دفاع میں خچروں کا کردار

پاکستان بھر میں بینر لگے ہوئے ہیں۔ راحیل صاحب کا منت ترلا ہو رہا ہے کہ جانے کا سوچیں بھی مت، آنے والی کریں۔ ایسے میں جب حکومت ڈر کے میز کے تھلے چھپی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ ایک ایم این اے صاحب نے ایک وڈا سا سانڈ کھول رکھا ہے جو اپنی ہی حکومت کو سینگوں پر اٹھائے پھر رہا ہے۔

آج قومی اسمبلی کی دفاعی امور کے لئے قائمہ کمیٹی کا اجلاس تھا۔ شیخ روحیل اصغر اس کے چیئرمین ہیں۔ شیریں مزاری بھی اس کمیٹی کی رکن ہیں۔ اس اجلاس میں چھوٹے چھوٹے ایشوز چینی آبدوزوں پر کمیٹی کو بریفنگ، بھارت کے ساتھ سرکریک مسئلے پر بریفنگ وغیرہ کے معاملات تو فوری طے ہو گئے۔

Read more

خدا کو اب دل میں ہی رکھیں

خدا کے ساتھ ذاتی تعلقات نہایت خوشگوار بھی ہیں اور دوستانہ بھی۔ یہ تعلقات ایک دن میں ایسے نہیں ہوئے۔ پہلے غلامانہ رہے پھر تابعداری کے درجے میں آئے۔ ایک وقت لگا انہیں خوشگوار اور دوستانہ ہونے میں۔

ہم ابھی چھوٹی کلاسوں میں ہی تھے جب پہلی بار ایک بڑے دھماکے کی آواز سنائی دی۔ کسی توپ سے گولہ داغ دیا گیا تھا یا شاید کسی جہاز نے ساؤنڈ بیرئیر توڑا تھا۔ ایک ہم جماعت نے ہماری کلاس ٹیچر سے پوچھا مس کیا روس آ گیا۔

اب ضروری ہو گیا تھا کہ روس کا پتہ کریں۔ جلدی پتہ لگ گیا۔ کچھ محلے کی مسجد میں مولوی صاحب نے بتایا۔ کچھ مدد نسیم حجازی نے کی، حالانکہ انہوں نے براہ راست کچھ بھی نہیں کہا تھا۔ یہ ہم ہی تھے جو ایسا سمجھے کہ یہی کہہ رہے ہیں۔ پتہ لگایا اتنی سی سمجھ آئی کہ روسی خدا کو نہیں مانتے۔

Read more

سیاستدان فوج جیسی کوالٹی بھی تو لائیں

محمود خان اچکزئی نے ایک بار سیاپا کرتے ہوئے کہا کہ فوج نے پچاس کی دہائی میں فیصلہ کیا کہ نیشنل سیکیورٹی کونسل بننی چاہیے کتنی دہائیاں بیت گئیں فوج کے ادارے کا موقف یہی رہا کہ یہ بننی چاہیے کیونکہ ادارے نے یہ موقف کوئی ہوم ورک کر کے اختیار کیا تھا۔ اس کے برعکس سیاستدان بیان دینے کے بعد ابھی اس کی گونج ختم نہیں ہوتی کہ اپنی ہی بات کی مخالفت شروع کر دیتے ہیں اسی سیکیورٹی کونسل کے مسئلے پر سیاستدانوں کا موقف مختلف برسوں، مہینوں اور ہفتوں میں مختلف ہوتا ہے۔

فوج میں بھی ایسے خاندان ہیں جو کئی نسل سے فوج ہی میں آ رہے ہیں، شجاعت اور حوصلے کی ایک تاریخ بناتے ہیں جو اگلی نسل کو منتقل ہو جاتی ہے لیکن وہاں ایک فرق ہے۔ ضروری نہیں کہ جرنیل کا بیٹا جرنیل ہی بنے وہ نچلے عہدوں پر بھی ریٹائر ہو جاتا ہے جبکہ حوالدار کے بچے اگر فوج میں آئیں تو چیف کے عہدے تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔ جنرل موسی خان سپاہی سے آرمی چیف بننے کی الگ مثال کے طور پر بھی موجود ہیں۔

Read more

وہ لڑکی پاکستانی ہو کر بھی اتنی بولڈ کیوں تھی؟

اٹھارہ گھنٹے کمپیوٹر پر بیٹھنا ہوتا تھا کہ ذمہ داری یہ تھی کہ نیوز سائٹ اپ ڈیٹ کرتا رہوں۔ ساری رات بیٹھا رہتا صبح سویرے پیدل گھر جاتا۔ تھوڑا آرام کر کے کھانا کھا کر واپس آ جاتا۔ پھر یہی روٹین جاری ہو جاتی۔ واحد تفریح یہ تھی کہ ایک آن لائین چیٹ روم کا ممبر تھا جہاں سب اپنے جیسے ہی ویلے اور لوفر اکٹھے تھے۔ لڑکیاں بھی تھیں لڑکے بھی۔ ہم فیملی کی طرح تھے، کزنوں اور دوستوں کی طرح گپ لگایا کرتے تھے۔

ایک رات جب چیٹ روم میں جھانکا تو وہاں کڑی بیٹھی تھی کہ اس نے اپنے لیے یہی آن لائین نام رکھا تھا۔ گروپ کے سارے لوفر جی جان سے اس کے پیچھے پڑے ہوئے تھے اسے چھیڑ رہے تھے۔ وہ بھی پٹر پٹر جواب دے رہی تھی۔ خوب رونق لگی ہوئی تھی۔ گروپ کی باقی لڑکیوں کو آگ لگی ہوئی تھی۔ ان کی شکایتیں سنیں۔ گروپ چیٹ کا چپ چاپ بیٹھ کر جائزہ لیا۔

Read more

استاد محترم کی گمشدہ پینٹ اور عظیم لیڈر کی وفات

دوپہر ہونے کو آئی تھی اور ہم سوئے پڑے تھے۔ ٹیلی فون چپ ہونے میں ہی نہیں آ رہا تھا۔ نیند میں ہی اٹھایا تو استاد محترم کی آواز آئی کہ یار جلدی سے گھر جا، میری پینٹ لے کے آ۔ نیند میں تھا اس لئے وجہ سمجھ نہ آئی کہ استاد محترم آج بریکنگ نیوز دینے پینٹ پہنے بغیر کیسے دفتر پہنچ گئے ہیں۔ الہی رحم، ایسی کون سی خبر ہے جو یوں جذباتی ہو کر چلانے نکلے ہیں ہمارے استاد محترم۔ہم ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ استاد اپنی آئی پر آ گئے اور لگے دھمکانےکہ ابے اٹھے گا کہ نہیں یا ننگا ہی پھروں۔

Read more

شاہ محمود نہیں اب شاہد خاقان وزیراعظم کے امیدوار بن چکے ہیں

قریشی صاحب کی آج کل ویسے ہی سختی آئی ہوئی ہے۔ ان کے پارٹی قائد انہیں اگلا وزیر اعظم سمجھ کر ان پر خصوصی شفقت فرما رہے ہیں۔ یہ خبر پرانی ہو چکی۔ اب وزیراعظم کا اک اور امیدوار سامنے ہے۔ آزمایا ہوا بھی، دیکھا بھالا بھی اور اپنا اپنا سا بھی۔

چوھدری شجاعت حسین کی نواز شریف سے ملاقات کا آج کل چرچا ہے۔ کچھ لوگوں کے خیال میں یہ ملاقاتیں ایک سے زیادہ بار ہوئی ہیں۔ ملک ریاض بھی جا کر ایک ملاقات کر آئے ہیں۔ انہوں نے سیاسی اندھیرے ہٹانے کو بہت فوری شمسی قمری نسخے بھی پیش کیے ہیں۔
پہلے کہا جا رہا تھا کہ اگر میاں صاحب کچھ باتیں مان جائیں تو اسی اسمبلی سے شاہد خاقان عباسی اگلے وزیراعظم ہو سکتے ہیں۔

Read more

کپتان کے خلاف بہترین منصوبہ کس نے بنایا ہوا ہے؟

بلاول بھٹو نے ساری اپوزیشن بلکہ تھوڑی سی حکومت کو افطاری پر کیا بلایا۔ پی ٹی آئی میں کرنٹ ہی پھر گیا۔ یہ تھوڑی سی حکومت کا الزام بی این پی مینگل پر لگایا ہے، لگتا بھی ہے۔ بیچارے حکومت میں بیٹھے ہیں کوئی سنتا پوچھتا ہے ہی نہیں۔

اس افطاری کو لے کر وزیروں نے خوب نشانے لگائے۔ ابو بچاؤ تحریک کے طعنے بھی دیے۔ بلاول اور مریم ہی دو اپوزیشن کے لوگ تھے جو کسی بھرپور تحریک کو فوری شروع کرنے سے اب بھی گریز ہی کر رہے ہیں۔ انہی دونوں لیڈروں کے ابا جی بظاہر پی ٹی آئی حکومت نے گھیر رکھے ہیں۔

حامد میر نے ایک ٹی وی پروگرام میں شرارتی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان افطاری پر نہیں پہنچے۔ انہیں بلاول نے فون بھی کیا کہ آپ نہیں آئے تو میں افطاری نہیں کروں گا۔ اس کے باوجود وہ افطاری پر نہیں پہنچے اس کے بعد آئے۔ انہوں نے گھر پر خود مہمان بلا رکھے تھے۔

Read more

کپتان تمہاری تبدیلی مر رہی ہے

جب کہیں کوئی اپنے نقصان کو رو رہا ہوتا ہے ۔ تب وہیں کوئی اپنے فائدوں کا جشن منا رہا ہوتا ہے۔ ایک کمپنی جب اپنے آدھے ملازم فارغ کر دے تو ان کے گھروں میں روٹی کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ ساتھ ہی اس کمپنی کے شئر کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔کیوں ؟ اس لیے کہ آدھے ملازموں کو فارغ کر کے کمپنی خرچہ بچا لیتی ہے پرافٹ میں چلی جاتی ہے

Read more

شہباز شریف کی روانگی ، مریم نواز کی جارحانہ واپسی؟

نون لیگ کی حکومت نہ ہو ۔ تو شہباز شریف بھی راڈار پر نہیں ہوتے۔ یہ حکومت جاتی ہے اور چھوٹے میاں صاحب لندن میں نمودار ہوتے ہیں۔ سیاست میں انکی مہارت انتظامی شعبے میں ہی ہے۔ حکومت ہو اختیار ہو تو انگلی ہلا ہلا کر کام کرواتے رہتے ہیں۔ افسروں کی جان عذاب میں ڈالے رکھتے ہیں۔چھاپے تبادلے معطلیاں کرتے اپنے پارٹی قائد کے دیے گئے ٹارگٹ پورے کرتے رہتے ہیں۔ اینٹ سریا سیمنٹ کے سیانے ہیں۔ بڑے بڑے پراجیکٹ میں ہاتھ ڈالتے ہیں، پورے بھی کر لیتے ہیں

Read more

پیارے کپتان ، کیا آپ اسلامیہ کالج کو بچاؤ گے ؟

پختون پاکستان میں ہر طرف دکھائی دیتے ہیں۔ انتظامی عہدے ہوں ، سیاسی ہوں ، فوج کے اعلی افسران ہوں سفارتکار ہوں، ڈاکٹر ہوں انجینیر یا سائنسدان۔اک طویل لسٹ ہے ایسے لوگوں کی جو اپنے شعبے میں مہارت رکھتے ہیں، نامور ہیں، نیک نام بھی۔ ان کامیابیوں کے پیچھے کے پی کے کا تعلیمی نظام تھا۔ یہ نظام بڑی حد تک سیاسی مداخلت سے پاک رہا۔وجہ یہی سمجھ آتی ہے کہ باچا خان کی فکر بھی تھی۔ مقامی لوگوں کا اپنی طلب بھی تھی تعلیم کئی قسم کی آلودگیوں سے پاک رہی۔ استاد کے منصب کا احترام کیا جاتا رہا۔ کئی سکول کالج اپنے اساتذہ کے حوالوں سے مشہور ہوئے۔

Read more