فیمنسٹ پیروکاری، عائلی قوانین اور عورتوں پر ہونے والا تشدد

امتیازی قوانین دنیا بھر میں عورتوں کے انسانی حقوق کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ زندگی کا ساتھی چننے کا معاملہ ہو، یا وراثت میں حصہ ملنے کا یا ملازمت کرنے یا بچے کو اپنی تحویل میں لینے کا مسئلہ ہو، عورتوں کی زندگی کا ہر پہلو ان قوانین جنہیں عام طور پر عائلی قوانین…

Read more

پاکستان میں صحافت کی متبادل تاریخ

ترقی یافتہ دنیا میں اساتذہ کا کتابیں لکھنا ایک عام سی بات ہے لیکن پاکستان میں کتابیں لکھنا اور شائع کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ ایسے اساتذہ بھی کم ہیں اور ایسے ادارے تو اور بھی کم ہیں جو کتابوں کی اشاعت کے لئے تعاون کرتے ہوں۔ ڈاکٹر تو صیف احمد خان، سوسائٹی فار آلٹرنیٹو میڈیا اینڈ ریسرچ اور بدلتی دنیا پبلی کیشنز مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے ’پاکستان میں صحافت کی متبادل تاریخ‘ کو کتابی شکل میں ہمارے لئے مرتب کیا۔ طلبا اور محققین کے لئے تعلیم اور تحقیق کے حوالے سے اس کتاب کی افادیت اپنی جگہ لیکن پاکستان کی جمہوری جدوجہد کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے بھی اس کتاب کا مطالعہ ضروری ہے۔

Read more

پاکستانی خاندان اور عورت: پرورش، پابندی، خود مختاری

کہتے ہیں کہ تناور پیڑ کے نیچے اگنے والے پودے پنپ نہیں سکتے مگر شائستہ سعیدنے جناتی دانشوروں، فلسفیوں، ادیبوں اور شاعروں کے گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود اپنی شخصیت کو منوایا ہے۔ خاندان سے متعلق وہ پہلے بھی ایک کتاب ”دو نسلوں کی مائیں“ لکھ چکی ہیں۔ زیر نظر کتاب ”پاکستانی خاندان اور عورت۔ پرورش، پابندی، خود مختاری“ کا دیباچہ ڈاکٹر محمد علی صدیقی نے لکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شائستہ سعید نے ایک اچھے خاندان کے لئے ضروری ہر پہلو کی نشاندہی کی ہے اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ آخرش کون سا مناسب طریقہ ہے کہ ہر خاندان کا ذمہ دار فرد بلا لحاظ جنس، کس طرح خاندان جیسی عظیم اکائی کی بہتری میں مقدور بھر کردار ادا کر کے دنیا کو کس قدر بہتر بنا سکتا ہے۔ ایک ایسی دنیا جس میں انسانوں کی بلا تفریق مذہب، نسل، زبان اور علاقہ، ان کے جوہر انسانیت کی وجہ سے عزت و توقیر ہو سکے۔ چونکہ ایک اچھا انسان ہی اپنے مذہب، نسل، زبان اور علاقے کے لئے قابل فخر سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ”

Read more

شانتا بخاری۔ ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی

سب سے پہلے تو مجھے اعتراف کرنے دیجئے کہ میں شانتا بخاری سے ان کی زندگی میں ملنے سے محروم رہی، یہ تو اب چند سالوں سے اخبار و جرائد میں ان کے بارے میں مضامین پڑھنے کا اتفاق ہواتو بارہا خود سے پوچھا کہ آخر کیوں میں ایسی بے لوث اور کمٹڈ ٹریڈ یونین…

Read more

منیر مانک سندھ کا منٹو تھا

روزنامہ مساوات بند ہو چکا تھا، احفاظ بے روزگار تھے۔ آزادی صحافت کی جنگ لڑی جا چکی تھی، صحافیوں کو کوڑے لگ چکے تھے۔ ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی نے صرف ایک ہزار روپے کی تنخواہ پر ملازمت کی آفر کی تو احفاظ نے وہ بھی قبول کر لی تھی۔ میں تحریک استقلال کے ہفت روزہ پرچے…

Read more

پاکستان کا تابکار عشرہ

ایڈیٹرز: نیلوفر فرخ، امین گل جی، جان میک کیری پبلشر: (اؤ یو پی) آکسفورڈ یونیورسٹی پریس ترجمہ وتبصرہ : مہ ناز رحمن ستر کے عشرہ کی پاکستان کے لئے کیا اہمیت تھی، یہ وہی بتا سکتے ہیں جو تب جوان تھے اور پاکستان کی تقدیر بدلنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ نیلوفر فرخ، امین گل…

Read more

امن قائم کرنے میں عورتوں کا حصہ

میں پوچھتی ہوں؛ چھوٹے، بڑے، ہلکے، بھاری، نیوکلیائی، بائیولوجیکل ہتھیاروں کی دوڑ آخر کس لئے؟ نسل انسانی کا خون بہانے کے لئے؟ بنی نوع انسان کا خاتمہ کرنے کے لئے؟ ہتھیار جمع کرنے والے اور جنگیں کرنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ: خون اپنا ہو یا پرایا ہو، نسل آدم کا خون ہے…

Read more

زنا بالجبر اور سماجی رویے

میرا بچپن لائل پور میں گزرا، چھٹیوں میں ہم لاہور میں گوالمنڈی، سید مٹھے اور وزیر خاں کی مسجد کی عقبی گلی میں مقیم رشتہ داروں کے گھر جا کے رہتے تھے۔ بچپن کی ایک دھندلی سی یاد کافی سالوں ساتھ رہی۔ ایک مرتبہ چھٹیوں میں نانی کے ساتھ ہم بہن بھائی لاہور گئے تو گوالمنڈی میں ماموں کی گلی میں سوگوار سا ماحول پایا۔ نانی اور رشتے کی خالائیں آپس میں سرگوشیاں کرنے لگیں، ہم دیگر بچوں کے ساتھ کھیلتے کودتے پھرتے مگر نہ سمجھتے ہوئے بھی کچھ نہ کچھ سمجھ آ ہی جاتا تھا۔

نانی کے ساتھ ہم بھی سامنے والے مکان میں رہنے والی بیوہ استانی کے گھر گئے۔ ماحول کچھ ایسا تھا جیسے مرنے پر لوگ تعزیت کرنے جاتے ہیں۔ بیوہ استانی کی چودہ پندرہ سالہ گونگی اور ذہنی طور پر کمزور بچی نے ایک بچے کو جنم دیا تھا۔ بیوہ ماں کے آنسوؤں کو میں آج تک نہیں بھولی۔ نصف صدی سے بھی پہلے کی بات ہے، اس وقت لوگ ڈی این اے کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔ محلے کے ایک صاحب کے بارے میں خواتین سرگوشیوں میں کہتی تھیں کہ وہ اس حرکت کے ذمہ دار ہیں لیکن کھل کے کہنے کی کسی میں ہمت نہیں تھی اور نہ ہی کوئی یہ بات ثابت کر سکتا تھا۔

Read more

رہائش اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی کس کی ذمہ داری؟

کراچی میں پاکستان کوارٹرز، ایمپریس مارکیٹ اور اب سرکلرریلوے کے تجاوزات اور رہائشی مکانات کے انہدام کے بعد لوگ رہائشی مسئلے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے لگے ہیں۔ کیا ہمارا نظام، ہماری ریاست اور حکومت اس مسئلے کو حل کر سکتی ہے؟ اس حوالے سے مختلف ممالک میں مختلف نظام اپنائے گئے، ایک منصوبہ بند معیشت پر مبنی نظام اوردوسرا آزاد منڈی کی معشیت والا نظام۔ منصوبہ بند معیشت میں ریاست افراد کی تعداد کے لحاظ سے ان کی ضروریات پوری کرنے کے لئے منصوبہ بندی کرتی ہے۔

Read more

غریب کا بیانیہ

سفید داڑھی، گوری گلابی رنگت اور اجلے سفید کپڑوں میں ملبوس حاجی بادشاہ نے جب بولنا شروع کیا تو مجھے ہو چی منہ، ماﺅزے تنگ، چی گویرا اور مارکس یاد آ گئے۔ وہ کہہ رہے تھے ” پاکستان کے بائیس کروڑ لوگوں میں سے امیر لوگ کتنے ہوں گے ؟ ڈیڑھ دو کروڑ؟ اکثریت میں…

Read more