خواب، محبت اور زندگی 46

شیما کرمانی کا فیصلہ کن ووٹ بہر صورت یہ واضح ہو گیا تھا کہ اب ہماری شادی کا خواب اس طرح سے پورا نہیں ہو گا جس طرح ہم نے سوچا تھا۔ ابی کو پہلے سے ہی اس علاقے کے بارے میں تحفظات تھے جہاں احفاظ کی رہائش تھی اور اب امی اور خالہ کے ان کے گھر جانے کے بعد اور احفاظ کے جذباتی ابال نے معاملہ اور بھی بگاڑ دیا تھا۔ لیکن میں ان سے شادی کے فیصلے

Read more

خواب، محبت اور زندگی 45

راجا پاکستانی کی انٹری رسم و رواج کے مطابق رشتہ مانگنے کے لئے احفاظ نے اپنے دوست حسن امام کی اہلیہ کو میرے والدین کے پاس بھیجا۔ اور اس کے بعد امی اور خالہ احفاظ کا گھر دیکھنے گئیں۔ اس ملاقات نے سب کچھ بدل دیا۔ بس یوں سمجھ لیجیے کہ یہ ملاقات قیامت ڈھا گئی۔ راجا ہندوستانی طرز کی نہیں بلکہ راجا پاکستانی طرز کی قیامت۔ احفاظ کا چھوٹا سا گھر محنت کش طبقے کے محلے میں واقع تھا۔

Read more

خواب، محبت اور زندگی 44

محبت کے رنگوں کی برکھا نئے اخبار کا پہلے سے مارکیٹ میں قدم جمائے ہوئے مقبول اخباروں سے ٹکر لینا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ احفاظ بے حد ذہنی دباؤ میں رہتے تھے۔ چین کی خالص غذاؤں اور آلودگی سے پاک ہواؤں سے چہرے پر آنے والی سرخی کراچی کی آلودگی، ملاوٹ والی غذا اور کام کے دباؤ کی وجہ سے غائب ہونا شروع ہو گئی تھی۔ ان کا پارہ چڑھنے میں دیر نہیں لگتی تھی۔ وہ اپنے غصے کے

Read more

کربلا۔ تہذیب کا مستقبل

(ایک انسان دوست معاشرے کی تشکیل کے لئے دی جانے والی قربانی) پاکستان کے مشہور فلسفی، دانشور، ادیب اور صحافی سید محمد تقی نے 1980 میں کربلا۔ تہذیب کا مستقبل کے عنوان سے ایک کتاب لکھی تھی۔ 2024 میں سمیرا نقوی نے اس کا انگریزی ترجمہ کیا اور لائٹ سٹون نے اسے 2025 میں شائع کیا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ تقی صاحب بائیں بازو کی اقدار میں یقین رکھتے تھے جن کے لئے افکار و اعمال میں علم کی

Read more

خواب، محبت اور زندگی 43

پہلی نظر، پہلا اثر First Glimpses، First Sparks شوکت صدیقی صاحب نے ابتدا میں مساوات کا دفتر کراچی کی شارع فیصل پر رومی مسجد کے پاس رائٹرز گلڈ کے دفتر میں بنایا تھا اور وہیں پہلی مرتبہ میں نے اپنے میگزین ایڈیٹر یعنی احفاظ کو دیکھا۔ مختصر سے انٹرویو کے بعد انہوں نے مجھے اپنی میگزین ٹیم میں شامل کر لیا۔ میں پہلے سے ہی ان کی شخصیت سے مرعوب تھی کیونکہ میں جانتی تھی کہ وہ حال ہی میں

Read more

خواب، محبت اور زندگی (42) 

نارتھ ناظم آباد کراچی میں ان ہی دنوں کراچی میں ناظم آباد سے آگے ایک نیا پوش علاقہ بنا تھا جو نارتھ ناظم آباد کہلاتا تھا۔ ہمارے والدین نے وہاں ایل بلاک میں ایک مکان خرید کر ہم بچوں کو وہاں بھیج دیا۔ خدا کی بستی کے مصنف شوکت صدیقی صاحب اور سب رنگ ڈائجسٹ کے شکیل عادل زادہ بھی وہیں رہتے تھے۔ موجودہ انتہائی کمرشلائزڈ اور پرہجوم نارتھ ناظم آباد کو دیکھ کر کوئی یقین نہیں کرے گا کہ

