عوام کے مفاد میں ایک سو موٹو کی استدعا
بدقسمتی سے پاکستان میں ”صادق و امین“ کی اصطلاح محظ ایک مذاق کے علاوہ اور کچھ نہیں رہی۔ گذشتہ چند برس سے اس اصطلاح نے پاکستان کے اندر بہت مقبولیت پائی ہے اور حالات کی ستم ظریفی یہ ہے کہ ان دنوں اس ملک کی پسی ہوئی عوام کے دل و دماغ میں ”صادق و امین“ جیسے مقدس الفاظ سنتے ہی پاکستان کے حالیہ سیاستدانوں کی تصویر نمایان ہو جاتی ہے تاہم اس حقیقت کو جھٹلانا نامناسب ہوگا کہ پاکستان میں پائی جانے والی اس مقدس ہستی یعنی سیاستدان کے کردار کو دیکھا جائے تو وہ ”صادق و امین ” کی تعریف کے بلکل ہی برعکس ہوں گے اور اکثر و بیشتر منتخب نمائندگان کسی نہ کسی لحاظ سے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا اترنے سے قاصر ہوں گے جس کا واضح ثبوت کچھ عرصہ قبل سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے وہ ریمارکس تھے کہ جن میں کہا گیا تھا کہ اگر پارلیمنٹ میں آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کا نفاذ حقیقی معنوں میں کیا جائے تو ایوان کے اندر امیر جماعتِ اسلامی سراج الحق کے علاوہ اور کوئی نہیں رہے گا۔
چنانچہ، یہ سوال اپنی نوعیت کا لمحہِ فکر ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان انتخابات کے عمل کے دوران اس آرٹیکل کے نفاذ پر کیوں عمل نہیں کر پاتی؟ اگر ایسا ہو جائے تو پاکستان کے اندر ایک دم بہت بڑی تبدیلی رونما ہو سکتی ہے اور میرے خیال میں پارلیمنٹ کے اندر برسوں سے براجمان حالیہ چہروں میں سے زیادہ تر ایسے چہروں کا صفایا ممکن بن سکتا ہے کہ جو آئینِ پاکستان کے بنیادی سیاق و سباق سے ناآشنا ہیں اور عوام کے لئے ایک وبا بنے ہوئے ہیں۔ موجودہ حالات کے تناظر میں یہ بھی عین ممکن ہے کہ سپریم کورٹ میں جسٹس ثاقب نثار کی بطور چیف جسٹس موجودگی ہو سکتا ہے کہ اس ملک کے عوام کو یہ ایک اور ریلیف دے جائے کیونکہ دودھ میں ملاوٹ، عطائئی ڈاکٹروں، ہسپتالوں میں سہولیات کی عدم دستیابی اور وی آئی پی کلچر کے ہمراہ یہ ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے جو پاکستان کے عوام کےکیے وبالِ جاں بنا ہوا ہے۔
ہمارے ہاں یہ بھی ایک بہت بڑا المیہ رہا ہے کہ پاکستان میں میڈیا کے توسط سے عوام کی نظریں ان مقدمات پر زیادہ جم جاتی ہیں جو اتنی زیادہ اہمیت کے حامل نہیں ہوتے اور دوسری جانب ہمارا میڈیا ان مقدمات کو عوام کی توجہ کا مرکز بنانے میں ناکام رہا ہے کہ جن کا عوام کی ذاتی زندگی کے ساتھ بہت قریبی تعلق ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر حال ہی میں پاکستان کی سیاسی تاریخ کے دو بہت بڑے مقدمات یعنی پاناما کیس اور نا اہلی کی سزا کے تعین والے مقدمات کا آپس میں موازنہ کیا جائے تو میرے خام خیال کے مطابق پاکستان کے دیہی و شہری علاقوں میں بستے ہوئے ایک عام باشندےکو اس بات سے کوئی خاص غرض نہیں ہونی چاہیے کہ اس کے ملک کا منتخب وزیرِ اعظم ملک سے باہر کتنا سرمایہ لے اڑا ہے بلکہ سیاست کے نشیب و فراز سے بیخبر اس باشندے کے لئے یہ بات زیادہ فکر انگیز ہونی چاہیے کہ اس کے حلقہ سے منتخب سیاستدان کتنا صادق و امین ہے جو اس ایک عام شہری کی نمائندگی کرتے ہوئے ملک کے وزیرِ اعظم کا انتخاب کرے گا؟
وہ منتخب ایم این اے و ایم پی اے ایوان میں جاکر اپنے علاقہ مکینوں کی نمائندگی کے گن گانے کے بعد اپنے علاقہ میں پہنچتے ہی عوام کے لئے خطرہ کی گھنٹی بن جاتا ہے جس کا نام نہاد ہاؤس علاقے میں پیش آنے والی ہر واردات کا مہور بنا ہوا ہوتا ہےور اس کا ہاؤس اس بے سہارہ ووٹر کے لئے دہشت کی علامت بنا ہوا ہو تو اس صورتحال میں پاکستان کا ایک عام شہری ہونے کی بنا پر کم از کم میرے لئے پاناما کیس کی بنسبت زیادہ اہمیت کا ہامل نا اہلی کی سزا کے تعین والا مقدمہ تھا کیونکہ اس مقدمہ کا مدعی شاید پاکستان کا ہر عام شہری تھا کہ جس کے علاقے سے منتخب نمائندہ اس کی آنکھوں میں دھول جھونک کر جھوٹے وعدوں کے سہارے اسے ووٹ تو لے گیا لیکن پانچ برس تک اس کی آنکھوں نے اس فریبی کو پھر نہیں دیکھا اور وہ بچارہ ووٹر پانچ برس تک یہی گنگناتا رہا کہ:
ہاتھوں میں مشعلیں لئے کچھ لوگ رات کو،
دے کر فریبِ روشنی بستی جلا گئے۔ !
سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کی پارٹی صدارت سے نا اہلی کے محرکات کا ایک علیحدہ بحث ہے لیکن اس مقدمے کے دوران سپریم کورٹ کے رمارکس پاکستان کے عام آدمی کے حالات کے تناظر میں بہت ہی اہمیت کا حامل ہیں کیونکہ اس مقدمے کے فیصلے سے آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 62 و 63 مزید وضاحت کے ساتھ کھل کر سامنے آگیا ہے اور ظاہری طور پر تو یہ فیصلہ میاں نواز شریف پر ہی نافذ ہوا ہے لیکن اندرونی طور پر پارلیمنٹ کے اندر بیٹھا ہر شخص اس ٖفیصلے کی زد میں آتا دکھائی دے رہا ہے جس کے لئے سپریم کورٹ کے جج صاحبان کے ریمارکس کو وسیع پیمانے پر دیکھنے کی ضرورت ہے کہ جن میں کہا گیا تھا کہ:
* چیٹنگ کرنے والوں پر تاحیات پابندی ہونی چاہیے، بے ایمانی کا مطلب فراڈ ہے، ایک دن اس شخص کو وزیر یا وزیرِ اعظم بننا ہے: چیف جسٹس۔
* سنگین جرم کرنے والوں کو بھی پانچ سال نا اہلی کی سزا بھگتنی پڑتی ہے، ہم قیادت کی بات کر رہے ہیں: جسٹس اعجاز۔
* پارلیمینٹیرین کے لئے ایمانداری بہت لازمی ہے، ہم نے کاروں اور واشنگ مشینوں سے رقوم برآمد وہوتے دیکھی ہیں، کیا ایسے لوگ مستقبل میں وزیر یا وزیرِ اعظم بن سکتے ہیں؟ قوم کا لیڈر بننے کے لئے کوئی معیار ہونا چاہیے: جسٹس عمر عطا بندیال۔
اس تمام تر صورتحال کے آئینے میں دیکھا جائے کہ جلتے ہوئے تندور کے نزدیک اپنا روتا بلکتا بچہ چھوڑ کرروٹی پکانے والی عورت کے لئے یہ لمحہِ فکر ہے کہ اس کے گھر کے باہر اس کی بستی میں گیس سکیم کے افتتاح کی تختی لگا کر نہ جانے اس کے حلقے سے منتخب نمائندہ کہاں چلا گیا؟ زمین میں کھیتی باڑی کرنے والے ایک کسان کے لئے یہ بات پریشان کن ہے کہ نہر کے قریب زمین ہونے کے باوجود بھی اس کی زمین کو پانی نہیں مل رہا جبکہ نہر سے کوسوں دور منتخب نمائندگان کی زمین تک پانی کی رسد کے لئے پکے واٹر کورس اس کسان کے معاشی قتل کا باعث بن رہے ہیں۔
ایک پڑھے لکھے انسان کے لئے دماغ میں چکی کی طرح پس رہی ہے یہ بات کہ اس کے علاقے سے منتخب نمائندہ کشمیر کمیٹی کا ممبر بن کر پرائم ٹائم ٹاک شو میں کشمیر پر بات نہیں کر پا رہا جبکہ ایک بزرگ مصنف کے لئے یہ بات تشویشناک ہے کہ اس کے حلقے سے منتخب نمائندہ پاکستان کے سب سے بڑے صحافی کے میزبانی میں نشر ہونے والے مقبول ترین شو میں اخلاقیات سے گری ہوئی غیر پارلیمانی گفتگو کر رہا ہو۔ علاقے کے ایک سماجی کارکن کی جان کے لئے منتخب نمائندہ جب اس غرض سے خطرہ بن جائے کہ وہ اس نمائندہ سے ناقص کارکردگی کے پیشِ نظر سوال کرنے کی غلطی کر ڈالے۔ اگرچہ پارٹی صدور سپریم کورٹ سے سزا یافتہ ہو کر نا اہل ہو رہے ہیں تو ان نا اہل صدور و تمام پارٹیوں کے رہنماؤں سے یہ سوال بھی جائز ہے کہ سیاسی پارٹیوں کے اندر بیٹھے ممبران کو انتخابات کے لئے ٹکٹ عطا کرنے کا کیا معیار ہے؟
چیف جسٹس صاحب! پاکستان کی عوام آپ سے اس اہم مسئلہ پر ایک سو موٹو ایکشن کی بھی استدعا کرتی ہے۔ برائے کرم ہماری نمائندگی کو یقینی بنانے کے لئے اہل، قابل اور حقیقی معنوں میں صادق و امین رہنماؤں کے انتخاب کے لئے قانون سازی کو نافذ کرکے اس ملک کے عوام کو ریلیف فراہم کریں۔
سالار لطیف۔ معاشرہ میں رائج اصولوں کی بنا پر میں اپنے آپ کو اس دنیا میں اجنبی محسوس کرتا ہوں جہاں میری سوچ کو ہمیشہ پاگل پن اور بچگانہ ضد کے جیسے القاب سے نوازہ گیا ہے۔ چنانچہ، ایسے انسانوں کی اس دنیا میں گنجائش نہیں ہے۔


