سہیل وڑائچ پر کیچڑ کون اچھال رہا ہے

نیا پاکستان بنانے کے لیے جنرل باجوہ، جسٹس ثاقب نثار اور عمران خان صاحب کی ایک تکون قائم کی گئی تھی، یاد ہے؟ جنرل فیض حمید اس تکون کے پہرے دار تھے۔ وہ تعمیر کے طریقے بھی بتاتے تھے۔ نئے پاکستان کی تعمیر کے لیے بجری سیمنٹ کی بجائے کیچڑ سے کام لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ سب سے پہلے پاکستان تحریک انصاف سے چن چن کر ان ہستیوں کو چلتا کر دیا گیا جو سیاسی وضع داری، رکھ رکھاؤ

Read more

ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیئشن کمیشن کا قیام

آپ غلطیاں کرتے ہیں اور پھر سیکھتے ہیں۔ خود سے نہ سیکھیں تو وقت سکھاتا ہے۔ سیاست دانوں کو وقت نے سکھایا۔ سیکھ کر میثاق جمہوریت پر دستخط کیے۔ میثاق جمہوریت در اصل کچھ غلطیوں کو نہ دہرانے کا سیاسی عزم تھا۔ مختلف اکائیوں کو ساتھ ملا کر آگے بڑھنے کا ارادہ تھا۔ طریقے سلیقے سے اپوزیشن کرنے کا جذبہ تھا۔ جنرل مشرف کی رخصتی کے بعد یہی میثاق در اصل ہمارے نئے سیاسی سفر کا نقطہ آغاز بنا۔ اس

Read more

شاہراہ دستور یا جرنیلی سڑک؟

اس بات میں کلام کی گنجائش ہی نہیں ہے کہ ووٹ پی ٹی آئی کو پڑا ہے۔ کسی بھی سیاسی کارکن کے پاس اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے کہ وہ انتخابی مینڈیٹ کا احترام کرے۔ احترام کے ساتھ ساتھ اس بات کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے مشکل وقت میں اپنی قیادت کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ انتخابات سے چند دن پہلے بلا چھن جانے کے بعد وہ جس رفتار سے عوام میں

Read more

عورت مارچ: برائے زن زندگی آزادی

سال 2022 میں عورتوں کے عالمی دن 8 مارچ کے لیے یو این کی طرف سے جاری کردہ تھیم کلائمیٹ چینج تھا۔ اس تھیم کے ذریعے ان خواتین کو سراہنے کی تحریک دی گئی تھی جو موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کردار ادا کر رہی ہیں۔ اِس سال کا تھیم ڈیجیٹل دنیا ہے۔ اس تھیم کے ذریعے دنیا کو اس جانب متوجہ کیا جا رہا ہے کہ جب بھی ٹیکنالوجی اور ایجاد کی بات آئے تو برابری کا سوال ضرور

Read more

گلگت سے چترال تک: ایک فوجی مہم کی کہانی

میرا چترال سے آبائی تعلق نہیں ہے۔ اس لیے مجھے اس کتاب پر تبصرہ نہیں کرنا چاہیے۔ میرا کتاب کے مترجم سے تعلق ہے۔ اس لیے کچھ نہ کچھ لکھنے کا حق تو مجھے حاصل رہنا چاہیے۔ اس حق کا حق دار اس لیے بھی ہوں کہ میں ان قارئین میں سے ہوں جنہوں نے یہ کتاب اشاعت سے پہلے پڑھ لی ہے۔ اس کتاب کے کچھ مقامات تو میں نے کتاب کا دوبارہ ترجمہ ہونے سے بھی بہت پہلے

Read more

سنگ دل طالبان کی بیٹیاں اور خوش دل بیٹیوں کی بانسریاں

میں اس پیڑی سے ہوں جو افغان جہاد کے شور شرابے میں پروان چڑھی۔ گلی گلی جہاد کچھ اس طرح مچا ہوا تھا کہ اچھی بات ٹھیک سے سنائی ہی نہیں دیتی تھی۔ ان گنت افغانوں کو ہجرت پر مجبور کر دیا گیا۔ بے شمار پاکستانیوں کو جہاد کا ایندھن بنا کر افغانستان میں جھونک دیا گیا۔ کراچی کے علاقے لسبیلہ اور سہراب گوٹھ سے ہفتہ وار بنیادوں پر بسیں افغانستان روانہ ہوتی تھیں۔ بس پر سفید رنگ کے دو

Read more

ویڈیو آ گئی کیا؟ ان باکس کر دے یار!

کیا کریں، لوگوں کے پاس انٹرٹینمنٹ بھی تو نہیں ہے۔ سکواش روشن خان، جہانگیر خان اور جان شیر خان کے ساتھ آیا انہی کے ساتھ رخصت ہو گیا۔ فٹ بال کراچی کے علاقے لیاری سے شروع ہوا، وہیں ختم ہو گیا۔ اس کھیل کے نگہبان بھی کسمپرسی میں گزر گئے۔ ہاکی بھی اچھا خاصا ٹائی ٹینک تھا، دھیرے دھیرے ریت میں دھنس گیا۔ سنوکر میں کبھی محمد یوسف تھے، اب آصف ہیں۔ جنگل کے مور ہیں، جنگل میں ناچے جنگل

Read more

وفاداری کے تقاضے وہ بھی بلوچستان سے؟

پاکستان بھر میں ان دنوں آئین کی بالادستی کا خوب شور رہا۔ اس شور میں ایک آواز یہ بھی سنائی دی کہ سردار اختر مینگل پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا کر دکھائیں۔ یہ فرمائش مینگل صاحب سے نہیں کی گئی، دراصل بلوچستان سے کی گئی۔ یہ پرانی روایت ہے کہ جہاں شہری حق کا سوال نظر آجائے اسے قومی پرچم کے نیچے چھپا دو۔ حب الوطنی اگر کوئی چیز ہے تو اسے جانچنے کا معیار سوائے آئین کے کیا

Read more

سیاست کو سامنا ہے ایک غیر سیاسی چیلنج کا

عمران خان جس تعداد میں لوگوں کو لے کر نکلے ہوئے ہیں اس پر رشک کرنا چاہیے۔ ان کی آواز پر نکلنے والے لوگ تازہ دم ہیں اور ہر حد سے گزرنے کو تیار ہیں۔ اسے بھی خان صاحب کی کامیابی ہی کہیے کہ بری کارکردگی کے باوجود وہ ایک غیر سیاسی بیانیہ بیچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ لوگ ان سے مہنگائی بے روزگاری اور بد انتظامی کے متعلق سوال نہیں کر رہے۔ لوگ اس بات پر مطمئن ہیں

Read more

غداری کی دو لکیریں اور تاریخ کی درست سمت

پاکستان میں دو طرح کے لوگ ہمیشہ سے پائے گئے ہیں۔ ایک محب وطن اور دوسرے غدارانِ وطن۔ آپ 1948ء سے سال 2022ء تک کی وہ فہرست نکال لیں، جس میں محب وطن اور غدار رہنماوں کے نام درج ہیں۔ پھر محب وطن رہنماؤں کی قربانیاں دیکھیں اور غداروں کے جرائم دیکھیں۔ محب وطن رہنماؤں کی قربانیوں میں جمہوریت دشمنی اور آئین بیزاری ملے گی۔ غداروں کے جرائم میں جمہوریت پسندی اور آئین مزاجی ملے گی۔ آپ ایسے رہنماؤں کی

Read more

سیاسی ہُلڑ بازی اور دائرے کے سفر سے واپسی

فضل الہی چوہدری مغربی پاکستان کے اسپیکر اور پھر پاکستان کے صدر رہے۔ تقسیمِ ہند کے بعد جب بے یقینی کی صورتِ حال تھی تو دلی میں مولانا آزاد سے ان کی ملاقات ہوئی۔ وہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کا ذکر آنے پر مولانا نے کہا، ”پاکستان کو سمجھائیے کہ عصرِ حاضر میں سرکاری اہلکاروں کا حکومتی منصب پر فائز ہونے کو مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ زور دے کر کہا، پاکستان کو جمہوریت کے سوا کوئی چیز نہیں بچا سکتی۔

Read more

پرویز ہود بھائی اقبال احمد کے خوابوں میں رنگ بھرتے ہیں

  اقبال احمد کی پیدائش بھارتی علاقے بہار میں ہوئی لیکن پروان پاکستان میں چڑھے۔ امریکہ میں پڑھتے رہے، وہیں پڑھاتے رہے۔ پاکستان کے پہلے مارشل لاء میں جیل ہوئی اور دوسرے میں سزائے موت سنائی گئی۔ تیسرے میں انہیں ناپسندیدہ شخص ڈیکلئیر کیا گیا۔ دراصل وہ حقوقِ انسانی کے علمبردار تھے۔ ایسوں کی سزائیں کچھ ایسی ہی ہوتی ہیں۔ اقبال احمد حد اور سرحد سے ماورا ایک مزاحمت کار تھے۔ کشمیر کی تحریکِ آزادی میں عملی طور پر حصہ

Read more

جنگ سے جنم لینے والے ہزار المیے اور ایک ناول

ہم مسلسل جنگ کے دہانے پر کھڑے لوگ ہیں۔ ہمارے پڑوس میں نیٹو کی فوجیں طالبان کا خاتمہ کرنے آئی تھیں اور طالبان کی حکومت قائم کر کے چلی گئیں۔ یہی فوجیں مہلک ہتھیاروں کی تلاش میں عراق پہنچی تھیں۔ ایک ایک اینٹ ہل گئی تو بتایا کہ مہلک ہتھیار تو بس ایک کہانی تھی۔ اب نیٹو اتحاد یورپ کے مشرق میں روس کی سرحدوں تک اپنا دائرہ پھیلانا چاہتا ہے۔ دائرہ تو نہیں پھیل سکا، یوکرین کی فضاؤں میں

Read more

گنتی کے تین جوڑے اور خاموش سا سوئس اکاونٹ

قبلہ ہارون رشید کی آنکھ کو جو شخص بھا جائے، سمجھ جائیں اس کے پاس گنتی کے تین ہی جوڑے ہیں۔ یہ جوڑے جس کے پاس ہوں اُس کے لیے کامیابی اور بخشش کا وعدہ ہے۔ گنتی کے یہ تین جوڑے جنرل ضیا نے سی کر سب سے پہلے اپنے ایک "فاتح” کو پہنائے تھے جو اکثر خاموش رہتے تھے۔ آج ضیا الحق اور ان کےخاموش فاتح نہیں ہیں مگر وہ تین جوڑے پہلے سے کہیں بہتر حالت میں موجود

Read more

کرناٹک کی مسکان اور عاصمہ جہانگیر کا گیان – آڈیو کالم

کرناٹک کی مسکان اور عاصمہ جہانگیر کا گیان عافیہ صدیقی کے القاعدہ سے گہرے مراسم تھے اور جہاد و قتال میں ملوث تھی۔ اچانک دودھ پیتے بچے سمیت لاپتہ ہو گئی۔ بہن نے کہا، جنرل مشرف نے اسے امریکی افواج کے حوالے کر دیا ہے۔ اس بات کی کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ جماعت اسلامی کو بھی نہیں۔ عاصمہ جہانگیر نے اس کی بازیابی کے لیے پٹیشن دائر کی تب زمانے کو خبر ہوئی کہ شہر کو سیلاب

Read more

عین اس وقت کہ جب ہم انڈیا کو پڑھا رہے تھے

ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ہم ہندوستان کو انسانی حقوق کے چیپٹر کھول کھول کر پڑھا رہے تھے۔ وہاں کی جمہوریت اور سیکولر ازم کو بھی بھاڑ میں جھونکے ہوئے تھے۔ ہم بتارہے تھے کہ شہری اپنی ذات میں آزاد ہوتا ہے۔ اپنی زندگی اپنے اختیار سے جینے کا اسے حق حاصل ہے۔ حجاب لینا اس کا انسانی حق ہے اور یہ حق چھین کر اپنی مرضی مسلط کرنا خلافِ انسانیت ہے۔ عین اس وقت کہ جب ہم

Read more

کرناٹک کی مسکان اور عاصمہ جہانگیر کا گیان

عافیہ صدیقی کے القاعدہ سے گہرے مراسم تھے اور جہاد و قتال میں ملوث تھی۔ اچانک دودھ پیتے بچے سمیت لاپتہ ہو گئی۔ بہن نے کہا، جنرل مشرف نے اسے امریکی افواج کے حوالے کر دیا ہے۔ اس بات کی کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ جماعت اسلامی کو بھی نہیں۔ عاصمہ جہانگیر نے اس کی بازیابی کے لیے پٹیشن دائر کی تب زمانے کو خبر ہوئی کہ شہر کو سیلاب لے گیا ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے ایک مذہبی

Read more

فیشنوں میں سب سے مہنگا سادگی کا فیشن

اہم شخصیات جب سادگی اختیار کرتی ہیں تو اسے برقرار رکھنا، عیاشی سے بھی زیادہ مہنگا ثابت ہو جاتا ہے۔ سکیورٹی کا معاملہ ہو یا ان کے طرز زندگی کا، یہ مسئلہ کچھ پیچیدہ ہی ہو جاتا ہے۔ برصغیر میں مہنگی سادگی کی ایک مثال موہن داس کرم چند گاندھی کی بھی دی جاتی ہے، جن کا طرز زندگی انتہائی سادہ تھا تاہم کچھ حلقوں کے مطابق اسے برقرار رکھنے پر کافی خرچہ آتا تھا۔ اس بارے میں حقیقت کیا

Read more

کے پی بلدیاتی الیکشن میں بیچے گئے پیغمبروں کے خواب اور نتائج

خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں جے یو آئی نے میدان مار لیا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی نے دل پہ پتھر رکھ کر اس جیت کو تسلیم کر لیا ہے کہ جے یو آئی کے نمبر پورے ہیں۔ ہمارا سیاسی شعور اب تک اتنا ہی جان پایا ہے کہ نمبر پورے ہوں تو جیت آپ کی ہوتی ہے اور یہ کہ جبر و استبداد کا مکمل حق آپ کو حاصل ہو جاتا ہے۔ ہندوستان کے گزشتہ انتخابات

Read more

سولہ دسمبر پر رکی ہوئی ملکی تاریخ

سولہ دسمبر، پاکستان کا ادھ کٹا بازو اس دن مکمل طور پر الگ ہوکر خلیج بنگال میں گرگیا تھا۔ نصف صدی تک یہ ہاتھ کسی لائٹ ہاؤس کی طرح تاریخ کی بندرگاہ پر کھڑا رہا۔ وقت انتظار کرتا رہا کہ ایک دن چمکتی ہوئی لال بتی دیکھ کر لوگ راستہ پائیں گے اور منجھدار میں پھنسے پاکستان کے ٹائٹینک کو درست سمت میں موڑ دیں گے۔ مگر لگتا یہ ہے کہ پاکستان کی خوش بختیوں کی لکیریں اسی ہاتھ میں

Read more

نظار یوسفزئی چلا گیا، انتظار یوسفزئی رہ گیا

خدائی خدمات گاری ہماری سیاست کا ایک معتبر حوالہ ہے۔ پختون وطن سے اٹھنے والی یہ تحریک خان عبدالغفار حضرت باچا خان کی قیادت میں چلی۔ باچا خان کو سرحد کا گاندھی کہا جاتا ہے، یہ زیادتی ہے۔ وہ اپنے نام کے ایک تھے اور ایک ہی رہیں گے۔ تقابل کرنے کی بہت زیادہ اگر ضرورت پڑی تو ان کا نام اس سلسلے میں آئے گا، جس میں وردھمان مہاویر اور گوتم بدھ جیسے پیامبر چلے آتے ہیں۔ گاندھی جی

Read more

سری لنکن شہری کے قتل میں میرا کتنا ہاتھ ہے؟

ہماری ایک روشن تاریخ ہے۔ اس ملک کی جب بنیاد پڑ رہی تھی تو مستقبل کا ایک خاکہ بھی ساتھ ساتھ کھنچ رہا تھا۔ اس خاکے میں ایک مقام آتا ہے، جہاں عطااللہ شاہ بخاری چیختے اور دھاڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ عطااللہ شاہ بخاری دیوبند مسلک کا ایک قابلِ فخر کردار ہیں مگر سچ یہ ہے کہ زندگی اشتعال دلاتے ہوئے اور دستار کھینچتے ہوئے گزری۔ مرحوم کی ہی تقریر تھی، جس سے پھوٹنے والی چنگاری نے غازی علم

Read more

’مسکرائیے، آپ ریاستِ مدینہ میں ہیں‘

عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل ہی ملک سے عدم مساوات کے خاتمے کا عزم کر لیا تھا، موجود پاکستانی اسی عزم کی تصویر ہے۔ عمران خان نے اپنی سیاست کے آغاز پر ہی کہہ دیا تھا کہ اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ نا انصافی اور عدمِ مساوات ہے۔ امیر مزید امیر ہوتا جارہا ہے اور غریب مزید غریب ہوتا جارہا ہے۔ امیر کے لیے قانون اور ہے غریب کے لیے اور ہے۔ اشرافیہ کا نصاب

Read more

گجر نالے کی پیرنی اور بنگالی پاڑے کا مالا کردستانی

گئے وقتوں کی بات ہے، محلے کی ایک لڑکی سے ہمیں ایک طرح کا واسطہ ہو گیا تھا۔ بڑوں کی نظر میں یہ ایک ناجائز تعلق تھا، مگر یہی ایک تعلق تھا جو ہم کو بہت جائز تھا۔ نظروں میں آئے تو کیا دوست کیا دشمن، سبھی ناصح بن گئے۔ ہر نصیحت جب بے کار گئی تو دور گجر نالے کے پاس ایک کمرے کے مکان میں رہنے والی ایک پیرنی کی روحانی خدمات حاصل کرلی گئیں۔ لوگوں کے فیملی

Read more

پیمرا : گلے ملنا اپنی روایت نہیں ہے، گلے کاٹنے کی بات اور ہے

پیمرا نے نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے کہ آئندہ ہمارے ڈراموں میں میاں بیوی کے کردار گلے نہیں ملیں گے۔ پیمرا نے ترکی کی سیریز ”ارطغرل غازی“ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس طرح کے پلٹ جھپٹ اور پاکیزہ ڈرامے بنانے چاہئیں۔ لگتا یہ ہے کہ پوری قوم کو ارطغرل غازی پر لگا کر ہمارے حکام خود دیوار کی طرف منہ کر کے کچھ اچھا سا دیکھنے میں مشغول ہو گئے تھے۔ ارطغرل سیریز کے مافوق البھڑک مناظر انہوں

Read more

پاکستان کی جیت، ویرات کی مسکراہٹ اور محبتوں کے بے تاب موسم   

پشاور کے ایک ریستوران میں سب کی نظریں بڑی سی سکرین پر جمی ہوئی تھیں۔ پاکستان اور برطانیہ کی ٹیمیں پنجے جھاڑ کے ایک دوسرے کے مقابلے میں اتری ہوئی تھیں۔ انگلینڈ کے بالر نے یوسف یوحنا کی وکٹ اڑائی تو ساتھ بیٹھا ہمارا برطانوی رفیقِ کار چمچ سے گلاس بجا کر خوشی کا اظہار کرنے لگا۔ انضمام الحق نے روایتی انداز میں کوور ڈائیو پہ سٹروک کھیلتے ہوئے دو فیلڈرز کے بیچ سے گیند نکالی تو یہی برطانوی دوست

Read more

ماں جی کا ریڈیو، بچپن کا بی بی سی اور رحیم اللہ یوسفزئی کی آواز

ہمارے والد عالم بابا کے چچا گاؤں کے پہلے آدمی تھے، جو باقاعدہ تعلیم کے حصول کے لیے سفر پہ نکلے۔ یہ تعلیم دین کی تھی، یہ سفر دہلی کا تھا اور یہ بات تقسیمِ ہند سے بہت پہلے کی ہے۔ اسی نسبت سے وہ ڈیلی مُلا، یعنی دہلی والے مولوی صاحب کہلاتے تھے۔ اُن کا کچا مکان منفرد چیزوں کے حوالے سے جانا جاتا تھا۔ دِلی، آگرہ اور پٹنہ سے وہ کیسی کیسی نادر چیزیں لے کر آئے تھے۔

Read more

ایک قومی نصاب تعلیم کا مطلب کیا ہے؟

کچھ باتیں بچپن میں ہی ہمیں تعلیم کر دی جاتی ہیں۔ پھر زندگی بھر ہمارا مثبت اور منفی، ٹھیک اور غلط، اچھا اور برا اسی سیکھے کے گرد گھومتا رہتا ہے، ہمارے دعوے اور نعرے بھی اسی آموختے سے جنم لیتے ہیں۔ جو نعرے پون صدی کی سرمایہ کاری سے ہم نے سیکھے ہیں، وہ کچھ ایسے ہیں! ہم سندھی، بلوچ، پشتون، پنجابی، سرائیکی اور گلگتی کیوں کہلواتے ہیں، ہم ایک پاکستانی کب بنیں گے؟ ہم شیعہ، سنی میں بٹے

Read more

بزدلی نے غیرت کا پرچم اٹھا رکھا ہے

زندگی اتنی بے وقعت چیز نہیں ہوتی کہ مرنے کی آرزو کی جائے۔ فرد اپنی ذات میں آزاد ہے، وہ اپنی خوشی سے خود کشی بھی کرلے تو کون روک سکتا ہے۔ افسوس مگر یہ ہے کہ سماج میں غیرت کے تمغے اکثر انہی سینوں پہ سجے ہیں جن کے اندر دھڑکتے دل ما یوسی کی آماج گاہیں ہیں۔ خود ہی دیکھ لیں۔! یہاں ہر دوسری زبان پہ ایک جملہ ’’میں منافق نہیں ہوں‘‘ ملے گا۔ اب اس ’’منافق نہیں

Read more

سماجی ذرائع ابلاغ، عقائد کا احترام اور تربیت کا اظہار

میں ایک کٹھن سفر پہ تھا۔ لاہور کا سورج جیسے سوا نیزے پہ ہو۔ داڑھ گیلی کرنے کا موقع میسر نہ ہونے کی وجہ سے حلق خشک کا خشک ہی رہا۔ کرنے کو تو حلق تر ہو سکتا تھا مگر یہ احساس دامن گیر رہا کہ اطراف میں جو ہجوم ہے، بیشتر ان میں سے روزے سے ہوں گے۔ اسے احترام رمضان کا احساس کہوں تو کچھ بڑی بات ہوگی، سو اسے ایک اور احساس کہہ لیتے ہیں کہ "لوگ

Read more

تاریخ کے گھنٹہ گھر پر بیٹھا گیانی دھیانی

ہماری اجتماعی فکر، شعوری یا غیر شعوری طور پر آج بھی طاقت کو دلیل مانتی ہے۔ ہم علم اور اخلاق پر مذہب کے اجارے کو دل سے تسلیم کرتے ہیں۔ ثقافت پر عقیدوں کے پہرے بٹھاتے ہیں۔ فرد کی زندگی میں مداخلت کو اپنا پیدائشی حق گردانتے ہیں۔ نظریوں کی بنیاد پر تفریق روا رکھتے ہیں۔ حکومت اور ریاست میں کوئی امتیاز نہیں کرتے۔ جرم اور گناہ میں کوئی فرق روا نہیں رکھتے۔ مذہبی عقیدے اور سیاسی موقف کو ایک

Read more

ارمان لونی کی بہن اور عثمان کاکڑ کی بیٹی

ایسا تب ہوتا ہے، جب لہجے سے مٹی کی مہک آتی ہے اور سیاست دان آخری دم تک کارکن ہوتا ہے۔ عثمان کاکڑ ایک عالم فاضل شخص تھے۔ یہ بات ان کے جھکے ہوئے کندھوں سے بھی جھلکتی تھی۔ وہ ایک نفیس انسان تھے۔ اختلاف بھی کرتے تھے تو لفظ کا انتخاب ستھرا کرتے تھے۔ اونچے سروں میں بات کرتے تو گاہے اس میں مسکراہٹ کے کچھ رنگ بھی شامل کر دیتے تھے۔ وہ احباب کے گلدستے میں بندش کی گرہ بھی تھے۔ گلدستے کی ہر شاخ اور ہر پتی کو مطمئن رکھنا جانتے تھے۔

وہ جانتے تھے کہ قوم اپنی سیاسی جماعت اور اپنے فرقے کو نہیں کہتے۔ قوم کے دائرے میں وہ فرد بھی آتا ہے، جو فکر و نظر میں ہم سے مختلف ہوتا ہے۔ ایسا سوچنے والے لوگ مشترکات ڈھونڈتے ہیں اور تنازعات سے دور رہتے ہیں۔ یہ لوگ اختلاف کے گرداب سے اتحاد کا سفینہ سہولت کے ساتھ نکال کے لے جانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ عثمان کاکڑ رکے اور سوچا کہ جانی خیل سے لے کر بندر عباس تک پھیلے ہوئے لٹے پھٹے انسانوں کے سارے غم اگر نچوڑ لیے جائیں تو ایک متفقہ نقطہ کیا نکالا جا سکتا ہے۔ انجام کار وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ان کے بیچ کوئی رشتہ اگر ہے تو وہ درد کا رشتہ ہے۔ عثمان کاکڑ نے درد کو نظریہ کر لیا۔ اس حد تک کر لیا کہ وہ ان کی آنکھ میں، لہجے میں اور مسکراہٹ تک میں اتر آیا۔

Read more

مدارس کی جنسی اور معاشی ثقافت

جنسی جذبات کو جانوروں پر آزمانے کے ثبوت آئے روز سامنے آرہے ہیں۔ سوچنے کے لیے یہ سارے واقعات بھی شاید کم ہوں۔ لیکن صورت حال جب یہ ہو جائے کہ صبح دفنائی ہوئی خاتون کو شام قبر سے نکال کر ہوس کا نشانہ بنایا جائے، تو پھر کچھ دیر کے لیے رک کر ہمیں سوچنا چاہیے کہ تہذیب کے شیرے میں نشہ آور ادویات ملا کر ہمیں کس نے کھلائی تھیں اور کب کھلائی تھیں۔

Read more

قائم رہیں دائم چترال تیرے سر تال

چترال میں میرا بچھونا بہشت کی طرف کھلنے والی ایک کھڑکی کے نیچے لگا ہوا تھا۔ کھڑکی سے متصل چھوٹی سی ایک نہر گزرتی تھی جو رات کو لوریاں سنا کر سلاتی تھی۔ اسی کے ساتھ لگے درخت کی اونچی شاخ پر ایک پرندہ صبح دم راگ بھیرویں چھیڑ کر مجھے جگاتا تھا۔ اساتذہ سے پتہ چلا کہ اس مطرب خوش آواز کو مایون کہتے ہیں۔ بہار کی ہوائیں چلتی ہیں تو مایون کے سر کھلنے لگتے ہیں۔ انجیر پکنے تک یہ فضاؤں میں یونہی رس گھولتا رہتا ہے۔ انجیر کھاتا ہے تو اس کی نغمہ سرائی کو لمبی سی ایک چپ لگ جاتی ہے۔ اگلی بہار آنے تک یہ دن بھر نغمہ بن کر کسی گلوکار کی خوش نوائیوں میں رہتا ہے۔ شام ہوتی ہے تو شعر بن کر کسی شاعر کے دل میں سو جاتا ہے۔

Read more

چترال کی حسین آنکھ کا پھیلتا ہوا کاجل

شمال میں کسی حسین بیوہ کی اجڑی ہوئی مانگ جیسی ایک سڑک گزرتی ہے۔ پر اسرار پانیوں کے ساتھ چلتی ہے اور ہندوکش کی گہری کھائی میں جاکر ختم ہوجاتی ہے۔ یہاں صدیوں پرانا ایک مکان ہے جسے چترال کہتے ہیں۔ گئے وقتوں میں تجارتی قافلے یہاں دم لیتے تھے، اب یہاں بے اعتنائی کی دھول اڑتی ہے۔ ہاتھ پاؤں باندھ کر زندگی کو اس مکان میں اکڑوں بٹھا دیا گیا ہے۔ دبے قدموں یہاں داخل ہوں تو سو راتوں سے جاگی ہوئی آنکھیں آپ کا استقبال کرتی ہیں۔ ان آنکھوں میں کچھ خواب ہیں، جو کم از کم بھی اپنا بیان چاہتی ہیں۔ زندگی کے منہ میں لیکن جبر کا کپڑا ٹھونس دیا گیا ہے، خواب کیسے بیان ہوں۔ کوئی صاحب نظر ہو تو ان آنکھوں کے سرخ حاشیے پڑھ سکتا ہے، مگر کوئی کیوں پڑھے۔ یہاں جگہ جگہ بکھرے ہوئے ارمان دور دراز سے آنے والے سیاحوں کے لیے ایک تماشا ہیں۔ تماشا ہی نہ رہا تو بے چارے سیاح کہاں جائیں گے۔

Read more

بارہ مئی 2007: وسیم اختر کا اعتراف جرم اور پرویز مشرف کی طاقت

 پہلی بار نہیں ہوا تھا کہ ایم کیو ایم کے کسی رہنما نے جرم کا اعتراف کیا ہو۔ جولائی 2016 میں وسیم اختر کا اعتراف جرم بھی کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔ نوے کی دہائی میں ان کی وہ جے آئی ٹی فلم کے فیتے پر محفوظ ہے،جس میں وہ کچھ ایسے ہی جرائم کا اعتراف کر رہے ہیں۔ ہمارا عسکری ذہن چونکہ ہمیشہ سے ذہین چلا آ رہا ہے اس لیے ایم کیو ایم کے ہر اہم رکن کی

Read more

زندگی کا بجٹ موت پر لگانے والے ایٹمی پڑوسی

ستر برسوں کی جنگی مقابلہ بازیوں میں کبھی ایک نے برتری کا دعوی کیا تو کبھی دوسرے نے غلبے کے بھاشن دیے۔ فتح و نصرت اور عزم و ہمت کے کون کون سے حوالے ہیں، جو ان کے نصابوں، کہانیوں اور فلموں میں موجود نہیں ہیں۔

وقت پڑا تو معلوم ہوا کہ پون صدی سے یہ مقابلہ موت کی خیرات بانٹنے میں ہو رہا تھا۔ زندگی کے امتحان میں جب سانسوں کا سوال آیا تو بندہ بشر کو دینے کے لیے ان کے پاس نا تو آکسیجن سلینڈر تھا اور نہ ہی وینٹی لیٹر۔

مشکل یہ ہے کہ انڈو۔ پاک کے شفا خانوں میں بھاگتے دوڑتے تیمار دار اس حقیقت کو تسلیم نہیں کریں گے کہ بازار میں سانسوں کا بحران اس لیے پیدا ہوا ہے کہ یہاں زندگی کا بجٹ موت پر لگ گیا ہے۔

Read more

خدا کی بستی میں بستا سائیں امر جلیل

پولیس کے چاق و چوبند دستے گاڑیوں سے اتر رہے ہیں اور پھرتی سے یہاں وہاں پوزیشن سنبھال رہے ہیں۔ نیچے سڑک پر اوپر عمارتوں پر شکرا نظر بندوقچی سانس بند انداز میں کھڑے ہو گئے ہیں۔ خاتون نے گھر کی طرف بڑھتے بڑھتے ایک اچھلتے پھدکتے افسر سے سہمے ہوئے انداز میں پوچھا، خیر تو ہے کون سا قیامت آ گیا ہے؟ افسر بولا، وزیر اعظم آ رہا ہے۔ یہ سنتے ہی خاتون کی سانس بحال ہو گئی۔ طنزیہ سے انداز میں مسکرائی اور بولی، مڑا اچھل کود تو تم لوگوں نے ایسا لگا رکھا ہے، جیسے ڈپٹی کمشنر آ رہا ہے۔

Read more

بابا جان والے ہنزہ سے ابھی ایک آواز آئی، آپ نے سنی؟

شاہراہ قراقرم پر گلمت سے کچھ پہلے آپ آسمان کی وسعتوں کو سمیٹتے ہوئے ایک تنگ و تاریک سرنگ میں چلے جاتے ہیں۔ اس طویل ترین سرنگ کے اگلے سرے کے پار ہوتے ہی آپ نیلے پانیوں کی ہوا دار بہشت میں نکل جاتے ہیں۔ اسے عطا آباد جھیل کہتے ہیں۔ سینکڑوں لوگوں کے ارمانوں پر پانی پھر جانے کو ہم عطا آباد جھیل کہتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے جن کے گھر یہاں ڈوب گئے تھے وہ در در رسوائی کاٹ رہے ہیں۔ جو ان کا حق مانگ رہے تھے وہ آشفتہ سر غذر کی جیلوں میں پڑے ہیں۔ جو بے خبر ہیں وہ جھیل کے سینے کو واٹر بائیک سے چیر کر پانی اڑا رہے ہیں۔

یہ سطریں ایک کالم میں آئیں تو پوچھنے والوں میں اکثر نے پوچھا، عطا آباد جھیل کی کہانی کیا ہے؟ کن کے ارمانوں پر یہاں پانی پھرا تھا اور کون ہیں وہ آشفتہ سر جو اب غذر کی جیلوں میں ہیں۔ سوالات سے اندازہ ہوا کہ ہنزہ آنے جانے والوں میں شاید ہی کوئی ہوگا جس نے عطا آباد جھیل کے نیلگوں پانیوں میں قیامت کے نامے تیرتے ہوئے دیکھے ہوں۔ ہم جب کسی کشتی میں بیٹھ کر اس جھیل کا پانی چیر رہے ہوتے ہیں، ہم اندازہ نہیں کر پاتے کہ اس کی گہرائیوں میں کتنے خواب دفن ہیں۔ ان پانیوں میں کہیں کہیں جو یہ درخت کھڑے ہیں، آپ کو کیا لگتا ہے کہ یہ ویسے ہی کھڑے ہیں؟ یہ اس سمت میں اشارہ کرنے کے لیے ہی تو کھڑے ہیں جہاں زندگی کبھی رقص کیا کرتی تھی اور بچے کبھی کھیلا کرتے تھے۔ یہ جس جگہ اب مچھلیاں تیرتی ہیں یہاں کبھی پرندے اڑا کرتے تھے۔ یہاں مال مویشی تھے، گرم تنور تھے، پرندوں کے گھونسلے تھے، دریا کا کنارہ تھا، رستے اور گلیاں تھیں، لین دین اور میل جول تھا، عبادتیں اور روایتیں تھی، رسم تھے اور رواج تھے، شہد کے چھتے تھے، بانسریوں کے سر تھے، ستار کی دھنیں تھیں، محبتوں کے نشان تھے، ہجر کی داستانیں تھیں، پرکھوں کی قبریں تھیں اور بچپن کا ساون تھا۔ کچھ نہیں رہا، سب ڈوب گیا۔

Read more

ضمیر اختر نقوی: مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے

اپنے قبیلے کا آخری آدمی لفظ کو مجلس میں اکیلا چھوڑ کر دور بہت دور چلا گیا۔ دعوی ہمیں زیب نہیں دیتا لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں لکھنو کی تہذیب سے آراستہ پیراستہ آخری مجلس بھی تمام ہو گئی۔

منبر تو پہلے ہی علامہ طالب جوہری اپنے ساتھ لے گئے تھے، پیچھے شمع رہ گئی تھی وہ ضمیر اختر نقوی لے گئے۔ اس خرابے میں اب تقریریں تو بہت ہوں گی مگر جس کی خوبصورتی تلخی میں اور بھی بڑھ جاتی ہے، وہ زبان نہیں ہو گی۔

Read more

میں بلوچستان میں پنجابی مزدوروں کے اغوا پر کیوں نہیں بولا؟

نہیں، ایسا بھی نہیں کہ ہم نے پنجابی مزدوروں پر کبھی بولا ہی نہ ہو۔ ہم نے بولا، مگر مذمت نہیں کی۔ ہم نے مسلح اور غیر مسلح بلوچ تحریکوں کے ہمدردوں سے یہ توقع باندھی کہ وہ یہ بات کہہ کر اپنے بڑوں پر اخلاقی دباؤ ڈالیں گے۔

فاقہ کشوں پر زندگی کا دروازہ بند کر دینے سے بات میں وزن نہیں پڑتا، ہوا میں گرد اڑتی ہے۔ ایسی گرد، جو بے پر کی تو بہت اڑا دیتی ہے مگر بنیادی بات کو دھندلا دیتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ خود مذمت کے دو بول کیوں نہیں بولے؟

Read more

تحفظ بنیادِ اسلام بِل سے شیعہ علما کو واقعی اختلاف ہے؟

پنجاب اسمبلی سے تحفظِ بنیادِ اسلام بل منظور ہوا، جو اب تنقید کی لہروں پر تیرتا ڈھولتا اسلامی نظریاتی کونسل کی دیواروں سے ٹکرا گیا ہے۔ یہاں سے یہ سیلابِ بلا خیز کس کے گھر جائے گا اس بات کا علم کسی کو نہیں ہے۔ اس بات کا اندازہ البتہ سبھی کو ہے کہ پانی جب گزرتا ہے تو استثنا کسی کو نہیں دیتا۔ جھونپڑی پر عباس کا علم لگا ہو یا نعلینِ پاک کا نقش کھنچا ہوا ہو، خس

Read more

بیٹے کا ماں پر تشدد اور صحافی کی گمشدگی

چار دن پہلے دو ویڈیو سوشل میڈیا کے جنگل میں آگ کی طرح پھیلیں۔

ایک ویڈیو سی سی ٹی وی کیمرے کی ہے جس میں کچھ مسلح و غیر مسلح اور باوردی و بے وردی اہل کار اسلام آباد کے ایک اسکول کے باہر سے صحافی مطیع اللہ جان کو غیر قانونی حراست میں لے رہے ہیں۔ دوسری ویڈیو میں راولپنڈی کا ایک رہائشی اپنی ضعیف العمر والدہ کو تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔

اس بات پر پوری قوم کا اتفاق ہے کہ ماں پر تشدد کرنے والا بیٹا غلطی پر ہے۔ اس بات پر البتہ اتفاق رائے موجود نہیں ہے کہ ایک صحافی کا ماورائے عدالت یوں اٹھا لے جانے والے بھی غلطی پر ہیں۔ ایک گروہ نے اس واقعے کی خبر آتے ہی کہہ دیا تھا کہ مطیع اللہ جان از خود روپوشی اختیار کرچکا ہے۔ جب ویڈیو منظر عام پر آئی تو اول گہرے سکھ کا سانس لیا کہ چلو شکر ہے پولیس ملوث ہے۔ پھر کہا گیا کہ اسکول بند ہونے کے باوجود مطیع اللہ جان کی بیوی اسکول کیا کرنے گئی تھی۔ ایسی تاویل پیش کرنے والوں کو اس بات سے بھی کوئی فرق نہیں پڑ رہا کہ پولیس حکام ابھی تک اس بات کا سراغ لگانے میں ناکام ہیں کہ سی ٹی ڈی کی وردی میں آنے والے اہل کار آخر کون تھے۔

Read more

اعتدال کا شکار ہونے والا مندر

پاکستان میں بینکاری کے حوالے سے حلال حرام کے مباحثے بہت بڑھ گئے تو کچھ نیکوکاروں کے دل میں خدا نے ایک بات ڈالی کہ یار بہت ہو گیا، یہ بحث اب سمٹنی چاہیے۔ مگر کیسے؟ وہ ایسے کہ روز روز کی چک چک سے اچھا ہے کہ علمائے کرام کا رزق اپنے رزق کے ساتھ باندھ لیا جائے۔ وہ کیوں؟ تاکہ ان کی نیکیوں میں ہماری حرام کی کمائی دھل کے پاک صاف ہو جائے۔ ہاں وہ تو ٹھیک ہے مگر ہوگا کیسے؟ وہ ایسے کہ بینک کے اندر شرعی ایڈوائزر کی ایک اسامی جاری کردی جائے۔ اچھا پھر؟ بس پھر یہ کہ علمائے کرام اور مشائخ عظام کا انٹرویو کیا جائے اور چھانٹ کر ان میں سے ایک ایسے شیخ کو رکھ لیا جائے، فقہ کی شطرنج پر جس کی چلی ہوئی چالوں کی لوگ پیروی کرتے ہوں۔ اچھا پھر کیا ہوگا؟ پھر اللہ راضی ہوگا اور کیا ہوگا۔

یہ منصوبہ سامنے آتے ہی فقہ اسلامی کے وہ سارے پہلو سامنے آنا شروع ہو گئے جس میں گنجائش بہت ہوتی ہے۔ بلاسود بینکاری کے لیے کچھ اصطلاحات تو پہلے سے موجود تھیں اور کچھ علمائے کرام نے خود اپنے علم اور فہم سے تراش کے سامنے رکھ دیں۔ ایک دو بینکوں نے یہ نسخہ آزمایا تو ان کے سر سے بلا تو ٹلی سو ٹلی مال میں برکت بھی بہت پڑی۔ ان کی دیکھا دیکھی باقی بینکوں نے بھی علمی و فقہی مشاورتیں ختم کیں اور نورانی نور قسم کے شرعی ایڈوائزر بھرتی کر لیے۔ اس کے بعد تو ہر بینک کے تشہیری مواد میں شرعی ایڈوائزر کی حیثیت ڈائریکٹرز سے زیادہ نمایاں نظر آنے لگی۔ جس بینک نے ایسا نہیں کیا اس کے کاموں میں جانی ان جانی سی رکاوٹیں پیدا ہونا شروع ہو گئیں۔ ہونی بھی چاہے تھیں، آخر جس کے وسیلے سے سب کی روزی روٹی لگی ہوئی ہے اسی کی قدر نہیں ہوگی تو گلشن کا کاروبار کیسے چلے گا؟ جن قوموں نے اپنے محسنوں کی قدر نہیں کی تاریخ نے پھر ان کے ساتھ وہی سلوک کیا ہے جو مرکز نے بلوچستان کے ساتھ کیا ہے۔

Read more

عامر تہکالی کے کیس میں قانون اور جذبات کا ٹاکرا

وبا کے دن ہیں، لوگ گھروں میں بیٹھ بیٹھ کر بیزار ہو گئے ہیں۔ ہر ایک کے سامنے ایک ہی سول ہے، نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے۔ کبھی بھی تو بیزاری اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ انسان زکوٹا جن کی طرح فرج، الماری اور شیلف میں بلا وجہ کی تاکا جھانکا شروع کردیتا ہے۔ جیسے زکوٹا جن پوچھ رہا ہو میں کہاں جاؤں میں کیا کروں میں کس کو کھاؤں۔ وزیر اعظم ہمارے ذہین ہیں، انہوں نے ان حالات میں اپنے لیے قوم سے خطاب والی مصروفیت ڈھونڈ نکالی ہے۔ موج میں ہوتے ہیں تو کمرہ بند کردیتے ہیں اور کیمرہ آن کردیتے ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی قوم نے بھی یہی وظیفہ اختیار کر لیا ہے۔ دائیں دیکھا بائیں دیکھا، کچھ نہ ملا تو موبائل میں جھانک لیا۔ موبائل میں بھی کچھ کام کا نہ ملا تو لائیو کا بٹن دبایا اور قوم سے براہ راست مخاطب ہو گئے۔

پشاور کے علاقے تہکال کے کچھ لڑکے شام کے بعد کوہاٹ کی جڑی بوٹیاں پھونک کر اپنا غم غلط کر رہے تھے۔ عامر نامی ایک لڑکے کو بیٹھے بیٹھے قوم سے خطاب کی سوجھی۔ غریب نے ویڈیو کیمرا آن کیا اور رندوں پر ٹکا دیا۔ کسی نے ہاتھ ہلایا، کسی نے جملہ پھینکا، کسی نے کالر کو تھوڑا اوپر اٹھایا اور کسی نے سگرٹ کے دھویں کا چھلا بنایا۔ آخر میں کیمرا اپنی جانب موڑا اور جی میں جو آیا وہ پولیس کے لیے ارزاں کر دیا۔ ہوا تو کچھ نہیں، بس بات مے خانے کی نکل گئی باہر مے خانے سے۔

Read more

دھونس کی وبا اور پون صدی کو محیط بلوچستان کا لاک ڈاؤن

پینسٹھ کی جنگ میں انتظار حسین نے شاکر علی سے پوچھا، وطن کے دفاع کے لیے بھی آپ کچھ کر رہے ہیں کہ نہیں؟ شاکر علی نے کہا، میں تو ان دنوں چاند پینٹ کر رہا ہوں۔ تعجب سے انتظار صاحب نے پوچھا، جنگ کے دنوں میں چاند پینٹ کرنے کا کیا مطلب ہوا؟ بولے، چاند ہندوستان میں بھی چمکتا ہے اور پاکستان میں بھی۔

کوئی پانچ برس قبل اپنے ہفتہ وار کالم میں وجاہت مسعود نے یہ حوالہ باندھا تو جنوں کی حکایتیں لکھنے والے قلم کاروں نے وہ سارے کینوس نکال کے سامنے رکھ دیے جو انہوں نے دل کے نہاں خانوں میں چھپا رکھے تھے۔ کسی کینوس پر درد کے کھینچی ہوئی آدھ ادھوری لکیریں کھنچی ہوئی تھیں اور کسی پر جنگ زدہ عمارتوں سے جھانکنے والی سہمی ہوئی زندگی کو پینٹ کیا گیا تھا۔ ان میں ایک کینوس ایسا بھی تھا جو در اصل کینوس نہیں تھا۔ یہ بہن کا سفید دوپٹہ تھا جس پر کسی بے چین روح نے خاک ہوئے ارمان پینٹ کیے ہوئے تھے۔ کچھ حسرتیں بھی پینٹ کی ہوئی تھیں جو ناتمام رہ گئی تھیں۔ اس میں ایک کینوس دھول سے اٹا ہوا تھا جو بلوچستان سے آیا تھا۔ یہ در اصل چیخوں اور آنسووں کی گواہی دینے والے اخبار نویس ارشاد مستوئی کا دامن تھا، جسے دکھائی نہ دینے والے کچھ لوگوں نے دفتر میں گھس کر قتل کر دیا تھا۔ عابد میر غم کی سیاہ راتوں میں اس دامن پر خاموشی پینٹ کر رہے تھے۔

Read more

قوم کی ناچتی بیٹیاں اور راگ درباری میں چھیڑی گئی دعائیں

ایسا پہلی بار تو نہیں ہوا۔ ہمیشہ سے ہی زمانے کا چلن یہ رہا ہے کہ جس چیز کا سِرا ہاتھ نہ آئے اُسے دیوتاوں سے جوڑ دو۔ آسمان سے پانی برسا تو حیرت سے انسان انگلیاں دانت میں دباکر آسمان کو تکنے لگا۔ یہ سب کیا ہو رہا ہے اور کیسے ہو رہا ہے۔ علم محدود تھا، تو بس اتنا سا خیال آیا کہ کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے۔ آگے چل کر یہ "کوئی” دیوتا

Read more

عورت مارچ اور تحریکِ ریشمی برقعہ

کل لاڑکانہ سے جے یو آئی کی تحریکِ زرد رومال کا مولوی بچہ ٹویٹر پر نمودار ہوا ہے۔ اس بات پر حیران ہوا پھرتا ہے کہ عورت کے جسم پر خود عورت کا راج کیسے ہوسکتا ہے۔ مطلب اب عورت کے جسم میں مداخلت کے لیے ہمیں عورت سے اجازت لینی پڑے گی؟ یعنی پدر سری ابھی زندہ ہے اور خودسری کے دن ہمیں دیکھنے پڑرہے ہیں؟ اپنی حیرانی کے اظہار کرنے کے بعد بولے، اسلام نے عورت کے حقوق چودہ سو سال پہلے ہی دے دیے ہیں۔ پھر ایک تڑی لگاتے ہوئے کہا، انتظامیہ سے رابطے میں ہیں، اس ملک میں ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔

Read more

غامدی صاحب کا بے نام و بے نظریہ سیکولرازم  

جاوید احمد غامدی صاحب نگاہ بلند اور سخن دل نواز پیامبر ہیں۔ بہت اندھیرے میں جلتا چراغِ طور ہیں۔ فکری بنیادوں میں پانی چھوڑنے کا انہیں سلیقہ ہے۔ کہنے سے زیادہ سننے کا انہیں حوصلہ ہے۔ اپنی بات دوٹوک کہتے ہیں۔ دوسرے کی بات بے روک سنتے ہیں۔ الفاظ میں خود کو سجانے سے گریز ہی کرتے ہیں۔ اپنے کہے کو جینے کی کوشش زیادہ کرتے ہیں۔ ان کے کردار کو اُن کے اپنے ہی اقوال کی میزان میں تولا

Read more

کیا احسان اللہ احسان اور کیا اس کے انکشافات

فرمایا گیا جن لوگوں نے احسان اللہ احسان کو نشانے پہ رکھا ہوا ہے، وہ انڈیا اور افغان انٹیلی جنس کے اس کردار پر بات کیوں نہیں کرتے جس انکشاف احسان اللہ احسان نے کیا” عرض کیا نہیں، بات یہ نہیں ہے۔ بھارتی اورافغان انٹیلی جنس کا کردار کوئی انکشاف نہیں ہے. یہ تو سامنے کی حقیقت ہے۔ اس حقیقت کے سرے مگر ہمارے گریبان میں ہیں۔ ہم نے ملاعمر کو افغانستان میں اقتدار سونپا۔ اس اقتدار کی تشکیل میں

Read more

محمد حنیف کے لاپتہ آم، سرمد کھوسٹ کا کھلا خط اور والیِ ریاست کی تسبیح

ہندوستان نے ہماری روایت پر عمل کرتے ہوئے جب اپنی سیاست کی بنیادوں میں مذہبی انتہا پسندی کا پانی چھوڑنا شروع کیا تو فہمیدہ ریاض نے ایک نظم کہی۔ تم بالکل ہم جیسے نکلے، اب تک کہاں چھپے تھے بھائی؟ سید کاشف رضا نے محمد حنیف کے ناول کا اردو ترجمہ کیا تو جنرل ضیا الحق کے فرزند ارجمند کے پلے بھی پڑگیا۔ گیارہ برس لگے جنرل ضیا کو اقتدار سے جاتے جاتے۔ گیارہ ہی برس لگے اعجازالحق کو ناول

Read more

جنید حفیظ جیسے احمق لوگوں کے نام، جو لوٹ کے واپس آتے ہیں

جس دن اس کیس کو سماعت ہورہی تھی، اس دن کراچی میں تھا۔ مجھے ایک شخص ملا، جو دماغ کا تیز تھا اور عقیدے کا شیعہ تھا۔ شیعہ مکتبِ فکر کو ریاست نے اپنی دستاویز میں کبھی غیرمسلم نہیں لکھا، مگر ریاست کا خیال ان کے متعلق بھی کچھ اچھا نہیں ہے۔ نوجوان نے بتایا، میں نے امریکہ سے تعلیم حاصل کی ہے۔ وہیں میں نے تین بڑے اداروں میں نوکری کی ہے۔ پھر سوچا، میں اپنی صلاحیتیں یہاں کیوں ضائع کرہا ہوں۔ مجھے اپنے ملک لوٹ جانا چاہیے، کہ اپنی مٹی کا قرض مجھ پر زیادہ ہے۔

میں نے خاموشی سے سن کر درمندی سے کہا، تم نے بہت بڑی حماقت کردی ہے دوست۔ تم نسلی طور پر شیعہ ہو، دماغی طور پر ترقی پسند ہو اور علمی طور پر مستند ہو۔ مان لو کہ یہ وطن تمہارا نہیں ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ بات تمہیں تمہارا کوئی شاگرد، کوئی استاد، کوئی مذہبی سیاسی کارکن، کوئی محب وطن شہری، کوئی برگزیدہ قانون دان یا کوئی خوف زدہ جج سمجھائے، تمہیں خود سمجھ جانا چاہیے۔

Read more

ایک پاکیزہ، گھریلو مکالمہ

سلام وعلیکم السلام آپ کو کافی ٹائم سے فالو کر رہی ہوں بہت عنایت آپ کیا کرتے ہیں؟ ملازمت پیشہ بندہ ہوں ۔اسلام آباد میں پایا جاتا ہوں ۔ کبھی محبت کی؟ محبتیں کی ہیں، تعداد نہ پوچھ لیجیئے گا، گنتی کا وقت نہیں ہے۔ نادرا سے کروانی پڑ جائے گی۔ پھر شادی ہوئی کسی محبت سے۔؟ اتنی تو عقل بچا لایا ہوں کہ جس سے محبت ہوجائے اس سے شادی نہیں کرتا محبت ایک بار ہوتی ہے۔؟ بار بار

Read more

گوالے پرنسپل کا کینٹین، کپتان کی ریاستِ مدینہ اور طالبات کا عبایہ!

اسماعیل شاہد معروف پشتو مزاحیہ اداکار اور ہدایت کار ہیں۔ پی ٹی وی کے فیتوں پر اردو میں بھی ان کا کام ریکارڈ ہے۔ پی ٹی کے مشہور زمانہ ڈرامہ سیریل ”جھوٹ کی عادت نہیں مجھے“ میں مرکزی کردار انہی کا تھا۔ پی ٹی وی پر ہی ان کا ایک ریکارڈ ساز پشتو ڈرامہ ”مڑی پہ شمار دی“ چلا۔ اسماعیل شاہد اس ڈرامے میں گوالے پرنسپل کا کردار نبھارہے ہیں۔ ڈرامے کا خاکہ یہ ہے کہ میاں گوالے نے باڑے کی پچیس بھینسے بیچ کر اسکول کی بنیاد رکھ دی ہے۔ کھولتے وقت اس کا احساس تھا کہ اسکول بھی ایسے ہی چلے گا جیسے بھینس کا باڑا چلتا تھا۔ اب جب اسکول کھلا ہے تو دودھ پانی کا فرق بھی معلوم ہوگیا۔

Read more

اماں کا ریڈیو، الجھی ہوئی تاریخ اور رکا ہوا وقت

بچپن کی یادوں میں اماں کا ایک جاپانی ریڈیو بھی ہے۔ یہ اپنے زمانے کا سب سے بہترین ریڈیو ہوا کرتا تھا جس پر کتھائی رنگ کی ایک لیدر چڑھی ہوئی تھی۔

اماں ہماری ناخواندہ ہیں مگر جاہل ہر گز نہیں ہیں۔ انیس سو نواسی سے لے کر دوہزار چھ تک کی کرکٹ کی تاریخ کا انہیں بطور خاص ادراک ہے۔ کرکٹ کے نئے دور میں انہیں کچھ خاص دلچسپی نہیں ہے مگر شوق انہیں کرکٹ کی جاری سرگرمیوں سے غافل بھی نہیں ہونے دیتا۔ کرکٹ کے حوالے سے اُن کا درک بہت واجبی سا ہے مگر اتنا واجبی بھی نہیں ہے۔ انضمام الحق ان کے پسندیدہ کھلاڑیوں میں سرفہرست رہے ہیں۔ عمران نذیر اور محمد آصف کے ٹیم سے چلے جانے ہر انہیں ہمیشہ دکھ رہا۔ شعیب ملک کا ہمیشہ ٹیم کا حصہ ہونے کو وہ سمجھ سے بالاتر معاملہ قرار دیتی رہی ہیں۔ ہزار حجتوں کے بعد بھی شاہد آفریدی کو کبھی کوئی ان کی گُڈ بک میں شامل نہیں کروا سکا۔

Read more

کشمیر: شہ رگ سے ہی نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

کشمیر کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر میں خود کشمیر سرے سے فریق ہی نہیں ہے۔ کشمیر کے فریق ہمیشہ سے ہندوستان اور پاکستان ہیں۔ تیسری کوئی چیز اگر ہے تو وہ عالمی طاقت ہے جس نے کشمیر کے معاملے میں اپنا قلمی نام ”ثالث“ رکھا ہوا ہے۔ خطے میں اُس نے کوئی چال چلنی ہو تو ثالثی کے عنوان سے چلتا ہے۔ خود کشمیریوں کے حصے میں جو کردار آتا ہے اسے فلم کی زبان میں سائیڈ رول کہتے ہیں۔ ہدایت کاروں کے لیے سائیڈ رول نبھانے والوں کی کچھ ایسی حیثیت بھی نہیں ہوتی مگر ان کے بغیر فلم پوری بھی نہیں ہوتی۔ کشمیر کی فلم میں کشمیری صرف نعرے لگاسکتے ہیں، ہڑتال کرسکتے ہیں، بکتر گاڑیوں پر پتھراؤ کرسکتے ہیں اور انجامِ کار اپنی قیادت کو گرفتار یا نظربند ہوتا ہوا دیکھ سکتے ہیں۔

Read more

جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی بچیوں کے والدین پر ایک ایف آئی آر

کیا باہر کی دنیا میں جنسی زیادتی اور ہراسانی کے واقعات نہیں ہوتے؟ کم ہوتے ہیں، مگرہوتے ہیں۔ بالکل ہوتے ہیں، مگر ایک فرق ہے۔ باہرکی دنیا میں ہراسانی کے بعد بچے یا خاتون کو شکایت درج کراتے ہوئے کوئی جھجک نہیں ہوتی۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہماری شکایت کے بعد والدین بدنامی کے ڈر سے خاموشی کی تجویز نہیں دیں گے۔ خاندان والے پیشگی عدالت لگا کر اپنی روایت کے مطابق بہر دو صورت لڑکی یا بچے کو غلط قرار نہیں دیں گے۔ معاشرے کے دیگر طبقات اور سوشل میڈیا صارفین بات سنے بغیر ہماری ذات پر سستے لطیفے ارزاں نہیں کریں گے۔

آج سے کوئی تین برس قبل پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی ایک پلئیر نے دبے لفظوں میں شکایت کی کہ مینیجمنٹ انہیں ہراساں کرتی ہے۔ اس آواز میں چار آوازیں اور شامل ہوگئیں۔ کچھ دن بعد اس موضوع پر ایک ٹاک شو ہوا۔ پانچ پلئیرز نے کوچ کی موجودگی میں کھل کر تلخ تجربات کا اظہارکیا۔ ٹاک شو کے ٹکڑے سوشل میڈیا پر پھیل گئے۔ آج بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ ان ویڈیوز کے اوپر کیپشن کیا ہیں اور نیچے تبصرے کیسے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں نے اس بنیاد پر لڑکیوں کو ہی قصور وار ٹھہرایا کہ وہ گھر سے نکلی ہی کیوں۔ انہوں نے لہو لعب کی دنیا اختیار ہی کیوں کی۔ جب وہ میدان میں دوڑیں گیں، تو ظاہر ہے مردوں میں جنسی ہیجان تو پیدا ہوگا۔

Read more

منظور پشتین، کیا آپ پاکستانی ہیں؟ فرنود عالم انٹرویو لیتے ہیں

کیا آپ پاکستانی ہیں؟

جواب: دیکھیے، کسی پاکستانی کو اس کے پاکستانی ہونے کا سرٹیفکیٹ دینے کا اختیار صرف نادرا کے پاس ہے۔ نادرا نے یہ سرٹیفیکیٹ مجھے دیا ہوا، اگر آپ چاہیں تو میں دکھا دیتا ہوں؟

آپ کے پاس نادرا کا سرٹیفیکیٹ موجود ہے، آپ پاکستان کے شہری ہیں، اس کے باوجود بھی پاکستان کی اس قدر مخالفت؟ آخر کیا وجہ ہے؟

آپ کہہ سکتے ہیں۔ آپ کو ایسا کہنے سے کون روک سکتا ہے۔ کہنے والوں نے تو صمد خان، باچا خان، بزنجو، ولی خان، عطا اللہ مینگل، جی ایم سید سب کے بارے میں یہی کہا کہ یہ پاکستان کے دشمن ہیں۔ یہاں تک کہ فاطمہ جناح کے متعلق کہا گیا کہ وہ غدار ہے۔ آپ سوچیں کہ یہ سب جنہیں غدار کہا گیا ان کے بیچ کون سی چیزیں یکساں ہیں۔ دو چیزیں ہیں۔ ایک یہ کہ یہ سارے لوگ اپنے لوگوں کے لیے حقوق مانگتے تھے۔ اب جب آپ حقوق مانگتے ہیں تو اس سے ریاست کی بالادست طاقتوں کے مفاد پر زد پڑتی ہے۔ جب زد پڑتی ہے تو وہ پروپیگنڈا شروع کردیتے ہیں کہ یہ ملک کے خلاف سرگرم ہیں۔ ایسا اس لیے کرتے ہیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسا جرم سبز ہلالی پرچم کے نیچے چھپ جائے۔

Read more

کچھ ذکر ہمارے ہزارہ ہم وطنوں کا۔۔۔

جہاز روانگی کے لیے تیار ہے۔ اس اعلان کے بعدہم قطار میں لگ گئے۔ ساتھ والی قطار میں ایک لڑکی بیساکھی پر قدم اٹھا رہی تھی۔ اسے وہیل چئیر پہ بیٹھنے کو کہا جارہا تھا مگر وہ منع کر رہی تھی۔ منتظم نے کہا، آپ کو تکلیف ہو گی۔ لڑکی نے کہا، بالکل نہیں ہو گی۔ وہ ہمدردی میں ملنے والے رستے سے فائدہ اٹھانے کی بجائے قطار میں لگنے کو ترجیح دے رہی تھی۔ یونہی بغیر کسی سہارے کے وہ ائیر بس میں چڑھ گئی۔ بس میں وہی ماں بالکل میرے پہلو میں کھڑی تھیں جو اپنے جواں سال بچے کی گردن پہ مستقل سہارا دیے ہوئے بیٹھی تھیں۔ لیکن اب جوان کی کم ازکم گردن میں کوئی مسئلہ نہیں لگ رہا تھا۔ میں نے ماں سے پوچھا تو بہتے ہوئے لہجے میں بولیں، تب یہ سو رہا تھا اس لیے گردن پہ ہاتھ رکھا تھا۔

ماں سے گفتگو کرتا دیکھ کر جوان نے مسکراتے ہوئے مجھے سلام کیا۔ مجھے اچھا لگا کہ چلیے دو باتیں اس سے بھی ہوجائیں گے۔ تکلف ایک طرف رکھنے کے لیے میں نے فارسی میں حال پوچھا۔ دو ساعتوں کے اس سفر میں رسمی علیک سلیک پر وقت ضائع نہیں کیا جاسکتا تھا۔ دوچار باتوں سے ہوتے ہوئے فورا اپنے سوال پہ آگیا۔ یہ سب کیسے ہوا؟ بم دھماکے میں ہوا۔ وہ بھی مسکرانے لگا اور ساتھ میں بھی۔ مسکراہٹ میں اس کی آنکھیں ساتھ نہیں دے رہی تھیں۔

بس کے دروازے کھل گئے۔جہاز کے سامنے مسافر قطار میں لگ گئے۔ نظر پھر سے آگے کھڑی اس ہزارہ لڑکی نے پکڑلی جو بیساکھی کے سہارے پر تھی۔ جہاز کی سیڑھیوں پہ اسی اعتمادسے چڑھی جارہی تھی جس اعتماد سے بس میں چڑھ رہی تھی۔ مگراس کا چہرہ لال سرخ ہوچکا تھا۔ آخری زینے پہ عین دروازے کے ساتھ اس سے حال احوال کا موقع مل گیا۔ پوچھ لیا ۔یہ سب کیسے ہوا؟ بم دھماکے میں ہوا۔

Read more

جرگہ پاکستان : جو میں نے دیکھا، جو میں نے سنا

کراچی کے ایک اخبار سے میں وابستہ تھا۔ واقعہ بھول گیا، مگر وزیرستان میں ہوا تھا۔ طبعیت پر بہت گہرا اثر چھوڑ گیا تھا۔ فوجی آپریشن کی میں نے ایک کالم میں حمایت کی۔ عابد آفریدی نے مجھ سے کہا، آپ ایسا کیسے کرسکتے ہیں؟ اس نے بات کہی، میں نے جواب دیا۔ اس نے دلیل دی، میں چپ ہوگیا۔ میرا موقف بدل گیا۔ عابد آفریدی کے پاس محض دلیل نہیں تھی۔ ایک درد بھی تھا جس کے آگے ہردلیل ہیچ ہے۔ ایک دھماکے میں اس کا بھانجا مارا گیا۔ اس درد نے ماں کے اعصاب ایسے چٹخا دیے کہ گھر میں اسے زنجیروں سے باندھنا پڑا۔

عابد آفریدی نے جرگہ پاکستان کی بنیاد رکھی ہے۔ غرض وغایت یہ بتائی گئی ہے کہ ہم نے ریاست اور پی ٹی ایم کے بیچ تصادم کے امکانات کو ختم کرنا ہے۔ گاڑی کو دھکا دینے کے لیے سات اپریل کو اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں فریقین کا ایک اکٹھ رکھا۔ اس اکٹھ میں ملک بھر کے مختلف الخیال دانشوروں، قلم کاروں، اخبار نویسوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ کچھ ایسے لوگ بھی آئے ہوئے تھے جنہوں نے جنگ کی شعلوں کو براہ راست سہا ہے۔ عمران فارق قتل کیس میں نامزد ملزم معظم خان کی اہلیہ بھی آئی ہوئی تھیں۔ انہوں نے اپنے تعارف میں صاف کہا، میں قائد تحریک الطاف حسین بھائی کی پیروکار ہوں۔

میں پہنچا تو اباسین یوسفزئی صاحب گفتگو فرما رہے تھے۔ آپ پختونوں کے نمائندہ شاعروں اور ممتاز اساتذہ میں سے ہیں۔ پختونخوا کے حجرہ و بازار میں جب انسانی چیتھڑے اڑ رہے ہوتے تھے تب ان کی ایک نظم کا بند زبان زد عام ہوا

Read more

تم نے ایسا کیوں کیا عالمگیر؟

پہلی ہی سطر میں مجھے کہہ لینے دیجیے کہ حالیہ عرصے میں شائع ہونے والے ناولوں میں سید کاشف رضا کا ناول ”چار درویش اور ایک کچھوا“ دل کو چھو کے نکل گیا۔ اس کی سطریں مجھے ازبر ہوگئیں اور اس کے اشارے مجھ پر بیت گئے۔

کالام سے آگے گھبرال نام کا یک گاؤں آتا ہے۔ بلند پہاڑوں میں گھرا ایک گاؤں جس کے گھر شیشم کی لکڑیوں کے بنے ہیں۔ کبھی یہاں مندروں میں گھنٹیاں بجتی تھیں اب میناروں سے حی علی الفلاح کی بزرگ صدائیں آتی ہیں۔ میناروں کے اس پار چترال کے پہاڑ دکھتے ہیں جو اکثر برف کی سفید چادر اوڑھے رہتے ہیں۔ اس گاؤں سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر ایک مقام شاہی باغ ہے۔ یہ قدرتی طور پر بنا زمین کا ایک وسیع ٹکڑا ہے جس کے اطراف میں پانی ایک گولائی میں بہتا ہے۔

باغ کے بیچ میں جس رخ بھی بیٹھ جائیں آپ کو بل کھاتی ہوئی کوئی آبشار نظرآئے گی۔ ہلکی سی خنکی میں کسی بھی ایک آبشار کو دیر تک دیکھیے۔ آپ محو ہوجائیں گے۔ گم ہوجائیں گے۔ بہتے پانی کی نغمگیں دل کی دھڑکوں میں بندھ کردماغ کو اپنے سحر میں لے لے گی۔ اور اس کے بہاؤ میں خود کو بہتا ہوا محسوس کریں گے۔ ایک سرد آہ بھر کر جب آپ واپس اپنے منظر میں آجائیں گے تو محسوس کریں گے کہ ہلکی ہلکی پھوار میں آپ کا بدن بھیگ چکا ہے اور سردی کا احساس بڑھتا جارہا ہے، مگر آپ یہاں سے جانا نہیں چاہتے۔ آپ پوچھیں گے، یہ سب کیا ہے۔ میں کہوں گا، سید کاشف رضا کی نثر ہے!

Read more

وزیراعظم جیسینڈا ! پلیز مسلمان ہوجاؤ نا آپ کا کیا جاتا ہے!

ہم اس مغالطے کا شکار ہوگئے ہیں کہ حملے کے بعد نیوزی لینڈ کے معاشرے یا وہاں کی حکومت کو اسلام میں کوئی دلچسپی پیدا ہوگئی ہے۔ ایسا ہمیں اس لیے لگتا ہے کہ ہم خود کم ہی کبھی کسی معاملے کو انسانی تناظر میں دیکھ پاتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر حکومت اور سوسائٹی کو اسلام سے کوئی ہمدردی تھی تو پھر ریاست یا معاشرے کو اضافی نمبر کس بات کے دیے جائیں؟ اضافی نمبر تو ہیں ہی اس بات کے کہ اسلام میں یا مسلمانوں کے کسی بھی فرقے میں کسی قسم کی کوئی دلچسپی نہ ہونے کے باوجود وہ مسلم شہریوں کے انسانی حقوق کے لیے کھڑے ہوگئے۔

اپنے رویے سے انہوں نے ثابت ہی یہ کیا ہے کہ

• ایک شہری سے مختلف سوچنا کسی بھی دوسرے شہری کا جرم نہیں ہوتا۔ اور یہ کہ تعداد میں کم ہونا کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔
• جو ہم سے مختلف سوچتا ہے اسے جینے کا اتنا ہی حق ہے جتنا کہ ہمیں ہے۔
• اقلیت اوراکثریت کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ہوتی ہے تو صرف شہریت ہوتی ہے۔
• ریاست کی نظر میں کوئی بھی فرد مسلمان، مسیحی، ہندو یا بدھسٹ نہیں ہوتا۔ ہوتا ہے تو صرف شہری ہوتا ہے۔
• ریاست یہ نہیں جانتی کہ شہری کا کوئی عقیدہ ہوتا ہے کوئی رنگ ہوتا ہے کوئی جنس اور صنف ہوتی ہے یاپھر نظریات وافکار ہوتے ہیں۔ ہوتے ہیں تو صرف حقوق ہوتے ہیں۔

Read more

اساتذہ کے قتل پر ایک طرح کا اطمینان ہوتا ہے، کبھی سوچا کہ کیوں؟

اسلام آباد میں قومی زبانوں کا ایک میلہ لگا۔ لوک ورثہ کے زارسنگہ ہال میں ”ہم کیا نہیں لکھ رہے“ کے عنوان پر محفل سجی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر خالد سہیل میرِ محفل تھے اور شمع ان کے آگے رکھی تھی۔ گفتگو میں انہوں نے درس گاہوں کی ویرانیوں کا ماتم کیا۔ کہنے لگے، ہمارے ہاں بہت ساری فطری چیزوں کو غلط تصور کرلیا گیا ہے، اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں طلبا کی رہنمائی کریں۔ ایک کونے سے آواز آئی، ڈاکٹر خالد سہیل کی باتوں میں مت آئیے گا یہ مروانے والی باتیں کررہے ہیں، پھر بھی اگر شوق ہے تو رہنمائی سے پہلے کلاس میں نگاہ دوڑا لیں کہ کسی سٹوڈنٹ کے ہاتھ میں کیمرے والا موبائل تو نہیں ہے۔

کہنے والے نے یہ بات ازراہ تفنن کہی تھی۔ مگر اس کے پیچھے سہمی ہوئی درس گاہوں سے متعلق ایک سچائی چھپی تھی جو چالیس برس کو محیط ہے۔ زمانہ دینی مدارس کو روتا تھا یہاں عصری جامعات میں رفو کا بڑا کام نکل آیا ہے۔ لوگ حیرت کرتے ہیں مگر حیرت کا کوئی جواز نہیں ہے۔ کہنی چاہیے یا نہیں، مگر اس سچ کو لکھ دینے میں اب کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا کہ اس معاشرے میں نفرت اور تفرقے سے وہی دور ہے جو رائج نصابِ تعلیم سے بچ کے نکل گیا۔ جو اس نصاب کا شکار ہوا اس کی سوچ میں نفرت کا زہر گھل گیا۔ یقین نہ آئے تو دیہی علاقوں پر ایک نظر ڈال لیں۔ جن علاقوں میں تعلیم پہنچ گئی ہے وہاں لوگوں نے کافر مسلمان کا فرق جان کر برتن الگ کرلیے ہیں۔ جن علاقوں تک تعلیم نہیں پہنچی وہاں تمام مذاہب ومسالک کے ماننے والے ایک ہی چشمے سے پانی بھررہے ہیں۔

Read more

دنیا دہشت گردی کو مسلمان یا اسلام سے آخر جوڑتی کیوں ہے

دہشت گردی کو دنیا اسلام سے یا مسلمانوں سے کیوں جوڑتی ہے۔ کرائسٹ چرچ کی النور مسجد میں ہونے والے سانحے کے تناظر میں یہ سوال ترک وزیراعظم طیب اردگان نے بھی اٹھایاہے۔ امتِ مرحومہ نے اس سوال کو سراہا اور خوب سراہا۔ دیکھ لیتے ہیں کہ آخر دنیا ایسا کیوں کرتی ہے!

دنیا جانتی ہے کہ جن حالات سے کبھی ہم گزرے تھے ٹھیک انہی حالات کا سامناکبھی مغرب کو رہا۔ ہم نے بھی شہروں کے شہر اجاڑے، انہوں نے بھی کوپڑیوں کے مینار پر جھنڈے گاڑے۔ ہم نے مسلم سائنس دانوں کو قلعوں میں بند کر کے مارا، انہوں نے اٹلی کے چرچ میں کھڑا کرکے سزائے موت سنائی۔ ہم نے استنبول میں پبلشرز کے چھاپے خانے جلا کر دھواں کیے، انہوں نے پبلشرز کو برطانیہ میں سولی چڑھایا۔ انہوں نے مسلم عبادت خانوں میں اصطبل بنائے اور ہم نے کلیساوں میں قصاب خانے کھولے۔ آج دنیا دونوں میں ایک فرق دیکھ رہی ہے۔ فرق یہ ہے کہ آج اپنے ماضی پروہ شرمندہ ہیں، اپنے ماضی پرہمیں آج بھی فخر ہے۔ محض فخر ہوتا تو کچھ بات تھی، ہم تو اسی تاریخ سے استدلال کرتے ہوئے آج بھی تاریخ کو دوہراتے ہیں۔

Read more

کوہستان میں قیامت کا ناقوس بج رہا ہے، کسی کو خبر ہوئی؟

مارچ کا مہینہ پدرسری معاشرے کے ہربرج ہرمینارے کو لرزا کے گزرگیا۔ گزر اس لیے گیا کہ آٹھ تاریخ کے سوا مارچ میں رکھا کیا ہے۔ مگراب اس تاریخ کے پہلو میں ایک لاش بھی رکھی ہے۔ افضل کوہستانی کی لاش!

افضل کوہستانی کا تعلق کوہستان کے ضلع پالس سے تھا۔ مانسہرہ میں ایک وکیل کے پاس کلرک تھا۔ ساتھ قانون کا طالب علم بھی تھا۔ وقت آیا کہ وہ کلرک رہ سکا اور نہ طالب علم۔ یہ تب ہوا جب اس نے موت کو اپنے کچھ عزیزوں کی طرف بڑھتا ہوا دیکھا۔ یہ عزیز وہی تھے جنہیں دوہزار بارہ میں کوہستان سے منظرعام پرآنے والی ایک وڈیو میں تقریبا ہر آنکھ نے دیکھا۔ یہ شادی کی ایک تقریب کی گھریلو سی وڈیو تھی۔ جس میں چار لڑکیاں تالیاں پیٹ رہی تھیں اور دو لڑکے روایتی رقص کررہے تھے۔ وڈیو منظر عام پر آئی تو کوہستان میں ثناخوانِ تقدیس مشرق نے سوال اٹھائے۔ افضل کوہستانی جانتا تھا کہ جو ”جرم“ منظر عام پر آیا ہے اس کی سزا قتل کے سوا کچھ نہیں ہے۔

Read more

ارمان چلا گیا، ارمان رہ گئے!

پی ٹی ایم کے پشاور جلسے میں پہلی بار ڑوانگہ لونی کا نام سنا۔ وہ کوئٹہ کی نمائندگی کررہی تھی۔ بتایا گیا کہ اس کا تعلق ضلع سنجاوی زیارت سے ہے۔ پانچ منٹ کا اس نے خطاب کیا۔ سامعین کو ایک آنکھ ہنسایا اور ایک آنکھ رلایا۔ دوسری بار اسے کراچی جلسے میں دیکھا۔ وہ ثنا اعجاز کے ساتھ پنڈال کا جائزہ لے رہی تھی۔ میں نے علی ارقم سے کہا، اس بات نے قدرے حیرت میں مبتلا کیا ہوا ہے کہ جس قبیلے میں عورت کا روشن دان سے سر نکالنا قیامت ہے اس قبیلے کی لڑکی عقیدوں اور یقینوں سے نکل کر کیسے سوچ رہی ہے۔ سوچ ہی نہیں رہی بلکہ عملی طور پر میدان میں موجود بھی ہے۔ علی ارقم نے تفصیلی جواب دینے کی بجائے اتنا کہا، یہ ارمان لونی کی بہن ہے!

Read more

"دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو”

میری پیدائش اسی کے وسط میں ہوئی۔ اس عرصے کا المیہ میرے لیے یہ ہے کہ کراچی کے بڑے نام دیکھ اور پڑھ تو سکتا تھا، ان کے مرتبوں کا ادراک نہیں کرسکتا تھا۔ شعور کی آنکھ کھلی تو عظیم لوگ یا تو دنیا چھوڑ چکے تھے، یا دلی کا فاصلہ بہت بڑھ گیا تھا۔ معین اختر ناظم آباد الحسن پہ بیٹھے سگرٹ پھونکتے تھے، مگر اتنا ہی پتہ تھا کہ کوئی مانے جانے ہیں۔ کچھ شد بد ہوئی بھی

Read more

باشرع ٹیکسی ڈرائیور، بے پردہ لڑکیاں اور کرائے میں برکت

کار نہیں ہے۔ یعنی زندگی بے کار ہے۔ ٹیکسیوں کا آسرا سہارا ہے۔ دفترتک معمول کا کرایہ ڈھائی سو بنتا ہے۔ صبح نو بجے تک ایک آنکھ سے جاگ رہا ہوتا ہوں اور ناشتہ بھی نہیں کیا ہوتا، تو تین سو کے تقاضے پر بھی تکرار نہیں کرتا۔ البتہ بات تین سو سے آگے نکل جائے تو دماغ کے خفتہ وخوابیدہ خلیوں کو جگانے کے لیے کڑک چائے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ آج ایک ٹیکسی والے کو زحمت دی۔ حلیے

Read more

جب تیل نکلا میرے تلوے سے

کچھ برس قبل حسنین جمال کی پابند نظم جیسی مقفہ و مسجع داڑھی نے بہت متاثر کیا۔ کم اب بھی نہیں ہے مگر اب میر کے مصرعوں جیسی وہ تراش نہیں رہی۔ اب تو یا عبدالحلیم شرر کی آزاد نظم جیسی ہوتی ہے یا اگر وزن میں ہو تو جاوید اختر کی طرح لمبی بحروں میں ہوتی ہے۔ شاید چیخوف کی پیروی سے چھوڑ کر گرو رجنیش اوشو کی اتباع میں آگئے ہیں۔ فریڈرک اینگلزاور سگمنڈ فرائیڈ کی داڑھیوں پر بھی عین یہی ادوار گزرے تھے۔ یعنی بڑے لوگوں کے خیالات ہی نہیں ملتے، داڑھیاں بھی بہت ملتی ہیں۔

حسنین کو دیکھ کر بجا طور پر اندازہ ہوا کہ بال وپر سنوارنے کے اچھے برے سبھی مراکز کا انہیں کو علم ہوگا۔ تقریبا التجا کردی کہ بھائی کوئی ڈھنگ کا بندہ بتادو جو ڈھب کی حجامت ہی کردیا کرے۔ تھک ہار گیا ہوں مگر اسلام آبادمیں کوئی ملا ہی نہیں جو داڑھی مونچھ کے قافیہ ردیف سنوار دے۔ جب بھی ملا کوئی غیر موزوں قینچی گزار ہی ملا۔