Read more

خواب، محبت اور زندگی 41

حصہ سوم: محبت اس حصہ میں ذکر ہو گا احفاظ سے میری ’فلمی قسم کی‘ شادی کا۔ شادی کے بعد کے ابتدائی ہنگامہ خیز اور پر آشوب سالوں کے حوالے سے بائیں بازو اور خاص طور پر صحافی احباب میں دو فلموں کا تذکرہ رہتا تھا۔ ایک تو ہالی ووڈ مووی THE WAY WE WERE تھی جس میں رابرٹ ریڈ فورڈ اور باربرا اسٹیئرسینڈ نے کام کیا تھا۔ دونوں مرکزی کرداروں کے نظریات مختلف تھے۔ فلم میں رابرٹ ریڈ فورڈ

Read more

خواب، محبت اور زندگی 40

باب ششم: بائیں بازو کی تحریک کا تنقیدی جائزہ شاید کچھ قارئین کے لئے یہ قسط بوریت کا باعث بنے لیکن اپنی آپ بیتی کو آگے بڑھانے سے پہلے میں یہاں اپنے تجربات کی روشنی میں آج کل کے نوجوانوں کے لئے بائیں بازو کی تحریک کا تنقیدی جائزہ لینا چاہوں گی۔ ویسے بھی میری ذاتی زندگی بائیں بازو کی تحریک سے عملی طور پر جڑی رہی ہے اور میں دونوں کو الگ کر کے نہیں دیکھ سکتی۔ سبق 1

Read more

خواب، محبت اور زندگی (39)

A Practical Marriage Pledge یونیورسٹی کی تعطیلات میں ممتاز اور میں ٹرین کے ذریعے سکھر اور شکارپور اپنے گھروں کو جایا کرتے تھے۔ الیکشن میں کامیابی کے بعد جب ہم چھٹیوں میں گھر جا رہے تھے تو ہمارا ایک کلاس فیلو بھی اسی کمپارٹمنٹ میں سفر کر رہا تھا۔ وہ سکھر اپنے دادا سے ملنے جا رہا تھا۔ سارا راستہ وہ ہمارے ایک لیفٹسٹ کامریڈ دوست کی سفارش کرتا رہا جو بقول اس کے سر تا پا میری محبت میں

Read more

خواب، محبت اور زندگی 38

جب میں نے کرامت علی کو جمعیت کے ہاتھوں مرنے سے بچایا 1970 میں کراچی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے کئی سالوں کے وقفے کے بعد فارغ التحصیل طلبہ کے لئے تقریب تقسیم اسناد یعنی کانووکیشن منعقد کرانے کا فیصلہ کیا۔ کرامت علی، رشید رضوی، عابد علی سید اور این ایس ایف کے دیگر لڑکوں نے کانووکیشن کی کارروائی کو درہم برہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ این ایس ایف کا کہنا تھا کہ ایسی ڈگریوں کا کیا فائدہ جو آپ کو

Read more

خواب، محبت اور زندگی 37

جب فیض ہم سے ملنے آئے ہوسٹل میں میری نسرین تالپور سے دوستی ہو گئی۔ طارق فتح، شہریار مرزا اور انیس باقر ان دنوں جیل میں تھے۔ میں ایک مرتبہ نسرین کے ساتھ ان سے ملنے جیل بھی گئی۔ ہمارے ساتھ جامعہ ملیہ کا جاوید بھی تھا۔ ایک مرتبہ ہوسٹل میں ہمیں خبر ملی کہ حبیب جالب کراچی آئے ہوئے ہیں۔ میں ان سے ملنا چاہتی تھی۔ میں نے نسرین سے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ اس کے والد رسول

Read more

خواب، محبت اور زندگی 36

Return of the crush who turned turncoat ایک روز ڈیپارٹمنٹ سے ہوسٹل کی طرف جاتے ہوئے عقب سے کسی نے میرا نام لے کر پکارا۔ میں نے گھوم کر دیکھا تو کوریڈور کے کونے پر وہ صاحب کھڑے تھے جن پر فرسٹ ائر میں مجھے کرش ہو گیا تھا۔ کیا میں خواب دیکھ رہی تھی؟ نہیں یہ حقیقت تھی۔ وہ واقعی مجھ سے ملنے یونیورسٹی آ پہنچے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ اب وہ کالج کی بجائے ایک غیر

Read more

خواب، محبت اور زندگی 35

ابتدائی سیاسی مہم جوئیاں یونیورسٹی میں میرے ابتدائی دنوں میں ایوب خان نے بھٹو کو گرفتار کر لیا۔ اس وقت تک میرے یونیورسٹی میں کسی سے سیاسی روابط نہیں تھے۔ اور کوئی سیاسی وابستگی بھی نہیں تھی۔ لیکن مجھے یہ خبر سن کر بہت غصہ آیا۔ اور میں نے اپنی ہوسٹل کی چند دوستوں کو احتجاج پر آمادہ کر لیا۔ ہم نے مل کے بھٹو کی رہائی کے مطالبے کے لئے پوسٹرز تیار کیے۔ اگلے دن اتوار کی چھٹی تھی

Read more

خواب، محبت اور زندگی (34)

ہوسٹل میں پہلی رات یوں میری یونیورسٹی کی زندگی کا آغاز ہوا۔ گرلز ہوسٹل کی خوبصورت عمارت اسی سال مکمل ہوئی تھی۔ سفید رنگ کی سنگ مرمر جیسی دو منزلہ عمارت کے درمیان ایک ہرا بھرا لان تھا۔ کھانا حیدرآباد کالج کے مقابلے میں ہزار گنا بہتر تھا مگر پھر بھی مہینے میں ایک آدھ مرتبہ لڑکیوں کے کسی نہ کسی گروپ کا کھانے کی کوالٹی یا مینو کے حوالے سے وارڈن سے جھگڑا ضرور ہوتا تھا۔ ممتاز اور تین

Read more

خواب، محبت اور زندگی 33

بوڑھی عورت اور چین کا ثقافتی انقلاب یہ بات مجھے بہت عرصہ بعد سمجھ میں آئی کہ جب میں اور فہمیدہ اپنی چین نوازی اور روس نوازی کے حوالے سے بحث میں مصروف تھے تو احفاظ خاموشی سے کھڑے مسکرا کیوں رہے تھے۔ احفاظ ہماری شادی سے پہلے بھی 1969 میں اپنی نوجوانی کے زمانے میں چین گئے تھے۔ (یہ وہی سال تھا جب میں نے کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا) ۔ احفاظ کا تعلق بھی چین نواز کیمپ

Read more

خواب، محبت اور زندگی (32)

حصہ دوم۔ دی لیفٹ یہ حصہ بنیادی طور پر میرے لیفٹسٹ آدرشوں اور خوابوں سے لے کر عملی جدوجہد کا حصہ بننے تک کے سفر کی کہانی ہے۔ میں کیسے نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن NSFکا حصہ بنی۔ میں نے کیسے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کے کامیاب انتخابی مہم چلائی اور کراچی یونیورسٹی کے سب سے بڑے ڈپارٹمنٹ کی اکنامکس سوسائٹی کی پہلی ترقی پسند لیفٹسٹ خاتون نائب صدر منتخب ہوئی۔ اور بہت سے فیصلہ کن لمحات اور واقعات کے ساتھ

Read more

خواب، محبت اور زندگی 31

ان صاحب نے ہوسٹل کے پتے پر مجھے خط بھیج دیا۔ مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وارڈن یا پرنسپل صاحبہ لڑکیوں کے نام آنے والے خطوط چیک کرتی ہیں۔ ہمارے درمیان چند خطوط کا ہی تبادلہ ہوا ہو گا کہ میری پرنسپل کے دفتر میں طلبی ہو گئی۔ ان صاحب کا خط دکھا کر انہوں نے میری جو سرزنش کرنی تھی سو کی۔ اور پھر میری منت سماجت کے باوجود وہ خط شکارپور میرے والدین کو بھجوا دیا۔ جو

Read more

خواب، محبت اور زندگی 30

شکارپور کے لوگ بہت ہی مہمان نواز اور محبت کرنے والے تھے۔ یہاں تک کہ چھوٹے ملازمین میں سے بھی کبھی کوئی خالص مکھن تو کبھی کوئی چھتے سمیت شہد اور کوئی اپنے شکار کردہ تیتر لیے چلا آ رہا ہے۔ ان کی محبتیں اپنی جگہ مگر کراچی کی لڑکی کے لئے شکارپور ایک انتہائی دقیانوسی جگہ تھی۔ کہاں کراچی جہاں لڑکیوں کے باہر نکلنے پر کوئی پابندی نہیں تھی اور کہاں شکارپور جہاں کوئی لڑکی دکھائی نہیں دیتی تھی۔

Read more

خواب، محبت اور زندگی 29

اپنے اصل شوق کی جستجو: فنون لطیفہ انٹر کے امتحانات کی تیاری کے لئے ہر مضمون کے لئے میں نے صرف چار یا پانچ دن پڑھائی کی تھی اور توقع کے مطابق میری سیکنڈ ڈویژن ہی آئی تھی۔ اس لئے امی کی ساری بھاگ دوڑ کے باوجود مجھے کسی میڈیکل کالج میں داخلہ نہ مل سکا۔ صرف ایک آپشن بچا تھا کہ میں مشرقی پاکستان جا کے داخلہ لے لوں لیکن امی مجھے اتنی دور بھیجنے کی ہمت نہیں کر

Read more

خواب، محبت اور زندگی 28

انٹر سائنس کے دوسرے سال میں مجھ پر اس تکلیف دہ حقیقت کا انکشاف ہوا کہ میری افتاد طبع سائنس کے مضامین سے میل نہیں کھاتی، میں ٹھہری شعر و ادب کی دلدادہ۔ مجھے آرٹس پڑھنا چاہیے تھا لیکن امی کی مجھے ڈاکٹر بنانے کی خواہش آڑے آ گئی تھی۔ سائنس کے مضامین لے تو لئے تھے لیکن پڑھنے کا دل نہیں چاہتا تھا۔ ویسے بھی میں کبھی بھی پڑھاکو طالبعلم نہیں رہی تھی۔ مجتبیٰ صاحب نے ایک دفعہ میرے

Read more

خواب، محبت اور زندگی 27

وہ خوبصورت خاتون جو میری بہن بھی ہو سکتی تھی جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے 1965 میں میرے میٹرک کرنے کے بعد ہم عزیز آباد کے ایک کشادہ گھر میں منتقل ہو گئے تھے۔ عزیز آباد کی موجودہ حالت دیکھ کر کوئی یقین نہیں کرے گا کہ ایک زمانے میں یہ کتنا صاف ستھرا اور خوب صورت علاقہ ہوتا تھا۔ کئی سال بعد اس کی وجہ شہرت ایم کیو ایم کا ہیڈ کواٹر ہونا بنی۔ ایک تعمیراتی کمپنی

Read more

خواب، محبت اور زندگی (26)

جب سینما دیکھنے پر تھپڑ کھایا اس زمانے میں ذاتی حوالے سے ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو برسوں میرے لئے شرمندگی اور ذہنی تکلیف کا باعث بنا رہا۔ مجھے لگتا تھا کہ میرے ساتھ نا انصافی ہوئی تھی۔ اس واقعے کا تعلق میری اسکول کے زمانے کی ایک سہیلی سے تھا جو پڑھائی کے ساتھ نرسنگ کا جز وقتی کام بھی کرتی تھی۔ اس لئے ہمارے مقابلے میں ایک طرح سے اسے مالی خود مختاری حاصل تھی۔ ایک روز

Read more

زرداری کا دور صدارت اور فرحت اللہ بابر

صحافیوں کے حلقے میں اس وقت جس کتاب کے انکشافات نے سنسنی پھیلا دی ہے اور پاکستانی عوام کی اکثریت جنہیں سیاست کے بارے میں بات کیے بغیر نہ کھانا ہضم ہوتا ہے نہ ٹھیک سے نیند آتی ہے، جس کتاب کو پڑھنے کے خواہشمند ہیں، وہ ہے لائٹ اسٹون کی شائع کردہ فرحت اللہ بابر کی آصف علی زرداری کے بارے میں کتاب جس میں ان کے 2008۔ 2013 کے دور صدارت کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ اور

Read more

سوتیلے باپوں کا بچوں پر تشدد

اکثر سوچتی ہوں کہ سوتیلی ماؤں کے ظلم و ستم کے بارے میں تو بے شمار کہانیاں اور قصے لکھے گئے لیکن سوتیلے باپوں کے بارے میں کیوں کچھ نہیں لکھا گیا۔ انسانی حقوق اور عورتوں اور بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے یقیناً سوتیلے باپوں کے بچوں پر تشدد کے واقعات کا علم رکھتے ہیں مگر انہیں قلم بند کرنے کا وقت نہیں ملتا۔ کچھ سال پہلے مجھے ذہنی اور جسمانی طور پر معذور بچوں کے ایک

Read more

خواب، محبت اور زندگی 25

اب میں اس دور کے بارے میں سوچتی ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ میرے والدین خوش باش رہنے والے سیماب صفت لوگ تھے۔ دونوں فلموں، کتابوں اور رسالوں کے شیدائی تھے۔ مجھے یاد ہے امی نے ایک دفعہ اردو کے ایک مشہور اخبار میں ایڈیٹر کے نام خط لکھا تھا جس میں کراچی میں تھیٹر کی حالت زار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فن کاروں کی سرپرستی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس مراسلے کو پڑھ کے تھیٹر

Read more

خواب، محبت اور زندگی 24

لاہور واپسی لاہور میں ہم نے کرشن نگر کی ایک نو تعمیر شدہ عمارت میں ایک فلیٹ کرائے پر لیا۔ یہ ایک اچھا کشادہ فلیٹ تھا۔ امی کے زیادہ تر رشتہ دار لاہور میں مقیم تھے۔ ان میں سے زیادہ تر پارٹیشن کے وقت امرتسر سے آ کر لاہور کی گوالمنڈی میں رہنے لگے تھے۔ جب کہ چند گلبرگ میں رہ رہے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ امی کے ساتھ ہم خالہ کے دیور ہمایوں صادق کے گھر

Read more

سول سوسائٹی اور دانشوروں کا کردار

پاکستان میں ساٹھ اور ستر کے عشرے میں بائیں بازو کے ایکٹوسٹس کی رہنمائی  کے لئے سبط حسن جیسے دانشور، شوکت صدیقی جیسے ادیب اور منہاج برنا اور نثار عثمانی جیسے صحافی موجود تھے۔ سید محمد تقی داس کیپیٹل کا ترجمہ کر رہے تھے، فیض احمد فیض تھے جنہوں نے ضیا الحق کی آمریت کے سیاہ دور میں ہمیں یقین دلایا کہ ”ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے“ مگر ہم کیا دیکھتے کہ چاروں طرف جہالت اور انتہا

Read more

خواب، محبت اور زندگی (23)

ابی کے اسپتال میں داخلے کا مطلب یہ تھا کہ وہ خاندان کی کفالت کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے تھے۔ کراچی میں ہماری آمدنی کا کوئی اور ذریعہ بھی نہیں تھا۔ ابی خاندان کے واحد کفیل تھے۔ ظاہر ہے یہ بات ان کے لئے سوہان روح تھی۔ انہیں یہی فکر ستاتی رہتی تھی کہ ہمارا گزارا کیسے ہو گا۔ اس لئے کچھ عرصہ بعد وہ موقع پاتے ہی ہسپتال سے فرار ہو کر گھر آ گئے اور اخبار میں

Read more

خواب، محبت اور زندگی 21

  اس وقت تک ہمارے لئے محمودہ خالہ کا گھر اور وہ ہاؤسنگ سوسائٹی ہی کراچی تھی۔ ہمارے لئے ہر چیز نئی اور مختلف تھی۔ ساتھ والے گھر میں بادام کا گھنا درخت لگا ہوا تھا جس سے کچے بادام ٹوٹ ٹوٹ کر ہمارے صحن میں گرتے تھے۔ میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ کچے بادام دیکھے۔ محمودہ خالہ کے سب سے چھوٹے بیٹے جنہیں گھر والے بادشاہ کہتے تھے نے ہمیں بتایا کہ ان کچے باداموں کو پسی ہوئی

Read more

خواب، محبت اور زندگی (20)

یہ 1963 کا ذکر ہے۔ میری عمر چودہ سال تھی۔ اس زمانے میں کولرز تو متعارف نہیں ہوئے تھے۔ چلتے وقت امی نے ایک صراحی میں پانی بھر کر رکھ لیا تھا۔ حیدرآباد کے آس پاس کہیں پانی ختم ہوا تو امی نے اسٹیشن سے دوبارہ صراحی میں پانی بھروا لیا۔ پانی کا پہلا گھونٹ لیتے ہی مجھے احساس ہوا کہ لائلپور کا پانی کتنا میٹھا تھا جب کہ یہ نیا پانی کھارا اور نمکین سا تھا۔ شاید مجھے لائلپور

Read more

خواب، محبت اور زندگی: ہیرو سے نشئی بننے تک (19)

ہم سب بے حد خوش تھے کہ ابی واپس ہماری زندگی میں آ گئے تھے لیکن ہمیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ ایک ڈراؤنا خواب ہمارا منتظر تھا۔ لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ رہتے ہوئے انہیں پیتھیڈین کے انجکشن لگانے کی عادت پڑ گئی تھی۔ یوں سمجھ لیجیے کہ یہ کوکین کے خواص سے مشابہ ایک ٹیکہ تھا۔ دراصل اس خاتون کے ساتھ رہتے ہوئے ابی جب بھی امی اور ہمارے لئے پریشان ہوتے تھے تو وہ ان کا ذہنی دباؤ

Read more

کچھ نہیں بدلا

خواتین ایکٹوسٹس اچھی طرح جانتی ہیں کہ ضیا الحق کے بنائے جانے والے امتیازی قوانین کے خلاف شروع ہونے والی خواتین کی تحریک کا جب بھی ذکر ہو گا مہتاب چنہ (اب مہتاب اکبر راشدی) کا نام ضرور آئے گا۔ جب ضیا الحق کی آمریت کے تاریک دور کا آغاز ہوا تو مہتاب پاکستان ٹیلی ویژن پر نوجوانوں کا ایک مقبول پروگرام ”فروزاں“ کرتی تھیں۔ آمر کا فرمان جاری ہوا کہ خواتین ٹی وی اینکرز کو سر پر لازمی ڈوپٹہ

Read more

خواب، محبت اور زندگی 18

یہاں مجھے اعتراف کرنے دیجئے کہ ابتدائی عمر کے اسی طرح کے واقعات نے مجھے جارحیت کی بجائے مصالحت کرنا سکھایا اور میں ایک کسی کو بھی ناراض نہ کرنے والی ”پیپل پلیزر“ شخصیت میں ڈھل گئی۔ ایک دس سال کی بچی زندگی کے دکھ دیکھ کر اپنے پیاروں کو مزید دکھ نہیں دینا چاہتی تھی۔ بعد میں جب میرے اندر چھپی ہوئی بغاوت کا طوفان امڈ کر باہر آیا تو میں بغاوت اور بچپن میں سیکھی ہوئی ملنساری اور

Read more

خواب، محبت اور زندگی 17

ایک روز امی سہ پہر کو کسی کام سے چھت پر گئیں اور دیوار سے نیچے گلی میں جھانک کر دیکھا تو سامنے لیڈی ڈاکٹر کے گھر میں عقبی دروازے سے ابی داخل ہوتے نظر آئے۔ امی کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا اور انہوں نے وہیں فرش پر بیٹھ کر رونا شروع کر دیا۔ اب آپ پوچھیں گے کہ مجھے یہ سب کچھ کیسے پتا چلا تو دراصل اسی دن سے امی نے ڈائری لکھنا شروع کر دی

Read more

لیڈی ڈاکٹر: خواب، محبت اور زندگی (16)

لیڈی ڈاکٹر ڈاکٹر نعیم کی جگہ ایک لیڈی ڈاکٹر (خواتین ڈاکٹرز کے لئے استعمال ہونے والی قدیم برطانوی /پاکستانی اصطلاح) کا تقرر ہوا۔ ویسے تو اس تقرری سے ساری کالونی میں ہلچل مچی لیکن ہماری فیملی پر اس کے بہت گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ لیڈی ڈاکٹر امریکہ سے ایم ڈی کی ڈگری لے کر آئی تھی جو اس زمانے میں ایک لڑکی کے لئے بہت بڑی بات تھی۔ وہ ایک سمارٹ خاتون تھی اور غیر شادی شدہ تھی۔ وہ اکثر

