جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی بچیوں کے والدین پر ایک ایف آئی آر

کیا باہر کی دنیا میں جنسی زیادتی اور ہراسانی کے واقعات نہیں ہوتے؟ کم ہوتے ہیں، مگرہوتے ہیں۔ بالکل ہوتے ہیں، مگر ایک فرق ہے۔ باہرکی دنیا میں ہراسانی کے بعد بچے یا خاتون کو شکایت درج کراتے ہوئے کوئی جھجک نہیں ہوتی۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہماری شکایت کے بعد والدین بدنامی کے ڈر سے خاموشی کی تجویز نہیں دیں گے۔ خاندان والے پیشگی عدالت لگا کر اپنی روایت کے مطابق بہر دو صورت لڑکی یا بچے کو غلط قرار نہیں دیں گے۔ معاشرے کے دیگر طبقات اور سوشل میڈیا صارفین بات سنے بغیر ہماری ذات پر سستے لطیفے ارزاں نہیں کریں گے۔

آج سے کوئی تین برس قبل پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی ایک پلئیر نے دبے لفظوں میں شکایت کی کہ مینیجمنٹ انہیں ہراساں کرتی ہے۔ اس آواز میں چار آوازیں اور شامل ہوگئیں۔ کچھ دن بعد اس موضوع پر ایک ٹاک شو ہوا۔ پانچ پلئیرز نے کوچ کی موجودگی میں کھل کر تلخ تجربات کا اظہارکیا۔ ٹاک شو کے ٹکڑے سوشل میڈیا پر پھیل گئے۔ آج بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ ان ویڈیوز کے اوپر کیپشن کیا ہیں اور نیچے تبصرے کیسے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں نے اس بنیاد پر لڑکیوں کو ہی قصور وار ٹھہرایا کہ وہ گھر سے نکلی ہی کیوں۔ انہوں نے لہو لعب کی دنیا اختیار ہی کیوں کی۔ جب وہ میدان میں دوڑیں گیں، تو ظاہر ہے مردوں میں جنسی ہیجان تو پیدا ہوگا۔

Read more

بارہ مئی 2007: وسیم اختر کا اعتراف جرم اور پرویز مشرف کی طاقت

 پہلی بار نہیں ہوا کہ ایم کیو ایم کے کسی رہنما نے جرم کا اعتراف کیا ہے۔ وسیم اختر کا اعتراف جرم بھی کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ نوے کی دہائی میں ان کی وہ جے آئی ٹی فلم کے فیتے پر محفوظ ہے،جس میں وہ کچھ ایسے ہی جرائم کا اعتراف کر رہے ہیں۔…

Read more

منظور پشتین، کیا آپ پاکستانی ہیں؟ فرنود عالم انٹرویو لیتے ہیں

کیا آپ پاکستانی ہیں؟

جواب: دیکھیے، کسی پاکستانی کو اس کے پاکستانی ہونے کا سرٹیفکیٹ دینے کا اختیار صرف نادرا کے پاس ہے۔ نادرا نے یہ سرٹیفیکیٹ مجھے دیا ہوا، اگر آپ چاہیں تو میں دکھا دیتا ہوں؟

آپ کے پاس نادرا کا سرٹیفیکیٹ موجود ہے، آپ پاکستان کے شہری ہیں، اس کے باوجود بھی پاکستان کی اس قدر مخالفت؟ آخر کیا وجہ ہے؟

آپ کہہ سکتے ہیں۔ آپ کو ایسا کہنے سے کون روک سکتا ہے۔ کہنے والوں نے تو صمد خان، باچا خان، بزنجو، ولی خان، عطا اللہ مینگل، جی ایم سید سب کے بارے میں یہی کہا کہ یہ پاکستان کے دشمن ہیں۔ یہاں تک کہ فاطمہ جناح کے متعلق کہا گیا کہ وہ غدار ہے۔ آپ سوچیں کہ یہ سب جنہیں غدار کہا گیا ان کے بیچ کون سی چیزیں یکساں ہیں۔ دو چیزیں ہیں۔ ایک یہ کہ یہ سارے لوگ اپنے لوگوں کے لیے حقوق مانگتے تھے۔ اب جب آپ حقوق مانگتے ہیں تو اس سے ریاست کی بالادست طاقتوں کے مفاد پر زد پڑتی ہے۔ جب زد پڑتی ہے تو وہ پروپیگنڈا شروع کردیتے ہیں کہ یہ ملک کے خلاف سرگرم ہیں۔ ایسا اس لیے کرتے ہیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسا جرم سبز ہلالی پرچم کے نیچے چھپ جائے۔

Read more

کچھ ذکر ہمارے ہزارہ ہم وطنوں کا۔۔۔

جہاز روانگی کے لیے تیار ہے۔ اس اعلان کے بعدہم قطار میں لگ گئے۔ ساتھ والی قطار میں ایک لڑکی بیساکھی پر قدم اٹھا رہی تھی۔ اسے وہیل چئیر پہ بیٹھنے کو کہا جارہا تھا مگر وہ منع کر رہی تھی۔ منتظم نے کہا، آپ کو تکلیف ہو گی۔ لڑکی نے کہا، بالکل نہیں ہو گی۔ وہ ہمدردی میں ملنے والے رستے سے فائدہ اٹھانے کی بجائے قطار میں لگنے کو ترجیح دے رہی تھی۔ یونہی بغیر کسی سہارے کے وہ ائیر بس میں چڑھ گئی۔ بس میں وہی ماں بالکل میرے پہلو میں کھڑی تھیں جو اپنے جواں سال بچے کی گردن پہ مستقل سہارا دیے ہوئے بیٹھی تھیں۔ لیکن اب جوان کی کم ازکم گردن میں کوئی مسئلہ نہیں لگ رہا تھا۔ میں نے ماں سے پوچھا تو بہتے ہوئے لہجے میں بولیں، تب یہ سو رہا تھا اس لیے گردن پہ ہاتھ رکھا تھا۔

ماں سے گفتگو کرتا دیکھ کر جوان نے مسکراتے ہوئے مجھے سلام کیا۔ مجھے اچھا لگا کہ چلیے دو باتیں اس سے بھی ہوجائیں گے۔ تکلف ایک طرف رکھنے کے لیے میں نے فارسی میں حال پوچھا۔ دو ساعتوں کے اس سفر میں رسمی علیک سلیک پر وقت ضائع نہیں کیا جاسکتا تھا۔ دوچار باتوں سے ہوتے ہوئے فورا اپنے سوال پہ آگیا۔ یہ سب کیسے ہوا؟ بم دھماکے میں ہوا۔ وہ بھی مسکرانے لگا اور ساتھ میں بھی۔ مسکراہٹ میں اس کی آنکھیں ساتھ نہیں دے رہی تھیں۔

بس کے دروازے کھل گئے۔جہاز کے سامنے مسافر قطار میں لگ گئے۔ نظر پھر سے آگے کھڑی اس ہزارہ لڑکی نے پکڑلی جو بیساکھی کے سہارے پر تھی۔ جہاز کی سیڑھیوں پہ اسی اعتمادسے چڑھی جارہی تھی جس اعتماد سے بس میں چڑھ رہی تھی۔ مگراس کا چہرہ لال سرخ ہوچکا تھا۔ آخری زینے پہ عین دروازے کے ساتھ اس سے حال احوال کا موقع مل گیا۔ پوچھ لیا ۔یہ سب کیسے ہوا؟ بم دھماکے میں ہوا۔

Read more

جرگہ پاکستان : جو میں نے دیکھا، جو میں نے سنا

کراچی کے ایک اخبار سے میں وابستہ تھا۔ واقعہ بھول گیا، مگر وزیرستان میں ہوا تھا۔ طبعیت پر بہت گہرا اثر چھوڑ گیا تھا۔ فوجی آپریشن کی میں نے ایک کالم میں حمایت کی۔ عابد آفریدی نے مجھ سے کہا، آپ ایسا کیسے کرسکتے ہیں؟ اس نے بات کہی، میں نے جواب دیا۔ اس نے دلیل دی، میں چپ ہوگیا۔ میرا موقف بدل گیا۔ عابد آفریدی کے پاس محض دلیل نہیں تھی۔ ایک درد بھی تھا جس کے آگے ہردلیل ہیچ ہے۔ ایک دھماکے میں اس کا بھانجا مارا گیا۔ اس درد نے ماں کے اعصاب ایسے چٹخا دیے کہ گھر میں اسے زنجیروں سے باندھنا پڑا۔

عابد آفریدی نے جرگہ پاکستان کی بنیاد رکھی ہے۔ غرض وغایت یہ بتائی گئی ہے کہ ہم نے ریاست اور پی ٹی ایم کے بیچ تصادم کے امکانات کو ختم کرنا ہے۔ گاڑی کو دھکا دینے کے لیے سات اپریل کو اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں فریقین کا ایک اکٹھ رکھا۔ اس اکٹھ میں ملک بھر کے مختلف الخیال دانشوروں، قلم کاروں، اخبار نویسوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ کچھ ایسے لوگ بھی آئے ہوئے تھے جنہوں نے جنگ کی شعلوں کو براہ راست سہا ہے۔ عمران فارق قتل کیس میں نامزد ملزم معظم خان کی اہلیہ بھی آئی ہوئی تھیں۔ انہوں نے اپنے تعارف میں صاف کہا، میں قائد تحریک الطاف حسین بھائی کی پیروکار ہوں۔

میں پہنچا تو اباسین یوسفزئی صاحب گفتگو فرما رہے تھے۔ آپ پختونوں کے نمائندہ شاعروں اور ممتاز اساتذہ میں سے ہیں۔ پختونخوا کے حجرہ و بازار میں جب انسانی چیتھڑے اڑ رہے ہوتے تھے تب ان کی ایک نظم کا بند زبان زد عام ہوا

Read more

تم نے ایسا کیوں کیا عالمگیر؟

پہلی ہی سطر میں مجھے کہہ لینے دیجیے کہ حالیہ عرصے میں شائع ہونے والے ناولوں میں سید کاشف رضا کا ناول ”چار درویش اور ایک کچھوا“ دل کو چھو کے نکل گیا۔ اس کی سطریں مجھے ازبر ہوگئیں اور اس کے اشارے مجھ پر بیت گئے۔

کالام سے آگے گھبرال نام کا یک گاؤں آتا ہے۔ بلند پہاڑوں میں گھرا ایک گاؤں جس کے گھر شیشم کی لکڑیوں کے بنے ہیں۔ کبھی یہاں مندروں میں گھنٹیاں بجتی تھیں اب میناروں سے حی علی الفلاح کی بزرگ صدائیں آتی ہیں۔ میناروں کے اس پار چترال کے پہاڑ دکھتے ہیں جو اکثر برف کی سفید چادر اوڑھے رہتے ہیں۔ اس گاؤں سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر ایک مقام شاہی باغ ہے۔ یہ قدرتی طور پر بنا زمین کا ایک وسیع ٹکڑا ہے جس کے اطراف میں پانی ایک گولائی میں بہتا ہے۔

باغ کے بیچ میں جس رخ بھی بیٹھ جائیں آپ کو بل کھاتی ہوئی کوئی آبشار نظرآئے گی۔ ہلکی سی خنکی میں کسی بھی ایک آبشار کو دیر تک دیکھیے۔ آپ محو ہوجائیں گے۔ گم ہوجائیں گے۔ بہتے پانی کی نغمگیں دل کی دھڑکوں میں بندھ کردماغ کو اپنے سحر میں لے لے گی۔ اور اس کے بہاؤ میں خود کو بہتا ہوا محسوس کریں گے۔ ایک سرد آہ بھر کر جب آپ واپس اپنے منظر میں آجائیں گے تو محسوس کریں گے کہ ہلکی ہلکی پھوار میں آپ کا بدن بھیگ چکا ہے اور سردی کا احساس بڑھتا جارہا ہے، مگر آپ یہاں سے جانا نہیں چاہتے۔ آپ پوچھیں گے، یہ سب کیا ہے۔ میں کہوں گا، سید کاشف رضا کی نثر ہے!

Read more

وزیراعظم جیسینڈا ! پلیز مسلمان ہوجاؤ نا آپ کا کیا جاتا ہے!

ہم اس مغالطے کا شکار ہوگئے ہیں کہ حملے کے بعد نیوزی لینڈ کے معاشرے یا وہاں کی حکومت کو اسلام میں کوئی دلچسپی پیدا ہوگئی ہے۔ ایسا ہمیں اس لیے لگتا ہے کہ ہم خود کم ہی کبھی کسی معاملے کو انسانی تناظر میں دیکھ پاتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر حکومت اور سوسائٹی کو اسلام سے کوئی ہمدردی تھی تو پھر ریاست یا معاشرے کو اضافی نمبر کس بات کے دیے جائیں؟ اضافی نمبر تو ہیں ہی اس بات کے کہ اسلام میں یا مسلمانوں کے کسی بھی فرقے میں کسی قسم کی کوئی دلچسپی نہ ہونے کے باوجود وہ مسلم شہریوں کے انسانی حقوق کے لیے کھڑے ہوگئے۔

اپنے رویے سے انہوں نے ثابت ہی یہ کیا ہے کہ

• ایک شہری سے مختلف سوچنا کسی بھی دوسرے شہری کا جرم نہیں ہوتا۔ اور یہ کہ تعداد میں کم ہونا کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔
• جو ہم سے مختلف سوچتا ہے اسے جینے کا اتنا ہی حق ہے جتنا کہ ہمیں ہے۔
• اقلیت اوراکثریت کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ہوتی ہے تو صرف شہریت ہوتی ہے۔
• ریاست کی نظر میں کوئی بھی فرد مسلمان، مسیحی، ہندو یا بدھسٹ نہیں ہوتا۔ ہوتا ہے تو صرف شہری ہوتا ہے۔
• ریاست یہ نہیں جانتی کہ شہری کا کوئی عقیدہ ہوتا ہے کوئی رنگ ہوتا ہے کوئی جنس اور صنف ہوتی ہے یاپھر نظریات وافکار ہوتے ہیں۔ ہوتے ہیں تو صرف حقوق ہوتے ہیں۔

Read more

اساتذہ کے قتل پر ایک طرح کا اطمینان ہوتا ہے، کبھی سوچا کہ کیوں؟

اسلام آباد میں قومی زبانوں کا ایک میلہ لگا۔ لوک ورثہ کے زارسنگہ ہال میں ”ہم کیا نہیں لکھ رہے“ کے عنوان پر محفل سجی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر خالد سہیل میرِ محفل تھے اور شمع ان کے آگے رکھی تھی۔ گفتگو میں انہوں نے درس گاہوں کی ویرانیوں کا ماتم کیا۔ کہنے لگے، ہمارے ہاں بہت ساری فطری چیزوں کو غلط تصور کرلیا گیا ہے، اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں طلبا کی رہنمائی کریں۔ ایک کونے سے آواز آئی، ڈاکٹر خالد سہیل کی باتوں میں مت آئیے گا یہ مروانے والی باتیں کررہے ہیں، پھر بھی اگر شوق ہے تو رہنمائی سے پہلے کلاس میں نگاہ دوڑا لیں کہ کسی سٹوڈنٹ کے ہاتھ میں کیمرے والا موبائل تو نہیں ہے۔

کہنے والے نے یہ بات ازراہ تفنن کہی تھی۔ مگر اس کے پیچھے سہمی ہوئی درس گاہوں سے متعلق ایک سچائی چھپی تھی جو چالیس برس کو محیط ہے۔ زمانہ دینی مدارس کو روتا تھا یہاں عصری جامعات میں رفو کا بڑا کام نکل آیا ہے۔ لوگ حیرت کرتے ہیں مگر حیرت کا کوئی جواز نہیں ہے۔ کہنی چاہیے یا نہیں، مگر اس سچ کو لکھ دینے میں اب کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا کہ اس معاشرے میں نفرت اور تفرقے سے وہی دور ہے جو رائج نصابِ تعلیم سے بچ کے نکل گیا۔ جو اس نصاب کا شکار ہوا اس کی سوچ میں نفرت کا زہر گھل گیا۔ یقین نہ آئے تو دیہی علاقوں پر ایک نظر ڈال لیں۔ جن علاقوں میں تعلیم پہنچ گئی ہے وہاں لوگوں نے کافر مسلمان کا فرق جان کر برتن الگ کرلیے ہیں۔ جن علاقوں تک تعلیم نہیں پہنچی وہاں تمام مذاہب ومسالک کے ماننے والے ایک ہی چشمے سے پانی بھررہے ہیں۔

Read more

دنیا دہشت گردی کو مسلمان یا اسلام سے آخر جوڑتی کیوں ہے

دہشت گردی کو دنیا اسلام سے یا مسلمانوں سے کیوں جوڑتی ہے۔ کرائسٹ چرچ کی النور مسجد میں ہونے والے سانحے کے تناظر میں یہ سوال ترک وزیراعظم طیب اردگان نے بھی اٹھایاہے۔ امتِ مرحومہ نے اس سوال کو سراہا اور خوب سراہا۔ دیکھ لیتے ہیں کہ آخر دنیا ایسا کیوں کرتی ہے!

دنیا جانتی ہے کہ جن حالات سے کبھی ہم گزرے تھے ٹھیک انہی حالات کا سامناکبھی مغرب کو رہا۔ ہم نے بھی شہروں کے شہر اجاڑے، انہوں نے بھی کوپڑیوں کے مینار پر جھنڈے گاڑے۔ ہم نے مسلم سائنس دانوں کو قلعوں میں بند کر کے مارا، انہوں نے اٹلی کے چرچ میں کھڑا کرکے سزائے موت سنائی۔ ہم نے استنبول میں پبلشرز کے چھاپے خانے جلا کر دھواں کیے، انہوں نے پبلشرز کو برطانیہ میں سولی چڑھایا۔ انہوں نے مسلم عبادت خانوں میں اصطبل بنائے اور ہم نے کلیساوں میں قصاب خانے کھولے۔ آج دنیا دونوں میں ایک فرق دیکھ رہی ہے۔ فرق یہ ہے کہ آج اپنے ماضی پروہ شرمندہ ہیں، اپنے ماضی پرہمیں آج بھی فخر ہے۔ محض فخر ہوتا تو کچھ بات تھی، ہم تو اسی تاریخ سے استدلال کرتے ہوئے آج بھی تاریخ کو دوہراتے ہیں۔

Read more

کوہستان میں قیامت کا ناقوس بج رہا ہے، کسی کو خبر ہوئی؟

مارچ کا مہینہ پدرسری معاشرے کے ہربرج ہرمینارے کو لرزا کے گزرگیا۔ گزر اس لیے گیا کہ آٹھ تاریخ کے سوا مارچ میں رکھا کیا ہے۔ مگراب اس تاریخ کے پہلو میں ایک لاش بھی رکھی ہے۔ افضل کوہستانی کی لاش!

افضل کوہستانی کا تعلق کوہستان کے ضلع پالس سے تھا۔ مانسہرہ میں ایک وکیل کے پاس کلرک تھا۔ ساتھ قانون کا طالب علم بھی تھا۔ وقت آیا کہ وہ کلرک رہ سکا اور نہ طالب علم۔ یہ تب ہوا جب اس نے موت کو اپنے کچھ عزیزوں کی طرف بڑھتا ہوا دیکھا۔ یہ عزیز وہی تھے جنہیں دوہزار بارہ میں کوہستان سے منظرعام پرآنے والی ایک وڈیو میں تقریبا ہر آنکھ نے دیکھا۔ یہ شادی کی ایک تقریب کی گھریلو سی وڈیو تھی۔ جس میں چار لڑکیاں تالیاں پیٹ رہی تھیں اور دو لڑکے روایتی رقص کررہے تھے۔ وڈیو منظر عام پر آئی تو کوہستان میں ثناخوانِ تقدیس مشرق نے سوال اٹھائے۔ افضل کوہستانی جانتا تھا کہ جو ”جرم“ منظر عام پر آیا ہے اس کی سزا قتل کے سوا کچھ نہیں ہے۔

Read more