کیا خدا انسان کے لاشعور میں چھپا بیٹھا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکیسویں صدی میں انسانوں کی اقلیت خدا کو نہیں مانتی لیکن اکثریت خدا پر ایمان رکھتی ہے۔ بعض کا ایمان ہے کہ خدا نے انسان کو اور بعض کا کہنا ہے انسانی ذہن نے خدا کے تصور کو تخلیق کیا ہے۔ بعض کے نزدیک خدا ایک اٹل حقیقت ہے اور بعض کے نزدیک خدا ایک استعارہ ہے۔

جب ہم انسانی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ مختلف انسانوں اور قوموں کا خدا کا تصور مختلف ہے۔ جو یہودی، عیسائی اور مسلمان ہمہ از اوست کے فلسفے کو مانتے ہیں ان کا ایمان ہے کہ خدا خالق ہے اور کائنات مخلوق لیکن جو ہندو ہمہ اوست کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں ان کا ایمان ہے کہ کائنات بذاتِ خود خدا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں۔ ALL THAT EXISTS IS GOD۔

بعض کا خدا سات آسمانوں سے بھی اوپر عرش پر رہتا ہے
بعض کا خدا مسجدوں، مندروں اور کلیساؤں میں بستا ہے
بعض کا خدا شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے
بعض کا خدا ہر جگہ ہے اور کسی جگہ بھی نہیں
بعض کا خدا ٹوٹے ہوئے دل میں رہتا ہے
؎ دل کے آئینے میں ہے تصویرِ یار۔ جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی

لیکن ایک ماہرِ نفسیات ایسے ہیں جن کا خیال ہے کہ خدا انسان کے لاشعور میں چھپا بیٹھا ہے۔ اس ماہرِ نفسیات کا نام وکٹر فینکل ہے۔ وکٹر فرینکل آسٹریا میں رہتے تھے۔ چونکہ ان کا تعلق یہودی خاندان سے تھا اس لیے وہ ہٹلر کے دور میں معتوب ہوئے۔ ان کے خاندان کے اکثر افراد ہولوکاسٹ میں مار دیے گئے۔

جب وکٹر فرینکل زندہ بچ گئے تو انہوں نے کونسنٹریشن کیمپ کے واقعات پر مبنی ایک کتاب لکھی جس کا نام MAN’S SEARCH FOR MEANING تھا۔ اس کتاب کی ساری دنیا میں لاکھوں کاپیاں بکیں اور اس کتاب کے متعدد زبانوں میں ترجمے ہوئے۔ وکٹر فینکل نے جب اپنے پی ایچ ڈی کا تھیسس چھپوایا تو اس کا نام THE UNCONSCIOUS GOD رکھا۔

وکٹر فینکل کا انسانی لاشعور کا تصور سگمنڈ فرائڈ کے انفرادی لاشعور اور کارل ینگ کے اجتماعی لاشعور سے مختلف ہے۔ وکٹر فینکل کا کہنا ہے کہ انسانی لاشعور کے دو حصے ہیں۔ ایک حصے میں جنس اور تشدد کی جبلتیں بستی ہیں۔ یہ حصہ انسان کے ماضی کی ترجمانی کرتا ہے۔ یہ انسانی لاشعور کا تاریک گوشہ ہے جسے فرائڈ نے بے نقاب کیا تھا۔ وکٹر فینکل کا کہنا ہے کہ انسانی لاشعور کا ایک روشن گوشہ بھی ہے جو اس کے مستقبل کی پیشین گوئی کرتا ہے۔ اس گوشے میں خدا بستا ہے۔ اس گوشے کا گہرا تعلق محبت، پیار، فنونِ لطیفہ اور روحانیت سے ہے۔

