پلوامہ سے نہیں اگلامہ سے ڈریں

لیڈر وہ ہوتا ہے جو پرچی پڑھے بغیر تقریر کر گزرے۔ دیکھنے والے بھلے گزر جائیں بے تکی باتاں سنتے۔ کپتان نے پلوامہ حملے پر خطاب کر ہی دیا۔ کچی پکی راہوں سے اچھلتے پھدکتے گزر کر تڑی لگا دی کہ دیکھو جنگ انسان ہی شروع کرتے ہیں ختم پھر اللہ دی مرضی سے ہی ہوتی۔ نہیں یقین تو ٹرمپ سے پوچھ لو۔
کوئی ثبوت ہے تو لاؤ ہم کارروائی کریں گے کہ یہ نیا پاکستان ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے اگر کوئی ردعمل دینا تھا تو اس کا وقت گزر چکا۔ اب جنگ کے بعد والے گھونسے ہیں جتنے مرضی اپنے مارے جا سکتے۔ مودی اک جارحانہ پاکستان مخالف شدت پسند ہندو لیڈر کے طور پر سامنے آئے تھے۔ جو بھارت مہان کے ہر دشمن کو دھول چٹانے کے لیے مسل دکھانے کے قائل تھے۔

Read more

رانا بوتل، اس کے چھلے اور جھلے

رانا اپنا کالج فیلو ہے۔ ہمارا پہلا دن تھا کالج میں۔ جگہ جگہ فولنگ ہوئی۔ کپڑوں پر مہریں لگائی گئیں ڈسکو چرگ (مرگ) کی۔ جدھر سے گزرتے استقبال میں بانگ سنائی دیتی کہ چرگان دی (مرغے ہیں یا ککڑ ای اوئے ) ۔ جتنی بری ہو سکتی تھی اس سے بری ہو رہی تھی پر کتھے۔ کسر باقی تھی۔

ٹھیک سے یاد نہیں کہ میاں افتخار تھے اعظم آفریدی تھے اپنے شیراز پراچا تھے یا امیر صاحب بقلم خود؛ یعنی سراج الحق ہی تھے۔ کالج تشریف لائے تھے خطاب واسطے اور مغرے ہی پولیس آ گئی؛ پھر جو ہم نے پشاور شہر دیکھا گلیوں میں دوڑتے پھرے۔ پیچھے پولیس آگے ہم اور لیڈر پتا نہیں کدھر کو نکل گئے۔

Read more

وسی بابا اور شنواریوں محسودوں کا جنتی دنبہ

کہتے ہیں قربانی والے دنبے پر بہہ کر ہی بندہ جنت میں کسی نہ کسی سائڈ سے داخل ہو گا۔ ہم لوگ دنبہ پکا کر کھا جاتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ یہ ہمیں کہیں پھینکے بغیر کسی نہ کسی گیٹ سے اچھلتا کودتا اندر لے جاوے گا۔

ہم اور ہماری امیدیں۔ ہم تو چلو اتنے ہی سادہ ہیں۔ دنبہ چلاک ہوشیار ہوا تو پھر؟

بچپن لڑکپن ہو یا دور لوفری آوارگی یہ شنواریوں آفریدیوں کے ساتھ گزرا۔ شنواری زیادہ تھے، بلکہ تین چوتھائی شنواری ہی تھے۔ آفریدی ذرا کم تھے اردگرد لیکن برابر ہی لگتے تھے۔ ہر شنواری فیملی میں اک آدھ بھائی دنبہ ماسٹر لازمی ہوتا تھا۔ سب ہی ہوتے تھے لیکن اک کا درجہ دادا استاد کا ہوتا۔

دنبہ خریدنے سے پہنچانے بنانے کھانے تک ساری کارروائی حد سے حد دو گھنٹہ میں مکمل کر لی جاتی۔

Read more

پی ٹی ایم کو گھر بھیجنے تک

پی ٹی ایم کا سامنا کرتے، ریاست ریاستی اداروں اور میڈیا کور کے ہاتھ پیر پھولے ہوئے ہیں۔ ابھی تک ان سب کا واسطہ سیاستدانوں سے رہا، قوم پرستوں سے رہا یا مذہبی جماعتوں نے انہیں آگے لگا کے رکھا، وہ بھی صرف تب جب ان کا کوئی نعرہ ہٹ ہو گیا۔ پہلی بار ریاست…

Read more

اے میرے وطن تجھے ہمارے کتنے ارمانوں کا خون چاہیے؟

بات پی ٹی ایم کی کرنی ہے۔ ارمان لونی کے قتل کی بھی کرنی ہے۔ اس کی اپنے دونوں بچوں کے ساتھ اک فوٹو ہے۔ وہ نہ دیکھیں، ارمان کی بہن اپنی والدہ کے ساتھ ایمبولینس میں بیٹھی ہے۔ اپنے بھائی کو پوسٹ مارٹم کے لیے لے جا رہی ہے۔ ایک فوٹو یہ بھی ہے۔ دیکھیں نہ دیکھیں۔

یہ سب ہماری نظروں سے گزرتا رہتا ہے۔ ہمیں اب فرق نہیں پڑتا، اکثر ایسا کچھ برا دیکھتے ہم عادی ہو چکے ہیں۔

وزیرستان سے ہمارے دو منتخب نمائندے ہیں۔ علی وزیر اور محسن داوڑ۔ ان کی بھی فوٹو اب سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ ژوب سے یہ بلوچستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہیں ارمان کے جنازے پر جانا ہے۔ روک لیا گیا ہے۔ شاید پہنچ جائیں شاید واپس کر دیا جائے۔ یہ دونوں ڈھیٹ بھی بہت ہیں ہو سکتا ہے واپسی سے انکار کر دیں۔ پھر نظربند ہوں گے، رہا کر دیے جائیں گے۔

Read more

قطر میں قطری خط کپتان کے آگے لہراتا رہا

پاکستان اس وقت جی جان سے افغان امن مذاکرات کو ریس دے رہا ہے ۔ اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے جو ممکن ہے وہ کوشش کر رہا ہے۔ یہ کوشش اتنی ضرور ہے کہ اب امریکی بھی اور افغان حکومت بھی اس کی ڈھیلی ڈھالی سی تعریف کرنے پر مجبور ہیں۔ زلمے خلیل…

Read more

میجر عامر کی وسی بابے کو ایک نصیحت

پندرہ سال ہوئے جب ہم نے پشاور کا ایک ویب پورٹل بنایا تھا۔ وہ خود ہی ایک نیوز پورٹل بن گیا۔ حالانکہ ہم لوگوں نے تو اس میں سینکڑوں گانے بھی اپ لوڈ کیے تھے۔ ہمارے ریجن کے لکھنے والے نامی لوگوں کی اکثریت اس پورٹل پر لکھنے لگ گئی تھی۔ پختون لکھاری ہوں یا…

Read more

افغانستان میں طاقت سے امن لانے کی کوشش

یو اے ای میں افغان امن مذاکرات جاری ہیں، افغان حکومت کا وفد مذاکرات کی جگہ سے دور بیٹھا صورتحال کو حیران حیران دیکھ رہا ہے۔ افغان وفد پاکستان سعودی عرب اور یو اے ای سے پوچھتا پھر رہا کہ کیا چل رہا۔ طالبان ترجمان کہہ رہا ہے کہ مذاکرات امریکہ کی افغانستان میں موجودگی سے متعلق ہو رہے ہیں۔

نام ظاہر کیے بغیر طالبان کے لوگ کہہ رہے کہ امریکی چھ مہینے کا سیز فائر کرانے کے لیے الٹا لٹکے ہوئے ہیں۔ پہلی بار کوئٹہ شوری کے اہم ارکان ملا ہیبت اللہ کے چیف آف سٹاف اور قطر آفس کے لوگ ان مذاکرات میں براہ راست حصہ لے رہے ہیں۔

جو نام سامنے آئے ہیں ان میں قطر آفس کے سربراہ مولوی شیر عباس ستانکزئی طالبان کے مذاکراتی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔ دیگر اہم لوگوں میں طالبان کے ڈپٹی وزیر تعلیم سلام حنفی، دین محمد حنیف ان کے پلاننگ منسٹر، خیراللہ خیر خواہ ان کے وزیر داخلہ، طالبان کے آرمی چیف اور نائب وزیر دفاع محمد فاضل کے علاوہ کابل میں طالبان کونسل کے چیف مولوی احمد اللہ شامل ہیں۔ یہ سب طالبان کے اہم لوگ ہیں۔ ان کا وفد بھاری بھرکم ہے۔

Read more

بائیس برسوں کی جدوجہد کا نتیجہ

کپتان کو افسروں نے بہت لمی بتی دکھا کر اس کے پیچھے ٹور رکھا ہے ۔ اخے ستائس ملکوں کے ساتھ اکاؤنٹ واپسی پیسے واپسی انفو شیئرنگ کے معاہدے ہو گئے گھنٹہ ۔ انصار عباسی کا فرمانا ہے کہ ان کی حکومت نے کوئی اک معاہدہ بھی نہیں کیا ۔ اسے کہتے ہیں افسروں کے ہاتھوں الو بننا ۔

کپتان نے فرمایا ہے کہ گیارہ ارب ڈالر پاکستانیوں کے باہر پڑے ملے ہیں ۔ اللہ رحم ہی کرے پاکستانیوں پر یہ بارلے پاکستانیوں کے اکاؤنٹ نہ ہوں جو کھینچا تانی میں کپتان کے ہاتھوں رل جائیں

Read more

رانجھا میرے خواب میں نہیں آتا

مشر نے اچھی طرح سمجھا رکھا تھا ۔ جب بھی کسی فیصلے پر قسم کھانے کی نوبت آ جائے تو خود کھانی چاہئے۔ جب کوئی بات کرتے زیادہ عربی بولے قسم کھائے کلمہ پڑھ کر یقین دلائے تو وہ کوئی بڑا جھوٹ ہی بول رہا ہوگا۔

مشر ٹھیک کہتا تھا حالات ایسے ہی تھے۔ اردگرد مذہبی ہونے کی اداکاری کرتے لوگ تھے۔ وہ ٹیکہ لگانے سے پہلے یہی کچھ کرتے کہتے تھے

Read more