ایسرا اور کنیسرا نے ڈاکوؤں کو لوٹا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو روز گزر گئے تو کنیسرا حالات کو محفوظ جان کر اپنے گھر پلٹا۔ وہ اور اس کی بیوی بہت خوش تھے کہ ایسرا واپس نہیں آیا اور ان کا منصوبہ کامیاب رہا ہے۔ کنیسرا نے گڑھا کھودا تو پیسے غائب تھے۔ ”ایسرا یہاں پہنچ چکا ہے لیکن اب پیسے ڈھونڈنے کی بجائے میں ایسرا کو ڈھونڈوں گا“۔ کنیسرا نے کہا۔

کنیسرا دن رات ایسرا کے گھر کی نگرانی کرنے لگا۔ اس نے دیکھا کہ ایسرا کی بیوی روز ایک خاص وقت پر کھانے کی پوٹلی لے کر نکلتی ہے اور کچھ دیر بعد واپس آتی ہے۔ کنیسرا نے ایسرا کی بیوی کا پیچھا کیا تو اسے ایک کنویں میں کھانے کی پوٹلی لٹکاتے دیکھا۔ ”تو ایسرا یہاں چھپا ہوا ہے“، کنیسرا نے سوچا۔

اگلے دن وقت سے کچھ پہلے ہی کنیسرا نے عورتوں والے کپڑے پہن کر گھونگھٹ نکالا اور تین دن پرانی باسی روٹیاں اور سالن لے کر کنویں تک جا پہنچا۔ اس نے کھانا نیچے لٹکایا تو کچھ دیر بعد ایسرا چیخا ”کم بخت عورت، تم یہ کیسا کھانا لے کر آئی ہو“۔

کنیسرا نے زنانہ آواز بنا کر جواب دیا ”میرے پاس پیسہ کہاں ہے جو تازہ کھانا بنا سکوں“۔
”بدھو عورت، تمہیں پتہ ہے کہ چالیس ہزار اشرفیاں صحن میں درخت کے نیچے دفن ہیں۔ ادھر سے کچھ پیسے نکالو اور سودا سلف خرید لو“۔

کنیسرا تیزی سے ایسرا کے گھر کی طرف گیا اور جیسے ہی ایسرا کی بیوی اسے کھانا دینے کے لئے نکلی تو اس نے گڑھا کھود کر پیسے نکالے اور اسے برابر کرنے کے بعد پیسے اپنے باغیچے میں چھپا دیے۔

دوسری طرف ایسرا کی بیوی نے اپنے وقت پر جا کر کھانا کنویں میں لٹکایا تو ایسرا نے حیران ہو کر کہا ”تم دوبارہ کیوں آئی ہو؟ ابھی گھنٹہ پہلے ہی تو تم کھانا دے کر گئی تھیں؟ “
”تم کیا بات کر رہے ہو؟ میں تو کل سے نہیں آئی۔ “ بیوی نے جواب دیا۔
ایسرا نے سر پر ہاتھ مار کر کہا ”تم نہیں تھیں تو پھر کنیسرا ہاتھ دکھا گیا ہے۔ “ وہ کنویں سے باہر نکلا اور گھر جا کر دیکھا تو پیسے غائب تھے۔

وہ تیزی سے کنیسرا کے گھر کی طرف دوڑا مگر وہ گھر پر نہیں تھا۔ تلاشی لینے پر اسے کہیں بھی پیسوں کا سراغ بھی نہ ملا۔ مایوس ہو کر وہ اپنے گھر واپس آیا اور اپنی بیوی کو کہا کہ وہ محلے میں اس کی موت کا اعلان کر دے اور خود مردہ بن کر لیٹ گیا۔

پڑوسی کھانا اور لکڑیاں لے کر آئے اور چتا بنانے لگے۔ کنیسرا کو پتہ چلا تو وہ سوچنے لگا ”مجھے لگتا ہے کہ ایسرا کوئی چکر چلا رہا ہے۔ “ وہ بھیس بدل کر ایسرا کے گھر گیا اور لاش دیکھنے کی اجازت مانگی۔ ”ایسرا میرا سب سے گہرا دوست تھا“۔
محلے والوں نے جواب دیا ”ایسرا کے انتم سنسکار ہو رہے ہیں۔ ہم کسی مسلمان کو قریب آنے کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں“۔ یہ کہہ کر انہوں نے کنیسرا کو باہر نکال دیا۔

ایسرا کی ارتھی اٹھا کر باہر لائی گئی اور چتا پر رکھ دی گئی۔ چتا کے گرد چادریں تان دی گئیں اور اسے آگ دکھا دی گئی۔ ہر طرف دھویں کے بادل چھا گئے اور لوگ رونے دھونے لگے تو ایسرا تیزی سے چتا سے ایک طرف گرا اور اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر نزدیکی درختوں کے پیچھے چھپ گیا۔ وہ تیزی سے کنیسرا کے گھر کی طرف بڑھا۔ اس کا خیال تھا کہ کنیسرا اب مطمئن ہو کر گھر واپس آ گیا ہو گا۔ لیکن کنیسرا بہت چالاک تھا۔ وہ واپس نہیں آیا۔ ”میں اسے ڈھونڈ کر ہی دم لوں گا، چھوڑوں گا نہیں“۔ ایسرا نے خود سے عہد کیا۔

دوسری طرف کنیسرا نے سوچا کہ وہ خود بھی مردہ ہونے کا ڈھونگ رچا لے۔ ”ایسرا مجھے دھوکہ نہیں دے پایا۔ لیکن میں اسے دھوکہ دے سکتا ہوں۔ میں کسی رات گھر واپس جا کر پیسے کھود نکالوں گا اور دور کسی دوسرے شہر جا کر رہنے لگوں گا“۔
چنانچہ کنیسرا نے افواہ پھیلا دی کہ وہ شدید بیمار ہے اور ایک دن اس کی بیوی نے رونا پیٹنا شروع کر دیا کہ وہ مر گیا ہے۔ سارے محلے والے آ گئے اور اس کے کفن دفن کا انتظام کرنے لگے۔

کنیسرا کو کفن میں لپیٹ کر قبرستان لے جایا گیا اور ایک صوفی کے مقبرے کے ساتھ دفن کرنے کی تیاری کی گئی۔ ایسرا قبرستان پہنچ گیا اور روتے ہوئے کہنے لگا ”میرا دوست کنیسرا مر گیا۔ خدا کے لئے مجھے اس کا چہرہ دیکھنے دو“۔ کنیسرا ساکت پڑا رہا مگر ایسرا کو شبہ ہو گیا کہ وہ مرا نہیں ہے۔ اسے قبر میں دفن کر دیا گیا۔ ایسرا ایک قریبی درخت پر چڑھ کر چھپ گیا اور جب لوگ واپس چلے گئے تو وہ واپس آیا اور اس نے قبر کھود کر کنیسرا کو باہر نکال کر ایک طرف لٹا دیا۔

اسی وقت باہر کئی لوگوں کے قدموں اور دبی دبی سرگوشیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ ایسرا بھاگ کر دوبارہ درخت پر چھپ گیا۔ آنے والے بہت بدنام سات ڈاکو تھے اور ان میں سے ایک کانا تھا۔ مقبرے کے اندر انہوں نے لاش دیکھی تو احتیاط سے اس کا معائنہ کیا اور کہنے لگے ”یہ ضرور زندہ پیر ہیں۔ یہ اپنی قبر سے باہر نکل آئے ہیں اور ان کی لاش بالکل تازہ ہے۔ ان سے اپنی کامیابی کے لئے دعا کرتے ہیں“۔

چھے ڈاکو کہنے لگے ”اے ہمارے پیر۔ ہم ایک بڑے ڈاکے کے لئے جا رہے ہیں۔ ہم منت مانتے ہیں کہ اگر ہم کامیاب ہوئے تو شکر کھلا کر تمہارا منہ میٹھا کریں گے“۔ کانا ڈاکو پیروں کو نہیں مانتا تھا۔ اس نے کہا ”اور میں تمہارا منہ گندا ترین پانی پلا کر کڑوا کر دوں گا“۔

منت مان کر وہ سب ڈاکو قریبی شہر کی طرف گئے اور ایک بہت امیر آدمی کا مکان لوٹ کر واپس ہوئے۔ انہیں توقع سے بہت بڑھ کر مال ملا جسے وہ زندہ پیر سے مانی ہوئی منت کا کمال سمجھے۔ ہر ایک ڈاکو نے اپنے اپنے کاندھے پر پیسوں کا تھیلا لٹکایا ہوا تھا۔ انہوں نے منت پوری کرنے کے لئے باری باری کنیسرا کے منہ میں شکر ڈالنی شروع کی۔ لیکن جب کانے ڈاکو کی باری آئی تو اس نے نہایت بدبودار پانی کنیسرا کے منہ میں انڈیل دیا۔

کنیسرا نے شکر کو تو برداشت کر لیا تھا مگر یہ بدبودار کڑوا پانی اس کے لئے ناقابل برداشت ثابت ہوا۔ وہ بری طرح کھانسنے لگا اور اٹھ کر بیٹھ گیا۔ ڈاکو خوف سے کانپنے لگے کہ مردہ زندہ ہو گیا ہے۔ اسی وقت درخت پر چھپے ہوئے ایسرا نے زور سے چلا کر کہا ”باقیوں کی پروا مت کرو، سب سے آگے کھڑے ہوئے ان کے سردار کو پکڑ لو اور اس کا خون پی جاؤ“۔

یہ الفاظ سن کر ڈاکوؤں کی جان نکل گئی۔ ان کو یقین ہو گیا کہ وہ خون آشام بدروحوں کے چنگل میں پھنس گئے ہیں۔ انہوں نے سارا مال ادھر ہی قبر کے پاس پھینکا اور سر پر پیر رکھ کر بھاگے۔
ان کے جاتے ہی کنیسرا ناچتا ہوا اٹھا اور کہنے لگا ”ہاہاہا، ایسرا یہاں ہے، آخر کار میں نے اسے پکڑ لیا“۔

ایسرا درخت سے اترا اور دونوں دوست گلے ملے۔ انہوں نے اشرفیوں سے بھرے ہوئے ساتوں تھیلے اٹھائے اور مقبرے میں داخل ہو کر وہاں پڑا ہوا ایک چراغ جلایا۔ انہوں نے سارے تھیلے الٹے اور پیسے گننے لگے۔ ساری اشرفیاں برابر تقسیم ہو گئیں مگر ایک دمڑی بچ گئی۔

ایسرا اور کنیسرا دونوں اسے چھوڑنے پر تیار نہ تھے۔ وہ آپس میں بحث کرنے لگے۔ ادھر قبرستان سے نکل کر ڈاکوؤں کے ہوش کچھ ٹھکانے آ گئے تھے۔ انہوں نے کانے ڈاکو کو واپس جا کر سارے پیسے واپس لانے پر تیار کر لیا۔

کانا ڈاکو سب سے بہادر اور چالاک سمجھا جاتا تھا۔ وہ دبے پاؤں قبرستان میں داخل ہوا اور مقبرے کے قریب پہنچ گیا۔ اس وقت تک ایسرا اور کنیسرا بلند آواز میں جھگڑنا شروع کر چکے تھے۔ کانے ڈاکو نے مقبرے کی کھڑکی سے جھانک کر دیکھنا چاہا کہ کیا ہو رہا ہے۔ کنیسرا نے اسے دیکھ لیا اور اچانک ڈاکو کی پگڑی جھپٹ کر اس نے ایسرا کو پکڑائی اور کہا ”یہ لو اپنے حصے کی ایک دمڑی۔ اب ہمارا حساب برابر ہو گیا ہے۔ “

کانے ڈاکو کی جان نکل گئی۔ وہ سر پر پاؤں رکھ کر دوڑا اور ڈاکوؤں کے پاس پہنچ کر کہنے لگا ”یہاں سے فوراً بھاگو۔ اس قبرستان میں اتنی زیادہ بدروحیں ہیں کہ اتنی بڑی دولت میں سے ہر ایک کے حصے میں صرف ایک ایک دمڑی آ رہی ہے۔ یہاں سے نکل جاؤ ورنہ یہ بدروحیں ہمارے خون سے ضیافت اڑائیں گی“ سب ڈاکو بدحواس ہو کر وہاں سے بھاگ گئے اور انہوں نے عہد کیا کہ آئندہ کبھی اس علاقے کا رخ نہیں کریں گے۔

سکون ہوا تو عیار کنیسرا نے چالاک ایسرا سے کہا ”میرے پاس پہلے ہی چالیس ہزار اشرفیاں ہیں۔ اب ان سات تھیلوں میں سے ایک تھیلا میں لے لوں اور چھے تمہارے حصے میں آئیں تو ہمارا حساب برابر ہو جاتا ہے۔ “ ایسرا مان گیا اور دونوں اپنے اپنے حصے کے پیسے لے کر اپنے اپنے گھر واپس پہنچے۔

اب دونوں دوست بے تحاشا امیر ہو چکے تھے۔ انہوں نے خوب زمینیں خریدیں اور اپنے لئے حویلیاں تعمیر کیں۔ باقی زندگی انہوں نے خوب خوشحالی میں گزاری۔
اس قدیم دیسی حکایت سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ لوٹ مار اور چھل فریب سے امیر ہونے والوں کو کانا ڈاکو پکڑنے سے قاصر رہتا ہے اور وہ اس کے حق میں بدروحیں ثابت ہوتے ہیں۔

اس سیریز کے دیگر حصےایسرا اور کنیسرا نے چوریوں سے مال بنایا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1430 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar