دہشت گردی سے لڑنے والا ملک دہشت گردوں کا ہی ہمدرد کیوں؟
گزشتہ دو تین ہفتوں کی شدید سفارتی بھاگ دوڑ اور پاکستان میں اٹھائے گئے متعدد اقدامات کو سبب کہا جائے یا چین، ترکی اور سعودی عرب جیسے ممالک کی دوستی کا فیض قرار دیا جائے کہ پاکستان کو دنیا میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے امور کی نگرانی کرنے والے گروپ فنانشل ٹاسک فورس کی واچ لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔ امریکہ نے برطانیہ کے ساتھ مل کر اس حوالے سے ایک قرارداد پیش کی تھی جس میں پاکستان پر دہشت گرد گروہوں کی معاونت کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے ان ملکوں کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی تھی جن پر خاص طور سے دہشت گردوں کی معاونت پر شبہ کے حوالے سے نظر رکھی جاتی ہے۔ اس فہرست پر نام آنے سے اس ملک کے لئے عالمی اقتصادی اور تجارتی منڈیوں میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں جس کے متعلقہ ملک کی معیشت پر سنگین نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ تاہم ایک ایسا ملک جو گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے کا دعویدار ہے، اسے کیوں کر دہشت گردوں کا ہمدرد قرار دینے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔
یہ سوال ملک کا ہر بالغ و عاقل باشندہ اپنے حکمرانوں اور اداروں سے پوچنھے میں حق بجانب ہوگا۔ پاکستان کے شہریوں کو تسلسل سے سرکاری بیانات، عسکری اعلامیوں اور میڈیا رپورٹس کے ذریعے یہ باور کروایا جاتا ہے پاکستان دہشت گردوں کے خلاف جنگ کرنے والے ملکوں میں صف اول میں شامل ہے ۔ اسی لئے اسے ہزاروں لوگوں کی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے علاوہ اربوں ڈالر کا معاشی خسارہ بھی برداشت کرنا پڑا ہے۔ اس عظیم نقصان کے باوجود یہ بتایا جاتا ہے کہ پاک افواج کی دلیری اور اعلیٰ پیشہ وارانہ کارکردگی کی وجہ سے پاکستان دہشت گردوں سے جنگ جیتنے والا دنیا کا اکلوتا ملک بھی ہے۔ پاکستانی اپنے طور پر ان اعلانات اور دعوؤں کو سن کر اپنی افواج پر فخر کرتے ہیں اور یہ امید بھی کرتے ہیں کہ دنیا بھی پاکستان کی ان قربانیوں کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھے گی۔ لیکن افسوس اور پریشانی کا مقام ہے کہ پاکستان اور اس کی افواج کو یہ عزت و احترام نہیں دیا جاتا۔
آج بھی جب فنانشل ٹاسک فورس کے چھ روز تک جاری رہنے والے اجلاس کا آخری روز تھا تو بھارتی میڈیا سے شروع ہو کر دوسرے عالمی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں گردش کرتی رہی تھیں کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف FATF کی گرے واچ لسٹ میں شامل کرلیا گیا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اور دیگر وزرا اور سفارت کار اسی مشکل صورت حال سے بچنے کے لئے گزشتہ دو ہفتوں سے مصروف عمل تھے اور دنیا کے مختلف دارالحکومتوں کا دورہ کرکے اپنے مؤقف کی تائد کے لئے راہ ہموار کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ لیکن عام تفہیم میں یہ بات حیرت و پریشانی کا سبب ہے کہ ایک طرف اہل پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور کامیابیوں کی نوید دی جاتی ہے تو دوسری طرف دہشت گردوں کی حمایت کے الزام سے بچنے کے لئے حکومت کو بھاگ دوڑ کرنا پڑتی ہے۔ پاکستانی حکام جب تک اس بوالعجی کا جواب دینے میں کامیاب نہیں ہوتے ، اس وقت تک ملک کے شہریوں کو یہ پریشانی لاحق رہے گی کہ آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان کے ایثار اور قربانیوں کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور ہر تھوڑے عرصہ کے بعد ملک کی قیادت کو کسی نہ کسی اہم ملک یا عالمی ادارے کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر اپنی پوزیشن واضح کرنا پڑتی ہے۔ اس طرح وقتی ریلیف تو مل جاتا ہے لیکن کبھی اس الزام اور شبہات سے نجات نہیں ملتی۔ ایف اے ٹی ایف FATF کا اجلاس شروع ہونے کے بعد ملک کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے ایک ٹویٹ پیغام کے ذریعے اس بات پر خوشی و مسرت کا اظہار کیا تھا کہ ’دوستوں کی مدد سے پاکستان کی کوششیں بار آور ہوئیں اور پاکستان کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لئے تین ماہ کی مہلت مل گئی ہے‘۔ کسی ذمہ دار ملک کے لئے تو اس قسم کی مہلت کے لئے کوشش کرنا بھی باعث ندامت ہونا چاہئے کجا ایسی مہلت ملنے پر کامیابی کا اعلان کیا جائے۔
