ایک پاکستانی کتاب کی اسرائیل میں تقریب، اسرائیلی صدر کا پیغام، اہم امریکیوں کی شرکت

پیر مدثر شاہ صوفی کونسل کے چیئرمین ہیں۔ انہوں نے ایک کتاب ’وسپر ان دی سٹون‘ لکھی ہے۔ یہ کتاب پنڈی کے اردگرد مختلف مذاہب کے آثار اور مقامات کے بارے میں ہے۔ ہندو، سکھ، عیسائی، بدھ اور یہودی آثار کے حوالے سے اس کتاب میں تصاویر ہیں۔ اس کتاب کی تعارفی تقریب یروشلم سینٹر فار پبلک افیئر میں 27 مارچ کو ہوئی۔ اس تقریب میں گنتی کے دو ڈھائی درجن افراد شریک ہوئے۔ کتاب کے لکھاری سمیت کچھ مہمانوں

Read more

تیرا جو راستہ میرا وہ راستہ، مزہ اور ڈر

مجھ سے کوئی گناہ ہو جائے تو مجھے باتیں سنانا مجھے چھوڑنا مت۔ لگتا ایسا ہے کہ یہ دعا ہے اور خدا کا ترلا کر رہا ہوں۔ اپنا ترلوں منتوں کا کوئی تعلق نہیں بیسٹی سے یاری دوستی ہے۔ اس میں بھی ڈیل یہ ہے کہ میں جا رہا، جب میں پھنس جاؤں بزتی کرنا پر زیادہ بزتی نہ کرانا، چھڑانے بروقت پہنچنا۔ میری فلم ہی نہ دیکھتے رہنا۔ ہے نہ مزے کا تعلق؟ اور وہ بھی ڈر خوف کے

Read more

کپتان افغانستان کے حوالے سے کیوں فکرمند ہیں؟

کپتان نے 16 دسمبر کو لاہور میں صحافیوں سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بھی حسبِ معمول ٹکر چلے اور بریکنگ نیوز بھی۔ اسمبلیاں ٹوٹیں گی یا نہیں، اس پر وی لاگ بھی ہوئے۔ مگر اسی ملاقات میں کپتان نے کچھ ایسے جملے بھی کہے جو آف دی ریکارڈ تو نہیں تھے مگر اس کے باوجود وہ کہیں رپورٹ نہ ہوسکے۔ یعنی محض سیاست کے گرد گھومنے والی صحافت وہ جملے کھا پی گئی۔ کپتان نے کہا کہ آپ پتہ

Read more

النہیان کزنوں کی اسرائیل سے پاکستان تک بچھائی بساط – ولاگ

آکسفورڈ میں محترمہ بے نظیر بھٹو سے جونیئر تھے۔ شیخ نہیان کے بقول ہم انہیں کامیابیاں حاصل کرتے دیکھا کرتے تھے اور ان سے ہمارے تعلقات پرانے ہیں۔ سابق وزیراعظم عمران خان سے بھی ان کا تعلق ہے جو شاید آکسفورڈ سے ہی ہو۔ نواز شریف کا لندن میں جب آپریشن ہوا تو ہماری وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں بتایا کہ شیخ نہیان نے نواز شریف کی صحت تندرستی کے لیے ایک پیغام بھجوایا ہے۔ شیخ

Read more

پنجاب کے وزیراعلیٰ کا انتخاب اور زرداری کی پرویز الٰہی کو آفر

آصف زرداری نے رات چودھری پرویز الہی کو ناقابل مزاحمت قسم کی پے درپے آفریں ماریں۔ چودھری انکاری رہا اور پھر ڈھیلا بھی پڑ گیا۔ آفریں کیا تھیں کہ دیکھ چودھری میں چل کے آیا تھا مولانا بھی آئے تھے۔ ہم نے تمھاری مانی تھی تمھیں وزیر اعلی نامزد کیا تھا۔ شہباز کو تمھارے پاس بھیجا تھا تم آخری موقع پر سلپ ہوئے۔ تمہارے سلپ ہونے کے بعد ہم نے اپنا کام پھر بھی کر لیا اور کیا بھی ایسے

Read more

کوچہ نمک حراماں سے جڑی ایٹمی دشمنی

آج یوم تکبیر ہے کہانی کو ایک دوسرے رخ سے دیکھتے ہیں۔ کسی بہت بے خبر کا بتانا ہے کہ اٹل بہاری واجپائی اپنے جنگ بازوں سے تنگ تھے۔ ان جنگ بازوں کا علاج انہوں نے یہ کیا کہ انہی کے کہنے پر ایٹمی دھماکے کر دئیے۔ یہ ان کی بہت سوچی سمجھی حرکت تھی۔ وہ ایک امن پسند روح رکھنے والے سٹیٹس مین ہیں۔ بھارت نے ایٹمی دھماکے کئے تو بھارتی مہاشوں نے اچھل اچھل کر دھرتی ہلانا شروع

Read more

پھول کی پتی، ہیرے کا جگر اور طالبان کی گھڑی

مائیکل سر پر چھوٹی سی لائیٹ لگائے اپنا خاص لیمپ بھی آن کر کے بیٹھا تھا۔ میں چپ چاپ اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ قیمتی پتھروں کے کرسٹل جانچ رہا تھا۔ یہ کرسٹل پھر نشان لگ کر کٹر کے پاس جانے تھے۔ مائیکل نے یہ بتانا تھا کہ کس کرسٹل کو کس رخ کاٹنا ہے۔ اس کی کیا شکل بنانی ہے۔ میں اس کے مسترد کردہ کرسٹل غور سے دیکھ کر سائیڈ پر رکھا دیتا تھا۔ جب کہ گریڈنگ والے

Read more

مزے ہیں اور ہم ہیں

کورین کمپنی نے اپنے پھٹیچر برانڈ کو مارکیٹ میں لگاتار پٹتا محسوس کیا تو اس کا نام ہی بدل دیا۔ نام بدلا تو علاقائی ڈیلر بھی بدل دیئے۔ ہمارے خان مست کو بہت پیار محبت عقیدت وغیرہ سے آگاہ کیا کہ اب اس کی ڈیلر شپ مزید نہیں چل سکتی اگر وہ چاہے تو اس کے نام سے کمپنی ساری رینج اسے رعایتی قیمت پر دینے کو تیار ہے۔ خان مست نے اپنی پوری عقل استعمال کی بلکہ سر پر

Read more

میں ہر دور میں یزید کے ساتھ ہی تھا

بھائی آپ تو بہت خوش ہوں گے کپتان جا رہا ہے؟ یہ سن کر جی خوش ہو گیا۔ آپ غلط سمجھے خوشی کی وجہ کچھ اور تھی۔ اس سوال کے ساتھ ہی تین دوستوں کی ایک فوٹو ذہن میں آئی تھی۔ یہ وزیر اعظم ہاؤس میں کپتان کی وہی تقریر سن کر نکلے تھے۔ جو وہ دن میں درجنوں بار کرتا ہے۔ لٹکے منہ کھڑے ان دوستوں کو کپتان نے چائے شربت کا نہیں پوچھا تھا۔ ہنسی اس بات پر

Read more

فرض شناس تھانیدار کا ایک بدنام معرکہ

تھانیدار وطن عزیز کا اک عظیم فرزند ہے۔ ایسے ایسے کارنامے اس سے انجام پانے سے رہ گئے کہ تاریخ میں ہر گز اس کا کوئی ذکر نہیں آئے گا۔ دو چار دھماکوں میں بال بال بچنے کے بعد اسے سپیشل سیل کا انچارج بنا دیا گیا۔ اس کے اپنے بقول وہ تو ڈیٹ مارنے گیا ہوا تھا کہ قریب ہی دھماکہ ہو گیا۔ سرکار کو غلط فہمی ہوئی کہ اس نے دلیری کا مظاہرہ کیا اور جائے واردات پر

Read more

ہماری اوقات بتاتے جنسی لطیفے

نام تو اس کا کچھ اور تھا لیکن اب بابا رحمت ہی لکھوں گا۔ بابا رحمت بھی قانون کی طرح اندھا ہی تھا تقریبا۔ اس سے حال احوال کرنے گیا تو اپنے ڈیرے پر بیٹھا تھا۔ بابے نے شور مچایا کہ پروہنا آیا ہے کوئی لسی پانی لائے۔ پروہنا نہایت انہماک سے ایک بے ہدایت ککڑ کو دیکھ رہا تھا۔ جو پتہ نہیں کیا سوچ کر اک مرغی کو نیچے بٹھا کر اس سے اپنی ضروری گل بات کر رہا

Read more

مٹی پیر پکڑتی ہے

زہ چہ خہ ڈیرہ روٹے ووخرم نو بیا تا سرہ بہ گورم ، ” میں جب بہت ساری روٹی کھا لوں گا ، تب تم سے سمجھوں گا یا یوں کہہ لیں تب تمھیں پھینٹوں گا ” ۔ یہ ہمارا ہم جماعت تھا ، اپنے ساتھیوں بھائیوں کزنوں کو دھمکیاں دیا کرتا تھا جب ان سے پٹ جاتا  تھا ۔ چھوٹا تھا اس کا خیال تھا کہ وہ ان سے اس لیے پٹ جاتا ہے کہ کھاتا کم ہے ۔

Read more

یہ جو تیرے دل میں اک گھر ہے میرا

دل اپنا بھی تنگ ہوا کرتا تھا ۔ نیت خراب اور سوچ کمینی ہی تھی ۔سمجھ پوری سی تھی اور اب بھی ویسی ہی ہے ۔ لوگوں کو خانوں میں تقسیم کر کے دیکھنا ۔ مذہب فرقہ رنگ نسل یہ سب تب میٹر کرتے تھے ۔ شائد اس لیے بھی کہ یہ سب سننا سہنا بھی پڑا ۔ اپنی تب نہ اوقات تھی نہ عمر ۔ کھیلنے کے لیے جاتا کٹ کھا کر آ جاتا ۔ پوری بات تو بتانا

Read more

لڑکیوں کو بھی لڑکے اچھے لگتے ہیں

دیکھو پتھر کا بھی ایک دل ہوتا ہے۔ اس دل تک روشنی پہنچانے کے لیے جوہری اس کی کٹائی کرتا ہے۔ یہی روشنی پتھر کو چمک دیتی ہے اسے ہیرا زمرد نیلم بناتی ہے۔ اس کی ایک قیمت لگتی ہے۔ یہ چمک سب کو دکھائی دیتی ہے یہی چمک سب شوقینوں کو مجبور کرتی ہے کہ اس ہیرے کی بڑھ چڑھ کر قیمت لگائیں۔ بہت ہی کم کوئی جوہری بھی یہ جانتا ہے کہ اندھیرے کا کیا استعمال ہے۔ چمک

Read more

پاکستان مخالف حمد اللہ محب سے نوازشریف کی ملاقات

ڈاکٹر حمد اللہ محب، افغانستان کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر ہیں۔ انہوں نے افغانستان کے پیس منسٹر سید سعادت نادری کے ہمراہ لندن میں نواز شریف کے ساتھ ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ”باہمی دلچسپی کے امور پر بات ہوئی۔ مستحکم جمہوری افغانستان کی خطے کے لیے اہمیت پر بات ہوئی۔ دونوں اطراف اس پر متفق رہیں کہ باہمی احترام، اک دوسرے کے معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی رکھنی چاہیے“ ۔

Read more

یہ جو ہم چپ رہتے ہیں

ماں سے جو سنی ہیں، اس کے پاس جو سنانے کو کہانیاں تھیں۔ وہ دیہی سندھ کی ہیں۔ نانا کب لائلپور سے اٹھ کر رانی پور سندھ گئے۔ اس کی تاریخ سال کبھی پوچھا نہیں۔ پاکستان بننے سے پہلے یا بعد کا ہی کوئی وقت رہا ہو گا۔ کب سندھ سے اٹھ کر ساہیوال آ گئے یہ پتہ ہے۔ جب سندھ میں زبان کے مسئلے پر احتجاج ہوا۔ اس کے بعد سال دو لگے انہیں زمین بیچنے اور نئی جگہ ڈھونڈنے میں۔

دو مربعے یا شاید زیادہ بے آباد زمین تھی۔ ٹیلے تھے جنہیں ہموار کر کے قابل کاشت کرنا تھا۔ ماموں اور امی چھوٹے تھے۔ چھوٹی سی گوٹھ تھی، سب ہی رشتہ دار تھے۔ اردگرد ساری زمینیں اپنے ہی لوگوں کی تھیں۔ گوٹھ سے کھیتوں تک کام کرتے بڑوں تک کھانا پہنچانا لڑکیوں کی ہی ذمہ داری ہوتی تھی۔

Read more

ایک تھا پیر اور ایک تھا مُلا

لوگو ٹھہرو میری بات سنو۔ آج پیروں کے ہاں دستاربندی ہے نئے پیر کی۔ وہاں مت جانا۔ یہ کفر نہ کرنا۔ خدا سے رابطے کے لیے کسی واسطے کسی انسان کی ضرورت نہیں۔ ہاتھ اٹھاؤ جو چاہو مانگو اگر وہ مانگ تمھارے لیے اچھی ہو گی پوری ہو جائے گی۔
لوگوں نے بات سنی۔ ان کے دل گھبرائے۔ شک نے ڈیرے ڈالے۔ کوئی گھر گیا۔ کوئی سوچنے لگا۔ کوئی دستار بندی دیکھنے چل پڑا۔

پیر نے ماں کے پیروں کو ہاتھ لگائے۔ اپنے بڑوں کو یاد کیا۔ کوشش کے باوجود اسے بڑوں کی اچھائی سے زیادہ ان کے برے کام یاد آئے۔ ڈولتے قدم اٹھاتے پیر دہلیز کی جانب چلا تو بہن نے اٹھا کر دستار اس کے سر پر رکھ دی۔
ملا نے لوگوں کو جاتے دیکھا۔ دل میں کہا کہ اس زمین پر عذاب آئے گا۔ خدا کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں لوگ بندوں کو۔

Read more

ہیر ہائیکورٹ آ گئی ہے ….

ملکہ ہانس کی مسجد تھی جس کے ایک زیر زمین سے حجرے میں آنکھیں بند کئے لیٹا گیان دھیان کر رہا تھا۔ اس مسجد میں اس حجرے میں بیٹھ کر وارث شاہ نے ہیر لکھی تھی۔ ہماری آمد یہاں یوں ہوئی تھی کہ ہمارے گورے صاحب نے چابی بھر کے مجھے درباروں کی جانب ٹور رکھا تھا۔ مشر نے بولا کہ اب اٹھ جا آگے بھی کہیں جانا ہے کہ نہیں۔ لیٹا یہ سوچ رہا تھا کہ ہیر اس خطے

Read more

فون کال والا بیان کس کا ہے اور کس کے لیے ہے؟

ایران کچھ ممالک کی طرح نہیں ہے جو ایک فون کال پر اپنی پوزیشن تبدیل کرتے ہیں۔ چینی وزیر خارجہ سے یہ بیان رائٹر نے رپورٹ کیا حوالہ ایرانی سٹیٹ میڈیا کا دیا۔ ایرانی پریس ٹی وی اور مڈل ایسٹ آئی نے بھی ایسے ہی رپورٹ کیا۔

نہ تو یہ جملہ کسی چینی نیوز سائٹ پر موجود ہے۔ نہ ایرانی دفتر خارجہ کی سائٹ پر ایسا کچھ ہے۔ انڈین میڈیا نے اس خبر کو لفٹ نہیں کرائی۔ سعودی میڈیا نے بھی کوئی خاص ذکر نہیں کیا۔ اسرائیلی میڈیا اسے ایران کے لیے مشکل حالات میں بیل آؤٹ بتا رہا ہے۔ امریکی میڈیا نے ضرور اس کو جگہ دی ہے۔ الشرق الاوسط نے بھی اسے ہائی لائٹ کیا ہے۔

Read more

بیٹی کی پسند کی خریداری اور باپ کی تنگ جیب

اک خریداری دل میں زلزلے لے آئی تھی۔ اک والد تھا جو اپنی بیٹی کے لیے عام سی خریداری کرنے نکلا تھا جوڑا جوتا اور پرس کہ شاید سکول کی کوئی پارٹی تھی۔ والد کو میچنگ کی ضرورت سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ لڑکی فون پر بتا نہیں پا رہی تھی۔

ابا میں نہیں جاؤں گی۔ ضروری نہیں ہے۔ جبکہ ابا بھیجنا تو چاہتا تھا ساتھ یہ کہتا تھا کہ میچنگ مہنگی ہے مل نہیں رہی، وہ سمجھ بھی نہیں پا رہا تھا۔

اک حسرت ہے کہ وہ دکاندار میں ہوتا اور وہ اسی ابا کے ساتھ خریداری کو آتی تو اسے پتہ لگتا کہ باہر جو لوگ ملتے وہ بھی اپنے ہوتے۔ دوسرے کے دل کی سن لیتے ہیں۔

Read more

اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے ….

عاشق بیٹھا قصہ سنا رہا تھا کہ اب کچھ کیا جائے ورنہ وہ مرنے لگا ہے۔ اسے ہمارے مشر نے جواب دیا کہ تمھارا مر جانا بہتر ہے کہ کم از کم تم اکیلے مرو گے ورنہ تمھارے لئے کچھ کیا تو ہم سب نہ بھی مرے تو ہماری پشت ضرورلال ہو جائے گی۔ عاشق ہمارا ہم جماعت ہے کم بخت کو عشق ہو گیا تھا۔ آگ دونوں طرف ہی لگی ہوئی تھی اگلی پارٹی بھی تیار تھی۔ مسئلہ بس

Read more

انسان ہیں تو درد بھی تو ایک سا ہے

غلط موقع پر غلط بات کرنے کی قومی عادت کا مظاہرہ کیا اور اپنی جان پھنسا لی۔ بس اتنا ہی کہا کہ شعیب اختر بریٹ لی سے زیادہ تیز گیند پھینکتا ہے۔ اس سے زیادہ اچھا بالر ہے۔ ایرک نے کہا تم ہمارے گروپ میں رہو گے۔ ایرک کو کہا لیکن حسن والیاں تو ساری کہیں اور جا رہی ہیں۔ میں تمھارے گروپ میں کیا کروں گا۔ ایرک بولا انہیں جانے دو جہاں جا رہی ہیں۔ تم پشاور کے ہو

Read more

افغانوں کے خلاف جنگی جرائم: منظور پشتین اب کہاں ہے؟

آسٹریلین فوج جنگی جرائم میں ملوث ہے۔ افغانستان میں درجنوں بے گناہوں کو آسٹریلیا کے فوجیوں نے ہلاک کیا۔ یہ قیدی بھی تھے، کسان بھی تھے اور عام شہری بھی تھے۔ جب ان لوگوں کو مارا گیا تو کوئی آپریشن نہیں ہو رہا تھا۔ مرنے والوں میں سے کوئی بھی اپنی ہلاکت کے وقت جنگی سرگرمیوں میں ملوث نہیں تھا۔ یہ سب بے گناہ تھے اور مظلوم بھی۔ جنگی جرائم کے یہ واقعات تب پیش آئے جب دو ہزار پانچ سے دو ہزار سولہ تک آسٹریلیا کی فوج افغانستان میں تعینات رہی۔

اپنی اس تعیناتی کے دوران تئیس واقعات میں انتالیس افغان شہریوں کو بے گناہ مارے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ تصدیق آسٹریلیا کی اپنی جاری کردہ بریرٹن وار کرائم رپورٹ کر رہی ہے۔

Read more

کوئی ہے جو یہ لڑائی ہونے سے روک لے

اپوزیشن کی تحریک ناکام ہو گئی تو کیا ہو گا۔ فرض کریں سینیٹ الیکشن ہو چکے۔ اپوزیشن روڈ پر نڈھال پڑی ہے۔ کٹ کھا کھا کر اپنی تحریک سجا چکی ہے۔ پی ٹی آئی سینیٹ الیکشن جیت چکی ہے۔ اسے سینیٹ میں دو تہائی کے قریب اکثریت حاصل ہے۔ اب حکومت پہلا کام کیا کرے گی؟ پارلیمنٹ میں بل لائے گی۔

احتساب کے لیے قوانین تبدیل کرے گی۔ کرپٹوں کو نشان عبرت بنانے کے لیے نئی قانون سازی کرے گی۔ جن سیاستدانوں کو سزا ہو چکی ہے۔ ان سب کے بولنے پر پابندی لگے گی۔ ان کا نام لینا جرم قرار پائے گا۔ ان کی سیاسی جماعتیں بھی پابندیوں کا سامنا کریں گی۔

Read more

پنڈی یا لندن: گیم کس کے ساتھ ہو گی

ماتھے پر پسینہ، کانپتی ٹانگیں، ابھی نندن کو چھوڑ دو، انڈیا حملہ کر دے گا۔ ایاز صادق کے قومی اسمبلی میں دیے بیان نے زلزلہ برپا کر دیا۔ اے کی ہو گیا۔ لٹے گئے۔ قسم کا ماحول پیدا ہو گیا۔ اس ماحول میں خواجہ آصف کی اسی ٹاپک پر کی گئی اسمبلی میں تقریر اوجھل ہو گئی۔

خواجہ آصف نے اسی ٹاپک پر بولتے ہوئے کہا کہ ابھی نندن کو چھوڑنے کے لیے میٹنگ بلائی گئی۔ ایک گھنٹہ ہم انتظار کرتے رہے وزیر اعظم کا۔ وہ نہیں آئے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ اس اجلاس میں شریک تھے۔ شاہ محمود قریشی بھی تھے۔ ہمیں بتایا گیا کہ ابھی نندن کو چھوڑ دیا جائے تو ہمارا بھارت مہان خوش ہو گا۔ ( خواجہ صاحب نے یہ نہیں بتایا یا شاید انہیں نہیں بتایا گیا کہ خوش ہو گا تو کیا کرے گا ) ۔

Read more

استعفیٰ تو آنا نہیں تو پھر ٹکر ہی دیکھیں

ہمارا اک مسئلہ یہ ہے کہ ہم پرافٹ کو بازار سے اٹھا کر سرکار کے پاس لے آئے ہیں۔ اب کماتا وہ ہے جسے فیور ملتا ہے۔ یہ فیور سستی زمین لے کر ڈی ایچ اے یا بحریہ کے نام پر مہنگی بیچ کر کمائیں، یہ مختلف انڈسٹری کو سبسڈی ہو، مہنگی بجلی خرید کر سستی بیچنا ہو۔ پھر لائن لاسز میں زیادہ ادائیگی کرنی ہو۔ یہ سب کام فیور سے ہوتے ہیں اور حکومت وقت ہی کرتی کراتی ہے۔

جب یہ فائدے سرکار نے ہی دینے ہیں تو جس نے کمانا ہے وہ شارٹ کٹ مارے گا سرکار کا حصہ بنے گا۔ اس لیے بھی بنے گا کہ پرافٹ ٹیکس چوری میں ہی رہ گیا ہے۔ چوری کرے گا تو گردن بچنے کو سرکار کی چھتری کے نیچے بیٹھنا ہو گا۔

Read more

شلوار میں پستول ڈھونڈنے کا شوق مروا دے گا

کراچی جلسہ میں نواز شریف نے خطاب نہیں کیا ۔ اعتزاز احسن نے کسی بریگیڈیر صاحب کی کال کان لگا کر سنی ہے۔ اس کال کی وجہ سے نواز شریف گھبرا گئے۔ اس کے بعد انہیں ہمت نہیں ہوئی کہ وہ کراچی میں جلسے سے خطاب کریں۔ آصف زرداری بیمار نہیں ہیں۔ وہ نیب سے چھپ کر اسپتال بیٹھے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہاں وہ مذاکرات وغیرہ کر سکیں گے۔ سہولت سے اس لیے ادھر پہنچے ہیں۔ شہباز

Read more

نواز شریف نے باجوہ صاحب کے ساتھ اچھا نہیں کیا

مولانا حکومت سے اس لیے باہر ہیں کہ ان کو اس بار کشمیر کمیٹی کی چیئر مین شپ نہیں ملی۔ منسٹر کالونی میں بنگلہ نہیں ملا۔ وہ الیکشن ہار گئے، انہیں جتوا دیتے تو وہ اس حکومت کی حمایت کر رہے ہوتے۔ آپ نے کہی ہم نے مانی۔ بس رولا اک ہے۔ مولانا کی داڑھی سفید ہو چکی۔

جہاں مولانا کے مکتب فکر کا اثر ہے۔ وہاں نوجوانوں کو پہلی صف میں کھڑے ہونے سے اکثر یہ کہہ کر روک دیا جاتا ہے۔ وہ پیچھے ایک سفید ریش ( سفید داڑھی والا آ رہا ہے ) اس کو آگے کھڑا ہونے دو۔ اس کی توجیح ہم نے اکثر یہ سنی کہ نماز خدا کے ساتھ جرگہ ہے، اپنی درخواستوں التجاؤں کا۔ خدا سفید داڑھی والوں کا لحاظ کرتا ہے۔

Read more

اپوزیشن اتحاد کا ٹارگٹ کون؟ کپتان یا سر جی ؟

آصف زرداری نے اوپننگ ریمارکس دیے، گراؤنڈ بنا کر مائک نواز شریف کے حوالے کر دیا۔ نواز شریف نے ایک تاریخی تقریر کھڑکا دی۔ اس تقریر میں وہ لڑکھڑائے بغیر، غصہ کیے بغیر، سیدھی بات کرتے رہے۔ جس کو ہٹ کرنا تھا اسے ہٹ کرتے رہے۔ ان کی یہ ہٹنگ کافی ہارڈ رہی۔

تقریر جس نے دیکھنی ہے دیکھ لے گا۔ اپنے لیے اس کی ٹائمنگ ہی اہم ہے۔ نواز شریف کو دو لفظوں میں ڈیفائن کرنا ہو تو وہ ٹائمنگ اور پریشر کے استاد ہیں۔ اپنی مرضی کا وقت منتخب کرتے ہیں پھر پریشر بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔ ایسا تب تک کرتے ہیں جب تک اگلے کے گوڈے لگوا نہیں دیتے۔ سیاستدان ہیں تو بے مقصد ہر وقت نہیں بولتے۔ آصف زرداری تو اپنے خلاف پھیلی تنقید افواہوں اندازوں کا جواب تک دینے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔

Read more

اے پی سی سے نواز شریف کے خطاب کا پس منظر

مولانا فضل الرحمن دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت کو بتا چکے ہیں کہ وہ اب اے پی سی میں دلچسپی نہیں رکھتے، جب تک ان کے دو میں سے ایک مطالبات پر عمل نہ ہو۔ یا تو میاں نواز شریف خود اے پی سی میں لائیو شرکت کریں، یا پھر اپوزیشن اسمبلیوں سے استعفی دینے کا اعلان کرے۔ نواز شریف نے اے پی سی میں شرکت کا فیصلہ کر لیا۔ مولانا اب استعفوں پر اصرار نہیں کریں گے۔
نواز شریف کی شرکت کی وجہ سے آصف علی زرداری بھی شریک ہوں گے۔ گل ودھ گئی اے مختاریا۔

کہتے ہیں کہ جب تیسری بار سول بلکہ تاجروں سرمایہ داروں سے بات کرتے ہوئے یہ کہا گیا کہ کپتان رہے گا۔ کوئی کہیں نہیں جا رہا تب نواز شریف نے فون اٹھا لیا ان سب سے بات کرنی شروع کر دی جن سے وہ تب مشورہ کرتے ہیں، جب کوئی نیا چن چڑھانے لگتے ہیں۔ اس سے پہلے یہ جان لیں کہ نواز شریف کے کہنے پر ایک اہم مسلم لیگی لیڈر اک اہم سینیٹر سے معذرت کر چکے ہیں۔

Read more

دھرتی پر دھرے خوابوں کے ٹوٹے کانچ

”پہ کټ کی مات بنګړی د چا پراتہ دی“۔ کھاٹ پر پڑا ٹوٹا کانچ کس کا ہے۔ پشتو شعر کا یہ مصرعہ دل لے گیا تھا۔ دل پہلے ہی بے تاب تھا۔ دیوانہ سا ہو گیا تھا۔ شاعر غریب کیا کہہ رہا تھا۔ کون سن رہا تھا۔ آنکھوں میں خواب اتر آئے تھے۔ جوانی کی خواب رنگین ہوتے ہیں۔ تب دل اور طرح دھڑکتا ہے۔

کڑکتی دھوپ دوست سی ہوئی لگا کرتی تھی۔ ہم پیدل پھرا کرتے تھے۔ راستے پیروں کی دھول ہوتے تھے۔ میلوں چل کر دیکھتے تو کہاں چل کے کدھر پہنچے ہوتے۔ اکثر خیبر ایجنسی، جس کے پتھر، کیکر اور قہوہ ہاتھ پکڑ کر پاس بٹھا لیتے تھے۔ ”لیونو گرمی سہ نہ وئی“، جھلیو تمھیں گرمی کچھ نہیں کہتی۔ رنگ دیکھو کالے ہو گئے۔

Read more

ہمارے تایا، عاصم باجوہ اور دندان شکن جواب

پہلے اک نہایت غیر متعلق قصہ سنیں۔ اپنے پنڈ بستی کا واقعہ ہے۔ سارے پنڈ کے اک تایا جی ہیں، جو ہمارے بھی تایا ہیں۔ چار بندے، دو پنڈ لڑانے ہوں، چلتے کام روکنا ہوں، یا ہوتے کام بگاڑنا۔ ان سب میدانوں میں ان کی مہارت ڈنکے بجاتی شرماتی رہتی ہے۔ شرمانا ان کی ہر کہانی میں کسی نہ کسی کو پڑتا ہی ہے۔   المختصر اک عاشق کو مشاورت فراہم کر رہے تھے۔ اس کو کاکی گھیر قسم کی

Read more

کیا سعودی پاکستان میں جمہوریت کے خلاف ہیں؟

ٹی ٹی پی کے سارے دھڑے اکٹھے ہو گئے۔ وہ شدت پسند بھی جو اس تنظیم سے الگ رہے وہ بھی اب اس میں شامل ہوئے ہیں۔ یہ اتحاد ویسا سا ہی ہے۔ جیسا احمد شاہ مسعود اور گلبدین حکمتیار کے درمیان ہوا تھا۔ پہلے آپس میں لڑ رہے تھے۔ جیسے ہی طالبان نے زور پکڑا تو اتحاد کر کے ان کے خلاف اکٹھے ہو گئے۔ کر پھر بھی کچھ نہ سکے۔

زمینی حقائق بدل چکے۔ لوگوں کی سوچ بدل گئی۔ انہوں نے تکلیف برداشت کر لی بے گھر ہوئے۔ اب بظاہر ٹی ٹی پی کی واپسی ممکن نہیں ہے۔ فوج نے ان کا صفایا کر دیا۔

Read more

سیاست معیشت کی منحوس باتیں اور مریم کی سعودی حمایت

بے وثوق کا کہنا ہے کہ فائنانس منسٹری میں رونق لگی ہوئی ہے۔ سعودی عرب نے ایک ارب ڈالر مزید اسی مہینے کے آخر تک واپس مانگ لیا ہے۔ ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ بھول جاؤ ادھار تیل کی سہولت وغیرہ بھی۔ اب پیر صاحب سے ہی کہو کہ پھونکیں مار کے توانائی پیدا کریں۔

پیر صاحب دوڑے دوڑے چین جا رہے ہیں۔ دورہ سی پیک متعلق بتایا جا رہا ہے لیکن لگتا یہی ہے کہ ان سے پیسے ہی مانگیں گے کہ ایک ارب ڈالر ادھار دینا شیخوں کو واپس کرنے ہیں جب تمھیں چاہیے ہوں گے تب تک ہم شیخوں کو راضی کر لیں گے۔

Read more

سعودیوں کو ہماری ضرورت ہے اور رہے گی

پاکستان نے سعودی ایک ارب ڈالر دے کر اور چینی ایک ارب ڈالر لے کر پورے دو فیصد سود بچایا ہے۔ مہنگا قرض واپس کیا ہے اور سستا لے لیا ہے۔ ایک رخ تو اس کہانی کا یہ بھی ہے۔ ادھار تیل کی جو ہمیں سہولت ملی ہوئی تھی اس کی مالیت تین ارب بیس کروڑ ڈالر تھی۔ جو ہم اس سال استعمال کر سکے وہ اسی کروڑ ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ اب یہ سہولت ختم ہو چکی ہے۔ دو سال کے لئے مزید حاصل کی جا سکتی ہے۔

عرب میڈیا پر اس ایشو پر کوئی سٹوری نہیں دکھائی دی۔ ترک میڈیا نے کور کیا ہے، انڈین میڈیا کی بھی ابھی اس طرف خاص توجہ نہیں گئی۔ انڈین نیوز ایجنسی اور ایکسپریس ٹریبیون کو لے کر شنگھائی نیوز نیٹ نے ضرور اک نیم گرم سے سٹوری کی ہے۔

Read more

جتنا مرضی طبلہ جنگ بجوا لیں

ایک پیج کی وجہ سے عام تاثر بنا ہوا ہے کہ فوج ہے ایجنسی ہے عدالت ہے کپتان ہے ان سب کا اک اتحاد ہے۔ اس اتحاد کی ارمانوں سے لائی بٹھائی اور چاہی گئی حکومت ہے۔ اس کی کارکردگی نکال کر دکھانے کو ڈال لیں جیب میں ہاتھ۔ گھوم پھر شرمندہ واپس آئے گا آپ کا ہاتھ وہ بھی یہ بتانے کہ جیب پھٹی ہوئی ہے۔ یہ جو بھی اتحاد تھا یہ کس کے خلاف تھا؟ اس اپوزیشن کے خلاف جسے ووٹوں میں گنیں تو اکثریت ہے۔

Read more

بھا، بھینسا اور مولوی

تاروں بھری رات میں چھت پر لیٹے میں اور بھا فرقہ وارانہ بحث کر رہے تھے۔ وجہ بحث یہ تھی کہ ہمارا کزن اچانک مولوی ہو گیا تھا اس کی داڑھی ممنوعہ بور چھونے لگی تھی۔ شلوار نکے بھائی کی اور قمیض بلکہ کرتا ابا جی کا پہننے لگ گیا تھا۔ ماڑا بندہ اس سے بحث کرنے سے بھی کترانے لگا تھا کہ عسکری تنظیموں کے ساتھ اس نے اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیا تھا۔ صرف میرا ہی وہ اب

Read more

حالات کا کل ملا کر فٹے منہ ہی ہے

دو سال بعد آج کپتان کے قریبی قسمیہ کہتے ہیں کہ اسے کلبھوشن آرڈیننس کا پتہ نہیں تھا۔ پتہ کر کے بھی کیا کرنا تھا۔ وزیر اعظم بننا تھا بن گیا۔ بچپن کا شوق پورا ہو گیا۔
اس کے لیے کنٹینر گپ کام آئی کرسی پر پہنچ کر فٹ ہو گیا۔

اکانومی کا سائز اربوں ڈالر میں سکڑ کر رہ گیا ہے۔ دو ہزار سترہ سے موازنہ کریں تو پچاس ارب ڈالر کم ہوا ہے۔ دو ہزار اٹھارہ سے حساب لگائیں تو تیس ارب ڈالر کا فرق پڑا ہے۔ فی کس آمدنی میں سو ڈالر کی کمی آئی ہے۔

Read more

حکومت کو بیل آؤٹ نہیں ملے گا، اپوزیشن تماشا دیکھے گی

کرونا ٹرمپ کو لے بیٹھا ہے۔ ٹرمپ اکانومی جو آسمانوں کی طرف جا رہی تھی۔ اب منہ کے بل زمین سے لگی پڑی ہے۔ چین سے تجارتی میچ لگا کر امریکہ ”میں اب بھی پہلوان ہوں“ گانا چاہ رہا تھا۔ وہ گیت بھی پورا سر نہیں پکڑ سکا۔

چین کو نکرے لگانے کے لیے بھارت مہان میں ہوا بھری گئی تھی۔ ہمارا بھارت مہان چینیوں سے چپیڑیں (چمانٹ) کھا کر اب ایسے پرسکون ہے جیسے بدمعاش تو وہ کبھی تھا ہی نہیں۔ البتہ روس سے تازہ اسلحہ ڈیل کر کے، روسیوں کو تین ارب ڈالر پکڑا کر پرانے کچرا روسی طیارے لے کر امریکہ کو ضرور کھجلی لگا دی ہے۔

Read more

ایک حسینہ اور ایک کمینہ

ہچکی لگی ہوئی تھی، دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔ اک بولا کوئی یاد کرتا ہونا۔ مراد اس کی یہی تھی کہ خدانخواستہ کوئی حسین نہ ہو کوئی تازہ خان ہی ہو۔ بات پرانی ہے۔ اپنا سیل فون دیکھا تو میسج آیا ہوا تھا "کمینے”، پڑھا ان کو بھی دلاسا دیا کہ وہ منحوس ٹھیک سمجھے تھے۔ پر کہانی پرانی یاد آ گئی۔ جب تمھیں ہچکی لگے، کوئی پیاری سی گالی دے برا بھلا بولے تو مجھے یاد کرنا۔ تو اسے

Read more

بس کریں، قاتل پکڑیں پی ٹی ایم کو اور لاش نہ دیں

عارف وزیر، علی وزیر کا چچا زاد بھائی تھا۔ علی سے زیادہ کھل کے بولتا تھا، جو منہ آتا کہہ دیتا تھا۔ افغانستان گیا تو وہاں کابل میں میں بہت کچھ کہتا رہا۔ ایک تقریب میں اس نے کہا کہ اگر کوئی مجھے پاکستانی بولے تو اس کے پشتون اور افغان ہونے میں شک ہے۔ طالبان نے امریکہ سے صلح کر لی، ملا عمر اچھا آدمی تھا، اچھا ہوتا کہ یہ امریکہ کی بجائے افغانوں سے صلح کر لیتے۔ جس

Read more

بھینس کا یار ڈنڈا نہیں سنڈا

صدیوں پرانا ویتنام تھا۔ جہاں بھینسوں کے ریوڑ تھے۔ قدرتی چاول اگتا تھا۔ سیلاب آتے تھے یا قحط پڑتے تھے۔ محل میں سناٹا تھا۔ ریاستی اداروں کے سارے بڑے سانس روک کر بیٹھے تھے۔ یہ سب ایک ہال میں جمع تھے۔ سب کی نظریں گرو پر تھیں کہ وہ کب حرکت کرتا ہے۔ گرو نے حاضرین کو دیکھا، اپنا رخ ایک دیوار کی طرف کر کے دونوں ہاتھ اٹھا دیے۔ دیوار پر ایک فلم چلنی شروع ہو گئی۔ بھینسوں کا

Read more

معیشت کے لیے کپتان سر جی کی دوڑیں ، حفیظ شیخ اور گورنر سٹیٹ بنک کے پھڈے

پاکستان پہلا ترقی پذیر ملک ہے جو جی ٹوینٹی سے قرض ریلیف کے لیے درخواست دینے جا رہا۔ بدھ کے دن یہ پاکستانی وزارت خزانہ نے کہا ہے۔ درخواست دینے جا رہا ہے سے یہ تو واضح ہو گیا کہ جوانوں نے درخواست دی نہیں تھی۔ ٹرمپ کو کپتان نے کل ہی مس کال بھی ماری ہے۔ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا کہ وہ آئی ایم ایف میں پاکستان کا سفارشی بنا ہوا ہے۔ اس کال کی دوسری اہمیت یہ

