قوم کو امت میں نہیں، سری دیوی میں دلچسپی ہے

تو صاحبو، بات یہ ہے کہ یہ کمرشل میڈیا ہے۔ یہ دیکھتا ہے کہ پیسے کیسے بنیں گے۔ پیسے اس وقت بنیں گے جب اس میڈیا کو زیادہ لوگ پڑھیں یا دیکھیں گے۔ لوگ اس چینل یا اخبار کو دیکھیں گے جس میں ان ایشوز پر بات کی گئی ہو جن سے لوگوں کو دلچسپی ہے۔ جتنے زیادہ لوگ دیکھیں گے اتنے زیادہ اشتہار ملیں گے۔ کمرشل میڈیا خدمت خلق نہیں کرتا۔ نہ اسے فی سبیل اللہ ذہن سازی کرنے یا امت کی خدمت کرنے کی تمنا ہے۔ وہ پیسے کمانے کے لئے وجود میں آتا ہے۔ حتی کہ وہ ادارے بھی جن کے مالکان نہایت ہی نظریاتی ہیں، اگر پیسے نہیں کمائیں گے تو چار دن میں ادھر تالے لگ جائیں گے۔
اب ایک اور پہلو دیکھتے ہیں۔ آپ ملک میں ہونے والے واقعات کو دیکھ لیں۔ اگر ایک واقعہ کسی بڑے شہر میں ہو تو اسے بہت زیادہ کوریج ملتی ہے۔ لیکن اس سے کہیں بڑا واقعہ کسی دور دراز کے علاقے میں ہو تو میڈیا اسے زیادہ لفٹ نہیں کراتا۔ اس کے علاوہ ایک عنصر بے حسی کا ہوتا ہے۔ پشاور یا کوئٹہ میں بم دھماکوں کی خبریں روٹین بن گئی تھیں تو وہ نمایاں نہیں کی جاتی تھیں۔ لیکن کسی ایسے شہر میں جہاں دہشت گردی کے واقعات عام نہ ہوں ادھر ایک نسبتاً چھوٹے لیول کی دہشت گردی ایک بڑی خبر بن جاتی ہے۔ ایک عنصر یہ بھی ہوتا ہے کہ خبر اگر دیکھنے والوں کے قریب کی ہو تو ان کی دلچسپی اس میں زیادہ ہوتی ہے۔ جیسے کراچی اور لاہور میں الیکٹرانک میڈیا کی ریٹنگ کا تعین کرنے والے میٹر زیادہ ہوتے ہیں، اخبارات کی ریڈر شپ بھی ان شہروں میں زیادہ ہے، تو ان شہروں کی چھوٹی خبر سے ریٹنگ پر بڑا اثر پڑتا ہے اور اسے اہم سمجھ کر لگایا جاتا ہے۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ شام سے تواتر سے جنگ کی خبریں پچھلے پانچ سال سے آ رہی ہیں۔ اس سے پہلے تیس پینتیس سال افغانستان سے آتی رہی تھِیں۔ تو یہ دور دراز کی بیرونی خبریں ہمیں بے حس کر چکی ہیں۔ اور چاہے اس پر جتنا بھی دل دکھے حقیقت یہی ہے کہ پاکستانی عوام کو اب امت کا صرف اتنا ہی دکھ ہے جتنا عرب ممالک کو پاکستان کا ہے۔ کبھی آپ نے دیکھا ہے کہ مسلم ممالک کا کشمیر پر عمومی موقف کیا ہے؟ وہ بھارت کے زیادہ دوست ہیں یا پاکستان کے؟ حتی کہ فلسطینی بھی بھارت کو پاکستان سے زیادہ سگا جانتے ہیں۔
اب 1974 سے اب تک امت کے درد کا اتنا زیادہ ورد ہو چکا ہے کہ پاکستانی اب اس کی بھی پروا نہیں کرتے۔ ان کو بیرونی ممالک کے مسائل سے زیادہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں اور اپنی زندگی سے جڑی ہوئی خبروں میں دلچسپی ہے۔ ہمارے اعداد و شمار کے مطابق نصرت جاوید کی بہت زیادہ ریڈر شپ ہے۔ لیکن ان کا جو کالم خارجہ امور کے بارے میں ہوتا ہے وہ بہت کم پڑھا جاتا ہے۔ محمد مہدی خارجہ امور کے ماہرین میں سے ہیں۔ لیکن ان کا وہ کالم ہی زیادہ پڑھا جاتا ہے جو مقامی معاملات کا تجزیہ کرے۔ اس لئے شام، فلسطین، ایران، عراق، برما وغیرہ سے ہمارے عام پاکستانی کو کوئی دلچسپی نہیں رہی ہے۔
لیکن ان عام پاکستانیوں کو سری دیوی میں دلچسپی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ سنہ اسی اور نوے کی دہائی میں بچپن اور جوانی گزارنے والوں کی سنہری یادوں کا ایک اہم حصہ سری دیوی، مادھوری، ہیما مالنی، زینت امان، امیتابھ، دیو آنند، دھرمیندر، اور ایسے دوسرے بہت سے فلمی ستارے ہیں۔ جب ان میں سے کسی کی موت ہوتی ہے تو اس نسل کے لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ ان کی اپنی شخصیت کا ایک حصہ مر گیا ہے۔
تلخ حقیقت یہی ہے کہ لوگوں کو اپنی شخصیت سے جڑی چیزوں میں کہیں زیادہ دلچسپی ہوتی ہے، دور دیس کے معصوموں میں نہیں۔ اسی لئے سری دیوی ہی سکرین پر اور فرنٹ پیج پر راج کرے گی۔ اور دور دیس کی باتیں کرنے والوں کو نہ لوگ پڑھیں گے اور نہ ان کو ووٹ دیں گے۔