پاکستان کو اپنی ناقص اور غیر واضح پالیسی کی وجہ سے اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ ملک سے دہشت گرد گروہوں کے ٹھکانے ختم کئے گئے ہیں اور گزشتہ تین برس کے دوران ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس کے باوجود عالمی سطح پر پاکستان کا اعتبار اور پوزیشن بحال نہیں ہو سکی ہے۔ آج پیرس کے اجلاس میں کامیابی کے باوجود امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ترجمان راج شاہ نے کہا ہے کہ صدر پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے کئے گئے اقدامات سے پوری طرح مطمئن نہیں ہیں۔ اس کا اظہار تو ایف اے ٹی ایف FATF میں اپنے قریب ترین حلیف کے خلاف قرارداد لے جا کر بھی کردیا گیا تھا۔ کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ یہ ہتھکنڈے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لئے کررہا ہے تاکہ وہ اسے افغانستان میں اپنے ایجنڈے کے مطابق خدمات سرانجام دینے پر مجبور کرسکے۔
حیرت کی بات البتہ یہ بھی ہے گزشتہ اگست میں افغانستان کے بارے میں اپنی نئی حکمت عملی کا اظہار کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان یا امریکی پالیسی کے بارے میں کم اور پاکستان کی ناکامیوں اور دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کے الزامات کے بارے میں زیادہ بات کی تھی۔ اس کے بعد نئے سال کے موقع پر صدر ٹرمپ نے اپنے ایک غیر متوقع اور جارحانہ ٹویٹ پیغام میں پاکستان کو ناشکرا اور امریکی مفاد کے خلاف کام کرنے والا قرار دیا تھا۔ اور کہا تھا کہ ’پاکستان کو امریکہ نے پندرہ برس میں 33 ارب ڈالر امداد دی ہے لیکن انہوں نے ہمیں جھوٹ اور دھوکہ کے سوا کچھ نہیں دیا۔ وہ ہمارے لیڈروں کو بے وقوف سمجھتے رہے ہیں۔ اور ان دہشت گردوں کو پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں جن سے ہم افغانستان میں جنگ کر رہے ہیں‘۔ امریکہ کے اس سخت اور پاکستان دشمن مؤقف کے باوجود پاکستان نے مسلسل امریکہ کے ساتھ مل کر چلنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے ۔ اس کا اعادہ گزشتہ ہفتہ کے دوران میونخ کی عالمی سیکورٹی کانفرنس کے موقع پرتقریر کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی کیا تھا۔
سوچنا چاہئے کہ پاکستان کی قربانیوں اور ساتھ چلنے کے وعدوں کے باوجود پاکستان ہر عالمی فورم پر کیوں اپنا اعتبار کھو چکا ہے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ مسلسل حالت جنگ میں ہونے اور افغانستان میں غیر معمولی صورت حال کا سامنا کرنے کے باوجود پاکستان کو ایف اے ٹی ایف FATF جیسے فورم پر ملک دشمن قرارداد سامنے آنے پر ہی کیوں سفارتی بھاگ دوڑ کرنے کا خیال آتا ہے۔ اور ایسے ہی کسی موقع پر صدر مملکت ایک آرڈی ننس کے ذریعے اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم کیوں جاری کرتے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان میں یہ بیانیہ عام کرنے سے کام نہیں چلے گا کہ دنیا اسلام دشمنی کی وجہ سے پاکستان کے خلاف ہے یا پاکستان کو بھارت کی منفی اور جارحانہ سفارتی کوششوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
ہمیں بطور قوم ان تمام غلطیوں سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہوگی جو بوجوہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ہماری قومی سیکورٹی اور خارجہ پالیسی کا حصہ رہی ہیں۔ ان غلطیوں کا تدارک نہ کیا گیا تو آئیندہ کسی دوسرے موقع پر پاکستان کو مزید سنگین اور خطرناک صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔


