مرد کبھی نہیں بدل سکتا
آج کل طلاقیں بہت زیادہ ہورہی ہیں۔ جتنا رحجان لو میرج کا ہے اس سے کئی زیادہ طلاقوں کا ہوگیا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جس طرح شادی دو لوگوں کا فیصلہ ہوتا ہے، اسی طرح طلاق میں بھی فرد واحد کا قصور نہیں ہوتا، لیکن میں جب مرد کی نفسیات کو سوچتی ہوں تو کچھ مردوں کی فطرت مجھے شیطان کی سوچ سے کم نہیں لگتی۔
ایک اور بات بھی یہاں قابل تعریف ہے کہ آج کل ماں باپ بچوں کی شادیاں مناسب عمر میں کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں لیکن کچھ لڑکے اپنی حقیقی زندگی میں اتنے نان سیریس ہوتے ہیں کہ شادی تو محض انجوائمنٹ سمجھتے ہوئے کرلیتے ہیں، لیکن جب اندازہ ہوتا ہے کہ بھیا یہ تو ایک مکمل ذمہ داری ہے، جو ہمارے بس کی بات نہیں تو پھربات طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔
لڑکیاں اپنے والدین پر بوجھ نہیں ہوتیں، لیکن جو لڑکی طلاق کے بعد اپنے والدین کے گھر جاتی ہے، وہ بہرحال اپنے والدین پر بوجھ ضرور بن جاتی ہے اور طلاق یافتہ عورت کی ہمارے معاشرے میں کیا عزت ہوتی ہے، میرا غصہ مجھے لکھنے کی اجازت نہیں دے رہا۔ اس معاشرے کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ عورت بری نہیں ہے، اصل میں طلاق بری چیز ہے، اور جب ایک لڑکی کو طلاق ہوجاتی ہے تو پھر معاشرہ اس لڑکی کو کوسنے لگ جاتا ہے۔
لڑکا تب تک دو تین اور معشوقائیں سیٹ کرچکا ہوتا ہے، اور ایک بار پھر اپنی زندگی کو بھرپور انجوائے کررہا ہوتا ہے، اور تو اور لڑکے کی اماں بھی اس کے لیے ایک چاند سی، معصوم سی، پڑھی لکھی، سلجھی ہوئی اور گھریلو لڑکی ڈھونڈ رہی ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے وہ کچھ عرصے پہلے اپنے بیٹے کے لیے ایک سلجھی ہوئی لڑکی ڈھونڈ کر لائی تھی، جو کہ اب اپنے والدین پر بوجھ بن کر بیٹھی ہے۔ جب تک کوئی لولا لنگڑا اس کو اپنا نہیں لیتا، وہ بوجھ ہی بنی رہے گی۔
مرد کے لیے طلاق دے دینا اتنا ہی آسان ہے، جتنا عورت کے لیے طلاق کے بعد اپنے میکے جانا مشکل ہے۔ والدین کو اپنے بچوں (لڑکوں) کو اس بات کا احساس دلانا چاہیے، کہ شادی ایک مکمل ذمہ داری ہے۔ ایک لڑکی جو اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر ایک اور گھر جارہی ہے تو کیا وہ محبت کی مستحق نہیں ہے؟ کیا اس کو حق نہیں بنتا کہ اس کو خوش رکھا جائے؟ بھئی آپ اس کو شادی کرکے لائے ہیں کوئی غلام بنا کر نہیں لائے جو وہ آپ کی احسان مند ہو، اور لڑکیوں کو بھی مرد کی نفسیات سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ زندگی گزارنے چاہیے۔ اگر وہ سمجھتی ہیں کہ وہ مرد کی فطرت کو بدل سکتی ہیں تو یہ ناممکن ہے۔ کامیاب عورت وہی ہے جو مرد کی نفسیات کو سمجھ لیتی ہے، اور جو عورت مرد کی نفسیات کے ساتھ لڑنے کی کوشش کرتی ہے تو پھر اس کا انجام ریحام خان والا ہوتا ہے۔ ہر عورت کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ مرد کبھی نہیں بدل سکتا۔


