ایک پاکیزہ، گھریلو مکالمہ

سلام وعلیکم السلام آپ کو کافی ٹائم سے فالو کر رہی ہوں بہت عنایت آپ کیا کرتے ہیں؟ ملازمت پیشہ بندہ ہوں ۔اسلام آباد میں پایا جاتا ہوں ۔ کبھی محبت کی؟ محبتیں کی ہیں، تعداد نہ پوچھ لیجیئے گا، گنتی کا وقت نہیں ہے۔ نادرا سے کروانی پڑ جائے گی۔ پھر شادی ہوئی کسی…

Read more

گوالے پرنسپل کا کینٹین، کپتان کی ریاستِ مدینہ اور طالبات کا عبایہ!

اسماعیل شاہد معروف پشتو مزاحیہ اداکار اور ہدایت کار ہیں۔ پی ٹی وی کے فیتوں پر اردو میں بھی ان کا کام ریکارڈ ہے۔ پی ٹی کے مشہور زمانہ ڈرامہ سیریل ”جھوٹ کی عادت نہیں مجھے“ میں مرکزی کردار انہی کا تھا۔ پی ٹی وی پر ہی ان کا ایک ریکارڈ ساز پشتو ڈرامہ ”مڑی پہ شمار دی“ چلا۔ اسماعیل شاہد اس ڈرامے میں گوالے پرنسپل کا کردار نبھارہے ہیں۔ ڈرامے کا خاکہ یہ ہے کہ میاں گوالے نے باڑے کی پچیس بھینسے بیچ کر اسکول کی بنیاد رکھ دی ہے۔ کھولتے وقت اس کا احساس تھا کہ اسکول بھی ایسے ہی چلے گا جیسے بھینس کا باڑا چلتا تھا۔ اب جب اسکول کھلا ہے تو دودھ پانی کا فرق بھی معلوم ہوگیا۔

Read more

اماں کا ریڈیو، الجھی ہوئی تاریخ اور رکا ہوا وقت

بچپن کی یادوں میں اماں کا ایک جاپانی ریڈیو بھی ہے۔ یہ اپنے زمانے کا سب سے بہترین ریڈیو ہوا کرتا تھا جس پر کتھائی رنگ کی ایک لیدر چڑھی ہوئی تھی۔

اماں ہماری ناخواندہ ہیں مگر جاہل ہر گز نہیں ہیں۔ انیس سو نواسی سے لے کر دوہزار چھ تک کی کرکٹ کی تاریخ کا انہیں بطور خاص ادراک ہے۔ کرکٹ کے نئے دور میں انہیں کچھ خاص دلچسپی نہیں ہے مگر شوق انہیں کرکٹ کی جاری سرگرمیوں سے غافل بھی نہیں ہونے دیتا۔ کرکٹ کے حوالے سے اُن کا درک بہت واجبی سا ہے مگر اتنا واجبی بھی نہیں ہے۔ انضمام الحق ان کے پسندیدہ کھلاڑیوں میں سرفہرست رہے ہیں۔ عمران نذیر اور محمد آصف کے ٹیم سے چلے جانے ہر انہیں ہمیشہ دکھ رہا۔ شعیب ملک کا ہمیشہ ٹیم کا حصہ ہونے کو وہ سمجھ سے بالاتر معاملہ قرار دیتی رہی ہیں۔ ہزار حجتوں کے بعد بھی شاہد آفریدی کو کبھی کوئی ان کی گُڈ بک میں شامل نہیں کروا سکا۔

Read more

کشمیر: شہ رگ سے ہی نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

کشمیر کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر میں خود کشمیر سرے سے فریق ہی نہیں ہے۔ کشمیر کے فریق ہمیشہ سے ہندوستان اور پاکستان ہیں۔ تیسری کوئی چیز اگر ہے تو وہ عالمی طاقت ہے جس نے کشمیر کے معاملے میں اپنا قلمی نام ”ثالث“ رکھا ہوا ہے۔ خطے میں اُس نے کوئی چال چلنی ہو تو ثالثی کے عنوان سے چلتا ہے۔ خود کشمیریوں کے حصے میں جو کردار آتا ہے اسے فلم کی زبان میں سائیڈ رول کہتے ہیں۔ ہدایت کاروں کے لیے سائیڈ رول نبھانے والوں کی کچھ ایسی حیثیت بھی نہیں ہوتی مگر ان کے بغیر فلم پوری بھی نہیں ہوتی۔ کشمیر کی فلم میں کشمیری صرف نعرے لگاسکتے ہیں، ہڑتال کرسکتے ہیں، بکتر گاڑیوں پر پتھراؤ کرسکتے ہیں اور انجامِ کار اپنی قیادت کو گرفتار یا نظربند ہوتا ہوا دیکھ سکتے ہیں۔

