تجربہ گاہ میں معجزے ہو رہے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ پاکستان کو ایک تجربہ گاہ بنایا جائے گا۔ اس تجربہ گاہ نے اب اس قدر ترقی کر لی ہے کہ اس میں پے در پے معجزے رونما ہو رہے ہیں۔

پاکستان دنیا کا ایک ایسا ملک ہے، جو ایک بہت بڑے ملک کی کوکھ سے نکلا تھا۔ اس ملک کو قدرت کا ایک معجزہ سمجھنا چاہیے کیونکہ اس ملک کے معاملات کی عام انسان کو سمجھ ہی نہیں آتی۔ یہ اپنی پیدائش کے موقع پر اتنا بڑا تھا کہ وہ سنبھل ہی نہیں پا رہا تھا۔ چلنا تو درکنار اس سے کھڑا ہی نہیں ہوا جاتا تھا۔ پھر اس کی صحت کے پیشِ نظر یہ لازم ٹھہرا کہ اسے جراحی کے عمل سے گزارا جاےؑ ۔ نتیجتاً اسکے جسم کا ‘اضافی’ حصہ کاٹ کر پھینک دیا گیا۔ جو جہاں گرا، وہیں اگنا شروع ہوگیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک الگ ملک کی صورت اختیار کر گیا، جس کا معاشی، سیاسی، سماجی ڈھانچہ اس ملک سے بھی زیادہ مضبوط ہوتا گیا جس سے کاٹ کر اسے پھینکا گیا تھا۔

پاکستان کی ہر شے چیخ چیخ کر اسکے معجزاتی ہونے کا اعلان کرتی ہے۔ اس کی تاریخ ایسی کہ خدا کی پناہ۔ اس کی پاکیزگی اور تقدیس کو ہم اپنے زورِ بیان سے وہاں لے گئے جہاں یہ فہم عامہ سے ماورا ہو گیا۔ ریاستِ مدینہ کے تحفظ کے لیے اس کے گرد خندق کھودنا پڑٓی تھی، لیکن پاکستان کو جنگ کے دنوں میں ایسے بزرگوں نے دشمنوں سے تحفظ مہیا فرمایا جو پلوں کے نیچے متعین تھے اور دشمن کے گولوں کو اپنے ہاتھوں سے دبوچ کر ناکارہ بنا دیا کرتے تھے۔

 اس ملک کے شہری حکومت کو ٹیکس دینا ضروری نہیں سمجھتے، کیونکہ ان کو یقین ہے کہ جس طاقت نے وہ ملک بنایا ہے، وہ خود ہی اسے چلا بھی رہی ہے، اسے ٹیکس کی کیا ضرورت ہے لہذا وہ خدا کے کسی کام میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے، تاہم ہر شخص اللہ کی خوشنودی کے لئے  اپنے سے کم حیثیت کے شخص کو بطور صدقہ خیرات کچھ نا کچھ ضرور عطا کردیتا ہے۔ یہ کام باقاعدہ مستحق کی مالی حیثیت کا تخمینہ لگا کر کیا جا تا ہے تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ لینے والا واقعی ‘مستحق’ ہے۔ اللہ نے کبھی بھی ان دینے والوں کو مایوس نہیں کیا بلکہ ان کی حاتم طائی انا کی تسکین کے لیے ان کے ہاتھوں سے خیرات وصول کرنے والوں کی ایک کثیر تعداد ہمیشہ مہیا کیے رکھی ہے جس میں سے وہ سخی اپنی پسند کے غریب و مسکین کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

رمضان المبارک کا مہینہ اس ملک کے باسیوں کے لئے اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ مملکتِ خداداد اسی ماہِ مقدس میں معرضِ وجود میں آئی تھی۔ اور یہ مہینہ اس ملک کے تمام شہریوں کے لیے خصوصی برکات لے کے آتا ہے۔ تاجروں نے اس کے استقبال کے لئے ذخیرہ اندوزی کی ہوتی ہے جس سے ان کا منافع اتنا بڑھ جاتا ہے کہ اس میں سے زکوٰۃ، فطرانہ اور دیگر مدات میں صدقہ ادا کرکے نہ جانے کتنے مستحقین کی کفالت کرتے ہیں، سرکاری ملازمین کام نہ کرنے کی تنخواہ وصول کرتے ہیں اور جو اس ماہِ مقدس کی برکات و فیوض کا ثبوت ہے اور یہ ان کے ایمان کی تقویت کا باعث بھی بنتا ہے کہ واقعی رازق اللہ ہی ہے جو جسے چاہے، جیسے چاہے عطا کرسکتا ہے۔ جن کا کوئی ذریعہ معاش نہیں وہ اپنی عزتِ نفس پر طرح طرح کے وار سہہ کر اپنے صابر اور شاکر ہونے کا ثبوت دے کر اپنے آپ کو جنت کے مستحق سمجھتے ہیں۔ الغرض یہ مقدس مہینہ اس ملک کے ہر شہری کیلیے مالی، نفسیاتی اور روحانی آسودگی کا سامان لے کر آتا ہے۔

اس ملک میں جمہوریت اور آمریت ایک دوسرے میں سے یوں نمودار ہوتے ہیں جیسے رات کی کوکھ میں سے دن نکلتا ہے اور ہر دن رات کی تاریکی میں چھپ جاتا ہے۔ اس ملک کی سرزمیں دانشوروں کی کی فصل کے لئے  بہت زرخیز واقع ہوئی ہے۔ جہاں داییں بازو، باییں بازو اور ‘وچکارلے’ دانشوروں کی کثیر تعداد پائی جاتی ہے جن سے ملک کی تمام سیاسی جماعتیں فکری ایندھن حاصل کرتی ہیں اور ہر طرح کی سیاسی فصلیں خوب لہلہاتی رہتی ہیں۔ آمری اور سامری اس ملک کی دو سیاسی برادریاں ہیں جو ایک دوسری سے اس قدر متاثر ہیں کہ یہ دونوں ایک دوسری کے رنگ میں رنگی جا چکی ہیں۔ سامری برادری والے آمری برادری کی محبت میں اس قدر صدقے واری جاتے ہیں کہ وہ ان کو ان کے اسی لباس سمیت دس دس بار سامری راستے سے اقتدار میں لانے کے لئے  تیار ہوتے ہیں، جبکہ آمری برادری والے ایسے ایسے سامری کردار تخلیق کرتے ہیں جو توہینِ آمریت کے حوالے سے قانون سازی کو بھی عین عبادت سمجھتے ہیں۔

اس کرشماتی ملک کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ معدنیات اور قدرت کے دیگر خزانوں پہ تیر رہا ہے، جنہیں انہوں نے برے وقت کے لئے بچا کے رکھا ہوا ہے۔ حکومت مخالف قوتیں الزام لگاتی پائی جاتی ہیں کہ ان خزانوں پر حکومتِ وقت کی ‘بری نظر’ ہے جبکہ “دور کی کوڑی لانے والے” دانشوروں کے نزدیک اس ملک کے مقتدر حلقوں کو انکے’ بیرونی آقاوٓں’ نے ان خزانوں کو ہاتھ لگانے سے سختی سے منع کر رکھا ہے کیونکہ ان دانشوروں کے نزدیک ان خزانوں پر ان آقاؤں کی نظر ہے۔

اس ملک کے شہری کمال کے صوفی منش لوگ ہیں۔ انتخابات کا موسم ان کی خصوصی تفریح کا موسم ہوتا ہے۔ ان کے منورنجن کے لئے میلوں کی طرح، طرح طرح کے جلسے لگتے ہیں، قیمے والے نان اور بریانی سے ان کی ضیافتیں ہوتی ہیں، جلسوں میں لانے کا اور جلسے کے بعد ان کے حال پر چھوڑ دینے کا خاص انتظام کیا جا تا ہے۔ گلی کوچوں میں چوہا کانفرنسوں کا یہ عالم ہوتا ہے کہ انتخابات کے دن تک ووٹر کا پتہ نہیں چلتا کہ وہ کس پارٹی کے ساتھ ہیں۔ دراصل یہی وہ چار دن ہوتے ہیں جب ووٹر اپنے انتخابی امیدوار کو غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا رکھ کر خصوصی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ لیکن الیکشن کے بعد ان کا بھی راڈار کام کرنا تب چھوڑ جاتا ہے جب ان کو پتہ چلتا ہے کہ ان کا ووٹ تو کسی اور ہی ڈبے سے برآمد ہوا ہے۔ ووٹوں کے اس طرح ڈبے بدلنے کے اس عمل کو ‘جھرلو پھیرنا’ کہتے ہیں۔ اور یہ جھرلو انتخابی اور ریفرنڈمی ووٹوں میں پھرنے کی یکساں صلاحیت رکھتا ہے۔ جس عوامی لیڈر نے حکومت میں آنا ہوتا ہے، انتخابی عمل سے لے کر منتخب ہو جانے تک ان کو نیک، عوام دوست، بے لوث اور دیانت کا پیکر ثابت کیا جاتا ہے اور منتخب ہو جانے کے بعد اسے امریکہ اور بھارت کا ایجنٹ، بددیانت اور بدعنوان ثابت کیا جاتا ہے الغرض اس ملک کا بننا، بٹنا اور باقی ماندہ ملک کا چلتے رہنا سب زندہ معجزے ہیں، جسے سمجھنے کے لئے اللہ اور اس کے مقتدر مقربین کا خصوصی قرب درکار ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں