شوہر کی طلاق اور مولوی کا فتویٰ

ایک لڑکی کی 18 سال کی عمر میں شادی ہو جاتی ہے۔ 19 سال کی عمر میں وہ ماں بن جاتی ہے. ایک چاند سے بیٹے کی ماں. وہ بچہ پانچ برس کا ہو کر پریپ میں داخل کر دیا جاتا ہے۔ ABC کی تعلیم شروع ہوتی ہے۔ بچہ کہانیوں میں نیولے کا ذکر سن…

Read more

مرد بھی بکتے ہیں مگر دام ذرا اونچے ہیں

کون کہتا ہے کے مردوں کی منڈیاں نہیں لگتیں عورت کو خریدنا ہو تو ہیرا منڈی جاؤ اور مرد خریدنا ہو تو میرے ہی گھر چلے آؤ۔ میری طرح کے شاید اور بھی گھر ہوں جہاں بکاؤ مرد پائے جاتے ہوں۔ کہیں باپ کے روپ میں کہیں بھائی کہیں شوہر تو کہیں بیٹے کے روپ…

Read more

عورت خور درندے اور غسل جنابت سکھانے والا نصاب

ایک بہو اپنی ساس کے یہاں گئی اور کہا، ’’اماں جی، میری بیٹیاں اب جوان ہو گئی ہیں۔ آپ کو تو پتا ہے، آپ کا بیٹا روز شراب کے نشےمیں دُھت رہتا ہے، مقوی باہ ادویات استعمال کرتا ہے۔ باہر منہ مار بھی آئے تو بھی اُس کی اشتہا ختم نہیں ہوتی۔ اماں جی، کل…

Read more

حرافہ۔ سرآئینہ بھی، پس آئینہ بھی

‎گلاب اُس کی آنکھوں کے سامنے تھے ؛ گُل دان میں سجے تازہ گلابوں کا دستہ، جادوئی رنگ لیے مہک رہا تھا۔ وہ بستر پہ یوں چِت لیٹی تھی، کِہ بائیں پہلو پر جھکاؤ تھا۔ ایسے جیسے نڈھال ہو کے گری ہو۔ اس پہلو سے پھُولوں کا نظارہ، اُسے گلابی مناظر دِکھا رہا تھا۔ کیا اُس کا محبوب جانتا تھا، کِہ گلاب اُس کی کم زوری ہیں؟ نہیں جانتا تھا، تو کیسا حسیں اتفاق ہے، کہِ پہلی خفیہ ملاقات میں اُسے مہکتے گلاب پیش کیے! نثار اُس کی نا جائز محبت تھا۔

کیا محبتیں بھی نا جائز ہو سکتی ہیں؟ اُس نے خود سے سوال کیا۔ خود ہی جواب دِیا کِہ جن محبتوں کو زمانے سے چھپایا جائے، وہ نا جائز ہی تَو ہوتی ہیں۔ لیکن جائز محبت نے اُسے کیا دیا؟ تنِ تنہائی؟ آج وہ اکیلی ہے۔ ساتھی ہے، لیکن اکیلی! جس کا ساتھ چاہا تھا؛ جسے ٹُوٹ کے پیار کیا تھا، وہ کیا ہوا؟ وہ اِس لمحے کرب بے نیاز تھی، مگر یہ آنسو کیوں بَہ نکلے؟ آنسووں کا کیا ہے، انھیں بہنے کی عادت ہو گئی ہے۔

Read more

نہیں چاہیے چادر چار دیواری

میں نے ایک اسے آدمی سے شادی کی جس کو میری امی نے میرے لئے پسند کیا کیونکہ وہ مجھے پسند کرتا تھا۔ شادی کے ڈیڑھ ماہ بعد مجھ پر یہ عقدہ کھلا کہ وہ بندہ بائی سیسکیول ہے۔ انہیں دنوں میں ہماری ایک ملازمہ کی بیٹی نے بالکل ہی ایسا بیان دیا تھا کہ اس کا شوہر اسے غیر فطری میلان کے لئے کہتا ہے اور کر بھی گزرتا ہے اس بچی کی خوب جگ ہنسائی ہوئی مگر کمی کی ویسے ہی کوئی عزت نہیں لہٰذا اس نائین کو ماں نے شوہر سے چھٹکارا دلا دیا مگر میں بستی بھر میں سب ڈیروں اور ان کے گھروالیوں کے سامنے تضحیک کا نشانہ نہیں بننے سے ڈرتی تھیں۔ سو میں نے 20 فروری 1987 ء کو عورت کی عظمت کی مثال قائم کر دی۔ لاتیں اور گھونسے کھانے کی بعد شوہر کی خواہش پوری کر دی۔ اور میرے سر پر شوہر کی اوڑھائی اوڑھنی موجود رہی۔

Read more

انتہا۔ ایک لڑکی کی کہانی جو مسلمان ہو کر بھی ایک راہبہ ہے

اس تحریر کا مقصد دو انتہاؤں کے تصادم میں ہلاک ہونے والے سچ کا مرثیہ لکھنا ہے۔ اسے کوئی دوسرا نام نہ دیا جائے۔ اسلام آباد میں ایک دین دار باپردہ فیملی رہائش ہے ان کا دست شفقت دینی تعلیم دینے والے مدارس پر اور اہل ِ ملت پر ہمیشہ رہا ہے۔ نیکی کرنے کا موقع ضائع کرنا انہیں آتا ہی نہیں حتیٰ کہ ان کی ہمدرد طبیعت سے ایک مسیحی گھرانہ ابھی اچھی گزر کر رہا ہے۔ اس قدر اعلیٰ اخلاق کہ اسی مسیحی گھرانے کی ایک 19 سالہ بچی خاتون خانہ کے بلند اسلامی نظریہ اور باعمل زندگی سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیتی ہیں۔وہ مسیحی گھرانہ اپنے مسیحی سماج سے شرمندہ ہونے کی وجہ سے بیٹی کو چھوڑ دیتا ہے مگر جن لوگوں نے اسے مسلمان کیا ان سے ایک لفظ نہیں کہتا۔ جس مسلمان گھرانے نے ایک کمسن بچی کی آخرت سنواری وہ گھرانہ اس بچی کو اپنا بھی لیتا ہے مگر ایک جوان بچی کو نامحرم مرد کے ساتھ رکھنا گناہ عظیم ہے۔ اس بابت سوچنے کے بعد دونوں میاں بیوی یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اس بچی کو صاحب خانہ جو کہ خود دین کے مدرس بھی ہیں، اپنا لیں۔ یوں اس نو مسلم بچی کا نکاح خاتون خانہ اپنے خاوند سے کروا دیتی ہیں۔

Read more

اسلام علیکم۔ بھٹو صاحب کیسے مزاج ہیں؟

مکرمی! میرا کامل یقین ہے کہ آپ کل بھی زندہ تھے اور آج بھی زند ہ ہیں۔ اسی یقین کے تحت آپ کو خط لکھ رہا ہوں۔ سندھ کا بچہ بچہ آپ کی محبت کا مقروض ہے ہم آج بھی اپنی ترقی اور بحالی کا خواب دیکھتے ہیں مگر کیا ہمارے خواب صرف خواب رہیں گے۔

بھٹو صاحب! میں اس وقت اپنے کمرے میں چارپائی پرلیٹا ہوں، ساتھ چھوٹا بھائی سویا ہے، وہ مجھ سے چار سال چھوٹا ہے، سوچ رہا ہوں سال دو بعد اس کی بھی شادی ہوجائے گی پھر میں اس کمرے سے بھی باہر ہوجاؤنگا؟ اکیلا ساتھ والے کمرے میں یا ٹی وی لاؤنج میں کیسے سوؤنگا؟ آدھی رات کو پانی مانگنے پر کون دیگا؟ کیا یہ بیوی چھوڑ کر آئے گا ؟

خیر ایک گھنٹہ پہلے چھوٹی بہن جب میرے لئے چائے بنا کر لارہی تھی تو میں سوچنے لگا سال دو بعد یہ بھی اپنے گھر کی ہوجائے گی، پھر میرا یہ کام بھی رہ جائے گا؟ اور آپ کو پتا ہے آج میں یہ سب آپ سے کیوں کہہ رہا ہوں؟ کیونکہ آج جب میرے پینسٹھ سالہ والد صاحب مجھے نہلا رہے تھے تو جھکتے ہوئے ان کی کمر میں بل پڑگیا اور نہانا بیچ میں رہ گیا، اب اللہ ان کا درد کم کرے، بس یہی وہ وقت تھا جب میں نے ٹوٹے دل کے ساتھ بہت تڑپ کردعا کی کہ اے میرے رب بس ایک ماں رہ گئی ہے ان سے پہلے مجھے موت دے دینا۔ اس کو نہیں۔ آمین۔

Read more

ٹھنڈی رات میں ادھوری محبت

اچھا تو پھر دوستی پکی، جی ہاں بالکل عذرا نے کہا لیکن شرائط بھی طے کر لیں تو بہتر ہوگا۔ ہارون بولا ہاں ہاں کیوں نہیں۔ تو جب بھی ملیں گے کھانے پینے کا بل آپ ادا کریں گے۔ میری خوب ساری تعریف کریں گے۔ تحفے مجھے نہیں چاہیئں۔ بس کبھی کبھی پھول یا کوئی…

Read more

‎مجھے یہاں سے نکالو

‎مجھے یہاں سے نکالو 28 سالہ خوبرو شازو نے محلے کی ایک خرانٹ عورت سے کہا، شازوکو علم تھا کہ منہ میں پان دبائے موٹے موٹے ہونٹوں والی کلثوم اسے یہاں سے نکال کر کہاں پہنچا سکتی ہے مگر وہ کلثوم کے بغیریہاں سے نکل نہیں سکتی، کیونکہ اس کی ٹانگیں اس کا ساتھ نہیں دے سکتی۔

‎شازو جب ماں کے پیٹ سے نکلی تھی توجیسے بازو، ہاتھ اور سر لے کے نکلی تھی اسی طرح ٹا نگیں بھی ساتھ لے کے نکلی تھی۔ لیکن جیسے اپنی خراب قسم کی وجہ سے وہ غربت کی سطح سے نیچے بسنے والے ماں باپ کے گھر پیدا ہوئی تھی اسی طرح اپنی خراب ٹانگیں لے کر پیدا ہوئی تھی، جس کی وجہ سے اگر دو تین سال بعد اسے کوئی کپڑے کو جوڑا زکواۃ میں دے دیتا تو وہ محلے کی درزن کوکبھی کھڑے ہو کر اپنی شلوار کا ناپ نہ دے سکی۔

Read more