ٹوٹتا تارہ، دعا اور مسیحا

زندگی زمین سے روٹھی نہیں تھی۔ نسل آدم بڑھانے کے لیے ایک عورت موجود تھی۔ "لڑکی ہوئی یا لڑکا، ہم اس کا نام اُمید رکھیں گے"۔ اس بار بھی زندگی وہیں سے شروع ہوئی، جہاں سے پہلی بار ہوئی تھی۔ فرق محض یہ تھا، کہ اس بار آدم اکیلا نہیں تھا۔ اس کے شریک اور…

Read more

میرے شوہر کا لکھا وہ ایک خط جو آج تک مجھ سے جلایا نہ گیا

گزرے پل کو یاد کرتے کتنے کاغذ جلائے میں نے؛ بہت کچھ بھسم کیا، پر ایک خط ہے، جو جلایا نہ گیا۔ جب جب اس خط کو کھولوں، اس میں لپٹی 6 مئی 1996ء کی وہ سرمئی شام یاد آتی ہے۔ یادش بخیر، بھوربن کے پنج ستارہ ہوٹل کی لابی میں موسیقی کے لیے ایک…

Read more

عامل بابا، ہریالی دربار اور چمی والی سرکار کے کارنامے

عامل بنگالی بابا۔ پیر سائیکل سرکار۔ سائیں بابا ملنگی۔ اونچی سرکار۔ عامل سری پائے۔ چُمی والی سرکار.... ان سب بابوں، سرکاروں، ملنگوں اور سائیوں کا اشتہارتقریباًایک سا ہوتا ہے۔ ”جادو ٹونے کا توڑ، کلام الہٰی کے ذریعہ۔ سفلی عمل کی کاٹ اور پلٹ۔ گھریلوناچاقی۔ اولاد کی نافرمانی۔ بے اولادی کا علاج۔ سنگ دل محبوب آپ…

Read more

شوہر کی طلاق اور مولوی کا فتویٰ

ایک لڑکی کی 18 سال کی عمر میں شادی ہو جاتی ہے۔ 19 سال کی عمر میں وہ ماں بن جاتی ہے. ایک چاند سے بیٹے کی ماں. وہ بچہ پانچ برس کا ہو کر پریپ میں داخل کر دیا جاتا ہے۔ ABC کی تعلیم شروع ہوتی ہے۔ بچہ کہانیوں میں نیولے کا ذکر سن…

Read more

مرد بھی بکتے ہیں مگر دام ذرا اونچے ہیں

کون کہتا ہے کے مردوں کی منڈیاں نہیں لگتیں عورت کو خریدنا ہو تو ہیرا منڈی جاؤ اور مرد خریدنا ہو تو میرے ہی گھر چلے آؤ۔ میری طرح کے شاید اور بھی گھر ہوں جہاں بکاؤ مرد پائے جاتے ہوں۔ کہیں باپ کے روپ میں کہیں بھائی کہیں شوہر تو کہیں بیٹے کے روپ…

Read more

عورت خور درندے اور غسل جنابت سکھانے والا نصاب

ایک بہو اپنی ساس کے یہاں گئی اور کہا، ’’اماں جی، میری بیٹیاں اب جوان ہو گئی ہیں۔ آپ کو تو پتا ہے، آپ کا بیٹا روز شراب کے نشےمیں دُھت رہتا ہے، مقوی باہ ادویات استعمال کرتا ہے۔ باہر منہ مار بھی آئے تو بھی اُس کی اشتہا ختم نہیں ہوتی۔ اماں جی، کل…

Read more

حرافہ۔ سرآئینہ بھی، پس آئینہ بھی

‎گلاب اُس کی آنکھوں کے سامنے تھے ؛ گُل دان میں سجے تازہ گلابوں کا دستہ، جادوئی رنگ لیے مہک رہا تھا۔ وہ بستر پہ یوں چِت لیٹی تھی، کِہ بائیں پہلو پر جھکاؤ تھا۔ ایسے جیسے نڈھال ہو کے گری ہو۔ اس پہلو سے پھُولوں کا نظارہ، اُسے گلابی مناظر دِکھا رہا تھا۔ کیا اُس کا محبوب جانتا تھا، کِہ گلاب اُس کی کم زوری ہیں؟ نہیں جانتا تھا، تو کیسا حسیں اتفاق ہے، کہِ پہلی خفیہ ملاقات میں اُسے مہکتے گلاب پیش کیے! نثار اُس کی نا جائز محبت تھا۔

کیا محبتیں بھی نا جائز ہو سکتی ہیں؟ اُس نے خود سے سوال کیا۔ خود ہی جواب دِیا کِہ جن محبتوں کو زمانے سے چھپایا جائے، وہ نا جائز ہی تَو ہوتی ہیں۔ لیکن جائز محبت نے اُسے کیا دیا؟ تنِ تنہائی؟ آج وہ اکیلی ہے۔ ساتھی ہے، لیکن اکیلی! جس کا ساتھ چاہا تھا؛ جسے ٹُوٹ کے پیار کیا تھا، وہ کیا ہوا؟ وہ اِس لمحے کرب بے نیاز تھی، مگر یہ آنسو کیوں بَہ نکلے؟ آنسووں کا کیا ہے، انھیں بہنے کی عادت ہو گئی ہے۔

Read more

نہیں چاہیے چادر چار دیواری

میں نے ایک اسے آدمی سے شادی کی جس کو میری امی نے میرے لئے پسند کیا کیونکہ وہ مجھے پسند کرتا تھا۔ شادی کے ڈیڑھ ماہ بعد مجھ پر یہ عقدہ کھلا کہ وہ بندہ بائی سیسکیول ہے۔ انہیں دنوں میں ہماری ایک ملازمہ کی بیٹی نے بالکل ہی ایسا بیان دیا تھا کہ اس کا شوہر اسے غیر فطری میلان کے لئے کہتا ہے اور کر بھی گزرتا ہے اس بچی کی خوب جگ ہنسائی ہوئی مگر کمی کی ویسے ہی کوئی عزت نہیں لہٰذا اس نائین کو ماں نے شوہر سے چھٹکارا دلا دیا مگر میں بستی بھر میں سب ڈیروں اور ان کے گھروالیوں کے سامنے تضحیک کا نشانہ نہیں بننے سے ڈرتی تھیں۔ سو میں نے 20 فروری 1987 ء کو عورت کی عظمت کی مثال قائم کر دی۔ لاتیں اور گھونسے کھانے کی بعد شوہر کی خواہش پوری کر دی۔ اور میرے سر پر شوہر کی اوڑھائی اوڑھنی موجود رہی۔

Read more

انتہا۔ ایک لڑکی کی کہانی جو مسلمان ہو کر بھی ایک راہبہ ہے

اس تحریر کا مقصد دو انتہاؤں کے تصادم میں ہلاک ہونے والے سچ کا مرثیہ لکھنا ہے۔ اسے کوئی دوسرا نام نہ دیا جائے۔ اسلام آباد میں ایک دین دار باپردہ فیملی رہائش ہے ان کا دست شفقت دینی تعلیم دینے والے مدارس پر اور اہل ِ ملت پر ہمیشہ رہا ہے۔ نیکی کرنے کا موقع ضائع کرنا انہیں آتا ہی نہیں حتیٰ کہ ان کی ہمدرد طبیعت سے ایک مسیحی گھرانہ ابھی اچھی گزر کر رہا ہے۔ اس قدر اعلیٰ اخلاق کہ اسی مسیحی گھرانے کی ایک 19 سالہ بچی خاتون خانہ کے بلند اسلامی نظریہ اور باعمل زندگی سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیتی ہیں۔وہ مسیحی گھرانہ اپنے مسیحی سماج سے شرمندہ ہونے کی وجہ سے بیٹی کو چھوڑ دیتا ہے مگر جن لوگوں نے اسے مسلمان کیا ان سے ایک لفظ نہیں کہتا۔ جس مسلمان گھرانے نے ایک کمسن بچی کی آخرت سنواری وہ گھرانہ اس بچی کو اپنا بھی لیتا ہے مگر ایک جوان بچی کو نامحرم مرد کے ساتھ رکھنا گناہ عظیم ہے۔ اس بابت سوچنے کے بعد دونوں میاں بیوی یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اس بچی کو صاحب خانہ جو کہ خود دین کے مدرس بھی ہیں، اپنا لیں۔ یوں اس نو مسلم بچی کا نکاح خاتون خانہ اپنے خاوند سے کروا دیتی ہیں۔

Read more