مردوں کی دنیا میں ایک عورت : زبیدہ مصطفیٰ


زبیدہ مصطفیٰ اپنے کتاب ”مائی ڈان ایئرز“ کے دوسرے باب” مردوں کی دنیا میں ایک عورت ہونا“ میں لکھتی ہیں ”میں نہیں جانتی کہ یہ مفروضہ کیسے عام ہوا مگر جب 2012 ءمیں مجھے انٹرنیشنل ویمن میڈیا فیڈریشن کی طرف سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا تو مجھے پاکستان کی پہلی خاتون صحافی کہا گیا ،میرے لئے یہ حیران کن بات تھی کیونکہ میں نے تو ہمیشہ اپنے سے پہلے آنے والی عظیم صحافی خواتین کو سراہا ہے۔ ان میں سے کچھ میری دوست بھی تھیں اور انہوں نے مجھے سپورٹ بھی کیا تھا۔ اب جب کہ مجھے روزمرہ صحافت کی مشقت چھوڑے ہوئے آٹھ برس ہو گئے ہیں تو ان میں سے اکثر خواتین صحافی اس دنیا سے رخصت ہوچکی ہیں اور مجھی اکثر ان کی یاد آتی ہے۔ مجھ سے پہلی انگریزی صحافت میں آنے والی خواتین صحافیوں میں زیب انسا حمیداللہ ( ایڈیٹر مرر) انیس مرزا، ڈان کی پارلیمانے نمائندہ جنہوں نے ’فرام دی پریس گیلری‘ لکھی، ایلس فیض اور مریم حبیب دونوں نے پاکستان ٹائمز میں کام کیا۔ زہرہ قریشی جو بعد میں مسز کریم کہلائیں نے ’شی‘ میگزین نکالا، نوشابہ برنی جو کراچی یونیورسٹی میں صحافت پڑھاتی تھیں، پی آئی اے کے میگزین’ہمسفر‘ کی ایڈیٹر رہیں اور بعد میں ڈان میں بھی کام کیا۔ داستانوی شخصیت رضیہ بھٹی (باندرے) مجھ سے عمر میں چھوٹی تھیں لیکن صحافت میں مجھ سے پہلی آ چکی تھیں۔

اردو صحافت نے زیادہ تعداد میں خواتین کو اپنے طرف راغب کیا۔  1960 کے عشرے کے اختتام تک چند خواتین اردو صحافت میں اپنا نام منوا چکی تھیں۔ سلطانہ مہر نے پہلے روز نامہ انجام میں کام کیا اور پھر روزنامہ جنگ سے وابستہ ہو گئیں۔ مسرت جبیں اخبار خواتین کی بانی ایڈیٹر تھیں۔ ان کے بعد شمیم اختر، شین فرخ اور بہت سے خواتین آئیں۔ رعنا فاروقی اور سعیدہ افضل کا شمار اس دور کی مقبول صحافی خواتین میں ہوتا تھا جو اخبار جہاں کے ذریعے صحافت میں آئیں۔ یہ سب خواتین کے موضوعات پر لکھتی تھیں۔ مین اسٹریم صحافت ان کا دائرہ کار نہیں تھا۔

عورتوں نے سندھی صحافت میں بھی اپنے جگہ بنائی ۔ ان میں سے کچھ فری لانس کی حیثیت سے گھر بیٹھ کر لکھتی تھیں۔ ان کی تحریروں کا معیار بہت عمدہ ہوتا تھا۔ زینت عبداللہ چنہ کی ادارت میں سندھی میں عورتوں کا پہلا رسالہ نکلا اس کے بعد خدیجہ داﺅد پوتا کی ادارت میں ’ادھی‘ نامی رسالہ نکلا۔ وہ علی گڑھ کی گریجویٹ اور ایک قابل صحافی تھیں۔ پھر عورتوں نے مین سٹریم سندھی اخبارات کے لئے بھی لکھنا شروع کیا۔ زیڈ ای شیخ روزنامہ عبرت کے لئے لکھتی تھیں۔ فہمیدہ حسین نے سندھی صحافت میں اپنا مقام پیدا کیا۔ انہوں نے ماہنامہ بادل، روزنامہ ہلال پاکستان اور ماہنامہ سوجھرو میں کام کیا۔

زبیدہ مصطفیٰ کو زیادہ توجہ اس لئے ملی کہ اس وقت جب پاکستانی خواتین سماجی رکاوٹوں کو دور کرنے اور معاشرے میں اپنے لئے جگہ بنانے کی کوشش میں لگی ہوئی تھیں، زبیدہ کو مین اسٹریم صحافت میں سینیر لیول پر جگہ ملی۔ وہ اس پوزیشن سے دوسری عورتوں پر صحافت کے دروازے کھول سکتی تھیں۔ خواتین ہمعصروں کی بغیر اعلیٰ عہدے پر بیٹھی صحافی خود کو تنہا محسوس کرتی۔ اپنے مسائل کس سے شیئر کرتی۔ اپنے اعلیٰ عہدے کی بنا پر انہیں اپنے اخبار کے موضوعات میں عورتوں کے نقطہ نظر کو شامل کرنے کا موقع ملا۔ اور جب بھی کوئی نئی اسامی نکلی، انہوں نے خواتین امیدواروں کو میرٹ پر ملازمت دلانے کی کوشش کی۔ ان کی موجودگی خواتین صحافیوں کی حوصلہ افزائی کا باعث بنی۔ ستر اور اسی کی عشروں میں عورتیں صحافت اور دیگر شعبوں میں اپنے لئے جگہ بنانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ بالآخر مرد حضرات کو ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے  ہی بنی۔

ضیاءالحق کے جبر و استبداد کے زمانے میں زہرہ یوسف جیسی دبنگ صحافی خواتین بھی تھیں جو کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتی تھیں، وہ شام کی اخبار اسٹار کی ایڈیٹر تھیں۔ اسے طرح ہیرالڈ کی ایڈیٹر رضیہ بھٹی تھیں جنہوں نے بعد میں اپنے ٹیم کی ساتھ ماہنامہ نیوز لائن نکالا اور صحافتی جرات اور بہادری کی داستان رقم کی۔ جب زبیدہ مصطفیٰ نے ڈان جوائن کیا تو وہاں صرف ایک جز وقتی خاتون صحافی رخسانہ مشہدی تھیں جنہوں نے زبیدہ کو فیمنزم سے متعارف کروایا۔ رخسانہ مشہدی ہاتھ میں سیمون ڈی بوائر کی کتاب ’سیکنڈ سیکس‘ لی کر گھومتی تھیں۔ جب بھٹو نے  1977 کے انتخابات کا اعلان کیا تو ان دونوں خواتین نے اپنے ایڈیٹر احمد علی خان کو قائل کر لیا کہ وہ خواتین رائے دہندگان پر کام کریں گی اور ان کا نقطہ نظر پیش کریں گی۔ چنانچہ انہوں نے ایک قومی سروے کا آغاز کیا اور تجزیاتی مضامین لکھے۔

آہستہ آہستہ ان کے اخبار میں خواتین صحافیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا، میسون حسین، زینت حسام، نفیسہ ہود بھائی، نجمہ بابر، انجم نیاز اور افشاں صبوحی 1980 کے عشرے میں اس اخبار کے ذریعے صحافت میں آئیں۔ ان کی اور ان کی بعد آنے والی خاتون صحافیوں کی کھیپ کے بارے میں جاننے کے لئے زبیدہ مصطفیٰ کی کتاب Exploring social issues: My Dawn Years ضرور پڑھیں۔

Facebook Comments HS