چل کر تو دیکھو، رانجھا کیا کہتا ہے

رانجھا اپنے باپ کا لاڈلہ بیٹا تھا۔ باپ نہ رہا تو زندگی بھی اس کی پہلے جیسی نہ رہی۔ بھائیوں نے اس کو بوجھ سمجھ کر الگ کر دیا۔ اس کو اپنے حصے میں جو زمین ملی وہ بھی بنجر تھی۔ کاشتکاری اسے آتی بھی نہ تھی، اس سے یہ ہونی بھی مشکل تھی کہ باپ کے ہوتے کبھی کام کیا ہی نہ تھا۔ باپ موجود تھا تو شہزادوں کی زندگی گزارتا تھا۔ اٹھتی جوانی تھی مستی تھی خوشحالی تھی۔ اس کی زندگی خوابوں جیسی تھی۔ ایسی جیسا جوانی کا گیت ہوتا ہے۔

باپ کا آسرا تھا، خوشحالی تھی، حسینوں کا مرکز نگاہ بن گیا تھا رانجھا۔ جب خوار ہوا تو دنیا نے طعنے دیے۔ شاید سہہ لیتا لیکن جب گھر سے بھی دشنام ملی تو اس کی بس ہو گئی۔ فصل ہوتی نہ تھی جو لوگ باپ کی وجہ سے پہلے اس کی شرارتوں کو نظر انداز کرتے تھے، اب اس کی شکائتیں لگانے لگے۔ گھر والے تنگ ہوئے تو طعنے ملنے لگے گھر سے ہی۔ اسے اس کی بھابھیوں نے کہا کہ بڑا محبوب بنا رہتا تھا حسن والوں کا۔ اپنے سر پڑی تو تارے دکھائی دینے لگے۔ اب تگڑا ہو کچھ کر کے دکھا، اب تمھیں کوئی یہاں منہ نہیں لگاتا تب لگتا تھا کہ ہیر بیاہ کر لائے گا۔

Read more

سائیں بزدار ، یہ بچہ مار کھاتا رہے گا ؟

ایک روز سائیں آ دھمکے، فرمایا، وزیراعلیٰ کا ریٹائرمنٹ پیکیج ہونا چاہئے، پوچھا گیا، کیا ہونا چاہئے، بولے، سوچ کر بتاتا ہوں، دو تین دن بعد سائیں جو وزیراعلیٰ ریٹائرمنٹ پیکیج لائے وہ کچھ یوں تھا، سابق وزیراعلیٰ کو 3گاڑیاں، 10سیکورٹی گارڈز، 2کلرک، ایک پرسنل سیکریٹری، لاہور میں ایک گھر مع یوٹیلیٹی بلز، علاج کی…

Read more

اسد منیر صاحب ، عزت آپ کو جان سے زیادہ پیاری تھی

بریگیڈئر اسد منیر نے نیب سے تنگ آ کر خودکشی کی ہے۔ انہوں نے ایک خط چیف جسٹس کے نام چھوڑا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ میں اس امید پر جان دے رہا ہوں کہ آپ نیب کو ٹھیک کریں گے کہ وہ لوگوں کی عزت سے نہ کھیلے۔

اپنے خط میں انہوں نے یہ بھی لکھا کہ مجھ سے جو لوگ تفتیش کرتے تھے۔ وہ بددماغ تھے انہیں اپنا کام نہیں آتا تھا وہ سرکاری اداروں کے کام کرنے کے طریقہ کار تک سے واقف نہیں تھے۔ بریگیڈئر صاحب اکثر ٹی وی پر بطور تجزیہ کار آتے تھے۔ انہیں بہت کم سنا پھر بھی رٹائر لوگوں سے کچھ بہتر سا تاثر لگا ان کا، یہ پشاور میں سٹیشن چیف بھی رہے انٹیلی جنس کے، نیب میں بھی رہے۔

Read more

استاد عمل خان کا سماج سدھار اسلحہ اور عشق محبت

یہ دیکھنے میں پستول سا تھا۔ گولی اس میں بندوق کی پڑتی ہے اگر کسی کو لگ گئی تو وہ گولی سے مرا نہ مرا اس طمانچی کی شکل دیکھ کر ضرور مر جائے گا۔ ماما نے خان کو ہدایات دیں اور ساتھ اک عدد بھرا ہوا سگریٹ بھی پیش کیا کہ یہ گولی چلانے سے پہلے پینا ہے، تمھیں پرسکون رکھے گا۔

ایک دو دن بعد ماما کا فون آیا کہ جلدی سے ہسپتال پہنچو۔ بھاگم بھاگ ایمرجنسی پہنچا تو ماما اسی تتر بتر خان کو مزید مفلوک الحال صورت میں باہر لا رہا تھا، خان باقاعدہ دیوانوں جیسی باتیں کر رہا تھا۔ ماما نے وہیں سے چرسی تکہ کی جانب جانے کو کہا۔ خان صاحب کی آنکھ پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور بڑے ڈیزائن کے ساتھ پستول کی نال بنا کر آنکھ کو نمایاں کرا رکھا تھا مجھے یقین تھا کہ یہ ڈیزائن ماما کی ذاتی دلچسپی سے ہی بنایا گیا ہے۔

ہاتھ پر بھی اک دو سٹکر لگے ہوئے تھے البتہ زیادہ درد اس کو کمر پر ہوتا محسوس ہو رہا تھا کہ بار بار اس جانب ہاتھ لے جا رہا تھا۔ تکے کھاتے ہوئے خان سے پوچھا کہ کیا ہواتھا؟ اس نے کہا یار پتہ نہیں کیا ہوا۔ میں گھر میں بیٹھا اسلحہ چیک کر رہا تھا۔ اس سے پہلے ایک سوٹا لگا چکا تھا۔ بکری بہت ہی میں میں کر رہی تھی۔ بس دماغ گھوم گیا اس پر فائر کیا۔ بہت خوفناک اسلحہ ہے۔ بکری بھی مر گئی اور میں بھی زخمی ہو گیا۔

Read more

کہانی کھوتوں سے وطن کی خدمت لینے کی

میری بطور جوہری تربیت ہو رہی تھی۔ فرم کا امریکی مالک مجھے گھنٹوں اپنے پاس بٹھائے رکھتا اور مجھے قیمتی پتھروں بارے بتایا کرتا۔ کچھ سمجھ آتا اور زیادہ تر نہیں آتا تھا۔ اس دوران مالک کی بیوی نے ایک دن مجھے کچھ پھول تحفہ دیے۔ آدھے گھنٹے میں ہی جب میں آخری پھول کھا رہا تھا تو پکڑا گیا۔غم غصہ اکٹھے ہو تو کیسا ہوتا اسی دن شاید پتہ لگا تھا۔ وہ سامنے بیٹھ کر کئی منٹ مجھے گھورتی رہی۔ اس نے پوچھا بھی تو بس اتنا کہ ’آر یو گوٹ اور وٹ؟ ‘ یعنی مجھ پر بکری یا بکرا ہونے کا شبہ کر رہی تھی۔ میں نے اس کو ایک پھول پیش کیا اور کہا ’مائی کھا کر دیکھ‘۔ آخری آدھا پھول پھر اسی نے کھایا۔یہ سارا سین جس یار نے دیکھا تھا اس نے سارے دفتر میں یہ قصہ سنا دیا میں نے اسی کارکردگی کی وجہ سے اس کا نام بھیڈو رکھ دیا۔ وہ فرانس جا چکا ہے لیکن آج تک بھیڈو ہی کہلاتا ہے۔ ہم جب بھی ملیں اکیلے ہوں تو بھیڈو کی جانب ہاتھ کروں تو وہ کسی چھترے یا بکرے کی طرح اس پر ٹکر مارتا ہے۔ اس نے نام ہی نہیں قبول کیا اس میں بھیڈو کی صلاحیتیں بھی پیدا ہو گئی ہیں۔

Read more

فاسٹ باؤلروں کی چالاکیاں

پشاور کے ایک مشہور فاسٹ بالر تھے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے میں ایک بار پانچ وکٹیں لے بیٹھے۔ قومی ٹیم میں شامل رہے تھوڑا عرصہ لیکن کرکٹ بورڈ میں افسری کرتے عمر بتا دی۔ ایک فسٹ کلاس میچ کے دوران موصوف کو نہایت تسلی سے مار پڑی۔ ان کو اتنے چوکے چھکے لگے کہ انہیں کرکٹ سے نفرت ہو گئی ہو گی۔ ہمارے مشر کی ممتا کبھی کبھار ہی جاگتی ہے۔ جب جب جاگی ہے اس کی اپنی تو پھر بہترین ہوئی ہے لیکن اس کے ساتھ والوں کی بھی برابر ہوئی ہے۔ساتھ والوں کو محسوس زیادہ ہوتی ہے کہ ان کا قصور کوئی نہیں ہوتا۔ مشر نے پشوری فاسٹ بالر کو گدڑ کٹ کھاتے دیکھا تو اس سے رہا نہ گیا۔ ہم سب کو حکم دیا کہ اج اور ابھی سب اسی سے جا کر آٹو گراف لیں گے۔ یہ ہمارے شہر کا ہے۔ یہ کٹ کھائے یا کسی کو پھینٹی لگائے ہمیں اس سے پیار ہے۔ مشر نے ممتا بھرا منہ بنایا اور ہماری قیادت کرتے ہوئے آٹو گراف لینے چلا گیا۔ ہمارے پشوری فاسٹ بالر کو آگ لگ گئی جب اس سے آٹو گراف مانگا مشر نے۔

Read more

اپنے فاٹا والے سینہ چاک اور تاریخ کے پیوند

پاکستان کا قبائلی علاقہ فاٹا، وہاں قدم رکھیں لفظ اپنے مطلب بدل لیتے ہیں۔ فاٹا والے اپنا پسینہ بہا کر تجارت سے رزق حلال کماتے ہیں۔ اسے باقی پاکستان میں بڑے آرام سے منہ ڈھیلا کر کے اسمگلنگ کہہ لیا جاتا ہے۔ یہ سوچے بغیر کہ ہم کیسے لوگ ہیں۔ ہمارے اپنے لوگ آج بھی اپنے رزق کے لئے افغان ٹرانزٹ کی سہولت کے محتاج ہیں۔ یعنی ہیں پاکستانی لیکن ان کی معاش افغانستان سے جڑی ہوئی ہے۔پھر ہم یہ بھی سوچتے ہیں کہ فاٹا والے افغانستان کے حوالے سے اتنے حساس کیوں ہیں۔ بھائی ان کی روزی روٹی وہاں سے جڑی ہوئی ہے۔باقی پاکستان میں پولیس ملزم کے پیچھے ماری ماری پھرتی ہے۔ اس کے گھر والوں کو تفتیش کے لئے تھانے بلایا جائے تو میڈیا میں ات چک دی جاتی ہے۔ فاٹا میں ایف سی آر کا قانون رہا ایک بندے کے جرم میں دس دس لوگوں کو سزا جرمانے ہونا عام بات رہی ہے۔ جرم کرنے والا بھلے آزاد پھر رہا ہو اس کے چاچے مامے بھائی والد بحق سرکار ضبط ہوئے پڑے ملتے تھے۔

Read more

جوا اب شرفا کا کھیل نہیں رہا ہے

سکول میں شرطوں پر ہمیں جے جے نے لگایا تھا۔ جے جے کون تھا یہ رہنے دیں۔ کروڑ کروڑ کی ہم شرطیں لگاتے تھے۔ ہارنے والا کروڑوں کا مقروض ہو جاتا۔ تب تک وہ مقروض رہتا جب تک کوئی شرط جیت کر ادھار چکا نہیں دیتا تھا۔ یہ سارا لین دین زبانی اور ہوائی ہوتا تھا۔ لین دین والی شرط ایک دو سموسے یا کوک کی بوتل پر لگا کرتی تھی۔ کون لمبی جمپ لگائے گا کون ریس جیتے گا۔ کون کس کو چھکا مارے گا۔ بچوں والی چھوٹی چھوٹی باتیں۔جے جے ایک نہایت قاتل شرط بھی لگایا کرتا۔ وہ کوئی دعوی کرتا ہم لوگ اعتراض کرتے تو وہ کہتا چلو پھر لگاؤ۔ کوئی بھی نہ لگاتا۔ کیسے لگاتا کون لگاتا اپنی عزت داؤ پر وہ بھی پشاور میں۔ سب مان جاتے کہ وہ سچا ہے اور ہم بغیر شرط لگائے اس کی فتح تسلیم کر لیتے۔ میڈیا سے تعلق ہوا تو کبھی کسی خبر کی تصدیق کے لئے کسی ہم جماعت سے رابطہ کرنا پڑ جاتا ہے۔ تصدیق کا بس ایک ہی سادہ طریقہ ہے کہ اچھا اگر غلط ہوئی تو پھر جے جے والی تیسری شرط۔

Read more

یہ پکی یاری آخر لگتی کیسے ہے

جمالے کو اسلام آباد آئے کئی ہفتے ہو گئے ہیں۔ نہ اس نے آنے کا بتایا۔ نہ اپن نے سن کر اس سے رابطہ کرنے کی زحمت کی۔ یہ عثمان قاضی کی طرف ٹہرا ہوا ہے۔ اس کی لائبریری میں۔ دو تین دن بعد قاضی کو اس کی شکایت ضرور لگا دیتا ہوں۔ قاضی اسے نکال دے۔

کافی پلانٹ والے کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔ وہ جب کچھ کرتے ہیں اپن غائب ہو جاتا ہے۔ تب سنگت کا خیال آتا ہے کہ پتہ نہیں کیسا چل رہا۔ یا ادھر کسی مہمان کو روانہ کر دیتا ہوں یا خود پہنچتا ہوں۔ پھر فرنود کو رپورٹ دیتا ہوں۔ وہ مجھے کھاتا چیک کر بتا دیتا ہے کہ آج کیا کارروائی رہی۔

Read more

پلوامہ سے نہیں اگلامہ سے ڈریں

لیڈر وہ ہوتا ہے جو پرچی پڑھے بغیر تقریر کر گزرے۔ دیکھنے والے بھلے گزر جائیں بے تکی باتاں سنتے۔ کپتان نے پلوامہ حملے پر خطاب کر ہی دیا۔ کچی پکی راہوں سے اچھلتے پھدکتے گزر کر تڑی لگا دی کہ دیکھو جنگ انسان ہی شروع کرتے ہیں ختم پھر اللہ دی مرضی سے ہی ہوتی۔ نہیں یقین تو ٹرمپ سے پوچھ لو۔
کوئی ثبوت ہے تو لاؤ ہم کارروائی کریں گے کہ یہ نیا پاکستان ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے اگر کوئی ردعمل دینا تھا تو اس کا وقت گزر چکا۔ اب جنگ کے بعد والے گھونسے ہیں جتنے مرضی اپنے مارے جا سکتے۔ مودی اک جارحانہ پاکستان مخالف شدت پسند ہندو لیڈر کے طور پر سامنے آئے تھے۔ جو بھارت مہان کے ہر دشمن کو دھول چٹانے کے لیے مسل دکھانے کے قائل تھے۔

Read more