Read more

بکرا اور حکومتی امداد کی مینگنیاں

الائی میں تھے۔ زلزلے کے بہت مہینوں بعد متاثرین کی حالت کا جائزہ لینے گئے تھے۔ ریکارڈنگ کے لئے اپنا سامان کندھوں پر اٹھائے جا رہے تھے تو سامنے سے وہ دونوں بھائی آ رہے تھے۔ دو ٹانگوں والا بڑا بھائی ہمیں دیکھ کر پھدک کر سائیڈ پر ہوا تو اس کے چار ٹانگوں والے بھائی نے بھی یہی حرکت کی۔ ایک لڑکا تھا ساتھ اس کے ایک پہاڑی بکرا تھا۔ انکی اس چھلانگ میں ایک ردھم تھا۔ دونوں ایک

Read more

مہر جان کے پاس اونٹ ہو گا؟

دل بہت اداس ہے، شاید اس لیے کہ اسے گھر بٹھا رکھا ہے، یہ باغی ہو چلا ہے۔ اپنا خیال یہ تھا یہ ہے کہ تنہا صدیوں تک رہ سکتا ہوں۔ کوئی نہ ہو تو میلہ دل کے اندر لگا لیتا ہوں۔

اپنی فلمیں بنا کر خود دیکھتا ہوں۔ خود ولن خود ہیرو ہوتا، مرضی سے خیالوں میں لڑکیاں بناتا ہوں، وہ پھر جہاں جب دل چاہے ساتھ یا اردگرد ناچتی پھرتی ہیں۔ کہانی کا کوئی کردار جب دل ہو بدل لیتا ہوں۔ جسے جب جدھر چاہوں مار دیتا ہوں۔ خود ہی دکھی سین بناتا ہوں۔ اپنے بنائے یہ سین ہوتے جن پر ہنستا ہوں۔

Read more

کپتان کے استعفے کی افواہ کیوں پھیلی؟

جب بھارت کو بہت جوش آیا تھا کہ وہ بھوک ننگ اور لچ لفنگ میں اس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ اسے سیکیورٹی کونسل کا مستقل ممبر بننا چاہیے تب جرمنی جاپان کے ساتھ مل کر اس نے مہم شروع کر دی تھی، یہ مہم کامیاب ہی ہو جاتی، پر ہوا یہ کہ پاکستان کے بڈھے بڈھے ٹلے ٹلے سفارتکار سرگرم ہوئے انہوں نے اٹلی کے ساتھ مل کر اہم سفیروں کا کافی کلب بنا لیا۔ ایک کامیاب سفارتی مہم شروع کی اور دنیا کے اس تگڑے زیرو میٹر اتحاد کو اک شاندار سفارتی شکست دی۔

اس دن کے بعد سے پاکستان اور اٹلی میں بہنوں والا سچا سفارتی پیار ہے۔ اب جب کسی کانفرنس میں عالمی راہنما اکٹھے ہوں پاکستان اور اٹلی کے بڑے بھی وہاں ہوں تو ان کی لازمی ملاقات ہوتی ہے۔

کپتان نے کشمیر پر جب شاندار تقریر چھوڑی تھی یو این میں شاید وہ پہلا موقع تھا جب اٹلی کے وزیراعظم سے ہمارے وزیراعظم کی رسمی علیک سلیک بھی نہ ہوئی، تب ہمارے نوجوان لیڈر نے کیا شرلی چھوڑ رکھی تھی اب یاد نہیں۔

Read more

پنڈ سوات وزیرستان تک پیار خیال کی چھاؤں کا جاری سفر

کالا بہت ہے ، پر کیا کریں اپنا ہے ۔ ملک صاحب نے طور پین کے ساتھ کاغذ پر بہت اہتمام کے ساتھ دستخط کر دیے۔ قبائل کی وزارت سے بندہ بھجوا کر مہر بھی لگوا دی ۔ اس سے پہلے پردہ دار سے کیمرے میں گھسا کر فوٹو بھی بنوا دی تھی ۔ یوں میرا قبائلی کارڈ بنا تھا ۔ ہم کابل میں تھے ۔ گھر سے بھاگ کر آئے تھے۔ ضیا نے اپنے دادا سے کہہ کر یوں

Read more

پی پی اور مراد علی شاہ دونوں زندہ باد ہیں

اخے غریب مر جان گے ۔ یہ فرمانا ہے کپتان کا ۔ اسی وجہ سے وہ لاک ڈاؤن کا حکم نہیں دے رہا ، یہ وقت تھا کہ سر جی سوٹی ہاتھ میں پکڑتے اور جاتے وزیراعظم ہاؤس پر وہ لگتا جمہوریت پر پورا ایمان لا کر کہیں آرام کر رہے ہیں   کپتان دو ہزار گیارہ کے پمپاو بم  جلسے سے پہلے جتنے عظیم الشان جلسے کرتا تھا زیادہ تر ان آنٹیوں کے گھر کے پچھلے لان میں ہوتے

Read more

کڑک سردیوں کی گرم یادیں

اس بار سردی نہیں آئی۔ دسمبر بھی ایسے خاموش گذر رہا جیسے بھینس بین سن رہی ہو۔ بچوں کو اب بھی سکول چھوڑنے جانا ہوتا ہے، ذرا بھی خنکی محسوس نہیں ہوتی۔ کچھا بنیان پہن کر ہی کئی کلومیٹر دور بچوں کو سکول چھوڑ آتا ہوں۔ دسمبر کو ذرا شرم نہیں آ رہی کہ ایک معزز انسان کچھا بنیان پہن کر سردار بنا پھر رہا۔ ذرا سردی ہوتی تو ہماری مجال تھی کہ ایسی بدمعاشی کرتے۔

جب خود سکول جاتے تھے تو اکثر لیٹ پہنچا کرتے تھے۔ بھائی صاحب کو اپنی جراب نہیں ملتی تھی کبھی ان کا بستہ غائب ہوتا۔ ہم سکول پہنچتے سر میسی مولا بخش پکڑ کر تیار کھڑے ہوتے۔ دو دو سوٹیاں ہاتھ پر کھا کے ہاتھ گرم ہو جاتے۔ اگر سر کا موڈ ہوتا یا ہم زیادہ لیٹ ہوتے تو دو دو سوٹیاں تشریف کو بھی سن کر دیتی تھیں۔ کرسی پر بیٹھے ہوتے پر ذرا محسوس نہ ہوتا کہ بیٹھے ہیں کوئی تشریف رکھتے ہیں۔

Read more

لندن کا سردار اور پشاوری بابا

تب کی بات ہے جب ہم ایک نیوز ویب سائٹ چلاتے تھے پشاور ون کے نام سے، آفس میں کوئی پنگا تھا اور کیس ہمارے پاس لگا ہوا تھا ایک رنگروٹ رپوٹر وہ والی ویب سائٹ دیکھتا پکڑا گیا تھا، اب سامنے سر جھکائے کھڑا تھا ابھی سماعت جاری تھی کہ ایک اور کٹا کھل گیا ہمارے ساتھی فوٹو گرافر کی فوٹو سٹوری میں آدھی فوٹو کسی اور کی اپ لوڈ ہو گئی تھیں۔ فوٹو گرافر صاب اس غم میں مرنے والے ہو چکے تھے۔

ماحول میں ہلکی گرمی تھی اور ہمیں تپ چڑھی ہوئی تھی کہ ایسے میں سیل فون کی گھنٹی بجی۔ یار گل سن میں انہاں دوناں منڈیاں نوں چھڈنا نہیں سمجھ آئی تینوں میری ساری شرافت اور مسکینی پنجابی میں بات سنتے ہی ختم ہو گئی کہ پنجابی میں بات کزن اور بھائیوں سے ہی کرنی ہوتی جدھر کسی دید لحاظ کی ضرورت نہیں پڑتی میں نے پوچھا کون بکواس کر رہا۔ وہ پھر بولا یہ دونوں بھائی میں سیدھے کر دینے۔ یہ سن کر ہم سوچ میں پڑ گئے کہ یہ میرے بھائیوں کا ذکر ہے کیا؟

سیل فون پر نمبر چیک کیا تو یو کے کا نمبر تھا۔ پوچھا کہ اپ کون؟ تو آگے سے جواب ملا سردارامیت سنگھ۔ او سردار

Read more

دھواں دار ملک صاحب کا دشمن

پہلوان اپنا گٹہ نکلوا بیٹھا تھا۔ پتہ لگا تو اس کا احوال لینے جانا ہی تھا۔ لاہور میں کوئی چن چڑھا کر پہلوان جمرود میں مفروری منا رہا تھا۔ پہلوان سے ملا تو اس نے حتمی اعلان کیا ۔ تمھارے شہر کے ڈاکٹر کسی کام کے نہیں۔ میرا گٹہ کوئی پہلوان ہی ٹھیک کر سکتا۔ یہ سنا تو پہلوان کو مشورہ دیا کہ کسی دیسی ماہر کو فون کر کے لاہور سے بلوا لو۔

پہلوان فوری طور پر اگ کا گولہ ہو گیا۔ اپنے ریٹائر گٹے کے ساتھ ہی کھڑا ہو گیا۔ بہت پیار سے پوچھا کہ اوئے توں پاغل تے نہیں۔ میں اتنا کھوتا ہوں کہ خود لاہور اطلاع دے دوں۔ دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع دوں۔ وہ مجھ پر ہنسیں کہ پہلوان جمرود میں ڈھیر ہوا پڑا ہے۔ پہلوان کے غصے اس کے جذبے کی کچھ سمجھ نہ آئی۔

Read more

جمعیت ۔ رشتے کرانے والی مائی

ایک مستقل پٹواری سابق سٹوڈنٹ لیڈر کی جمعیت سے مثالی دشمنی تھی۔ یہ پٹواری صاحب گھر سے ہی بری نیت رکھ کے اعلی تعلیم حاصل کرنے شہر پہنچے تھے۔ نیت ان کی یہ تھی کہ جس کالج میں بھی پڑھنا ہے اس کالج سے جمعیت کا نام نشان مٹانا ہے۔ یہ کالج پہنچے پھر اپنے ڈیل ڈول کی وجہ سے جلد ہی ایم ایس ایف کے لیڈر بن گئے۔

Read more

ہمارا اپنا عشق شکن بے ہدایت مولوی کزن

پہلی بار اس کو تب دیکھا جب چھٹیوں میں پشاور سے گاؤں جانا ہوا تھا۔ وہ میرے کزن کے ساتھ بیٹھا نقل تیار کر رہا تھا۔ تھا تو ہمارا کزن ہی لیکن فیصل آباد رہتا تھا۔ فیصل آباد کے سکول میں وہ بار بار فیل ہوتا رہا تو اس کے ابا جی نے اسے پنڈ ہی بھیج دیا۔ پنڈ میں ابھی تعلیم سائنس کے اصول پر ہی دی جاتی تھی۔ اصول سادہ سا ہی تھا کہ ہڈیاں گھر والوں کی اور بوٹیاں استاد محترم کی۔ استاد کا مولابخش بندے کی بوٹیاں تو اڑاتا ہی تھا مگر ہڈیاں بھی اکثر استاد ہی توڑا کرتا تھا۔

Read more

غنی خان اور ملا جان کی جنت

زندگی اگر سخت گذرے تو پروا نہ کرنا۔ جب تم میرے پاس آؤ گے تو تمھیں راحت ملے گی سکون ملے گا جنت کی صورت۔ میں تمھیں جانتا ہوں، تمھارے دل کے ارمانوں کو بھی۔ حوریں بھی ہوں گی تم خوش رہو گے۔ میں تمھیں تمھاری ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہوں۔ تمھیں لوٹ کر میرے پاس آنا ہے۔

میری عبادت کرنا، حق کے لئے ہی کھڑے ہونا، تھک جانا پریشان ہونا تو مجھے پکار لینا، میں تمھارے دل سے قریب ہوں۔ میرے لوگوں کا خیال رکھنا، انہیں آسانیاں فراہم کرنا، خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے انسانوں کو یہ پیغام دیا۔

Read more

خوب استی و ٹکور استی

ہم لوگ اپنے آپ کو جیمز بانڈ کا ابا جی سمجھنے لگ گئے تھے۔ پانچویں چھٹی جماعت سے ہی عمران سیریز اور جاسوسی کہانیاں پڑھنے کا یہ ہی نتیجہ نکلنا تھا۔ دورہ کابل والا چن جو ہم چڑھا بیٹھے تھے۔ اس میں بھی ان عظیم لکھاریوں کا بھی واضح خفیہ ہاتھ تھا۔

کابل سے واپسی پر مجھے مانیٹر بنا دیا گیا۔ یہ اہم عہدہ مجھے ملنا حیرت انگیز تھا۔ ویسے تو ہمارے پرنسپل سر میسی میری شرافت کے بہت قائل تھے۔ لیکن جب ہم فرار ہو کر کابل گئے تو ہمیں ڈھونڈنے کو سر میسی بہت خوار ہوتے رہے ۔ ہم لوگوں کا منصوبہ بے داغ تھا۔ ہمارے ہم جماعت نے سر میسی کی تفتیش و تشدد کے بعد مسکین شکل بنا کر جھوٹ بولا۔ سر میسی اس کی بتائی ہوئی غلط بتی کے پیچھے لگ گئے۔ پھر ہمیں ڈھونڈنے پاڑہ چنار تک جا پہنچے تھے۔

Read more

حسن اچھا ہے، اچھی ہے حسن پرستی بھی

ہمارا سکول ممی ڈیڈی تھا ہر حساب ہر حوالے سے۔ لڑکے لڑکیاں اکٹھے پڑھتے تھے۔ ہماری ٹیچرز ایک سے ایک خوبصورت ہوتی تھیں۔ باڑہ مارکیٹ میں کاروبار جم رہے تھے۔ نتیجہ یہ تھا کہ ڈھیروں ڈھیر قبائلی بچے ہمارے سکول میں آ رہے تھے۔ افغان جنگ کی شروعات تھیں تو افغان فیملیز بھی پشاور آ رہی تھیں۔ افغان بچے بھی سکول میں داخل ہونے لگ گئے تھے۔

سر میسی ہمارے پی ٹی ماسٹر ہوا کرتے تھے تب بعد میں سکول کے مالک اور پرنسپل ہی بن گئے۔ سر میسی کی صورت میں بچوں کی مار پیٹ کا اعلی انتظام موجود تھا۔ سر کا کہنا تھا کہ آسمان سے سمجھداروں کے لئے چار کتابیں نازل ہوئی۔ تم جیسوں کے لئے ڈنڈا اتارا گیا ہے۔ اس ڈنڈے کا وہ بے دریغ استعمال کرتے تھے۔

Read more

عشق پہلوانی

پہلوان جب اپنی پہلوانی کا ذکر کرتا تو اتنے آنسو بہاتا کہ باقاعدہ کیچڑ ہو جاتا اسے بہلا پھسلا کر چپ کرانا پڑتا بلکہ ایک بار تو اسے بہلانے کے لئے سوٹا لگوانے جہاز گراؤنڈ جمرود لے جانا پڑا جدھر ولائتی ٹھرے ٹن پیک میں دیکھ کر ہی وہ دھمال ڈالنے لگ گیا۔ پہلوان کی فیملی شاید کباڑی یا سکریپ کا کام کرتی تھی لیکن اس کا اصرار تھا کہ ان کا لوہے کا کاروبار تھا بلکہ دو چار بھٹیاں

Read more

کپتان کو وزیراعظم رہنا چاہئے

مہنگائی نے لوگوں کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ کپتان کے ہارڈ کور مداح بھی مدہم پڑتے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کو کپتان نے اپنی سیاست کا میدان جنگ چنا تھا۔ یہیں اس کے لڑاکے بھگدڑ کا شکار محسوس ہوتے ہیں۔ کسی کو نہیں یقین آ رہا تو نہ مانیں ۔ کپتان کا اپنا خطاب سن لیں سوشل میڈیا کی ٹیم کے ساتھ ۔ شبر زیدی کو پکڑ پکڑ کر لاتے ہیں ۔ ذرا کسی کا دھیان ادھر ادھر ہوتا

Read more

تین صوبائی وزرا برطرف ہونے سے نئے الیکشن کی راہ ہموار ؟

مولانا فضل الرحمن دھوم دھام کے ساتھ اسلام آباد آئے تھے ۔ پھر ہم نے انہیں چپ چاپ واپس جاتے دیکھا ۔ کسی کو کچھ پتہ نہ لگا کہ مولانا کی واپسی آخر ہوئی کیسے ۔ بتایا جاتا رہا کہ کچھ وعدے ہوئے ہیں ۔ پورے کیے جائیں گے۔ دسمبر میں ہی حکومت دھڑام ہو جائے گی ۔ نئے سال کا سورج نہیں دیکھے گی۔ ایسے کچھ بیانات مولانا نے خود بھی دیے ۔ اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔

Read more

میاں صاحب ، کپتان جیسا کوئی نہیں

کسی کو ڈان لیکس یاد ہیں؟ پڑھی تھیں؟ اس میں چھٹا پیرگراف ہے جس میں میاں محمد شہباز شریف بقلم خود اک معزز افسر کے ساتھ گتھم گتھا پائے یا بتائے جا رہے تھے۔ سٹوری لکھنے والا لکھنا چھوڑ گیا۔ مریم نواز پر ڈان لیک کا الزام لگ گیا۔ نواز شریف کا پانامہ یا اقامہ ہو گیا۔ ان کے کچہری پھیرے لگ گئے، پارٹی میں جو بولا وہ اندر ہو آیا ہے کچھ ابھی بھی اندر بیٹھے سوچ رہے کہ

Read more

نوازشریف نے ڈیل کی ہے یا سیاست؟

دہشت گردی کی لہر عروج پر تھی ۔ اک سیاسی محفل میں تب کے اہم ترین سیاسی عہدیدار نے کہا تھا ۔ پاکستان کے دو اہم مسلے ہیں ۔ دہشت گردی اور سول ملٹری تعلقات ۔ اس کا ہمارے پاس سب سے اچھا سیاسی جواب نوازشریف ہیں۔ ہم ان کی حمایت کریں گے ۔ اس کی ہر قیمت ادا کریں گے۔ پھر ہم نے پی پی کو پنجاب اور کے پی سے پسپا ہوتے اندرون سندھ تک محدود ہوتے دیکھا

Read more

اپنے مذاکراتیوں کے ہاتھوں غوطے کھاتا کپتان

آزادی مارچ بارے سنا بہت کچھ تھا ۔ کہاں سے حمایت حاصل ہے ۔ کس نے منصوبہ بنایا کون گارنٹر ہے ۔ یقین ان باتوں پر بالکل بھی نہیں تھا ۔ سکون سے مولانا کی آنی جانیوں بارے خبروں کو ہی دیکھتے رہے تھے ہم لوگ۔ مولانا نے آزادی مارچ شروع کرنے سے پہلے بہت سی مشکلات پر قابو پایا ۔ پہلا مسلہ تو اپنی ہی جماعت میں اپنے ساتھیوں کو آمادہ اور تیار کرنا تھا کہ آزادی مارچ کرنا

Read more

مولانا نون لیگ پی پی کے لیے بھی خطرہ بن رہے ہیں

آج کل جدھر جاؤ جس سے ملو ۔ ایک ہی بات ہوتی ہے کہ مولانا کے پیچھے کون ہے ۔ ان کو اندر سے حمایت حاصل ہے کہ ان کو باہر سے حمایت حاصل ہے ۔ ہو گا کیا ؟ کی بنے گا ۔ کسی کو لگتا کہ دو وزیراعلی بدلوانے کے لیے کپتان پر پریشر بڑھایا جا رہا ہے ۔ کسی کا خیال ہے کہ نشانہ سر جی ہیں ۔   کسی کو لگتا کہ ، خیر چھڈو یہ

Read more

سب سائڈ پر ، کپتان مولانا میچ میں مدد سے انکار

صدر شی سے کپتان کی ملاقات ہو ہی گئی۔ جنہوں نے اس ملاقات کے لیے محنتیں کیں۔ سوٹی پکڑ کر خود ساتھ گئے۔ ان کے دل کا حال وہی جانتے ہوں گے ۔ آپ نے دورے کی کامیابی دیکھنی یا سننی ہے تو شیخ رشید نے لمبی لمبی چھوڑی ہیں۔ کامران خان کے ساتھ ان کی بات چیت دیکھ لیں۔

سی پیک اتھارٹی کا آرڈینس جاری کر کے، گوادر کو ٹیکس فری ایریا ڈیکلیر کرنے کا کمال کر کے، جوڑی چین روانہ ہوئی تھی۔ سی پیک اتھارٹی پر تو چینیوں نے بہت پیار سے اخلاق سے سمجھایا کہ دیکھیں۔ آپ کی اتھارٹی کے قیام کا یہی بل پارلیمانی کمیٹی نے مسترد کر دیا تھا۔ آپ نے وہی بل اپنے اختیارات کے تحت منظور کرا لیا ہے۔ ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ سی پیک کی رفتار اپوزیشن کی مخالفت سے کیسے متاثر ہوئی۔ یہ کہہ کر کپتان کو اس کا دھرنا اس کا کنٹینر اور صدر شی کا دورہ سب یاد کرا دیا گیا، وہ بھی اک لفظ اس متعلق کہے بغیر۔

Read more

نکا نیکر اور بندوق

’نکیا، اُتار نیکر، دکھا اسے‘‘۔ نکے کو عامی نے اشارہ کیا۔ اس نے منٹ مارا، نیکر اتار کر کندھے پر رکھی۔ دکھا دیا جو دکھانا تھا۔ موکھا یہ نظارہ دیکھ کر سن سا ہو گیا۔ سنبھلا، لیکن ذرا دیر سے، اور گالیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ عامی سمیت سبھی ہنسنے لگے۔ موکھے کی گالیوں کو بریک تب لگی، جب ماما ڈیرے پر، ہماری طرف آتا دکھائی دیا۔ مامے کو آتے دیکھا تو نکے نے پھر منٹ مارا، نیکر پہن لی۔

Read more

قومی حکومت بنا لیں ، مولانا کو نہیں روک سکیں گے

بلاول بھٹو علانیہ مولانا کے آزادی مارچ سے فاصلے پر جا چکے ہیں ۔ بظاہر انہوں نے کہا کہ مولانا جب اسلام آباد لاک ڈاؤن کریں گے ۔ بلاول پاکستان بھر میں جلسے کریں گے ۔ اینکر حضرات نے اک تو بھاگ گیا کی تان لگانی شروع کر دی ۔ مسلم لیگ نون نے اتنی گرم سرد پھونکیں ماری ہیں ۔ خود مسلم لیگ کے اچھے اچھے لیڈروں کو بھی معلوم نہیں ہے کہ ان کی پارٹی پالیسی ہے کیا

Read more

کشمیریوں کو کیا بتائیں، ہمارا وزیراعظم جھوٹا ہے یا بنڈل باز؟

  اسلام آباد پنڈی میں وادی سے آئے بہت کشمیری رہتے ہیں ۔ یہ سب نوے کی دہائی کے شروع میں آئے تھے ۔ افغانستان سے روس کے جانے کے بعد مسلح جدوجہد سے آزادی لینے کا خواب آنکھوں میں لیکر ۔   میرے دوست کشمیری کا کہنا ہے کہ جب وہ گھر سے نکلا تھا تو سارا گاؤں ملنے آیا تھا ۔ کچھ بوڑھے لوگوں نے اسے سائڈ پر کر کے کہا تھا کہ سنو یہ آزادی کی ٹائمنگ

Read more

آزادی مارچ کی کامیابی کے لیے مولانا کی چومکھی چالیں

مولانا فضل الرحمن نے پیروں سے رابطہ کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی ہے ۔ اس میں ایک عدد پیر صاحب خود بھی شامل ہیں ۔ دلچسپ موو ہے ۔ اگر دیوبند کی نمائندہ سیاسی جماعت پیروں تک چل کے خود جانے لگی ہے تو گھنٹیاں بج جانی چاہئیں کہ معاملہ سیریس ہے ۔اک کمیٹی ڈپلومیٹ حضرات سے رابطے کے لیے قائم کی گئی ہے ۔ یہ بھی کام سیریس ہے کی اک اور نشانی ہے ۔ جے یو آئی سندھ کے مولانا سومرو گھوٹکی مندر میں کھڑے اظہار یکجہتی کرتے پائے گئے ہیں ۔ انہوں نے ہندو برادری سے اظہار یکجہتی کیا ہے ۔

Read more

پیارے کپتان اپوزیشن تو بکنے کو تیار ہو گی، خرید لو

جو بتائی جاتی ہیں ، ان میں سے کوئی بھی ڈیل لے کر نوازشریف کیا کریں گے ۔ وہ خود اپنے ملاقاتیوں کو جیل میں کہہ چکے ہیں ۔ ان کی ہر ڈیل کہانی میرے باہر جانے پر ختم ہوتی ۔ باہر کدھر جاؤں گا ؟ لندن فلیٹوں کے گیٹ پر ٹھڈے تو مار چکے۔ میں وہاں جاؤں گا ؟ پر خبریں ہیں کہ آنی بند ہی نہیں ہوتی ۔ کہیں کوئی خبر نہ ہو تو گھڑ لی جاتی ہے

Read more

کپتان کو فارغ کرنے کے زیر غور طریقے

کپتان نے امریکہ جا کر دو وعدے یا دعوے کیے تھے ۔ طالبان کے پاس یرغمال دو پروفیسروں کی اڑتالیس گھنٹوں میں رہائی ۔ پاکستان پہنچ کر طالبان قیادت سے ملاقات اور انہیں راضی باضی کرنا ۔ دونوں کام نہیں ہوئے ۔ امریکہ میں اس وقت ایک پاکستانی ٹرمپ انتظامیہ کے کافی قریب ہیں ۔ انہیں کسی نے چھیڑنا ہو تو کپتان کے دورہ امریکہ کا پوچھ لے ۔ وہ باقاعدہ چھڑ جاتے ہیں ۔ پوچھنے لگتے کہ جب کچھ

Read more

مولانا آ رہے ہیں یا سیاست سے جا رہے ہیں؟

اک طرف نواز شریف ہیں۔ آصف زرداری ہیں۔ جیل میں ہیں۔ ان کی پارٹیاں بات کرتے گھبراتی ہیں۔ بلاول بولتا ہے تو کرنٹ پھرتا ہے، پر تھوڑی دیر میں نارمل ہو جاتی صورتحال۔ مریم بڑے جلسے کر رہی تھی اب اک کیس میں اندر ہے۔ باقی نون لیگ منہ اٹھا کر ادھر ادھر دے رہی جو بہت انقلابی تھے گواچی گاں کی طرح پھر رہے۔

مولانا فضل الرحمان نے لاک ڈاؤن کا اعلان کر رکھا ہے۔ یہاں ذرا ٹھہریں منظور پشتین کو یاد کریں۔ وہ جو نعرے لے کر اٹھا تھا اس کے بعد سیدھا تصادم ہوا۔ دو ممبران جیل پہنچے اور پی ٹی ایم کو چپ لگ گئی۔ کوئی مستقبل بظاہر اب ان کا دکھائی نہیں دیتا۔

Read more

مولانا فضل الرحمان بمقابلہ "گلاب سنگھ نیازی” کا دنگل سجنے کو ہے

کوئی طالب مولانا فضل الرحمان کی ٹانگیں دبا رہا ہو۔ ایسے میں ان سے سوال پوچھتا رہے ۔ اسے جواب ملتے رہتے ہیں۔ اچھے سوال پر داد بھی مل جاتی ہے۔ اپنے کارکنان سے طویل بحث کر لینا، ان کو جواب دینا ، ان کے مشکل سوالات کا خوشگوار موڈ میں جواب دینا، مولانا کا مستقل ٹریڈ مارک رہا ہے

Read more

سی پیک: ہماری قومی حماقتوں کی داستان مجاہد اور امریکی چالیں

علی بابا کا مالک جیک ما آٹھ جنوری دو ہزار اٹھارہ کو شیر بنا دھاڑتا ہے ”کوئی سیاستدان یہ ہمت نہیں کر سکتا، ہاں میں کہتا ہوں کہ ہم ہانگ کانگ کی مارکیٹ میں آئیں گے۔ اس شہر کی معیشت میں اپنا حصہ ڈالیں گے“۔

اکیس اگست دو ہزار انیس یہی ہانگ کانگ ہے، وہی جیک ما ہے اس کی میاؤں اخبار میں چھپتی ہے کہ ہانگ کانگ مارکیٹ میں لسٹنگ کا علی بابا نے اپنا پندرہ ارب ڈالر کا پروگرام ملتوی کر دیا۔ جیک ما بھی پھر شیخ ہی نکلا۔ گیلی جگہ پیر نہیں رکھتا۔

Read more

ہے ہمت تو نیکی کرو، بھلے چور کہلاؤ

دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا رہتا ہوں۔ بس تب چھوڑ دیتا ہوں جب حالات گڑبڑ ہو جائیں۔ بس کبھی سیکھا تھا کہ خدا سے تعلق دوستی یاری کا ہو تو پھر مشکلات سے روتے گھبراتے نہیں بس ان کا سامنا کرتے ہیں۔ اب یہ گڑبڑ دل کے معاملات میں ہو یا دنیا داری کے سوچتا ایک ہی بات ہوں۔ کہیں کوئی تعلق گڑبڑ ہو گیا ہے۔ اس کو ڈھونڈنا ہے بحال کرنا ہے۔

ہاتھ تنگ ہو جائے تو شئرنگ بڑھا دینے کی عادت ہے۔ پیسے کم ملیں تو تھوڑا مزید اپنے آپ کو آزمانا شروع کر دیتا ہوں۔ آسان سا طریقہ ہے جو ملتا ہے اس میں سے کچھ حصہ تقسیم کرتا ہوں۔ بندہ ڈھونڈتا ہوں اس کے لیے خوار ہوتا ہوں۔ ضرورت مند تو راہ چلتے مل جاتے ہیں پر تلاش ان کی ہوتی ہے جو منہ سے کچھ نہیں کہہ پاتے۔

Read more

پنڈ والے جاٹ

اگر آپ اپنی بات کے پکے ہیں اس پر کھڑے رہ سکتے ہیں تو آپ بلوچ ہیں۔ اگر آپ دوسرے کی بات پر کھڑے ہو سکتے ہیں تو آپ ٹھیک پختون ہیں۔ اگر آپ بغیر بات کے ہی کھڑے ہو سکتے ہیں تو پھر آپ سردار ہی ہیں۔

یہ سب خوار ہونے کے مختلف طریقے ہیں۔ جیسے دل چاہے ہو سکتے ہیں، ہو جائیں۔ قدرت نے فیاضی سے سارے آپشن دیے ہیں۔
زیادہ نہ سوچیں کسی کو نہ بتائیں کہ آپ اصل میں ہیں کیا۔ بندے کا کوئی پتہ لگتا وہ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

Read more

پیار بھی کیسی کیسی نشانیاں دے جاتا ہے

ماما یہ نہیں ہو سکتا میں نے تمھارے ڈیرے کا سب سے بڑا درخت کاٹ دینا ہے۔ جب تم سو رہے ہو گے نہ تب کاٹوں گا۔ تمھارے اوپر گرے گا پھر پڑے رہنا منجی پر۔ جیسے تمھارا سسر چارپائی پر پڑا رہتا تھا۔ اس کو چارپائی سمیت اٹھا کر جب دھوپ چھاؤں لگوانے کو لے کر جاتے تھے۔ تب وہ کتنی ودیا گالیاں دیتا تھا ان سب کو جو اسے ایسے سیر کراتے تھے۔ او نہ پتر ایسے درخت

Read more

دفاع میں خچروں کا کردار

پاکستان بھر میں بینر لگے ہوئے ہیں۔ راحیل صاحب کا منت ترلا ہو رہا ہے کہ جانے کا سوچیں بھی مت، آنے والی کریں۔ ایسے میں جب حکومت ڈر کے میز کے تھلے چھپی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ ایک ایم این اے صاحب نے ایک وڈا سا سانڈ کھول رکھا ہے جو اپنی ہی حکومت کو سینگوں پر اٹھائے پھر رہا ہے۔

آج قومی اسمبلی کی دفاعی امور کے لئے قائمہ کمیٹی کا اجلاس تھا۔ شیخ روحیل اصغر اس کے چیئرمین ہیں۔ شیریں مزاری بھی اس کمیٹی کی رکن ہیں۔ اس اجلاس میں چھوٹے چھوٹے ایشوز چینی آبدوزوں پر کمیٹی کو بریفنگ، بھارت کے ساتھ سرکریک مسئلے پر بریفنگ وغیرہ کے معاملات تو فوری طے ہو گئے۔

Read more

خدا کو اب دل میں ہی رکھیں

خدا کے ساتھ ذاتی تعلقات نہایت خوشگوار بھی ہیں اور دوستانہ بھی۔ یہ تعلقات ایک دن میں ایسے نہیں ہوئے۔ پہلے غلامانہ رہے پھر تابعداری کے درجے میں آئے۔ ایک وقت لگا انہیں خوشگوار اور دوستانہ ہونے میں۔

ہم ابھی چھوٹی کلاسوں میں ہی تھے جب پہلی بار ایک بڑے دھماکے کی آواز سنائی دی۔ کسی توپ سے گولہ داغ دیا گیا تھا یا شاید کسی جہاز نے ساؤنڈ بیرئیر توڑا تھا۔ ایک ہم جماعت نے ہماری کلاس ٹیچر سے پوچھا مس کیا روس آ گیا۔

اب ضروری ہو گیا تھا کہ روس کا پتہ کریں۔ جلدی پتہ لگ گیا۔ کچھ محلے کی مسجد میں مولوی صاحب نے بتایا۔ کچھ مدد نسیم حجازی نے کی، حالانکہ انہوں نے براہ راست کچھ بھی نہیں کہا تھا۔ یہ ہم ہی تھے جو ایسا سمجھے کہ یہی کہہ رہے ہیں۔ پتہ لگایا اتنی سی سمجھ آئی کہ روسی خدا کو نہیں مانتے۔

Read more

سیاستدان فوج جیسی کوالٹی بھی تو لائیں

محمود خان اچکزئی نے ایک بار سیاپا کرتے ہوئے کہا کہ فوج نے پچاس کی دہائی میں فیصلہ کیا کہ نیشنل سیکیورٹی کونسل بننی چاہیے کتنی دہائیاں بیت گئیں فوج کے ادارے کا موقف یہی رہا کہ یہ بننی چاہیے کیونکہ ادارے نے یہ موقف کوئی ہوم ورک کر کے اختیار کیا تھا۔ اس کے برعکس سیاستدان بیان دینے کے بعد ابھی اس کی گونج ختم نہیں ہوتی کہ اپنی ہی بات کی مخالفت شروع کر دیتے ہیں اسی سیکیورٹی کونسل کے مسئلے پر سیاستدانوں کا موقف مختلف برسوں، مہینوں اور ہفتوں میں مختلف ہوتا ہے۔

فوج میں بھی ایسے خاندان ہیں جو کئی نسل سے فوج ہی میں آ رہے ہیں، شجاعت اور حوصلے کی ایک تاریخ بناتے ہیں جو اگلی نسل کو منتقل ہو جاتی ہے لیکن وہاں ایک فرق ہے۔ ضروری نہیں کہ جرنیل کا بیٹا جرنیل ہی بنے وہ نچلے عہدوں پر بھی ریٹائر ہو جاتا ہے جبکہ حوالدار کے بچے اگر فوج میں آئیں تو چیف کے عہدے تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔ جنرل موسی خان سپاہی سے آرمی چیف بننے کی الگ مثال کے طور پر بھی موجود ہیں۔

Read more

وہ لڑکی پاکستانی ہو کر بھی اتنی بولڈ کیوں تھی؟

اٹھارہ گھنٹے کمپیوٹر پر بیٹھنا ہوتا تھا کہ ذمہ داری یہ تھی کہ نیوز سائٹ اپ ڈیٹ کرتا رہوں۔ ساری رات بیٹھا رہتا صبح سویرے پیدل گھر جاتا۔ تھوڑا آرام کر کے کھانا کھا کر واپس آ جاتا۔ پھر یہی روٹین جاری ہو جاتی۔ واحد تفریح یہ تھی کہ ایک آن لائین چیٹ روم کا ممبر تھا جہاں سب اپنے جیسے ہی ویلے اور لوفر اکٹھے تھے۔ لڑکیاں بھی تھیں لڑکے بھی۔ ہم فیملی کی طرح تھے، کزنوں اور دوستوں کی طرح گپ لگایا کرتے تھے۔

ایک رات جب چیٹ روم میں جھانکا تو وہاں کڑی بیٹھی تھی کہ اس نے اپنے لیے یہی آن لائین نام رکھا تھا۔ گروپ کے سارے لوفر جی جان سے اس کے پیچھے پڑے ہوئے تھے اسے چھیڑ رہے تھے۔ وہ بھی پٹر پٹر جواب دے رہی تھی۔ خوب رونق لگی ہوئی تھی۔ گروپ کی باقی لڑکیوں کو آگ لگی ہوئی تھی۔ ان کی شکایتیں سنیں۔ گروپ چیٹ کا چپ چاپ بیٹھ کر جائزہ لیا۔

Read more

استاد محترم کی گمشدہ پینٹ اور عظیم لیڈر کی وفات

دوپہر ہونے کو آئی تھی اور ہم سوئے پڑے تھے۔ ٹیلی فون چپ ہونے میں ہی نہیں آ رہا تھا۔ نیند میں ہی اٹھایا تو استاد محترم کی آواز آئی کہ یار جلدی سے گھر جا، میری پینٹ لے کے آ۔ نیند میں تھا اس لئے وجہ سمجھ نہ آئی کہ استاد محترم آج بریکنگ نیوز دینے پینٹ پہنے بغیر کیسے دفتر پہنچ گئے ہیں۔ الہی رحم، ایسی کون سی خبر ہے جو یوں جذباتی ہو کر چلانے نکلے ہیں ہمارے استاد محترم۔ہم ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ استاد اپنی آئی پر آ گئے اور لگے دھمکانےکہ ابے اٹھے گا کہ نہیں یا ننگا ہی پھروں۔

Read more

شاہ محمود نہیں اب شاہد خاقان وزیراعظم کے امیدوار بن چکے ہیں

قریشی صاحب کی آج کل ویسے ہی سختی آئی ہوئی ہے۔ ان کے پارٹی قائد انہیں اگلا وزیر اعظم سمجھ کر ان پر خصوصی شفقت فرما رہے ہیں۔ یہ خبر پرانی ہو چکی۔ اب وزیراعظم کا اک اور امیدوار سامنے ہے۔ آزمایا ہوا بھی، دیکھا بھالا بھی اور اپنا اپنا سا بھی۔

چوھدری شجاعت حسین کی نواز شریف سے ملاقات کا آج کل چرچا ہے۔ کچھ لوگوں کے خیال میں یہ ملاقاتیں ایک سے زیادہ بار ہوئی ہیں۔ ملک ریاض بھی جا کر ایک ملاقات کر آئے ہیں۔ انہوں نے سیاسی اندھیرے ہٹانے کو بہت فوری شمسی قمری نسخے بھی پیش کیے ہیں۔
پہلے کہا جا رہا تھا کہ اگر میاں صاحب کچھ باتیں مان جائیں تو اسی اسمبلی سے شاہد خاقان عباسی اگلے وزیراعظم ہو سکتے ہیں۔

Read more

کپتان کے خلاف بہترین منصوبہ کس نے بنایا ہوا ہے؟

بلاول بھٹو نے ساری اپوزیشن بلکہ تھوڑی سی حکومت کو افطاری پر کیا بلایا۔ پی ٹی آئی میں کرنٹ ہی پھر گیا۔ یہ تھوڑی سی حکومت کا الزام بی این پی مینگل پر لگایا ہے، لگتا بھی ہے۔ بیچارے حکومت میں بیٹھے ہیں کوئی سنتا پوچھتا ہے ہی نہیں۔

اس افطاری کو لے کر وزیروں نے خوب نشانے لگائے۔ ابو بچاؤ تحریک کے طعنے بھی دیے۔ بلاول اور مریم ہی دو اپوزیشن کے لوگ تھے جو کسی بھرپور تحریک کو فوری شروع کرنے سے اب بھی گریز ہی کر رہے ہیں۔ انہی دونوں لیڈروں کے ابا جی بظاہر پی ٹی آئی حکومت نے گھیر رکھے ہیں۔

حامد میر نے ایک ٹی وی پروگرام میں شرارتی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان افطاری پر نہیں پہنچے۔ انہیں بلاول نے فون بھی کیا کہ آپ نہیں آئے تو میں افطاری نہیں کروں گا۔ اس کے باوجود وہ افطاری پر نہیں پہنچے اس کے بعد آئے۔ انہوں نے گھر پر خود مہمان بلا رکھے تھے۔

Read more

کپتان تمہاری تبدیلی مر رہی ہے

جب کہیں کوئی اپنے نقصان کو رو رہا ہوتا ہے ۔ تب وہیں کوئی اپنے فائدوں کا جشن منا رہا ہوتا ہے۔ ایک کمپنی جب اپنے آدھے ملازم فارغ کر دے تو ان کے گھروں میں روٹی کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ ساتھ ہی اس کمپنی کے شئر کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔کیوں ؟ اس لیے کہ آدھے ملازموں کو فارغ کر کے کمپنی خرچہ بچا لیتی ہے پرافٹ میں چلی جاتی ہے

Read more

شہباز شریف کی روانگی ، مریم نواز کی جارحانہ واپسی؟

نون لیگ کی حکومت نہ ہو ۔ تو شہباز شریف بھی راڈار پر نہیں ہوتے۔ یہ حکومت جاتی ہے اور چھوٹے میاں صاحب لندن میں نمودار ہوتے ہیں۔ سیاست میں انکی مہارت انتظامی شعبے میں ہی ہے۔ حکومت ہو اختیار ہو تو انگلی ہلا ہلا کر کام کرواتے رہتے ہیں۔ افسروں کی جان عذاب میں ڈالے رکھتے ہیں۔چھاپے تبادلے معطلیاں کرتے اپنے پارٹی قائد کے دیے گئے ٹارگٹ پورے کرتے رہتے ہیں۔ اینٹ سریا سیمنٹ کے سیانے ہیں۔ بڑے بڑے پراجیکٹ میں ہاتھ ڈالتے ہیں، پورے بھی کر لیتے ہیں

Read more

پیارے کپتان ، کیا آپ اسلامیہ کالج کو بچاؤ گے ؟

پختون پاکستان میں ہر طرف دکھائی دیتے ہیں۔ انتظامی عہدے ہوں ، سیاسی ہوں ، فوج کے اعلی افسران ہوں سفارتکار ہوں، ڈاکٹر ہوں انجینیر یا سائنسدان۔اک طویل لسٹ ہے ایسے لوگوں کی جو اپنے شعبے میں مہارت رکھتے ہیں، نامور ہیں، نیک نام بھی۔ ان کامیابیوں کے پیچھے کے پی کے کا تعلیمی نظام تھا۔ یہ نظام بڑی حد تک سیاسی مداخلت سے پاک رہا۔وجہ یہی سمجھ آتی ہے کہ باچا خان کی فکر بھی تھی۔ مقامی لوگوں کا اپنی طلب بھی تھی تعلیم کئی قسم کی آلودگیوں سے پاک رہی۔ استاد کے منصب کا احترام کیا جاتا رہا۔ کئی سکول کالج اپنے اساتذہ کے حوالوں سے مشہور ہوئے۔

Read more

نواز شریف نے ستمبر تک مولانا کو کیوں روکا ہے؟

روپیہ گرنے کا پتہ ٹی وی سے لگا۔ کپتان کا یہ مشہور بیان سنا تو اسے دل سے داد دی۔ کپتان کی سمجھ پوری سی ہے۔ اسے پتہ نہیں لگتا کہ کب کیا بولنا ہے، سب کچھ ایسے ہی چلے گا یا ٹھپ ہو گا۔

یہ سوچ کر صبر کر لیا تھا کہ سٹاکی سے بات ہو گئی۔ سٹاکی سارا دن سیٹھوں کے مگرے چلا رہتا تھا جب سیٹھ تھک کر کہیں گر کے سو جائیں تو یہ تازہ حالات بتانے کو فون گھما لیتا ہے۔
روپیہ کھلا چھوڑ دیا جاوے ڈالر کے مقابلے پر یہ کپتان الیکشن جیتنے سے پہلے بھی کہتا رہا۔ اسد عمر کا بھی یہی خیال ہے۔ خیال ایسا برا بھی نہیں ہے بس اک زور آوے گا وہ سہہ لیا گیا تو روپیہ بھی اک دن تگڑا ہو ہی جاوے گا۔

ہماری اکنامک ٹیم نوے بلکہ اسی ماڈل کی ہے۔ وہی بڈھے بڈھے ٹلے ٹلے ماہرین ہیں جو ہر حکومت کا ناس مارتے ہیں۔ درجن ڈیڑھ بابے ہیں جو ہماری معیشت کے مستری ہیں۔ یہ روپے کو ڈالر سے کھلا لڑانے پر تیار نہیں ہیں۔ اک کنٹرول کے ساتھ ریٹ کو بڑھاتے گراتے ہیں جو ویسے صرف بڑھتا ہی ہے۔

Read more

جاگنگ، لڑکی اور ٹی شرٹ

پارک میں کڑیاں جاگنگ کرتی ہیں۔ یہ سن کر ہم سے رہا نہیں گیا تھا۔ مشر کی قیادت میں ہم لوگ جوگرز پہن کر پارک پہنچ گئے تھے۔ دو تین کلومیٹر کا جاگنگ ٹریک دیکھ کر ہی بخار ہو گیا تھا۔

ٹریک کے شروع میں ہی ہم لوگ اک بنچ پر ڈھیر ہو گئے۔ ڈیرانی ٹریک سوٹ پہن کر آیا تھا۔ اس نے ہم سے کہا کہ تم دونوں مرو ادھر ہی میں جا رہا دوڑ لگانے۔ یہ کہہ کر وہ الٹی سائڈ سے روانہ ہو گیا۔ مشر نے بہت غور سے جائزہ لے کر بتایا کہ اک آنٹی پارک میں واقعی گھوم رہی ہے۔

مشر نے کہا رازہ (چلو) ہم چل پڑے۔ ٹریک چھوڑ کر درمیان سے کراس مارتے ہوئے اک مناسب مقام پر ٹریک پہ چڑھ گئے۔ اب آنٹی ہمارے پیچھے دوڑتی آ رہی تھی۔ ڈیرانی سامنے سے آ رہا تھا۔
آنٹی نے دوڑتے ہوئے ہمیں اوور ٹیک کیا۔ سامنے سے ڈیرانی آ رہا تھا۔ اس کمبخت کو اس کے لمبے قد کی وجہ سے ڈیرانی کہتے تھے۔ ہم سب کئی سال یہی سمجھتے رہے کہ ڈیران (کوڑا پھینکنے کی جگہ ) سے ڈیرانی بنایا ہے۔

Read more

منظور پشتین کی تحریک پر محمود خان اچکزئی کی سیاست کے لہراتے سائے

بلوچستان میں آج کل سب ہی تیرا غم میرا غم الیکشن کا گیت گا رہے ہیں۔ جو دو ہزار اٹھارہ میں جیتے ہیں، انہیں دو ہزار تیرہ میں جیتنے والے کہہ رہے کہ دھاندلی سے جیتے ہو۔ آگے سے وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم دھاندلی سے جیتے تو تم کون سا فری اینڈ فئیر الیکشن میں جیتے تھے۔ سیاستدانوں کا آپسی مذاق تو چل رہا ہے۔ محمود خان اچکزئی سے الیکشن کی ہار برداشت نہیں ہوئی۔ وہ سرگرم ہو چکے ہیں۔

آج کل لندن میں موجود بتائے جاتے ہیں۔ پہلے کابل جا کر بیٹھ گئے تھے۔ سابق افغان صدر صبغت اللہ مجددی کی وفات پر تعزیت کرنے گئے تھے۔ اور ایسے گئے کہ وہیں بیٹھے رہے۔ محمود خان اچکزئی کو ان کے چاہنے والے گران مشر بھی کہتے ہیں۔ ہمارے گران مشر کابل میں قومی خدمت کرنے میں مصروف تھے۔
قسمے بتا تو دوں کہ کیا کر رہے تھے لیکن یہ بالکل معلوم نہیں کہ بتانا بھی ہے کہ نہیں۔

Read more

کیا اٹھارہویں ترمیم ختم کرنے کے لئے بیرونی پریشر بھی ہے؟

آئی ایم ایف کی ٹیم اور اے پی جی کی ٹیم اکٹھے ہی پاکستان میں تھے۔ آئی ایم ایف تو ظاہر ہے ساہوکار ہے نبض دیکھنے آئے تھے کہ یہ کرو وہ کرو، مرو، پھر پیسے دیں گے۔ اے پی جی منی لانڈرنگ دہشت گردی کی فائنانسنگ پر مشترکہ اسیسمنٹ کرنے آئے تھے۔ انہوں نے گرے لسٹ میں ڈالا تو ایف اے ٹی ایف بلیک کرے ہی کرے۔ اے پی جی میں ہمارے دوست ملک بھی زور میں ہیں مثلا

Read more

کپتان کی دھمکی اور شاہ محمود کے بارے میں خبریں

”ایسا نظام بن گیا ہے کہ سرکاری ادارے حکومت سے اپنی زمینیں چھپا رہے ہیں“۔ کپتان کا یہ بیان سن کر یہی لگتا ہے کہ بابو لوگوں نے اس حکومت کی فائلیں اب لمبی لمکا دینی ہیں۔ بیان میں تو کچھ نہیں ہے، بس سرکار اور بابو لوگوں میں اختلاف کا پتہ دیتا ہے۔ اسلام آباد میں یہ بیان ایسے بالکل نہیں لیا گیا۔ یہاں گپ یہ شروع ہو گئی کہ اس کا مخاطب بابو لوگ تھے ہی نہیں۔ یہ زمینوں والی بات ”ان کو“ سنائی گئی ہے۔ نجم سیٹھی نے اپنے پروگرام میں کچھ دن پہلے ذکر کیا تھا، اک دھمکی کا جو کپتان نے دی ہے کہ اگر مجھے میری مرضی نہیں کرنے دینی۔ حکومت ویسے نہیں چلانے دینی جیسے میں چاہتا ہوں، تو پھر چلا لیں آپ خود ہی۔

کپتان کا دل اس وقت تھانیدار ہونا چاہ رہا کہ بس وہ کرپٹوں کو لمبا ڈال لے۔ ان کی چیخیں چیک کرے اربوں ڈالر نکلوائے۔ ان کی ناک سے لکیریں نکلوائے نواں پاکستان بنا ہوا دکھائے۔ یہ بھی بتائے کہ دیکھو ایسی ہوتی ہے جمہوریت۔ پر مرنا یہ ہے کہ اکانومی کی حالت پتلی ہے۔ ہر صورت قرضہ امداد چاہیے، جن کے پاس پیسے ہیں وہ پہلا مطالبہ ہی سیاسی استحکام لانے کا کر رہے۔

Read more

چل کر تو دیکھو، رانجھا کیا کہتا ہے

رانجھا اپنے باپ کا لاڈلہ بیٹا تھا۔ باپ نہ رہا تو زندگی بھی اس کی پہلے جیسی نہ رہی۔ بھائیوں نے اس کو بوجھ سمجھ کر الگ کر دیا۔ اس کو اپنے حصے میں جو زمین ملی وہ بھی بنجر تھی۔ کاشتکاری اسے آتی بھی نہ تھی، اس سے یہ ہونی بھی مشکل تھی کہ باپ کے ہوتے کبھی کام کیا ہی نہ تھا۔ باپ موجود تھا تو شہزادوں کی زندگی گزارتا تھا۔ اٹھتی جوانی تھی مستی تھی خوشحالی تھی۔ اس کی زندگی خوابوں جیسی تھی۔ ایسی جیسا جوانی کا گیت ہوتا ہے۔

باپ کا آسرا تھا، خوشحالی تھی، حسینوں کا مرکز نگاہ بن گیا تھا رانجھا۔ جب خوار ہوا تو دنیا نے طعنے دیے۔ شاید سہہ لیتا لیکن جب گھر سے بھی دشنام ملی تو اس کی بس ہو گئی۔ فصل ہوتی نہ تھی جو لوگ باپ کی وجہ سے پہلے اس کی شرارتوں کو نظر انداز کرتے تھے، اب اس کی شکائتیں لگانے لگے۔ گھر والے تنگ ہوئے تو طعنے ملنے لگے گھر سے ہی۔ اسے اس کی بھابھیوں نے کہا کہ بڑا محبوب بنا رہتا تھا حسن والوں کا۔ اپنے سر پڑی تو تارے دکھائی دینے لگے۔ اب تگڑا ہو کچھ کر کے دکھا، اب تمھیں کوئی یہاں منہ نہیں لگاتا تب لگتا تھا کہ ہیر بیاہ کر لائے گا۔

Read more

سائیں بزدار ، یہ بچہ مار کھاتا رہے گا ؟

ایک روز سائیں آ دھمکے، فرمایا، وزیراعلیٰ کا ریٹائرمنٹ پیکیج ہونا چاہئے، پوچھا گیا، کیا ہونا چاہئے، بولے، سوچ کر بتاتا ہوں، دو تین دن بعد سائیں جو وزیراعلیٰ ریٹائرمنٹ پیکیج لائے وہ کچھ یوں تھا، سابق وزیراعلیٰ کو 3گاڑیاں، 10سیکورٹی گارڈز، 2کلرک، ایک پرسنل سیکریٹری، لاہور میں ایک گھر مع یوٹیلیٹی بلز، علاج کی سہولت، ٹیلی فون بل، دو گاڑیاں، دو ڈرائیور ملیں اور یہ سب عمر بھر کیلئے، بات اسپیکر پرویز الٰہی تک پہنچی تو انہوں نے سائیں

Read more

اسد منیر صاحب ، عزت آپ کو جان سے زیادہ پیاری تھی

بریگیڈئر اسد منیر نے نیب سے تنگ آ کر خودکشی کی ہے۔ انہوں نے ایک خط چیف جسٹس کے نام چھوڑا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ میں اس امید پر جان دے رہا ہوں کہ آپ نیب کو ٹھیک کریں گے کہ وہ لوگوں کی عزت سے نہ کھیلے۔

اپنے خط میں انہوں نے یہ بھی لکھا کہ مجھ سے جو لوگ تفتیش کرتے تھے۔ وہ بددماغ تھے انہیں اپنا کام نہیں آتا تھا وہ سرکاری اداروں کے کام کرنے کے طریقہ کار تک سے واقف نہیں تھے۔ بریگیڈئر صاحب اکثر ٹی وی پر بطور تجزیہ کار آتے تھے۔ انہیں بہت کم سنا پھر بھی رٹائر لوگوں سے کچھ بہتر سا تاثر لگا ان کا، یہ پشاور میں سٹیشن چیف بھی رہے انٹیلی جنس کے، نیب میں بھی رہے۔

Read more

استاد عمل خان کا سماج سدھار اسلحہ اور عشق محبت

یہ دیکھنے میں پستول سا تھا۔ گولی اس میں بندوق کی پڑتی ہے اگر کسی کو لگ گئی تو وہ گولی سے مرا نہ مرا اس طمانچی کی شکل دیکھ کر ضرور مر جائے گا۔ ماما نے خان کو ہدایات دیں اور ساتھ اک عدد بھرا ہوا سگریٹ بھی پیش کیا کہ یہ گولی چلانے سے پہلے پینا ہے، تمھیں پرسکون رکھے گا۔

ایک دو دن بعد ماما کا فون آیا کہ جلدی سے ہسپتال پہنچو۔ بھاگم بھاگ ایمرجنسی پہنچا تو ماما اسی تتر بتر خان کو مزید مفلوک الحال صورت میں باہر لا رہا تھا، خان باقاعدہ دیوانوں جیسی باتیں کر رہا تھا۔ ماما نے وہیں سے چرسی تکہ کی جانب جانے کو کہا۔ خان صاحب کی آنکھ پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور بڑے ڈیزائن کے ساتھ پستول کی نال بنا کر آنکھ کو نمایاں کرا رکھا تھا مجھے یقین تھا کہ یہ ڈیزائن ماما کی ذاتی دلچسپی سے ہی بنایا گیا ہے۔

ہاتھ پر بھی اک دو سٹکر لگے ہوئے تھے البتہ زیادہ درد اس کو کمر پر ہوتا محسوس ہو رہا تھا کہ بار بار اس جانب ہاتھ لے جا رہا تھا۔ تکے کھاتے ہوئے خان سے پوچھا کہ کیا ہواتھا؟ اس نے کہا یار پتہ نہیں کیا ہوا۔ میں گھر میں بیٹھا اسلحہ چیک کر رہا تھا۔ اس سے پہلے ایک سوٹا لگا چکا تھا۔ بکری بہت ہی میں میں کر رہی تھی۔ بس دماغ گھوم گیا اس پر فائر کیا۔ بہت خوفناک اسلحہ ہے۔ بکری بھی مر گئی اور میں بھی زخمی ہو گیا۔

Read more

کہانی کھوتوں سے وطن کی خدمت لینے کی

میری بطور جوہری تربیت ہو رہی تھی۔ فرم کا امریکی مالک مجھے گھنٹوں اپنے پاس بٹھائے رکھتا اور مجھے قیمتی پتھروں بارے بتایا کرتا۔ کچھ سمجھ آتا اور زیادہ تر نہیں آتا تھا۔ اس دوران مالک کی بیوی نے ایک دن مجھے کچھ پھول تحفہ دیے۔ آدھے گھنٹے میں ہی جب میں آخری پھول کھا رہا تھا تو پکڑا گیا۔غم غصہ اکٹھے ہو تو کیسا ہوتا اسی دن شاید پتہ لگا تھا۔ وہ سامنے بیٹھ کر کئی منٹ مجھے گھورتی رہی۔ اس نے پوچھا بھی تو بس اتنا کہ ’آر یو گوٹ اور وٹ؟ ‘ یعنی مجھ پر بکری یا بکرا ہونے کا شبہ کر رہی تھی۔ میں نے اس کو ایک پھول پیش کیا اور کہا ’مائی کھا کر دیکھ‘۔ آخری آدھا پھول پھر اسی نے کھایا۔یہ سارا سین جس یار نے دیکھا تھا اس نے سارے دفتر میں یہ قصہ سنا دیا میں نے اسی کارکردگی کی وجہ سے اس کا نام بھیڈو رکھ دیا۔ وہ فرانس جا چکا ہے لیکن آج تک بھیڈو ہی کہلاتا ہے۔ ہم جب بھی ملیں اکیلے ہوں تو بھیڈو کی جانب ہاتھ کروں تو وہ کسی چھترے یا بکرے کی طرح اس پر ٹکر مارتا ہے۔ اس نے نام ہی نہیں قبول کیا اس میں بھیڈو کی صلاحیتیں بھی پیدا ہو گئی ہیں۔

Read more

فاسٹ باؤلروں کی چالاکیاں

پشاور کے ایک مشہور فاسٹ بالر تھے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے میں ایک بار پانچ وکٹیں لے بیٹھے۔ قومی ٹیم میں شامل رہے تھوڑا عرصہ لیکن کرکٹ بورڈ میں افسری کرتے عمر بتا دی۔ ایک فسٹ کلاس میچ کے دوران موصوف کو نہایت تسلی سے مار پڑی۔ ان کو اتنے چوکے چھکے لگے کہ انہیں کرکٹ سے نفرت ہو گئی ہو گی۔ ہمارے مشر کی ممتا کبھی کبھار ہی جاگتی ہے۔ جب جب جاگی ہے اس کی اپنی تو پھر بہترین ہوئی ہے لیکن اس کے ساتھ والوں کی بھی برابر ہوئی ہے۔ساتھ والوں کو محسوس زیادہ ہوتی ہے کہ ان کا قصور کوئی نہیں ہوتا۔ مشر نے پشوری فاسٹ بالر کو گدڑ کٹ کھاتے دیکھا تو اس سے رہا نہ گیا۔ ہم سب کو حکم دیا کہ اج اور ابھی سب اسی سے جا کر آٹو گراف لیں گے۔ یہ ہمارے شہر کا ہے۔ یہ کٹ کھائے یا کسی کو پھینٹی لگائے ہمیں اس سے پیار ہے۔ مشر نے ممتا بھرا منہ بنایا اور ہماری قیادت کرتے ہوئے آٹو گراف لینے چلا گیا۔ ہمارے پشوری فاسٹ بالر کو آگ لگ گئی جب اس سے آٹو گراف مانگا مشر نے۔

Read more

اپنے فاٹا والے سینہ چاک اور تاریخ کے پیوند

پاکستان کا قبائلی علاقہ فاٹا، وہاں قدم رکھیں لفظ اپنے مطلب بدل لیتے ہیں۔ فاٹا والے اپنا پسینہ بہا کر تجارت سے رزق حلال کماتے ہیں۔ اسے باقی پاکستان میں بڑے آرام سے منہ ڈھیلا کر کے اسمگلنگ کہہ لیا جاتا ہے۔ یہ سوچے بغیر کہ ہم کیسے لوگ ہیں۔ ہمارے اپنے لوگ آج بھی اپنے رزق کے لئے افغان ٹرانزٹ کی سہولت کے محتاج ہیں۔ یعنی ہیں پاکستانی لیکن ان کی معاش افغانستان سے جڑی ہوئی ہے۔پھر ہم یہ بھی سوچتے ہیں کہ فاٹا والے افغانستان کے حوالے سے اتنے حساس کیوں ہیں۔ بھائی ان کی روزی روٹی وہاں سے جڑی ہوئی ہے۔باقی پاکستان میں پولیس ملزم کے پیچھے ماری ماری پھرتی ہے۔ اس کے گھر والوں کو تفتیش کے لئے تھانے بلایا جائے تو میڈیا میں ات چک دی جاتی ہے۔ فاٹا میں ایف سی آر کا قانون رہا ایک بندے کے جرم میں دس دس لوگوں کو سزا جرمانے ہونا عام بات رہی ہے۔ جرم کرنے والا بھلے آزاد پھر رہا ہو اس کے چاچے مامے بھائی والد بحق سرکار ضبط ہوئے پڑے ملتے تھے۔

Read more

جوا اب شرفا کا کھیل نہیں رہا ہے

سکول میں شرطوں پر ہمیں جے جے نے لگایا تھا۔ جے جے کون تھا یہ رہنے دیں۔ کروڑ کروڑ کی ہم شرطیں لگاتے تھے۔ ہارنے والا کروڑوں کا مقروض ہو جاتا۔ تب تک وہ مقروض رہتا جب تک کوئی شرط جیت کر ادھار چکا نہیں دیتا تھا۔ یہ سارا لین دین زبانی اور ہوائی ہوتا تھا۔ لین دین والی شرط ایک دو سموسے یا کوک کی بوتل پر لگا کرتی تھی۔ کون لمبی جمپ لگائے گا کون ریس جیتے گا۔ کون کس کو چھکا مارے گا۔ بچوں والی چھوٹی چھوٹی باتیں۔جے جے ایک نہایت قاتل شرط بھی لگایا کرتا۔ وہ کوئی دعوی کرتا ہم لوگ اعتراض کرتے تو وہ کہتا چلو پھر لگاؤ۔ کوئی بھی نہ لگاتا۔ کیسے لگاتا کون لگاتا اپنی عزت داؤ پر وہ بھی پشاور میں۔ سب مان جاتے کہ وہ سچا ہے اور ہم بغیر شرط لگائے اس کی فتح تسلیم کر لیتے۔ میڈیا سے تعلق ہوا تو کبھی کسی خبر کی تصدیق کے لئے کسی ہم جماعت سے رابطہ کرنا پڑ جاتا ہے۔ تصدیق کا بس ایک ہی سادہ طریقہ ہے کہ اچھا اگر غلط ہوئی تو پھر جے جے والی تیسری شرط۔

Read more

یہ پکی یاری آخر لگتی کیسے ہے

جمالے کو اسلام آباد آئے کئی ہفتے ہو گئے ہیں۔ نہ اس نے آنے کا بتایا۔ نہ اپن نے سن کر اس سے رابطہ کرنے کی زحمت کی۔ یہ عثمان قاضی کی طرف ٹہرا ہوا ہے۔ اس کی لائبریری میں۔ دو تین دن بعد قاضی کو اس کی شکایت ضرور لگا دیتا ہوں۔ قاضی اسے نکال دے۔

کافی پلانٹ والے کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔ وہ جب کچھ کرتے ہیں اپن غائب ہو جاتا ہے۔ تب سنگت کا خیال آتا ہے کہ پتہ نہیں کیسا چل رہا۔ یا ادھر کسی مہمان کو روانہ کر دیتا ہوں یا خود پہنچتا ہوں۔ پھر فرنود کو رپورٹ دیتا ہوں۔ وہ مجھے کھاتا چیک کر بتا دیتا ہے کہ آج کیا کارروائی رہی۔

Read more