مادری زبانوں کا عالمی دن اور ادبی میلے!


انیس سو اکہتر کا سن تھا اور مارچ کی پچیس تاریخ۔ ڈھاکہ میں فوجی آپریشن ہوا۔ جہاں بہت کچھ تاراج ہوا، شہید مینار بھی منہدم کردیاگیا۔ جلا تھا جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا۔ یہ مینار ماں بولی کی حرمت پر گرنے والے ابوبرکت نامی طالب علم کے خون کے پہلے قطرے کی یادگار تھا۔ ڈھاکہ میڈیکل کالج کے سامنے جب پانچ نہتے طلبا پر ریاست کی گولی چلی تو یہ انیس سو باون کا سن تھا اور فروری کی اکیس تاریخ۔ آج دوہزار اٹھارہ کا سن ہے اور فروری کی اکیس تاریخ۔ یہ محض کلینڈر پر موجود کسی مہینے کی تاریخ نہیں ہے۔ یہ سقوط ڈھاکہ ایک پوری تاریخ ہے جو مورخ نے تب لکھنا شروع کی تھی جب انیس سو اڑتالیس کا سن تھا اور فروری کی چار تاریخ۔ جب قائد اعظم محمد علی جناح نے ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبا سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ”پاکستان کی قومی زبان صرف اردو ہوگی“۔ قائد اعظم نے اردو زبان پر یہ اصرار انگریزی زبان میں کیا تھا۔

قائد اعظم محمدعلی جناح نے اپنے اس اعلان کے اثرات اپنی تقریر کے دوران بچشم خود دیکھ لیے تھے۔ طلبا کا ایسا شور پڑا کہ قائد اعظم کو کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ قائد اعظم بندہ پرور تھے مگر یہاں بے نیازی جانے کیوں حد سے گزرگئی، مگر کب تلک؟ کب تلک ایسا رہتا کہ کوئی حال دل سنائے اور آپ فرمائیں، کیا؟ چاربرس میں بنگالیوں کی یہ بے چینی خونریز تصادم کی صورت اختیار کرگئی۔ ڈھاکہ شہر میں کرفیو تھا، مگر بنگالی بولنے والے زبان ہتھیلی پہ رکھے توپ کے دہانے پہ کھڑے تھے۔ بنگلہ زبان کو قومی زبان تسلیم کیا گیا، مگر اس میں تسلیم ورضا کا پہلو نہیں تھا۔

اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب ڈھاکہ میں فوج کشی ہوئی تو اس مینار کو پائے مال کیا گیا جو بنگالیوں کے لیے اس زبان کی جیت کی علامت تھا جس میں انہوں نے ماؤں سے لوریاں سنی تھیں۔ اس روش کا جو نتیجہ نکلا وہ تاریخ کے پنے پر ”سقوطِ ڈھاکہ“ کے عنوان سے درج ہے۔ انیس سو ننانوے کو بنگلہ دیش نے اٹھائیس ممالک کے ساتھ مل کر یونیسکو میں قرارداد پیش کی جس کے نتیجے میں اکیس فروری کو مادری زبانوں کا عالمی دن قراردے دیا گیا۔ جب جب یہ تاریخ آتی ہے تو پاکستانی شہری ہونے کے ناطے طبعیت میں ایک حجاب پیدا ہوجاتا ہے۔ صرف اس لیے نہیں کہ اس منظرنامے میں ہم مظلوم کے مقابل کھڑے ہیں، اس لیے بھی کہ آج بھی ہم تاریخ دہرا رہے ہیں، آج بھی مظلوم کے مقابل کھڑے ہیں۔ جو سقوط ڈھاکہ کی تاریخ نہیں جانتے، بلوچوں کی شکایت سن لیں۔ جو بلوچوں کی شکایت سمجھ نہیں پا رہے، سقوط ڈھاکہ کی تاریخ پڑھ لیں۔

متحدہ پاکستان میں اردو چار فیصد پاکستانی بولتے تھے اور بنگالی چھپن فیصد پاکستانیوں کی زبان تھی۔ اردو کے اسی آمرانہ رویے نے ”اکیس فروری“ کے استعارے کو جنم دیا۔ انڈس کلچرل فورم اسلام آباد میں عرصہ تین برس سے مادری زبانوں کا دوروزہ میلے کا اہتمام کررہا ہے۔ خوشی کی بات یہ ہوئی کہ پہلی بار اس میلے میں ایک نشست کے لیے ”مادری زبانوں میں جمہوریت اور انسانی حقوق کا بیانیہ“ کا عنوان چنا گیا۔ نصیب کی بات یہ ہوئی کہ اس نشست کی نظامت کے لیے قرعہ فال طالب علم کے نام نکلا۔ انسانی حقوق جمہوریت کی روح ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی کا مطلب جمہوری اقدار سے انحراف ہے۔ جمہوری اقدار کیا ہیں، انسانی حقوق کسے کہتے ہیں، اس کا ادراک انہی کو زیادہ ہوتا ہے جنہوں نے ان کی پامالی دیکھی ہے۔ جس تن لاگے وہی تن جانے۔ پاکستان میں دفاعی اداروں نے کم وبیش نصف صدی تک دفاع سے زیادہ حکومت کی ہے۔ بالواسطہ حکومت کی تاریخ اس کے سوا ہے۔

پاکستان جانتا ہے کہ معاشروں میں جمہوریت کی اہمیت کیا ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی ان علاقوں کے باشندے زیادہ جانتے ہیں جن کو سیاسی اشرافیہ سے بھی سوائے آمریت کے کچھ نہیں ملا۔ مادری زبان ایک ذریعہ بن گئی کہ اسلام آباد میں سجنے والے میلے میں بات کہی جائے اور بات سنی جائے۔ بلوچستان سے آئے ہوئے مدرس، صحافی، ادیب اور مصنف عابد میر اور سندھ سے آئے صحافی، محقق اور مصنف جامی چانڈیو نے کھل کر بتایا کہ بلوچی براہوی اور سندھی ادب اور سیاست و صحافت نے پاکستان میں جمہوری اقدار کے لیے جو بیانیہ تشکیل دیا اسی نے بنیادی طور پر قومی بیانیے کو متاثر کیا ہے۔ ادیب و صحافی ناصرہ زبیری اور نقاد ڈاکٹر صلاح الدین درویش نے غیر جمہوری رویے ایک تاریخ رکھنے والی اردو اور دکھوں کی ماری مادری زبانوں کے بیچ اس مہارت سے پل باندھا کہ اپنی بات بھی بلا کم وکاست ہوگئی اور سماعتوں میں تپش بھی نہیں گھلی۔

ڈاکٹر صلاح الدین درویش نے ایک بات خوب کہی ”مادری زبان تو تبھی بچ سکتی ہیں جب ہم مادری زبان میں لکھیں گے اور بولیں گے۔ ہم ہی اپنی زبان نہ بولیں تو کسی سے کیا شکایت کرسکتے ہیں“۔ یہ بات اس لیے بھی برمحل ہے کہ زبان کے حوالے سے حساسیت پیدا کرنا اہل فکر کا کام ہے۔ زبان قزاقوں کے شکنجے میں پھنسی کوئی کشتی نہیں ہے جسے کوئی لشکرریسکیو کرے گا۔ زبان تو بازار میں رکھی ہوئی جنس ہے۔ خریدار ہوں گے تو بکے گی ورنہ راہ تکتی رہے گی۔ زبانیں مررہی ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ بولنے والے نہیں رہے۔ اس میں ذمہ دار ہر وہ شخص ہے جس نے علاقے اور وقت کی تبدیلی کی سبب بچوں کو اس زبان میں لوری نہیں دی جس زبان میں خود سنی تھی۔

ملک کے ایک کونے میں رکھی براہوی زبان کو کس نے پوچھا ہے، مگر براہوی خود کو دیگر زبانوں سے کس تیزی سے متعارف کروارہی ہے یہ دیکھا چاہیے۔ دور شمال کے پہاڑوں پر بسنے والی زبان بروشسکی کا درجہ کیا ہے، اس کی پیمائش سرکار نے نہیں کی تھی۔ مگر علامہ نصیر نے ابھی ہماری زندگی میں برشسکی کو حروف تہجی دےدیے ہیں۔ اب نئی نسل اسی حروف تہجی میں ہنر آزما رہی ہے۔ یہیں پہ بسنے والی شینا زبان کا علم کسے ہوگا، مگررحمت جان ملنگ نے اسے پہلا دیوان جو دیا وہ ابھی ستر ہی کی بات ہے۔ رحمت جان نے دیوان مرتب نہیں کیا تھا، مگر یہ کم تھا کہ دیوان دے دیا تھا؟ اگلی نسل میں فضل الرحمن عالمگیر نے مرتب کیا تو ہم تب پہنچ بھی گیا۔ ساتھ ہی کی نسل میں محمد امین ضیا ہمارے جیتے جی شینا کو پہلا ایسا دیوان بھی دے دیا جو بدست خود انہوں نے مرتب بھی کیا ہے۔ اس زبان میں ادبی صناف کے اضافے ہی اضافے دیکھے جارہے ہیں، کمی کا کوئی سوال نہیں ہے۔

مادری زبانوں کے حوالے سے میلوں کا انعقاد حساسیت کی سطح کو بلند کرنے کی ایسی ہی ایک کوشش ہے۔ یہ تجربہ باقی ادبی میلوں سے بہت مختلف ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ باقی ادبی میلے وقت کا ضیاع ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی تناظر میں ان میلوں سے ہونے والے اختلاف سے اتفاق کرنا کم ازکم طالب علم کے لیے ممکن نہیں رہاہے۔ یہ سامنے کی بات ہے کہ ان میلوں سے مطالعے کی ثقافت کو فروغ ملا ہے۔ کسی بھی دائرے میں پیدا ہونے والی مسابقت سے طلب ورسد میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ بہت اہم ہے کہ نئی نسل کو یہ بتاتے ہوئے شرمندگی سی محسوس ہو کہ میں نے ایک بھی کتاب نہیں پڑھی۔ مقابلے کی ایسی فضا ہونا ضروری ہے جس میں سبقت لے جانے کے لیے بہتر سے بہترکتاب کے زیر مطالعہ ہونے پراعزاز جتلایا جائے۔ اگر کوئی محض دکھلاوے کے لیے بھی کتاب بغل میں دابے گھوم رہا ہے تو کیا اس میں خیر کی کوئی نشانی نہیں ہے؟ اور ان نشانیوں کے ظہور میں کیا ادبی میلوں کا کوئی کردار نہیں ہے؟

مادری زبانوں کے میلے میں مادری زبانوں کی نمائندگی اور مادری زبانوں کے مباحث رکھ دیجیے ایک طرف، صرف ان خوش گپیوں کا جائزہ لے لیجیے جو اس میلے کے دوران لوک ورثہ میں ایک طرف چائے کے ڈھابے پر ہورہی تھیں۔ چائے سگرٹ کی ان نشستوں میں ملک بھر سے آئی ہوئی مادری زبانوں کا ایک دوسرے سے حال احوال ہوا۔ کون سی زبان میں کون سی کس مقام پر کھڑی ہے، کونسی نئی صنف میں کس نے طبع آزمائی کی ہے، ادبی ثقافتی اور علمی و سیاسی معاملات کہاں کھڑے ہیں، قومی اور عالمی ادب سے کیا کچھ مادری زبانوں میں منتقل ہورہا ہے، مادری زبانوں سے کیا کچھ دیگر زبانوں میں ترجمہ ہورہا ہے یہ غیر معمولی سن گھن ادیبوں اور شائقین کو انہی محافل میں راہ چلتے ہوئے۔ انہی نشستوں میں ہونے والے حال احوال میں سینکڑوں ادیبوں نے کئی کتابیں نشان زد کیں کہ یہ اپنی زبانوں میں منتقل کریں گے۔ بے شمارتخلیقی منصوبوں نے اسی غیرنصابی گفتگو میں جنم لیا اوران پر باہمی ربظ وضبط کے ساتھ کام کرنے کے فیصلے ہوئے ۔ یہ صرف مادری زبانوں کے میلے کا احوال ہے، جبکہ ہر میلے میں یہی غیرمعمولی سرگرمیاں انجام پاتی ہیں۔ ان سرگرمیوں کا موقع ”لٹریچرفیسٹول“ جیسے منصوبوں کے طفیل ہی ادیبوں اور ادب شناسوں کو مہیا ہوتا ہے۔

شاید شکیل عادل زادہ نے حضرتِ جون سے ایک فائل سمیت شعرا کی زمینیں چرانے والے شاعر کا نام لے کر کہا کہ نئی نسل تو اس طرح کے شعرا کو پڑھ رہی ہے۔ جون صاحب نے خوب کہی ”اگر ایسا ہے تو پھر یہ خیر کی خبر ہے، ہاتھ میں کتاب کا ہونا ضروری ہے، خواہ وہ کتاب جس درجے کی بھی ہو، کتاب ہاتھ میں ہوگی تو قاری اچھی کتاب تک بھی پہنچ ہی جائے گا“۔ ادب کے قارئین میں کون ہوگا جو نسیم حجازی پرسے گزرکر نہ آیا ہو۔ مگر نئی نسل کے ہاتھ میں عمیرہ احمد کا ناول دیکھ کر یہ منہ پر تمسخر اڑاتے ہیں۔ شکر نہیں کرتے کہ کتاب اس نسل کے ہاتھ میں ہے۔ راستہ کھلا نہیں چھوڑتے کہ ایک کے بعد ایک کتاب سے ہوتے ہوئے یہ منشی پریم چند تک پہنچ جائیں۔ ادبی محفلوں کی نئی روایت نے ابھی رنگ دکھایا ہے، کچھ صبر کرناچاہیے کہ یہ رنگ کچھ پختہ ہوجائیں۔ فلاں نامور کو نہیں بلایا، اس موضوع پر بحث نہیں ہوئی، یہ زبان نظر انداز ہوئی، یہ تنقید بہت اچھی ہے مگر اس کی بنیاد پرخیر کی ایک مشق کو لاحاصل کہہ دینا تعمیر کے جذبے سے انحراف ہے۔ ابتدائی فوائد کا اعتراف ہی بات کو درست سمت میں بڑھاسکتا ہے۔ مادری زبانوں کے میلوں اور ایسے کئی دیگر میلوں کو تو ابھی مِیلوں کا سفر درپیش ہے۔ قدم دو قدم اٹھانے پر ہی ایسی بے رحمانہ گرفت سے ہمارا کچھ نہیں جائے گا، امکان کی دنیا تنگ پڑجائے گی۔ ادب کا بھلا ادب کی خیر!

Facebook Comments HS