عامل بابا، ہریالی دربار اور چمی والی سرکار کے کارنامے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عامل بنگالی بابا۔ پیر سائیکل سرکار۔ سائیں بابا ملنگی۔ اونچی سرکار۔ عامل سری پائے۔ چُمی والی سرکار…. ان سب بابوں، سرکاروں، ملنگوں اور سائیوں کا اشتہارتقریباًایک سا ہوتا ہے۔ ”جادو ٹونے کا توڑ، کلام الہٰی کے ذریعہ۔ سفلی عمل کی کاٹ اور پلٹ۔ گھریلوناچاقی۔ اولاد کی نافرمانی۔ بے اولادی کا علاج۔ سنگ دل محبوب آپ کے قدموں میں اور یہ اشتہار ہر محلے کی دیواروں پر اور اخبار کی زینت ہوتے ہیں۔ کیبل پر بھی نشر ہوتے ہیں اور ان کا چلتا پھرتا اشتہار ضعیف العقیدہ مرید تو ہیں ہی۔ جو برسوں سے ان کے آستانوں پر حاضری دے رہے ہیں کہ ’ابھی حکم نہیں آیا بابا۔ تم پر بھی نظر ہو گی‘ کے رعب تلے دفن کہ پیر صاحب نے دیدار بھی دیا اور نذرانہ بھی قبول کر لیا۔ ورنہ پیر صاحب تو نذرانے کو ہاتھ بھی نہیں لگاتے وہ تو خلیفہ نے مدد کی سفارش کی تو انہوں نے لیتے ہی کہا۔ ’محتاجوں میں بانٹ دو‘۔ اب سب سے بڑے محتاج تو وہ خود ہیں کیونکہ اُن کے پاس خلیفے بہت اور دوسرے کسی روزگار کی شدید قلت ہے۔ سو خلیفے پیر صاحب ہی کو نذرانے بانٹ دیتے ہیں مگر ایسے کہ ایک ہاتھ دے تو دوسرے کو خبر بھی نہ ہو۔

اب آتے ہیں اشتہاروں میں دئیے گئے لالچ کی طرف۔ اس حوالے سے ایک بڑا سوال یہ نظر آتا ہے کہ تمام بابے سفلی عمل کی کاٹ کر رہے ہیں تو یہ سفلی عمل کر کون رہا ہے؟ جواب ہے کہ صاحب وہی بابے یہ خدمت خلق بھی کر رہے ہیں۔ اب مرادیں ایسے ہی تو پوری نہیں ہو جاتیں۔ یہ کاٹ تو سمجھ آتی ہے مگر پلٹ؟ اپنی جگہ ان کلامِ الٰہی کے ذریعہ مسائل حل کرنے والوں پرایک سوالیہ نشان ہے۔

گھریلو نا چاقی کا خاتمہ یہ حضرات کیسے کرتے ہیں۔ اس کا احوال یہ ہے کہ یہ پیر صاحبان مریدوں کو اپنے چکر میں ایسا پھنسا تے ہیں کہ پیر ہی اُن کا واحد مرکز سوچ بن جاتا ہے۔ وہ مرید حاجت مند اپنے مسائل سے نظر ہٹا لیتا ہے۔ اور عامل جی کے دیے ٹوٹکوں میں لگ کر اپنا ذہن ادھر مصروف کر لیتا ہے۔ گھریلو لڑائیاں ایک بندے کی خاموشی سے خود بخود حل ہو جاتی ہیں۔ بابے کو سلام کہ اُ س نے فریق کو چپ کروا دیا۔ سکون ہی سکون۔

اب اگر اولاد نافرمان ہے تو ایسا نہیں کہ وہ سب ماں باپ پر پستول تان کے کھڑے ہیں۔ بس ہوتا یہ ہے کہ تعویز کے بعد یقین ہو جاتا ہے کہ اب سب ٹھیک ہوجائے گا۔ اولاد اچھے کام بھی کرتی ہے۔ اب پیر صاحب کے تعویزوں کی عینک چڑھنے کے بعد ایسے اچھے کام محض عقیدت بابا جی کی بدولت نظر آنے لگتے ہیں یہی حال میاں بیوی کے معاملے میں بھی ہے۔

اب سب سے خطرناک پہلو کی طرف آتی ہوں۔ ’بے اولادی‘۔ بعض مردوں میں سپرم کا کاﺅنٹ (Count) کم ہوتا ہے۔ ایسی خواتین اور حضرات کو یہ تجربہ کار بابے بڑی خوبی سے بھانپ لیتے ہیں۔ اِن کے پاس برسوں کا تجربہ ہو تا ہے۔ حال احوال جانتے ہی انہیں پتا چل جاتا ہے کہ کمی کس کے اندر ہے۔ اِ ن کی آسان کمائی اُن خواتین سے ہوتی ہے۔ جن کو یہ بابے اپنے آستانوں پر عمل کے لئے بلاتے ہیں۔ انہیں گندے پانی میں بے لباس کر کے ڈبکیاں لگوائی جاتی ہیں۔ اس کا مقصد بابے کے باتھ روم میں صاف پانی سے نہلانا اور نظارہ کرنا ہوتا ہے۔ پھر ان خواتین کے خوف کو کیش کرنے اور عیش کرنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے خواتین بے اولادی کے طعنوں اور شوہر اور سسرالی پریشر سے بچنے کے لئے بڑی آسانی سے اپنا آپ مقدس بابے کو سونپ دیتی ہیں۔ اور شوہر بابے کو نذرانے دیتا رہتا ہے۔ ہونے والا بچہ اپنی ماں کے شوہر کا کہلا تا ہے۔ اور وہ مرد اپنے پیر کا چلتا پھرتا اشتہار بن جاتا ہے۔

اب سنگ دل محبوب کی ضرورت ہی کیا، خواتین کو جب بابے انہیں اپنے ہی دم میں مست کر دیتے ہیں۔ خواتین کی گھٹن نکل جاتی ہے اور محبوب کی چھٹی۔ بابے بڑے عاشق مزاج اور چرب زبان ہوتے ہیں۔ ان ہتھیاروں کے کاری وار پہ عورتیں واری واری جاتی ہیں۔

حصول روزگار کا خواہش مند پیر جی کو خوش کرنے سے فارغ ہو گا تو کچھ اور سوچے گا اور ویسے بھی بے روزگاری ہمیشہ پیچھا نہیں کرتی۔ رازق اﷲ ہے۔ وہ رزق دیتا ہے مگر شکر پیر کا ادا کیا جاتا ہے۔ ایک اور مرید تیار ہوجاتا ہے۔ بیماری کے علاج شافی کے ذریعے۔ زیادہ ترامراض وائرل ہوتے ہیں۔ ان کی اپنی ایک مدت ہوتی ہے مگر شدید بیماری میں پڑھا ہوا پانی اور دوا ملی مٹھائی کھانے سے دو باتیں ہوتی ہیں۔ پانی ہر بیماری میں شافی علاج ہے۔ اب لڈو میں کونین ملا کر یا دوسرا کوئی انٹی بائیوٹک ملا کر مریض کو دے دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر کی ڈگری کی کوئی حیثیت ہی نہیں بابو۔ بابا جی جو ہیں۔

دوسروں کو فیض پہچانے والے بابے خود کیوں اتنے بے فیض ہوتے ہیں کہ مریدوں کے رحم وکرم پر گزر بسر کر رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ اِن کے یہاں اوپر سے من وسلویٰ نہیں اترتا۔ اپنی بیماری کا علاج ڈاکٹر سے کرواتے ہیں۔ خود ان کی اپنی اولاد عیاش اور دین سے عاری ہوتی ہے۔ بیوی بدمزاج اور چڑ چڑی۔

حکومت پاکستان اِن پیروں اور فقیروں کے مظالم کو جانتی ہے۔ قتل، آبروریزی اور لوٹ مار کے اِن مجرموں کو یہ اجازت کیوں حاصل ہے کہ یہ اخبار، ٹی وی اور دیگر ذرائع ابلاغ سے عوام کا استحصال کریں۔ اشہاری مہم بند کیو ں نہیں کی جا رہی؟ حال تو یہ ہے کہ یہ بابے اب مارننگ شوز کی رونق بھی بن رہے ہیں۔ ہماری حکومت ان کے کرتوتوں سے نظر کیوں چرا رہی ہے؟

 میرے گھر میں بھی کوئی لوگوں پر راج کرنے کے لئے گیڈرسنگھی لایا تھا۔ اب یہ کوئی کون ہے؟ چلئے میں اپنے شوہر کا نام نہیں لیتی۔ اُس پر ضعیف الاعتقادی کا الزام نہیں دھرتی۔ بس یہ بتا دیتی ہوں کہ اُس گیڈر سنگھی کی ملکیت نے اسے ایسا کمال اعتماد عطا کیا کہ وہ شیطانیت کی حدوں کو پار کر گیا کہ میرے پاس بزرگ کی دی ہوئی ایک سوغات ہے جو مجھے کسی کی پکڑ میں نہیں آنے دے گی۔ اور وہ بے باک ہو تا چلا گیا۔ صائمہ! چپ ہو جاﺅ۔ تم اپنے شوہر کی مثال کیوں لے آتی ہو۔ مگر صائمہ کہتی ہے کہ میرے پاس اور کوئی آنکھوں دیکھا حال نہیں ہے۔

میری اپیل ہے کہ اس مکروہ کاروبار پر منظم قسم کا کریک ڈاﺅن کیا جائے۔ کوئی نہ بچنے پائے۔ دھوکا دہی، ریپ، قتل، کئی الزامات اور سب سے بڑھ کر جادو ٹونہ کی شرعی ممانعت کو نظر اندازکرکے کھلے سانڈ کی طرح پھرنے والوں کو اپنے انجام کو پہنچانے کی ضرورت ہے۔

ویسے اب تو خاتون پیر بھی مارکیٹ میں آچکی ہیں ….اور یہ جملہ قطعی غیر سیاسی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •