ایک حسینہ اور ایک کمینہ

ہچکی لگی ہوئی تھی، دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔ اک بولا کوئی یاد کرتا ہونا۔ مراد اس کی یہی تھی کہ خدانخواستہ کوئی حسین نہ ہو کوئی تازہ خان ہی ہو۔ بات پرانی ہے۔ اپنا سیل فون دیکھا تو میسج آیا ہوا تھا "کمینے"، پڑھا ان کو بھی دلاسا دیا کہ وہ منحوس ٹھیک سمجھے…

Read more

بس کریں، قاتل پکڑیں پی ٹی ایم کو اور لاش نہ دیں

عارف وزیر، علی وزیر کا چچا زاد بھائی تھا۔ علی سے زیادہ کھل کے بولتا تھا، جو منہ آتا کہہ دیتا تھا۔ افغانستان گیا تو وہاں کابل میں میں بہت کچھ کہتا رہا۔ ایک تقریب میں اس نے کہا کہ اگر کوئی مجھے پاکستانی بولے تو اس کے پشتون اور افغان ہونے میں شک ہے۔…

Read more

بھینس کا یار ڈنڈا نہیں سنڈا

صدیوں پرانا ویتنام تھا۔ جہاں بھینسوں کے ریوڑ تھے۔ قدرتی چاول اگتا تھا۔ سیلاب آتے تھے یا قحط پڑتے تھے۔ محل میں سناٹا تھا۔ ریاستی اداروں کے سارے بڑے سانس روک کر بیٹھے تھے۔ یہ سب ایک ہال میں جمع تھے۔ سب کی نظریں گرو پر تھیں کہ وہ کب حرکت کرتا ہے۔ گرو نے…

Read more

معیشت کے لیے کپتان سر جی کی دوڑیں ، حفیظ شیخ اور گورنر سٹیٹ بنک کے پھڈے

پاکستان پہلا ترقی پذیر ملک ہے جو جی ٹوینٹی سے قرض ریلیف کے لیے درخواست دینے جا رہا۔ بدھ کے دن یہ پاکستانی وزارت خزانہ نے کہا ہے۔ درخواست دینے جا رہا ہے سے یہ تو واضح ہو گیا کہ جوانوں نے درخواست دی نہیں تھی۔ ٹرمپ کو کپتان نے کل ہی مس کال بھی…

Read more

بکرا اور حکومتی امداد کی مینگنیاں

الائی میں تھے۔ زلزلے کے بہت مہینوں بعد متاثرین کی حالت کا جائزہ لینے گئے تھے۔ ریکارڈنگ کے لئے اپنا سامان کندھوں پر اٹھائے جا رہے تھے تو سامنے سے وہ دونوں بھائی آ رہے تھے۔ دو ٹانگوں والا بڑا بھائی ہمیں دیکھ کر پھدک کر سائیڈ پر ہوا تو اس کے چار ٹانگوں والے…

Read more

مہر جان کے پاس اونٹ ہو گا؟

دل بہت اداس ہے، شاید اس لیے کہ اسے گھر بٹھا رکھا ہے، یہ باغی ہو چلا ہے۔ اپنا خیال یہ تھا یہ ہے کہ تنہا صدیوں تک رہ سکتا ہوں۔ کوئی نہ ہو تو میلہ دل کے اندر لگا لیتا ہوں۔

اپنی فلمیں بنا کر خود دیکھتا ہوں۔ خود ولن خود ہیرو ہوتا، مرضی سے خیالوں میں لڑکیاں بناتا ہوں، وہ پھر جہاں جب دل چاہے ساتھ یا اردگرد ناچتی پھرتی ہیں۔ کہانی کا کوئی کردار جب دل ہو بدل لیتا ہوں۔ جسے جب جدھر چاہوں مار دیتا ہوں۔ خود ہی دکھی سین بناتا ہوں۔ اپنے بنائے یہ سین ہوتے جن پر ہنستا ہوں۔

Read more

کپتان کے استعفے کی افواہ کیوں پھیلی؟

جب بھارت کو بہت جوش آیا تھا کہ وہ بھوک ننگ اور لچ لفنگ میں اس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ اسے سیکیورٹی کونسل کا مستقل ممبر بننا چاہیے تب جرمنی جاپان کے ساتھ مل کر اس نے مہم شروع کر دی تھی، یہ مہم کامیاب ہی ہو جاتی، پر ہوا یہ کہ پاکستان کے بڈھے بڈھے ٹلے ٹلے سفارتکار سرگرم ہوئے انہوں نے اٹلی کے ساتھ مل کر اہم سفیروں کا کافی کلب بنا لیا۔ ایک کامیاب سفارتی مہم شروع کی اور دنیا کے اس تگڑے زیرو میٹر اتحاد کو اک شاندار سفارتی شکست دی۔

اس دن کے بعد سے پاکستان اور اٹلی میں بہنوں والا سچا سفارتی پیار ہے۔ اب جب کسی کانفرنس میں عالمی راہنما اکٹھے ہوں پاکستان اور اٹلی کے بڑے بھی وہاں ہوں تو ان کی لازمی ملاقات ہوتی ہے۔

کپتان نے کشمیر پر جب شاندار تقریر چھوڑی تھی یو این میں شاید وہ پہلا موقع تھا جب اٹلی کے وزیراعظم سے ہمارے وزیراعظم کی رسمی علیک سلیک بھی نہ ہوئی، تب ہمارے نوجوان لیڈر نے کیا شرلی چھوڑ رکھی تھی اب یاد نہیں۔

Read more

پنڈ سوات وزیرستان تک پیار خیال کی چھاؤں کا جاری سفر

کالا بہت ہے ، پر کیا کریں اپنا ہے ۔ ملک صاحب نے طور پین کے ساتھ کاغذ پر بہت اہتمام کے ساتھ دستخط کر دیے۔ قبائل کی وزارت سے بندہ بھجوا کر مہر بھی لگوا دی ۔ اس سے پہلے پردہ دار سے کیمرے میں گھسا کر فوٹو بھی بنوا دی تھی ۔ یوں…

Read more

پی پی اور مراد علی شاہ دونوں زندہ باد ہیں

اخے غریب مر جان گے ۔ یہ فرمانا ہے کپتان کا ۔ اسی وجہ سے وہ لاک ڈاؤن کا حکم نہیں دے رہا ، یہ وقت تھا کہ سر جی سوٹی ہاتھ میں پکڑتے اور جاتے وزیراعظم ہاؤس پر وہ لگتا جمہوریت پر پورا ایمان لا کر کہیں آرام کر رہے ہیں   کپتان دو…

Read more

کڑک سردیوں کی گرم یادیں

اس بار سردی نہیں آئی۔ دسمبر بھی ایسے خاموش گذر رہا جیسے بھینس بین سن رہی ہو۔ بچوں کو اب بھی سکول چھوڑنے جانا ہوتا ہے، ذرا بھی خنکی محسوس نہیں ہوتی۔ کچھا بنیان پہن کر ہی کئی کلومیٹر دور بچوں کو سکول چھوڑ آتا ہوں۔ دسمبر کو ذرا شرم نہیں آ رہی کہ ایک معزز انسان کچھا بنیان پہن کر سردار بنا پھر رہا۔ ذرا سردی ہوتی تو ہماری مجال تھی کہ ایسی بدمعاشی کرتے۔

جب خود سکول جاتے تھے تو اکثر لیٹ پہنچا کرتے تھے۔ بھائی صاحب کو اپنی جراب نہیں ملتی تھی کبھی ان کا بستہ غائب ہوتا۔ ہم سکول پہنچتے سر میسی مولا بخش پکڑ کر تیار کھڑے ہوتے۔ دو دو سوٹیاں ہاتھ پر کھا کے ہاتھ گرم ہو جاتے۔ اگر سر کا موڈ ہوتا یا ہم زیادہ لیٹ ہوتے تو دو دو سوٹیاں تشریف کو بھی سن کر دیتی تھیں۔ کرسی پر بیٹھے ہوتے پر ذرا محسوس نہ ہوتا کہ بیٹھے ہیں کوئی تشریف رکھتے ہیں۔

Read more