگلے سال آپ کے آسرے کی بجاۓ اپنی پھکی مقامی سطح پر خود تیار کر سکے.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •