تبلیغ کا رخ موڑیے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"naseerمیری بیٹی یونیورسٹی بس سے آتی جاتی ہے۔ بس کا پوائنٹ یا سٹاپ گھر سے کچھ فاصلے پر ہے جہاں تک میں اسےچھوڑنے اور لینے جاتا ہوں۔ ایک روز بس معمول کے وقت سے ذرا پہلے پہنچ گئی اور مجھے بیٹی کا فون آیا کہ وہ بس اسٹاپ پہ انتظار کر رہی ہے۔ میں اسے لینے کے لیے گھر سے نکلنے ہی والا تھا کہ دروازے کی گھنٹی بجی۔ میں پہلے ہی گیٹ کھولنے جا رہا تھا۔ دیکھا تو سامنے تبلیغی جماعت کے کچھ لوگ گلی کے ایک بزرگ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سلام دعا کے بعد کہنے لگے کہ کچھ وقت دیجیے ہمیں آپ سے بات چیت کرنی ہے۔ میں نے نرمی اور شستگی سے جواب دیا کہ میری بیٹی بس اسٹاپ پہ انتطار کر رہی ہے اور میں اسے لینے جا رہا ہوں، اس وقت جلدی میں ہوں آپ پھر کسی وقت تشریف لائیے گا۔ میرے جواب کو سنا ان سنا کرتے ہوئے یا ممکن ہے  بہانہ سمجھتے ہوئے انھوں نے اصرار کیا کہ میں بس پانچ منٹس انھیں دے دوں۔ مجھے ان کی یہ بات بہت عجیب لگی اور سچ بتاؤں تو غصہ بھی آیا کہ  عجیب لوگ ہیں، میری بیٹی بس اسٹاپ پہ اکیلی کھڑی ہے اور انھیں تبلیغ کی پڑی ہے۔ میں نے تیزی سے معذرت کرتے ہوئے گاڑی نکالی اور بیٹی کو لینے چلا گیا۔ یہ بد اخلاقی تو لگی لیکن مجبوری تھی۔ نتیجتاً گلی کے وہ بزرگ جو ان لوگوں کو ساتھ لائے تھے مجھ سے ناراض ہو گئے اور اب سلام دعا بھی نہیں کرتے۔

میں سوچتا ہوں یہ کیسی تبلیغ ہے جو صرف ظاہری عبادات پر زور دیتی ہے اور انسانی زندگی اور مسائل کا حقیقی ادراک نہیں رکھتی۔ مجھے کالج کا زمانہ یاد آ گیا جب کئی بار میں بھی تبلیغی جماعت کے ساتھ قریبی شہر میں ایک رات مسجد میں شب بسری کے لیے جایا کرتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ عشا کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد جب درس و وعظ کا سلسلہ شروع ہوتا تھا تو کچھ طالبعلم  چپکے چپکے کھسک کر فلم کا آخری شو دیکھنے سنیما چلے جاتے تھے اور فلم دیکھ کر مسجد میں آ کر سو جاتے تھے۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ ہمارے جو ہم جماعت دعوتِ تبلیغ میں پیش پیش ہوتے تھے وہ امتحان کے دنوں میں نقل مارنے میں بھی پیش پیش ہوتے تھے۔ باقاعدہ ہاتھوں اور ٹانگوں پہ جوابات لکھ کر اور کپڑوں میں کاغذ جنھیں \”بوٹی\” کہا جاتا تھا چھپا کر لے جاتے تھے۔ جب کہ مجھ جیسے \”بے تبلیغیے\” نقل کرنا بہت بڑا اخلاقی جرم سمجھتے تھے اور نقل کرنا تو دور کی بات امتحان میں آگے پیچھے بیٹھے ہوئے ہم جماعتوں کو نقل لگوانے سے بھی ڈرتے تھے۔ میں اکثر ان دوستوں سے کہتا تھا کہ آپ لوگ جو اتنے شد و مد سے تبلیغ دین کرتے ہو تو آپ کو تو بالکل نقل نہیں کرنی چاہیئے۔ لیکن ظاہر ہے تبلیغ کا رخ مسجد میں عبادات کی طرف زیادہ اور عملی اصلاح کی طرف کم تھا ورنہ وہ نقل نہ مارتے اور مسجد سے اٹھ کر سنیما دیکھنے نہ چلے جاتے۔ مجھے لگتا ہے تبلیغ کا طریقِ کار آج بھی وہی ہے یعنی ہنوز روزِ اول است۔ اس کو نہیں بدلا گیا ورنہ آج اِن بظاہر پڑھے لکھے، خوش اخلاق اور پر امن لوگوں کے خلاف اتنی ناپسندیگی نہ ہوتی  اور رائے عامہ ان کے خلاف نہ ہوتی۔

جتنی پرانی انسان کی تاریخ ہے، تبلیغ کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے۔ اگر ڈارون کا نظریہ ارتقا ایک طرف رکھ دیا جائے تو ہابیل، قابیل کے زمانے سے ہی تبلیغ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اسلام سے پہلے عیسائیت، ہندو مت اور دیگر مذاہب کے پرچار کی روایات پختہ ہو چکی تھیں۔ تبلیغ کی کئی قسمیں ہیں اور ہر مذہب کے پرچارکوں کے مختلف طرق ہائے کار ہیں لیکن زیادہ تر اسلامی مبلغ حیات ما بعد موت اور تصوراتی عبادات پر ہی زور دیتے ہیں۔ جبکہ بعض دیگر مذاہب کے مبلغین اور مشنری درسی تبلیغ کے علاوہ عملی فلاحی کاموں کے ذریعے بھی عام لوگوں کو اپنے اپنے مذہب اور عقیدوں کی طرف مائل کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں شروع ہی سے تبلیغ کا زور فلاح و بہبود، تعلیم، علم و دانش اور تطہیرِ معاشرت کے بجائے الوہیت، الہامات، ظاہری عبادات اور قوتِ یزدانی پر رہا ہے۔ اگر تبلیغ کا رخ زندگی اور زندگی کی اعلیٰ اقدار، حقیقی روحانیت، دیانتداری اور صحیح معنوں میں دل و ذہن کی پاکی اور بالیدگی کی طرف موڑا جاتا تو آج ہمیں مذہبی انتہا پسندی، دہشت گردی، بنیاد پرستی اور عدم رواداری کی جو صورتِ حال درپیش ہے وہ نہ ہوتی۔ جس معاشرے میں جہالت اور ذہنی پس ماندگی ہو،  ناخواندگی ہو، رسوم و رواج ہوں، لا قانونیت ہو، معاشی ناہمواری ہو، سیاسی ابتری اور بے یقینی ہو، منافقت، جھوٹ، خیانت، رشوت، ملاوٹ اور بد عنوانی کی انتہا ہو وہاں تبلیغ کا محور و مرکز حقوق اللہ کے بجائے حقوق العباد ہوں، جو عین مذہب کی روح ہیں، تو اس کے نتائج مثبت اور صحت مند مذہبی معاشرے کی صورت میں ظہور پذیر ہو سکتے ہیں۔

ذرا اپنے ارد گرد کی زندگی پر نظر دوڑائیے اور دیکھیے کہ خدا کے احکامات پر کتنا عمل ہو رہا ہے۔ کیا ہم روز مرہ زندگی میں جھوٹ نہیں بولتے اور جھوٹی گواہیاں نہیں دیتے؟ کیا ہمارے تاجر اور کارخانہ دار ناجائز منافع خوری اور ٹیکس چوری کے مرتکب نہیں ہوتے؟ کیا ہم لوگ اپنی منصبی ذمہ داریاں دیانت داری سے انجام دیتے ہیں؟ کیا ہم ڈیوٹی پر اور دفتروں میں وقت کی پابندی کرتے ہیں؟ کیا ہم رشوت نہیں لیتے؟ کیا ہمارے ہاں صحت و صفائی کا انتطام بہترین ہے؟ کیا ہم کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ نہیں کرتے؟ کیا ہم اقربا پروری نہیں کرتے؟ کیا ہم عہدوں اور اختیارات کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھاتے؟ کیا ہم حقداروں کو ان کا حق ادا کرتے ہیں؟ کیا ہم بے جا اسراف نہیں کرتے؟ کیا ہم جائداد کی تقسیم اور دیگر خانگی معاملات میں ناانصافی نہیں کرتے؟ کیا ہم عورتوں پر تشدد نہیں کرتے؟ یہ ہمارے اخلاقی، معاشرتی اور معاشی جرائم کا محض اجمالی تذکرہ ہے۔ ان خرابیوں اور برائیوں کی فہرست طویل ہے جو ہمارے کلچر کا حصہ ہیں اور جو ہماری معاشرت میں یوں رچ بس گئی ہیں کہ کوئی قانون بھی انھیں درست نہیں کر سکتا۔ کیا اسلام یا کسی بھی مذہب میں ان خرابیوں اور برائیوں کی اجازت ہے؟ کیا ان کے ہوتے ہوئے معاشرہ اسلامی ہو سکتا ہے؟ کیا دین دین پکارنے سے ہم دین دار بن سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر ان سب کی طرف تبلیغ کا رخ کیوں نہیں موڑا جاتا؟ تبلیغی گروہ ایسے رضاکار، ایسے مبلغ، ایسے سوشل ورکر کیوں تیار نہیں کرتے جو جگہ جگہ گلی محلوں، نالوں، سڑکوں پر پڑے گندگی کے ڈھیروں کے خلاف مہم چلائیں، مسجدوں میں راتیں گزارنے کے بجائے خدا کی اس زمین کو صاف ستھرا رکھنے کی تبلیغ اور عملی اقدامات کیوں نہیں اٹھاتے؟ متعلقہ اداروں اور ان کے افسروں اور عملے کے اراکین کو اپنے فرائض دیانت داری سے ادا کرنے کی طرف کیوں راغب نہیں کرتے؟ پولیس تھانوں، کچہریوں میں جا کر تبلیغ کیوں نہیں کرتے؟ رشوت لینے اور دینے والوں اور ناجائز آمدنی کمانے والوں کو بری نگاہ سے دیکھنے کی سوچ کیوں پیدا نہیں کرتے؟ لوگوں کو ٹریفک قوانین کی پابندی اور دیگر ملکی قوانین پر عمل پیرا ہونے کا شعور کیوں نہیں دیتے؟ طالبعلموں کو تبلیغی دوروں کے بجائے اپنی تعلیم مکمل کرنے اور تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کی تلقین کیوں نہیں کرتے؟ کچی آبادیوں، دیہاتوں اور پسماندہ ترین علاقوں میں جا کر لوگوں کے مسائل سمجھنے اور حل کرنے کی سبیل کیوں نہیں کرتے؟ ملک میں معاشی اور سماجی عدم مساوات ختم کرنے پر زور کیوں نہیں دیتے؟ یورپ اور امریکہ جا کر مزید مسلمان بنانے کے بجائے سب سے پہلے اپنے لوگوں کو اسلام کی صحیح روح کے مطابق مسلمان کیوں نہیں کرتے؟ اگر معاشرے کی اصلاح محض حقوق اللہ سے ممکن ہوتی تو حقوق العباد پر اتنا زور کیوں دیا جاتا؟ اس لیے تبلیغ کا رخ موڑنے اور فرض و نفلی عبادات کے ساتھ ساتھ سماجی بھلائی اور معاشرتی فلاح کو تبلیغ کا حصہ بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے بغیر کوئی معاشرہ نہ دینی نہ دنیوی ترقی کر سکتا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
22 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments