قوم کی ناچتی بیٹیاں اور راگ درباری میں چھیڑی گئی دعائیں

ایسا پہلی بار تو نہیں ہوا۔ ہمیشہ سے ہی زمانے کا چلن یہ رہا ہے کہ جس چیز کا سِرا ہاتھ نہ آئے اُسے دیوتاوں سے جوڑ دو۔ آسمان سے پانی برسا تو حیرت سے انسان انگلیاں دانت میں دباکر آسمان کو تکنے لگا۔ یہ سب کیا ہو رہا ہے اور کیسے ہو رہا ہے۔…

Read more

عورت مارچ اور تحریکِ ریشمی برقعہ

کل لاڑکانہ سے جے یو آئی کی تحریکِ زرد رومال کا مولوی بچہ ٹویٹر پر نمودار ہوا ہے۔ اس بات پر حیران ہوا پھرتا ہے کہ عورت کے جسم پر خود عورت کا راج کیسے ہوسکتا ہے۔ مطلب اب عورت کے جسم میں مداخلت کے لیے ہمیں عورت سے اجازت لینی پڑے گی؟ یعنی پدر سری ابھی زندہ ہے اور خودسری کے دن ہمیں دیکھنے پڑرہے ہیں؟ اپنی حیرانی کے اظہار کرنے کے بعد بولے، اسلام نے عورت کے حقوق چودہ سو سال پہلے ہی دے دیے ہیں۔ پھر ایک تڑی لگاتے ہوئے کہا، انتظامیہ سے رابطے میں ہیں، اس ملک میں ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔

Read more

غامدی صاحب کا بے نام و بے نظریہ سیکولرازم  

جاوید احمد غامدی صاحب نگاہ بلند اور سخن دل نواز پیامبر ہیں۔ بہت اندھیرے میں جلتا چراغِ طور ہیں۔ فکری بنیادوں میں پانی چھوڑنے کا انہیں سلیقہ ہے۔ کہنے سے زیادہ سننے کا انہیں حوصلہ ہے۔ اپنی بات دوٹوک کہتے ہیں۔ دوسرے کی بات بے روک سنتے ہیں۔ الفاظ میں خود کو سجانے سے گریز…

Read more

کیا احسان اللہ احسان اور کیا اس کے انکشافات

فرمایا گیا جن لوگوں نے احسان اللہ احسان کو نشانے پہ رکھا ہوا ہے، وہ انڈیا اور افغان انٹیلی جنس کے اس کردار پر بات کیوں نہیں کرتے جس انکشاف احسان اللہ احسان نے کیا" عرض کیا نہیں، بات یہ نہیں ہے۔ بھارتی اورافغان انٹیلی جنس کا کردار کوئی انکشاف نہیں ہے. یہ تو سامنے…

Read more

محمد حنیف کے لاپتہ آم، سرمد کھوسٹ کا کھلا خط اور والیِ ریاست کی تسبیح

ہندوستان نے ہماری روایت پر عمل کرتے ہوئے جب اپنی سیاست کی بنیادوں میں مذہبی انتہا پسندی کا پانی چھوڑنا شروع کیا تو فہمیدہ ریاض نے ایک نظم کہی۔ تم بالکل ہم جیسے نکلے، اب تک کہاں چھپے تھے بھائی؟ سید کاشف رضا نے محمد حنیف کے ناول کا اردو ترجمہ کیا تو جنرل ضیا…

Read more

جنید حفیظ جیسے احمق لوگوں کے نام، جو لوٹ کے واپس آتے ہیں

جس دن اس کیس کو سماعت ہورہی تھی، اس دن کراچی میں تھا۔ مجھے ایک شخص ملا، جو دماغ کا تیز تھا اور عقیدے کا شیعہ تھا۔ شیعہ مکتبِ فکر کو ریاست نے اپنی دستاویز میں کبھی غیرمسلم نہیں لکھا، مگر ریاست کا خیال ان کے متعلق بھی کچھ اچھا نہیں ہے۔ نوجوان نے بتایا، میں نے امریکہ سے تعلیم حاصل کی ہے۔ وہیں میں نے تین بڑے اداروں میں نوکری کی ہے۔ پھر سوچا، میں اپنی صلاحیتیں یہاں کیوں ضائع کرہا ہوں۔ مجھے اپنے ملک لوٹ جانا چاہیے، کہ اپنی مٹی کا قرض مجھ پر زیادہ ہے۔

میں نے خاموشی سے سن کر درمندی سے کہا، تم نے بہت بڑی حماقت کردی ہے دوست۔ تم نسلی طور پر شیعہ ہو، دماغی طور پر ترقی پسند ہو اور علمی طور پر مستند ہو۔ مان لو کہ یہ وطن تمہارا نہیں ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ بات تمہیں تمہارا کوئی شاگرد، کوئی استاد، کوئی مذہبی سیاسی کارکن، کوئی محب وطن شہری، کوئی برگزیدہ قانون دان یا کوئی خوف زدہ جج سمجھائے، تمہیں خود سمجھ جانا چاہیے۔

Read more

ایک پاکیزہ، گھریلو مکالمہ

سلام وعلیکم السلام آپ کو کافی ٹائم سے فالو کر رہی ہوں بہت عنایت آپ کیا کرتے ہیں؟ ملازمت پیشہ بندہ ہوں ۔اسلام آباد میں پایا جاتا ہوں ۔ کبھی محبت کی؟ محبتیں کی ہیں، تعداد نہ پوچھ لیجیئے گا، گنتی کا وقت نہیں ہے۔ نادرا سے کروانی پڑ جائے گی۔ پھر شادی ہوئی کسی…

Read more

گوالے پرنسپل کا کینٹین، کپتان کی ریاستِ مدینہ اور طالبات کا عبایہ!

اسماعیل شاہد معروف پشتو مزاحیہ اداکار اور ہدایت کار ہیں۔ پی ٹی وی کے فیتوں پر اردو میں بھی ان کا کام ریکارڈ ہے۔ پی ٹی کے مشہور زمانہ ڈرامہ سیریل ”جھوٹ کی عادت نہیں مجھے“ میں مرکزی کردار انہی کا تھا۔ پی ٹی وی پر ہی ان کا ایک ریکارڈ ساز پشتو ڈرامہ ”مڑی پہ شمار دی“ چلا۔ اسماعیل شاہد اس ڈرامے میں گوالے پرنسپل کا کردار نبھارہے ہیں۔ ڈرامے کا خاکہ یہ ہے کہ میاں گوالے نے باڑے کی پچیس بھینسے بیچ کر اسکول کی بنیاد رکھ دی ہے۔ کھولتے وقت اس کا احساس تھا کہ اسکول بھی ایسے ہی چلے گا جیسے بھینس کا باڑا چلتا تھا۔ اب جب اسکول کھلا ہے تو دودھ پانی کا فرق بھی معلوم ہوگیا۔

Read more

اماں کا ریڈیو، الجھی ہوئی تاریخ اور رکا ہوا وقت

بچپن کی یادوں میں اماں کا ایک جاپانی ریڈیو بھی ہے۔ یہ اپنے زمانے کا سب سے بہترین ریڈیو ہوا کرتا تھا جس پر کتھائی رنگ کی ایک لیدر چڑھی ہوئی تھی۔

اماں ہماری ناخواندہ ہیں مگر جاہل ہر گز نہیں ہیں۔ انیس سو نواسی سے لے کر دوہزار چھ تک کی کرکٹ کی تاریخ کا انہیں بطور خاص ادراک ہے۔ کرکٹ کے نئے دور میں انہیں کچھ خاص دلچسپی نہیں ہے مگر شوق انہیں کرکٹ کی جاری سرگرمیوں سے غافل بھی نہیں ہونے دیتا۔ کرکٹ کے حوالے سے اُن کا درک بہت واجبی سا ہے مگر اتنا واجبی بھی نہیں ہے۔ انضمام الحق ان کے پسندیدہ کھلاڑیوں میں سرفہرست رہے ہیں۔ عمران نذیر اور محمد آصف کے ٹیم سے چلے جانے ہر انہیں ہمیشہ دکھ رہا۔ شعیب ملک کا ہمیشہ ٹیم کا حصہ ہونے کو وہ سمجھ سے بالاتر معاملہ قرار دیتی رہی ہیں۔ ہزار حجتوں کے بعد بھی شاہد آفریدی کو کبھی کوئی ان کی گُڈ بک میں شامل نہیں کروا سکا۔

Read more

کشمیر: شہ رگ سے ہی نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

کشمیر کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر میں خود کشمیر سرے سے فریق ہی نہیں ہے۔ کشمیر کے فریق ہمیشہ سے ہندوستان اور پاکستان ہیں۔ تیسری کوئی چیز اگر ہے تو وہ عالمی طاقت ہے جس نے کشمیر کے معاملے میں اپنا قلمی نام ”ثالث“ رکھا ہوا ہے۔ خطے میں اُس نے کوئی چال چلنی ہو تو ثالثی کے عنوان سے چلتا ہے۔ خود کشمیریوں کے حصے میں جو کردار آتا ہے اسے فلم کی زبان میں سائیڈ رول کہتے ہیں۔ ہدایت کاروں کے لیے سائیڈ رول نبھانے والوں کی کچھ ایسی حیثیت بھی نہیں ہوتی مگر ان کے بغیر فلم پوری بھی نہیں ہوتی۔ کشمیر کی فلم میں کشمیری صرف نعرے لگاسکتے ہیں، ہڑتال کرسکتے ہیں، بکتر گاڑیوں پر پتھراؤ کرسکتے ہیں اور انجامِ کار اپنی قیادت کو گرفتار یا نظربند ہوتا ہوا دیکھ سکتے ہیں۔

Read more