رسوائی کی نئی آفاقی تاریخ


رُسوائی کی آفاقی تاریخ میں نئے اندراجات کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ ان نئے اندراجات میں کراچی کا نام نہ آئے، یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ رُسوائی سے تو اس کا نام باقاعدہ طور پر جُڑ گیا ہے۔ زمان اور مکان متعّین مگر اس نئی تاریخ کے رقم کرنے کو بورخیس کہاں سے آئے؟ خیر کچھ دال دلیا کرتا ہوں۔

ماجرا اس کا سیدھا سادا ہے۔ اگر کسی ایک شخص کے بارے میں کہا جائے کہ اس نے افسانے کی صنف کا سارا پیراڈائم بدل دیا تو وہ لاطینی امریکا کا بورخیس ہوگا جو مرصّع کاری، صنّاعی، واقعات کے پردے میں فکری پیچاک اور کہانی کو بُجھارت بنانے کا ہُنر رکھتا تھا۔ اس کا ادبی حافظہ اور برئوئے کار آنے والے حوالے قاموسی تھے کہ ان کی تشریح کے لیے پورا انسائیکلوپیڈیا چاہیئے۔ الف لیلہٰ سے حد درجے عقیدت اور شیفتگی کے سبب وہ رچرڈ برٹن سے خوب واقف تھا (ایک کہانی اس کے سفرنامے سے اخذ بھی کی ہے) مگر اس کے باوجود اس کے ہاں کراچی کا کوئی حوالہ نہیں آتا۔ ایک افسانے میں وہ بمبئی تک ضرور آتا ہےاور ایک فرضی مصنّف کی فرضی کتاب کی مفروضہ اشاعت کو اس شہر سے منسوب کر دیتا ہے مگر اس سے آگے نہیں جاتا جہاں سمندر کے دوسری طرف کراچی مُنتظر رہ گیا۔ خیر، اب نفس مضمون خود اپنے افسانہ نگار کے قریب پہنچ گیا ہے۔

تفصیل اس اَجمال کی یہ ہے کہ بورخیس کے پانچ عدد افسانوی مجموعوں میں سے پہلا یہی نام رکھتا ہے اور اس سے قصّوں کا بھید بھائو بھی کُھل جاتا ہے۔ ہر افسانہ کا مرکز ایک رسوائے زمانہ کردار ہے جو تمام تر جُزئیات اور بہت سارے کتابی حوالوں کے ساتھ سامنے آتا ہے، پھر سوانحی انداز میں اس کی جیون کتھا ہمارے سامنے پیش ہوتی ہے۔ بعد میں لکھے جانے والے ایک دیباچے میں (کہ اس کو یہ مرض بھی لاحق تھا) بورخیس نے یہ غیر ضروری وضاحت پیش کی ہے کہ یہ افسانے ’’باروک‘‘ طرز میں لکھے گئے ہیں، یعنی اسلوب بیان میں بات اس قدر بڑھا چڑھا کر پیش کی جاتی ہے کہ آپ اپنی مضحکہ خیز نقل معلوم ہونے لگتی ہے۔ یہ انداز مزاح کے قریب پہنچ جاتا ہے، وہ تنبیہہ کرتا ہے مگر برسوں بعد بھی اس میں ترمیم کرنے پر تیار نظر نہیں آتا۔

BORGES

بورخیس کے مترجم اور سوانح نگار نارمن تھامس ڈی جیوانی نے اس کے بارے میں بڑی مبسوط کتاب لکھی ہے ___ The Lesson of the Master جس میں بورخیس کو لکھتے پڑھتے، ترمیم و تنسیخ کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کتاب کا پورا باب اس ایک مجموعے کے بارے میں ہے جب کہ مصنّف خود کہہ دیتا ہے کہ یہ انگریزی میں اس کی سب سے کم پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ اس کے مطابق اس کتاب کو سب سے کم سمجھا گیا ہے، جب کہ ایک نقاد نے یہ کہہ دیا ہے کہ لاطینی امریکا میں نثر کو مُنقلب کرنے والی یہی ایک کتاب تھی اور اس کے اثرات مارکیز تک پر نظر آتے ہیں۔

کتاب کے زیادہ تر افسانے چند دنوں کے وقفے سے ایک رسالے میں چھپتے رہے، اس لیے اس کا عرصۂ تخلیق تھوڑا سا ہے۔ افسانوں کے ساتھ بورخیس نے بھاری بھر کم حوالوں کا اہتمام کیا ہے جو ڈی جیوانی کی تحقیق زیادہ تر فرضی ہیں۔ بورخیس جان بوجھ کر ایسی چالاکی برتا کرتا تھا اور یہ اس کے افسانوی طریقِ کار کا ایک حصّہ ہے۔ اچھا، ضرور ہو گا۔ مگر ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ مجھے تین چار حوالے ایسے مل گئے ہیں کہ کہانی کا بڑا حصّہ واقعاتی صحت کے ساتھ ڈھالا جا سکتا ہے۔ اگر ایک آدھ بات رہ گئی تو بورخیس کے صدقے اس کے مدّاح یقیناً معاف کر دیں گے۔

بات یہ ہے کہ میں ایک نئی کہانی لکھنا چاہتا ہوں، ایسی کہانی جو بورخیس کے اس مجموعے کو موجودہ زمانے تک لانے میں مدد کر سکے۔ رسوائی کے جو نئے نقشے سامنے آئے ہیں ان کو اسی قدر تفصیل اور تاریخی دُرستی سے بیان کرے۔ میری مشکل یہ ہے کہ کراچی کے باہر مجھے دکھائی کم دیتا ہے۔ لیکن اس بار یہ بندوبست بھی ہوگیا۔ مجھے جس افسانوی موضوع کی تلاش تھی، وہ مل گیا ہے۔

بعض دفعہ سامنے کی چیز بھی دور کی کوڑی بن جاتی ہے، اس بار میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ناقابلِ یقین بہروپیے، حد سے زیادہ سفاک خاتون قذاق، نیویارک کے تاجروں سے حفاظت کے نام پر زبردستی رقم وصول کرنے والے قاتل اور جاپانی ادب و آداب کے قائل ظالم درباری، زمانۂ جدید کے امریکی ڈکیت بلی دی کڈ اور ان سے بھی بڑھ کر قدیم شہر مروکے نقاب پوش جھوٹے پیغمبر کے ساتھ ___ جس کی نقاب کے بارے میں آخر میں پتہ چلتا ہے کہ اصل وجہ اس کا خیرہ کُن جمال نہیں بلکہ کوڑھ کا کھایا ہوا انتہائی گھنائونا چہرہ ہے۔ ان سب کے شانہ بشانہ اسی صف میں شامل ہونے کے لائق نام تو سامنے ہی موجود تھا۔ یعنی بغل میں بچّہ، شہر میں ڈھنڈورا۔

اس محاورے سے آپ یقیناً سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ مطلوبہ کردار جس کی خاطر نرگس مدّتوں روتی رہی، کوئی اور نہیں ہمارا آپ کا جانا پہچانا، کراچی پولیس کا دلیر افسر رائو انوار ہے جسے بورخیس کے الفاظ میں اُسی طرح دہشت اور عظمت کا مرکّب قرار دیا جا سکتا ہے۔ جس طرح اُس نے بلی دی کڈ کو قرار دیا تھا۔

ذرا سوچیے، بورخیس کے صفحات تک پہنچنے کے لیے امریکا کے غنڈے بدمعاش بلی دی کڈ کو کتنے پاپڑ بیلنے پڑے، ہولی وڈ کا پورا زور اس کی ’’امیج سازی‘‘ پر صرف ہواجب کہ ہمیں بیٹھے بٹھائے ایک نہیں بلکہ دو کردار مل گئے جو زندگی کے حجم سے بڑے دکھائی دیتے ہیں۔

ٹہریئے۔ آگے بڑھنے سے پہلے مجھ پر شکریہ واجب ہے سیاسی رہ نما کا جنہوں نے پولیس افسر کو ’’بہادر بچّہ‘‘ (یا بچّہ، بہادر؟) قرار دے کر باون تولے پائو رّتی کا ایسا بیان دیا کہ سوکھے دھانوں پانی پڑھ گیا۔ مجھے یہ افسانہ سوجھ گیا۔

سیاسی بصیرت کے حامل ان فقید المثال سیاسی رہ نما کا میں مزید شکرگزار ہوں کہ انہوں نے اپنے بیان میں وضاحت اس نیم دلی سے کی کہ میرے مضمون پر آنچ نہیں آنے پائی۔

میں مزید ممنون احسان ہوں کراچی پولیس کے ان جری، باہمّت اور صاحب عزم افسران کا جن کی بدولت راہِ مضمونِ تازہ بند نہیں ہوئی اور بورخیس کی رسوائی میں نئے نام سوجھنے لگے۔

بورخیس کے لیے ایک مشکل یہ تھی کہ قدیم تاریخ کی بوسیدہ کتابیں کھنگالنا پڑتی تھیں،پھر بھی مطلوبہ تفصیلات نہ ملتی تھیں تو قوّتِ مشاہدہ کے بجائے ایجاد و اختراع سے کام لینا پڑتا تھا۔ ہمیں حوالوں کے لیے کتب خانوں کی خاک چھاننے کی ضرورت نہیں ___ یوں بھی کراچی میں کتب خانے برائے نام رہ گئے ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب وہاں صرف خاک چھانی جا رہی ہو گی۔ اخبار کے دو ایک مضامین سے معلومات کی ضرورت پوری ہوسکتی ہے۔وقت آنے پر ان کا حوالہ کافی ہوگا۔

ایک خاص زمانے کے امریکا میں بلی دی کڈ اور ہمارے باپ دادا کی نسل میں سلطانہ ڈاکو یا بھوپت ڈاکو کا وہ مقام حاصل تھا کہ لوک کردار کا سا مرتبہ حاصل کر لیا۔ (ہماری نسل کو ان کے بجائے گبّر ڈاکو ملا، یعنی سیلو لائیڈ کا ڈاکو!) اور وہ لوگوں کے تصوّر میں جاگزین ہوگئے۔ کراچی کے ’’اربن کلچر‘‘ میں ایسے زندہ جاوید کرداروں کی شدید کمی تھی جو ڈاکوئوں کی عدم دستیابی کے بعد اب پولیس کے فرض شناس محکمے نے فراہم کر دیے ہیں۔

بورخیس کے اتّباع میں مجھے ہر بات حوالے کے ساتھ کہنی ہے۔ ایک پرانے مخطوطے کے پیلے اوراق میں، جس میں شام کے وقت کسی نامعلوم فرد نے ڈھابے میں تیل بھری نہاری کھانے کے بعد ہاتھ پونچھنے کے لیے استعمال کرکے سڑک کے کنارے پھینک دیا تھا، پھر ردّی والے کی کمال مہربانی سے دستیاب ہوئے، فرنود عالم نام کے کسی شخص کا ایک بے ربط سا مضمون ہے۔ نام سے ظاہر ہے یہ شخص فرضی ہوگا۔ نام کیا ہے، بھائی جون ایلیا کا شعر معلوم ہوا ہے۔ ان کے باقی اہل خانہ کے کیا نام ہوں گے شاید۔ یعنی۔ گمان؟ گویا؟ جتنا حصّہ پڑھا جا سکا، اس میں لکھا ہے ___ اس معذرت کے ساتھ کہ نقلِ کفر، کفر نباشد ___

’’ایک ایس پی چوہدری اسلم ہوا کرتے تھے۔ نکلتا ہوا قدرے چوڑی چھاتی۔ بکھرے بال۔ خمار آلود آنکھیں۔ کترواں داڑھی۔ گری ہوئی مونچھیں۔ سفید کاٹن۔ کُھلا گریبان۔ دھانسو چال۔ چوڑا ہاڑ، دائیں ہاتھ میں لوڈ کیا ہوا ریوالور۔ بائیں ہاتھ میں جلتا ہوا سگار۔ ماتھے پہ شکن۔ زبان پہ گالی۔ پے در پے کش۔ مکس پتّی کی جگالی، راجہ جانی کے سب روپ دھانی ….‘‘

اس حلیے سے کوئی کسی کو کیا پہچانے گا؟ مجھے یاد آیا کہ شاید میں نے بھی دیکھا ہوگا۔ صبین محمود والے ٹی ٹو ایف میں انگریزی کے قلم کار اور وردی پوش افسر عُمر شاہد حامد کی نئی کتاب کا جلسہ تھا۔ غازی صلاح الدین نے مجھ سے کہا کہ کتاب اچھی ہے اسے پڑھ ڈالو۔ کتاب پڑھنے کی نوبت بعد میں آئی، پہلے تو جلسے میں گیا۔ بعد میں جب خبر آئی تو لوگوں نے بتایا کہ چودھری اسلم اس جلسے میں بھی آئے تھے، ذرا دیر بیٹھے پھر چلے گئے۔ میں نے ضرور دیکھا ہوگا۔ اس قسم کی افسانوی شخصیات کے بارے میں بس یہی شُبہ رہ جاتا ہے کہ ہم نے دیکھا ہوگا۔ اس سے زیادہ واضح بات کوئی نہیں کہہ سکتا۔

دوسرا حوالہ ایک اور اخبار سے ملا جس سے ہمارے ملازم نے گیس کے چولہے صاف کرنے کا کام لیا تھا کیونکہ چولہا جل کے نہیں دیتا تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ گیس کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ چولہے کی کالک کے نیچے ایک نہیں، دو مصنّفوں کے نام ہیں۔ یہ مضمون انگریزی میں ہے اس لیے گمان ہے زیادہ لوگوں نے پڑھ لیا ہوگا۔ ’’وہ قتل کرنے کی مشین تھا‘‘ اس مضمون میں لکھا ہے۔ انہوں نے 2011ء سے لے کر 2017ء کے عرصے میں ’’مقابلے‘‘ کا نام دے کر 444 لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار ڈالا۔ ان 745 مقابلوں میں ایک بھی پولیس والے کی جان تو کیا، بال بھی بیکا نہ ہوا۔ ان میں سے کسی ایک کیس کی تحقیقات کی گئی اور نہ محکمہ جاتی کارروائی۔ بلکہ اس عمل کا کوئی باقاعدہ رکارڈ بھی موجود نہیں۔ کسی اور بات کے نہیں، صفائی کے تو قائل ہو جایئے۔

بتائیے ایسے لوگ سنگھاسن پر بٹھائے جانے کے لائق ہیں کہ نہیں؟ ان کا کیا قصور کہ ان کو بورخیس جیسا قلم کار میّسر نہ ہوا جو ان کے نمایاں کارناموں کو آفاق گیر شہرت عطا کرتا۔ مگر وہ جو کہتے ہیں گندم نہ میّسر شود بھُس غنیمت است۔ اسی کج مج تحریر سے کام چلایئے۔

اگر آپ اب بھی نہیں سمجھے ہیں کہ اس شخصیت کو ’’بہادر بچّہ‘‘ (یا بچّہ بہادر؟) کیوں کہا گیا تو یاد کیجیئے کہ مشہور امریکی قاتل بلی دی کڈ کو بھی تو کڈ کہا جاتا تھا۔ ہمارے یہ رہ نما ہالی وڈ سے خوب اچھی طرح واقف ہیں کیونکہ کسی زمانے میں کراچی میں ان کا سینما گھر بھی تھا۔ اور مجھے یقین ہے وہ فلمیں ضرور دیکھتے ہوں گے۔ کائو بوائے فلمیں اگر آپ نے نہیں دیکھی ہیں تو یہ اور کسی کا نہیں آپ کا قصور ہے۔

Facebook Comments HS