جو لوگ اپنی ذات کے روشن گوشے سے تعلق قائم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں انہیں روحانی تجربات ہوتے ہیں، وہ سلوک کی منزلیں طے کرتے ہیں، انہیں عرفان اور نروان حاصل ہوتا ہے اور وہ سنت، سادھو، درویش اور صوفی بن جاتے ہیں۔ میرا ایک شعر ہے
؎ میں اپنی ذات کی گہرائیوں میں جب اترتا ہوں
اندھیروں کے سفر میں روشنی محسوس کرتا ہوں۔
وکٹر فینکل کا خدا کا تصور روایتی مذہب کے اس خدا سے بہت مختلف ہے جو سات آسمانوں پر رہتا ہے۔

وکٹر فینکل نے سائیکوتھیرپی میں ایک نئے مکتبہِ فکر کو روشناس کروایا جو LOGOTHERAPY کہلاتا ہے۔ اس مکتبہِ فکر کے مطابق انسانی دکھوں کا ایک حل یہ ہے کہ انسان ان دکھوں میں ایک معنی تلاش کریں۔ لوگو تھیریپسٹ اپنے مریضوں کو اپنی زندگی میں معنی تلاش کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ چاہے وہ معنی بچوں سے پیار کرنے، فن پارے تخلیق کرنے یا انسانوں کی خدمتِ خلق کرنے میں ہوں۔ جب کوئی مریض نئے معنی تلاش کر لیتا ہے تو اس کی زندگی خوشحال ، صحتمند اور پرسکون ہو جاتی ہے۔ اس کوشش سے وہ ایک بہتر انسان بنتا ہے۔

پچھلی صدی میں جہاں وکٹر فینکل کے ہزاروں لاکھوں شاگرد، مداح اور پرستار بنے وہیں ان کے کئی نقاد بھی پیدا ہوئے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مذہب اور سائنس کی دنیائیں جدا ہیں۔ مذہب کا تعلق ان دیکھے خدا پر ایمان لانا ہے اور سائنس کا تعلق اس دنیا کے قوانینِ فطرت کو سمجھنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وکٹر فینکل کو پورا حق ہے کہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں جن عقائد پر چاہیں ایمان لائیں لیکن انہوں نے مذہبی نظریات اور روحانی تجربات کو پچھلے دروازے سے نفسیات کی سائنس میں لانے کی کوشش کی ہے جو فلسفیانہ بد دیانتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روحانیت انسان کی شخصیت کا حصہ ہے اس کا خدا اور مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔

پچھلی چند دہائیوں میں NEUROLOGISTS نے جو تحقیق کی ہے اس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ انسان کے تخلیقی اور روحانی تجربات کا تعلق انسان کے RIGHT TEMPORAL LOBE سے ہے۔ اگر لیباٹری میں اس لوب کو الیکٹروڈز سے چھوا جائے تو خدا کے منکر ایک دہریے کو بھی ایسی غیبی آوازیں آنی شروع ہو جاتی ہیں جنہیں وہ صدق دل سے فرشتوں اور خدا کی آواز سمجھتا ہے اور اسے بھی بغیر کسی عبادت اور ریاضت کے ایسے تجربات ہونے لگتے ہیں جو عام فہم زبان میں روحانی تجربات کہلاتے ہیں۔

ایک وہ دور تھا جب انسان کے روحانی تجربات صرف مذہبی کتابوں میں لکھے اور پڑھے جاتے تھے لیکن پچھلی صدی کی تحقیق کی وجہ سے اب ان تجربات کو طب اور نفسیات کے محققین سائنسی نقطہِ نظر سے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے محققین اور ماہرین روحانیات اور نفسیات کے درمیان پل تعمیر کر رہے ہیں۔
آخر میں میں صرف اتنا کہوں گا کہ وکٹر فرینکل کا لوگوتھیریپی کا فلسفہ نفسیات کی دنیا میں معتبر، مستند اور محترم سمجھا جاتا ہے لیکن ان کا لاشعور میں چھپے خدا کا تصور متنازعہ فیہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 306 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail