وقت آیا تو کپتان کے باؤنسر مک گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوست بولا ”تم دیکھنا ابھی نوازشریف جیل جائیں گے۔ پھر ان کی پارٹی ٹوٹنا شروع ہو جائے گی۔ ان کےسارے ممبران بھاگ جائیں گے“۔ دوست کو غور سے دیکھا۔ اسے لگا کہ ابھی ڈرانے میں کوئی کسر ہے تو مزید ارشاد کیا۔ پنجاب بیوروکریسی کے افسران کے نام لیے کہ یہ سارے پکڑے جائیں گے۔

اچھا تو پھر؟
فواد حسن فواد بھی شکنجے میں آ گئے ہیں اس نے مزید بتایا۔
تو پھر؟
نوازشریف کی پارٹی ٹوٹ جائے گی۔ شہباز شریف بھی اندر ہو کر رہیں گے۔

اس سے کیا ہو گا؟
اب دوست تقریبا پاٹ گئے۔ اس سے یہ ہو گا کہ مسلم لیگ نون الیکشن ہار جائے گی۔ شریفوں سے جان چھوٹ جائے گی۔
ان سے پوچھا کہ شریفوں سے جان چھڑانے کے لیے یہ سب کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ انہیں الیکشن ہرا دو جان چھوٹ جائے گی۔

بہت لوگ جو بظاہر جمہوریت پسند ہیں۔ کھل کر کہتے ہیں کہ ابھی ادارے (اداروں سے آپ جو مرضی سمجھ لیں ) کچھ ایسا کریں گے کہ سارے شریف بے بس ہو جائیں گے۔ ان کی پارٹی کے اہم لوگ ڈنڈے کے زور پر دوسری پارٹیوں میں شامل کرا دیے جائیں گے۔ اس کے بعد راوی چناب جہلم کابل وغیرہ چین سکون سے بہنے لگیں گے۔

ہوا یہ ہے کہ نوازشریف اہم ترین تو تھے ہی۔ بے نظیر کی شہادت کے بعد وہ سیاسی طاقت کا مرکز بن گئے ہیں۔ انہی کی فراہم کردہ طاقت سے آصف زرداری کی پی پی لڑکھڑاتی ڈگمگاتی اپنی مدت پوری کر گئی۔

اس بڑھتی ہوئی طاقت والے نوازشریف کو سائز میں رکھنا ضروری سمجھا گیا۔ کپتان کی ری لانچنگ ”میاں صاحب جان دیو ساڈی واری آن دیو“ کے ساتھ بڑے دلکش انداز میں ہوئی۔ الیکشن ہونے حکومت بننے کے کچھ ہفتوں بعد ہی اسلام آباد میں سب کو دھرنے کی باتیں سنائی دینے لگ گئی تھیں۔

کپتان جیسا فاسٹ بالر کرکٹ میں کم کم آیا ہے۔ اس کی تیز بالنگ پر بیٹسمینوں کے اڑتے ہیٹ اور وکٹیں کرکٹ جیسے بور کھیل کو مقبول بنا گئیں۔ اپنے عروج میں سپر سٹار کئی ہوتے ہیں۔ کپتان رٹائر ہو کر گزرتی بزرگی میں آج بھی سپر سٹار ہے۔

طبعیت آج بھی فاسٹ بالر والی ہے۔ وکٹ ملے نہ ملے بیٹسمین کی سانس پھلا کر رکھنی ہے۔ تماشائی بھی کپتان کی اٹھتی گیندوں پر لڑکھڑاتے بیٹسمینوں پر جب نعرے مارتے تھے تو ہم جیسے بھی کھڑے ہو کر داد دیتے تھے۔

سیاست اگر کھیل بھی ہے تو بہت مختلف ہے۔

سیاستدان اس میں اپنی مرضی کہ ٹائم پر ٹمپریچر بڑھاتے ہیں۔ پھر جب چاہتے ہیں حالات کو نارمل کرنے لگ جاتے ہیں۔ حسن مجتبی نے لکھا کہ سندھی قوم پرست جون میں جیے سندھ کے نعرے لگانے لگتے ہیں۔ بجٹ خرچ ہوتا ہے ٹھیکے ملتے ہیں۔ جولائی میں سندھی قوم پرست برف میں لگ جاتے ہیں۔

جو الیکشن جیت سکتے ہیں۔ وہ پختون بلوچ قوم پرست الیکشن کے قریب پنجاب فوج کو کھری کھری سناتے ہیں۔ اسمبلی پہنچ کر ہم پر امن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ جمہوریت پر ہمارا ایمان وغیرہ بتانے لگ جاتے ہیں۔ مولانا الیکشن کے دنوں میں اپنے ووٹر کو بتانا ضروری سمجھتے ہیں۔ یہ تم ہو اور یہ میں ہوں جنہوں نے مل کر اسلام کے خلاف ہونے والی اسلام آبادی سازشوں کے آگے پہاڑ کھڑے کر رکھے ہیں۔

آقا سراج الحق کی جماعت اسلامی چوبیس گھنٹے، سارا ہفتہ، پورا سال، ہوا میں تلوار چلاتی رہتی ہے۔ صالحین تھک تھک کر کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا۔ اٹھانے والا بھی کوئی نہیں۔ الیکشن کا وقت آتا ہے تو ضمانت ضبط کرا کے آ رہے ہوتے ہیں۔ یہ دیر کے مالٹوں کی تاثیر ہی ہو گی جو جماعت سیاست میں سانس لیتی ہے۔ صالحین قسمے ویسے ہی آپ ذکر ہو گیا۔ کرنی تعریف ہی تھی۔ بس کیا کریں۔

کپتان نے سیاست میں فاسٹ بالنگ دھرنے سے شروع کی۔ پہلا باؤنسر بجلی گیس کے بل نہ دینے کا اعلان تھا، ٹھس ہو گیا۔ پھر سول نافرمانی والا پھینکا قوم کا ہاسا نکل گیا۔ پھر گو نواز گو مسلم لیگ نون رونے لگ گئی۔ پھر پانامہ آ گیا۔ مائی لارڈ آ گئے۔ گو نواز گو ہو گیا۔ کپتان کے باؤنسر مک گئے۔

کپتان کے حامی کون تھے؟ کارپوریٹ سیکٹر کے اچھا کمانے والے لوگ۔ جن کا روٹین کے پاکستانی پنگوں سے واسطہ نہیں پڑتا۔  فوج کے افسر لوگ جو لوگوں سے دور رہتے ہیں، اپنے ادارے میں میرٹ پر ترقی پاتے ہیں آگے بڑھتے ہیں اور پیچھے بھی رہ جاتے ہیں۔ وہ یوتھ جو دنیا سے جا جڑی تھی انٹرنیٹ کے ذریعے، جس نے دیکھ لیا تھا کہ دنیا کیسی ہے ہم کیسے ہیں، کدھر پھر رہے ہیں۔ وہ ہم وطن بھی جو مسلمانوں کے زوال پر ملول رہتے ہیں۔

کپتان جب ڈرون حملوں دہشت گردی کے خلاف بولتا تھا۔ تو ان سب کے دل تیز دھڑکتے تھے کہ مل گیا۔

کپتان کو بس اک معمولی سا کام کرنا تھا۔ ان سب سپورٹروں کے ساتھ اپن وطن کے عام لوگوں تک پہنچنا تھا۔ ایسے ہی اسے اپنی پارٹی کو الیکشن جیتنے کے لیے تیار کرنا تھا۔ یہ وہ نہیں کر سکا۔ یہ اتنا بڑا کام تھا نہیں نہ ہے۔ پاکستان میں کوئی بھی الیکشن جیت سکتا ہے۔ کوئی بھی ہار سکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن ڈیرہ سے الیکشن ایک سے زیادہ بار ہار چکے ہیں۔ یہاں اس ہمارے پاکستان میں  ولی خان اپنے چارسدہ میں الیکشن ہار گئے تھے۔

اگر ولی خان کی مولانا حسن جان سے نوے میں ہار پر آپ کو کوئی شک شبہات ہیں۔ تو ولی خان اٹھاسی میں پی پی کے خسرو خان سے صوبائی سیٹ ہار گئے تھے۔ نیشنل پارٹی والے ری کاؤنٹنگ کر کر کے حیران اور دکھی ہوتے رہے تھے۔ نوازشریف یوسف رضا گیلانی سے الیکشن ہار چکے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو پشاور سے الیکشن ہار گئی تھیں۔ حاجی غلام احمد بلور خود کہتے ہیں کہ انہوں نے بے نظیر کے مقابلے پر الیکشن ہارا ہوا سمجھ کر ہی لڑا تھا۔

الیکشن جیتنے کے لیے سیاسی مخالف کی جان نہیں درکار ہوتی۔ نہ اسے جیل بھجوانا ضروری ہوتا۔ ایسے سارے کام تو مخالف کو مظلوم بناتے ہیں۔ ووٹر کا غصہ طوفان کی طرح سب بہا لے جاتا ہے۔ اگر نہیں سمجھ آتی تو آج بھی ”زندہ ہے بھٹو زندہ ہے“ کے نعروں پر جیالوں کی دھمالیں دیکھ لیں۔

بتانا تو یہ تھا کہ نوازشریف کو الیکشن ہرانا بڑا آسان تھا، آسان ہے۔ پر تحریر اختتام کو پہنچ چکی۔ اس پر بات بعد میں ہوتی ہے۔ ابھی صرف اتنا ہی اے میرے پیارے کپتان ہم تمھیں جیت کر آتا دیکھنا چاہتے تھے پر تمھیں کسی نے بتایا ہی نہیں کہ سیاست فاسٹ باؤلنگ نہیں ہوتی۔ یہ بتایا ہوتا تو پھر وقت آنے پر یوں تمھارے باؤنسر نہ مک جاتے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 401 posts and counting.See all posts by wisi