Read more

فہمیدہ ریاض اور گھٹن کی طویل رات

کچھ ہستیوں کو آپ لفظوں میں نہیں ڈھال سکتے۔ فہمیدہ ریاض ایسی ہی ہستی ہیں۔ زندہ تھیں تو آپ دو باتوں کا اندازہ نہیں لگاسکتے تھے۔ ان کے دل میں درد زیادہ ہے یا لہجے میں پیار زیادہ۔ طبعیت میں مزاحمت کا لاوا پک رہا ہے تو مزاج میں ٹھنڈے پانی کا میٹھا چشمہ کیسے بہتا ہے۔ دماغ کا اس قدر انقلابی شخص دل کا اس اتنا صوفی کیسے ہوسکتا ہے؟

ان کو پڑھ جس قدر مزاج میں ابال آتا ہے، ان سے مل کر اتناہی قرار آتا تھا۔ ان سے جو بھی پہلی بار ملا ایک سوال اس کے ذہن میں ضرور آیا ہوگا، کیا یہ مجھے پہلے سے جانتی ہیں؟

رات ان کی وفات کی خبر آئی تو ایسا تھا کہ بس اب کچھ دیر اکیلے بیٹھا جائے۔ ان کی کتاب ”کبیر“ ڈھونڈی۔ کبیر ان کا بیٹا تھا جو بیس سال کی عمر میں وفات پا گیا۔ فہمیدہ ریاض اپنے بیٹے کے لیے ایک یادگار بنانا چاہتی تھیں، نہ بنا سکیں۔ آخری کتاب کا نام ”موسموں کے دائرے میں“ رکھنا چاہتی تھیں، نہیں رکھا۔ کتاب کا نام ”تم کبیر“ رکھ دیا۔ بھلا اس سے بڑی بھی کوئی یادگار قائم کی جاسکتی تھی؟

Read more

غیرت کا دامن صد چاک ۔۔۔ اور ردائے بانو

ہندوستان کے شہر دلی میں اکیس سالہ لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ ملزمان اخبارنویس کے سامنے پیش کیے گئے، تو سوال ہوا ’’جنسی تشدد تو چلیئے ایک طرف، قتل کیوں کردیا‘‘۔ ملزم کا منہ کیا کھلتا کہ وکیل نے آگے بڑھ کر ایک عالمانہ جواب دے دیا۔ جو جواب دیا گیا، وہ ہمارے اجتماعی شعور کا ایک تاریک اظہاریہ ہے۔ جواب آیا ’’لڑکی نے حد سے زیادہ شور شرابہ کیا، چیخی چلائی، اگر

Read more

سوال کی حرمت کا سوال ہے

بنی نوع انسان کی تاریخ ہمیں یہ تو بتاتی ہے کہ سوال اٹھانے والوں پہ عرصہ حیات تنگ کیا گیا، مگر تاریخ ایسی ایک بھی مثال دینے سے عاجز ہے جس میں سوال کو گلا گھونٹ کے ماردیا گیا ہو۔ بات یہ ہے کہ۔!! وہ میزائل ابھی ایجاد نہیں ہوا جو سوال تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ وہ گولی ابھی تخلیق ہونا رہتی ہے جو سوال کے بھیجے میں اتر سکے۔ خنجر کی وہ دھار اب تک مجہول

Read more

مدنی تکیہ اور شیطان مردود

برادر مکرم رضا شاہ جیلانی نے رات ایک نکتے کی جانب متوجہ کیا۔ جمہوریت والا سلسلہ چلتا رہے گا، جیلانی صاحب کی بات پہ ذرا گرہ لگالینے دیجئے۔ تبلیغی اصلاحی تحریک دعوت اسلامی کے امیرمحترم مولانا الیاس عطار قادری دام اقبالہم کو تو آپ جانتے ہی ہیں۔ نہیں معلوم کہ آپ کس حیثیت میں جانتے ہیں مگر میری نظر میں ان کا وجودِ پاک امتِ مسلمہ کے تابناک مستقبل کا آئینہ دار ہے۔ امت کے زوال کے دو بنیادی اسباب

Read more

الیکشن ہوگئے!

اسے ذوالفقار علی بھٹو کی جیت سے تشبیہہ اس لیے نہیں دینا چاہیے کہ ریاستی بندوبست بھٹو کے ساتھ نہیں، ان کے مخالفین کے ساتھ کھڑا تھا۔ انتخابات میں قرعہ فال عمران خان صاحب کے نام نکلا ہے، اگلے پانچ برس بغیر کسی چوں کے اور بغیر کسی چراں کے ان کا استحقاق ہونا چاہیے۔ اگر کسی جماعت کو انتخابات کی شفافیت پر سوال ہے تو ضرور سوال اٹھانا چاہیے مگر اس کی بنیاد پر ستتر جیسی یا ماضی قریب

Read more

جبران ناصر! تو چھا گیا ہے لڑکے

جبران ناصر جیتے گا یا نہیں، کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ یہ بات تو پکی ہے کہ جوان ہارے گا نہیں۔ پاکستان ایسے دور میں داخل ہوچکا ہے جہاں جیتنے والے اور نہ ہارنے والے دوبدو ہوگئے ہیں۔ جیتنے والے وہ ہیں جو عوام کا فیصلہ نہیں مانتے۔ نہ ہارنے والے وہ ہیں جوعوام کے فیصلے کو مسترد کرنے کا فیصلہ نہیں مانتے۔ جنہیں عوام کا فیصلہ قبول نہیں، وہ جبر کو طاقت کا سرچشمہ سمجھتے ہیں۔ جو جبر کے فیصلے

Read more

عمران خان اگر ہارے تو کیوں ہاریں گے؟

پختونخوا میں انتخابی معرکہ سر کرنے کے بعد کپتان کو ایک موقع ملا۔ اپنے عزم کو ثابت کرنے کا۔ اپنے تجربے کی آرائش کرنے کا۔ کپتان نے مگر گھاٹے کا سودا کیا۔ انہوں نے طے کیا کہ اگلے انتخابات میں بھی اپنی خوبیوں کے ساتھ نہیں جانا۔ دوسروں کی خامیاں مجھے کافی رہیں گی۔ سارے ہنر پنجاب پر آزما دیے اور پختونخوا کو جتنا ممکن ہوسکا نظر انداز کردیا۔ سیاسیات کا کوئی طالب علم خان صاحب کی پانچ برسوں کی

Read more

حامد میر صاحب! سلام پھیریے، فلائٹ نکل رہی ہے!

حامد میر صاحب ان لوگوں میں سے ایک ہیں جنہیں انیس سوننانوے میں منتخب عوامی حکومت کے خاتمے پر سجدہ شکر بجالانے کی توفیق ہوئی تھی۔ وہ چند گداگرانِ سخن جو اپنا ہنر ایک آمر کی ذات والا صفات پر وارنے نکلے تھے، حامد میر ان میں سے ایک تھے۔ مجھ جیسے نو بالغ حامد میر کو اس لیے پڑھاکرتے تھے کہ وہ اپنے کالم میں بتایا کرتے تھے کہ سابق وزیراعظم کی پھانسی میں کتنے دن رہ گئے۔انہی کے

Read more

مرتے ہوئے پانیوں میں زندگی ڈھونڈنے والا جرمن سفیر

مارٹن کوبلر جرمن سفیر ہیں جو پاکستان میں تعینات ہیں۔ یہ سفارت کاری کی بہت خوشگوار جہتیں متعارف کروا رہے ہیں۔ سنی سنائی سے سے زیادہ وہ دیکھی دکھائی پر بھروسہ کررہے ہیں۔ پاکستان کی ثقافتی اور ادبی سرگرمیوں میں ایک عام سامع کی طرح شرکت کرتے ہیں۔ عوامی مقامات پر جا کر روایات و اقدار کا جائزہ لیتے ہیں۔ لوگوں میں گھل مل کرتہذیب و تمدن کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ روایتی پکوانوں اور مشروبات کا لطف لیتے ہیں۔ یہاں

Read more

محکمہ زراعت کا زرعی انقلاب اور تحریکِ چھبیس جولائی کا احیا

گزشتہ صدی کے وسط میں ہمیں فیدل کاسترو کی "تحریک ِ چھبیس جولائی” جیسی ایک تاریخی تحریک ملتی ہے۔ چی گویرا نے اپنی عملی اور انقلابی زندگی کا آغاز اسی تحریک سے کیا تھا۔ یہ ایک مسلح تحریک تھی جس کی بنیاد کیوبا کے آمر بتیستا کے جبر کے خلاف پڑی تھی۔ اس تحریک کا نام بارہ سو لڑاکوں کا فیدل کاسترو کی سالاری میں مونکاڈا کیمپ پر پہلے حملے کی تاریخ کی نسبت سے پڑا۔ اسی حملے کے نتیجے

Read more

ایردگان کی کامیابی، صالحین کی خوشیاں اور سیاسی اسلام

طیب ایردگان جیت گئے۔ یہ عوام کا فیصلہ ہے اور عوام نے یہ فیصلہ ناقابل یقن رفتار سے ہونے والی معاشی و اقتصادی ترقیوں کی بنیاد پر کیا ہے۔ پاکستان میں ایک بڑا طبقہ ایردگان کی جیت پر خوش ہے۔ اپنے اپنے دائرے میں سب کی خوشی سمجھ آرہی ہے، مگر صلحائے پاکستان کی خوشی اب تک میری سمجھ سے باہر ہے۔ یہ خوشی تب اور بھی سمجھ سے باہر ہوجاتی ہے جب صالحین کہتے ہیں کہ یہ پولیٹیکل اسلام

Read more

آپ کی مدد کا شکریہ عمران خان، اب آپ جاسکتے ہیں!

ذوالفقار علی بھٹو کو کوئے یار سے سوئے دار تک پہنچانے میں احمد رضا قصوری کی مدعیت اور ائیر مارشل اصغرخان کی تحریک کا کردار اہم تھا۔ ائیر مارشل نے تخت ِ اقتدار الٹنے کا جواز مہیا کیا اور قصوری صاحب نے تختہِ دار کھینچنے کے لیے اپنی صلاحیتیں فراہم کیں۔ بھٹو صاحب کو پھانسی ہوگئی تو احمد رضا قصوری ایڑیاں اٹھا اٹھا کے شہر میں چلنے لگے۔ جس کسی کے مزاج میں وہ اکڑ دیکھتے تو کہتے ”میں نے

Read more

شہید چرن جیت سنگھ: غنچہ ہائے تشنہ از گلزار می ترسد

ہمارا گھرانہ جدی پشتی سنی العقیدہ ہے۔ اسی کی دہائی میں والدین کراچی کے علاقے ناظم آباد منتقل ہوئے۔ محلہ عثمانیہ سوسائٹی میں ہم نے آنکھ کھولی، دودھ کے دانت توڑے اور یہیں عقل داڑھ نکلی۔ عثمانیہ سوسائٹی رضویہ سائٹی کے شانہ بشانہ ہے۔ رضویہ سوسائٹی میں شیعہ ہم وطن آباد ہیں۔ میں نے ہندوستان کا شہر امروہہ نہیں دیکھا۔ مگر مجھے لگتا ہے میں نے امروہہ دیکھا ہے۔ امروہہ سے ہجرت کرکے آنے والے اہل علم کا ایک نفیس

Read more

حرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سے

آپ جانتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو ایک مست مولائی عوامی لیڈر تھے۔ راہ چلتے کسی بھی ڈھابے یا دکان میں جا گھستے اور موقع پر موجود لوگوں میں گھل مل جاتے۔ گھوٹکی سے گزرتے ہوئے اچانک گاڑی سے اترے، ایک تنگ وتاریک سی دکان میں داخل ہوگئے۔ دکا ندار کو تو یقین ہی نہ آیا، سو خوشی سے اول مبہوت ہوا اور پھر جھوم پڑا۔ لوگ جمع ہو گئے، دکاندار اپنا اعزاز جتلانے لگا۔ جاتے دم ذوالفقار علی بھٹو

Read more