Read more

جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی بچیوں کے والدین پر ایک ایف آئی آر

کیا باہر کی دنیا میں جنسی زیادتی اور ہراسانی کے واقعات نہیں ہوتے؟ کم ہوتے ہیں، مگرہوتے ہیں۔ بالکل ہوتے ہیں، مگر ایک فرق ہے۔ باہرکی دنیا میں ہراسانی کے بعد بچے یا خاتون کو شکایت درج کراتے ہوئے کوئی جھجک نہیں ہوتی۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہماری شکایت کے بعد والدین بدنامی کے ڈر سے خاموشی کی تجویز نہیں دیں گے۔ خاندان والے پیشگی عدالت لگا کر اپنی روایت کے مطابق بہر دو صورت لڑکی یا بچے کو غلط قرار نہیں دیں گے۔ معاشرے کے دیگر طبقات اور سوشل میڈیا صارفین بات سنے بغیر ہماری ذات پر سستے لطیفے ارزاں نہیں کریں گے۔

آج سے کوئی تین برس قبل پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی ایک پلئیر نے دبے لفظوں میں شکایت کی کہ مینیجمنٹ انہیں ہراساں کرتی ہے۔ اس آواز میں چار آوازیں اور شامل ہوگئیں۔ کچھ دن بعد اس موضوع پر ایک ٹاک شو ہوا۔ پانچ پلئیرز نے کوچ کی موجودگی میں کھل کر تلخ تجربات کا اظہارکیا۔ ٹاک شو کے ٹکڑے سوشل میڈیا پر پھیل گئے۔ آج بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ ان ویڈیوز کے اوپر کیپشن کیا ہیں اور نیچے تبصرے کیسے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں نے اس بنیاد پر لڑکیوں کو ہی قصور وار ٹھہرایا کہ وہ گھر سے نکلی ہی کیوں۔ انہوں نے لہو لعب کی دنیا اختیار ہی کیوں کی۔ جب وہ میدان میں دوڑیں گیں، تو ظاہر ہے مردوں میں جنسی ہیجان تو پیدا ہوگا۔

Read more

بارہ مئی 2007: وسیم اختر کا اعتراف جرم اور پرویز مشرف کی طاقت

 پہلی بار نہیں ہوا کہ ایم کیو ایم کے کسی رہنما نے جرم کا اعتراف کیا ہے۔ وسیم اختر کا اعتراف جرم بھی کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ نوے کی دہائی میں ان کی وہ جے آئی ٹی فلم کے فیتے پر محفوظ ہے،جس میں وہ کچھ ایسے ہی جرائم کا اعتراف کر رہے ہیں۔…

Read more

منظور پشتین، کیا آپ پاکستانی ہیں؟ فرنود عالم انٹرویو لیتے ہیں

کیا آپ پاکستانی ہیں؟

جواب: دیکھیے، کسی پاکستانی کو اس کے پاکستانی ہونے کا سرٹیفکیٹ دینے کا اختیار صرف نادرا کے پاس ہے۔ نادرا نے یہ سرٹیفیکیٹ مجھے دیا ہوا، اگر آپ چاہیں تو میں دکھا دیتا ہوں؟

آپ کے پاس نادرا کا سرٹیفیکیٹ موجود ہے، آپ پاکستان کے شہری ہیں، اس کے باوجود بھی پاکستان کی اس قدر مخالفت؟ آخر کیا وجہ ہے؟

آپ کہہ سکتے ہیں۔ آپ کو ایسا کہنے سے کون روک سکتا ہے۔ کہنے والوں نے تو صمد خان، باچا خان، بزنجو، ولی خان، عطا اللہ مینگل، جی ایم سید سب کے بارے میں یہی کہا کہ یہ پاکستان کے دشمن ہیں۔ یہاں تک کہ فاطمہ جناح کے متعلق کہا گیا کہ وہ غدار ہے۔ آپ سوچیں کہ یہ سب جنہیں غدار کہا گیا ان کے بیچ کون سی چیزیں یکساں ہیں۔ دو چیزیں ہیں۔ ایک یہ کہ یہ سارے لوگ اپنے لوگوں کے لیے حقوق مانگتے تھے۔ اب جب آپ حقوق مانگتے ہیں تو اس سے ریاست کی بالادست طاقتوں کے مفاد پر زد پڑتی ہے۔ جب زد پڑتی ہے تو وہ پروپیگنڈا شروع کردیتے ہیں کہ یہ ملک کے خلاف سرگرم ہیں۔ ایسا اس لیے کرتے ہیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسا جرم سبز ہلالی پرچم کے نیچے چھپ جائے۔

Read more

کچھ ذکر ہمارے ہزارہ ہم وطنوں کا۔۔۔

جہاز روانگی کے لیے تیار ہے۔ اس اعلان کے بعدہم قطار میں لگ گئے۔ ساتھ والی قطار میں ایک لڑکی بیساکھی پر قدم اٹھا رہی تھی۔ اسے وہیل چئیر پہ بیٹھنے کو کہا جارہا تھا مگر وہ منع کر رہی تھی۔ منتظم نے کہا، آپ کو تکلیف ہو گی۔ لڑکی نے کہا، بالکل نہیں ہو گی۔ وہ ہمدردی میں ملنے والے رستے سے فائدہ اٹھانے کی بجائے قطار میں لگنے کو ترجیح دے رہی تھی۔ یونہی بغیر کسی سہارے کے وہ ائیر بس میں چڑھ گئی۔ بس میں وہی ماں بالکل میرے پہلو میں کھڑی تھیں جو اپنے جواں سال بچے کی گردن پہ مستقل سہارا دیے ہوئے بیٹھی تھیں۔ لیکن اب جوان کی کم ازکم گردن میں کوئی مسئلہ نہیں لگ رہا تھا۔ میں نے ماں سے پوچھا تو بہتے ہوئے لہجے میں بولیں، تب یہ سو رہا تھا اس لیے گردن پہ ہاتھ رکھا تھا۔

ماں سے گفتگو کرتا دیکھ کر جوان نے مسکراتے ہوئے مجھے سلام کیا۔ مجھے اچھا لگا کہ چلیے دو باتیں اس سے بھی ہوجائیں گے۔ تکلف ایک طرف رکھنے کے لیے میں نے فارسی میں حال پوچھا۔ دو ساعتوں کے اس سفر میں رسمی علیک سلیک پر وقت ضائع نہیں کیا جاسکتا تھا۔ دوچار باتوں سے ہوتے ہوئے فورا اپنے سوال پہ آگیا۔ یہ سب کیسے ہوا؟ بم دھماکے میں ہوا۔ وہ بھی مسکرانے لگا اور ساتھ میں بھی۔ مسکراہٹ میں اس کی آنکھیں ساتھ نہیں دے رہی تھیں۔

بس کے دروازے کھل گئے۔جہاز کے سامنے مسافر قطار میں لگ گئے۔ نظر پھر سے آگے کھڑی اس ہزارہ لڑکی نے پکڑلی جو بیساکھی کے سہارے پر تھی۔ جہاز کی سیڑھیوں پہ اسی اعتمادسے چڑھی جارہی تھی جس اعتماد سے بس میں چڑھ رہی تھی۔ مگراس کا چہرہ لال سرخ ہوچکا تھا۔ آخری زینے پہ عین دروازے کے ساتھ اس سے حال احوال کا موقع مل گیا۔ پوچھ لیا ۔یہ سب کیسے ہوا؟ بم دھماکے میں ہوا۔

Read more

جرگہ پاکستان : جو میں نے دیکھا، جو میں نے سنا

کراچی کے ایک اخبار سے میں وابستہ تھا۔ واقعہ بھول گیا، مگر وزیرستان میں ہوا تھا۔ طبعیت پر بہت گہرا اثر چھوڑ گیا تھا۔ فوجی آپریشن کی میں نے ایک کالم میں حمایت کی۔ عابد آفریدی نے مجھ سے کہا، آپ ایسا کیسے کرسکتے ہیں؟ اس نے بات کہی، میں نے جواب دیا۔ اس نے دلیل دی، میں چپ ہوگیا۔ میرا موقف بدل گیا۔ عابد آفریدی کے پاس محض دلیل نہیں تھی۔ ایک درد بھی تھا جس کے آگے ہردلیل ہیچ ہے۔ ایک دھماکے میں اس کا بھانجا مارا گیا۔ اس درد نے ماں کے اعصاب ایسے چٹخا دیے کہ گھر میں اسے زنجیروں سے باندھنا پڑا۔

عابد آفریدی نے جرگہ پاکستان کی بنیاد رکھی ہے۔ غرض وغایت یہ بتائی گئی ہے کہ ہم نے ریاست اور پی ٹی ایم کے بیچ تصادم کے امکانات کو ختم کرنا ہے۔ گاڑی کو دھکا دینے کے لیے سات اپریل کو اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں فریقین کا ایک اکٹھ رکھا۔ اس اکٹھ میں ملک بھر کے مختلف الخیال دانشوروں، قلم کاروں، اخبار نویسوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ کچھ ایسے لوگ بھی آئے ہوئے تھے جنہوں نے جنگ کی شعلوں کو براہ راست سہا ہے۔ عمران فارق قتل کیس میں نامزد ملزم معظم خان کی اہلیہ بھی آئی ہوئی تھیں۔ انہوں نے اپنے تعارف میں صاف کہا، میں قائد تحریک الطاف حسین بھائی کی پیروکار ہوں۔

میں پہنچا تو اباسین یوسفزئی صاحب گفتگو فرما رہے تھے۔ آپ پختونوں کے نمائندہ شاعروں اور ممتاز اساتذہ میں سے ہیں۔ پختونخوا کے حجرہ و بازار میں جب انسانی چیتھڑے اڑ رہے ہوتے تھے تب ان کی ایک نظم کا بند زبان زد عام ہوا

Read more

تم نے ایسا کیوں کیا عالمگیر؟

پہلی ہی سطر میں مجھے کہہ لینے دیجیے کہ حالیہ عرصے میں شائع ہونے والے ناولوں میں سید کاشف رضا کا ناول ”چار درویش اور ایک کچھوا“ دل کو چھو کے نکل گیا۔ اس کی سطریں مجھے ازبر ہوگئیں اور اس کے اشارے مجھ پر بیت گئے۔

کالام سے آگے گھبرال نام کا یک گاؤں آتا ہے۔ بلند پہاڑوں میں گھرا ایک گاؤں جس کے گھر شیشم کی لکڑیوں کے بنے ہیں۔ کبھی یہاں مندروں میں گھنٹیاں بجتی تھیں اب میناروں سے حی علی الفلاح کی بزرگ صدائیں آتی ہیں۔ میناروں کے اس پار چترال کے پہاڑ دکھتے ہیں جو اکثر برف کی سفید چادر اوڑھے رہتے ہیں۔ اس گاؤں سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر ایک مقام شاہی باغ ہے۔ یہ قدرتی طور پر بنا زمین کا ایک وسیع ٹکڑا ہے جس کے اطراف میں پانی ایک گولائی میں بہتا ہے۔

باغ کے بیچ میں جس رخ بھی بیٹھ جائیں آپ کو بل کھاتی ہوئی کوئی آبشار نظرآئے گی۔ ہلکی سی خنکی میں کسی بھی ایک آبشار کو دیر تک دیکھیے۔ آپ محو ہوجائیں گے۔ گم ہوجائیں گے۔ بہتے پانی کی نغمگیں دل کی دھڑکوں میں بندھ کردماغ کو اپنے سحر میں لے لے گی۔ اور اس کے بہاؤ میں خود کو بہتا ہوا محسوس کریں گے۔ ایک سرد آہ بھر کر جب آپ واپس اپنے منظر میں آجائیں گے تو محسوس کریں گے کہ ہلکی ہلکی پھوار میں آپ کا بدن بھیگ چکا ہے اور سردی کا احساس بڑھتا جارہا ہے، مگر آپ یہاں سے جانا نہیں چاہتے۔ آپ پوچھیں گے، یہ سب کیا ہے۔ میں کہوں گا، سید کاشف رضا کی نثر ہے!

Read more