Read more

خواب، محبت اور زندگی 15

The Rigged game of the rich, by the rich, for the rich اشرافیہ کا دھاندلی زدہ کھیل ہو سکتا ہے ابھی تک میں نے اپنے سوشلسٹ اور لیفٹسٹ بننے کے جو اسباب بیان کیے ہیں، وہ محض دانشورانہ فصاحت و بلاغت کا نمونہ ہوں اور اصل وجہ جذباتی، ذاتی اور سیدھی سادی سی ہو۔ میں یوسف سہگل کی سب سے چھوٹی بیٹی ناز سہگل کا ذکر کر چکی ہوں۔ بچپن میں وہ کبھی کبھار اپنی ملازمہ رسولاں کو بھیج کر

Read more

خواب، محبت اور زندگی (15)

The rigged game of the rich, by the rich, for the rich اشرافیہ کا دھاندلی زدہ کھیل ہو سکتا ہے ابھی تک میں نے اپنے سوشلسٹ اور لیفٹسٹ بننے کے جو اسباب بیان کیے ہیں، وہ محض دانشورانہ فصاحت و بلاغت کا نمونہ ہوں اور اصل وجہ جذباتی، ذاتی اور سیدھی سادی سی ہو۔ میں یوسف سہگل کی سب سے چھوٹی بیٹی ناز سہگل کا ذکر کر چکی ہوں۔ بچپن میں وہ کبھی کبھار اپنی ملازمہ رسولاں کو بھیج کر

Read more

خواب، محبت اور زندگی (14)

Murder, she saw!? مجھے اس زمانے کے قتل کے دو مشہور مقدمات اچھی طرح یاد ہیں جن کے بارے میں روز اخبارات میں خبریں شائع ہوتی تھیں اور لوگ بے چینی سے عدالت میں فریقین کی پیشیوں کا انتظار کرتے تھے۔ ایک تو منیرہ استانی کے قتل کا کیس تھا جس میں با اثر پگانوالہ خاندان ملوث تھا۔ اور دوسرا حکیم دلبر قتل کیس تھا جس میں مقتول کے بھائیوں نے سہگل خاندان کے خالد سہگل کو ایف آئی آر

Read more

خواب، محبت اور زندگی (13)

ٹیچرز ہاسٹل کالونی کے اندر ہی اسکول کے سامنے واقع تھا اور امی کی میری کئی استانیوں سے دوستی ہو گئی تھی۔ ایک مرتبہ اسکول کے ڈرامے میں ایک کردار میرا بھی تھا۔ اسٹیج پر آنے کے بعد میں نے اپنے مکالمے بولنا شروع کیے تھے کہ اچانک میری نظر امی پر پڑی جو پہلی قطار میں صوفے پر استانیوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان کی موجودگی میرے لئے غیر متوقع تھی۔ نروس ہو کے میری ہنسی چھوٹ گئی

Read more

عفت نوید کی ’ردی‘

جس طرح پاکستان میں اکثر ڈاکٹر لڑکیاں شادی کے بعد سسرال والوں اور شوہر کی ضد کے ہاتھوں مجبور ہو کر پریکٹس چھوڑ دیتی ہیں اور گھر بیٹھ جاتی ہیں۔ اسی طرح ادبی جرائد میں تواتر سے افسانے لکھنے والی کئی لڑکیوں کو بھی ہم نے شادی کے بعد ادبی منظر سے غائب ہوتے دیکھا ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے آخر وہ لکھنا کیوں چھوڑ دیتی ہیں؟ لکھنے لکھانے کا کام تو گھر بیٹھے ہو سکتا ہے۔ اس سوال

Read more

خواب، محبت اور زندگی 12

میرے سامنے فرش پر بیٹھی ہوئی لڑکیوں میں سے دو میری طرف اشارے کر کے بڑی سنجیدگی سے ایک دوسرے کے کانوں میں کھسر پھسر کر رہی تھیں۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا اور میں نے پھر گھٹنوں پر سر رکھ کر رونا شروع کر دیا۔ درمیان میں جب بھی سر اٹھا کر دیکھا، ان لڑکیوں کو اسی طرح کھسر پھسر کرتے پایا۔ چھٹی کے وقت سے کچھ پہلے مجھے اندازہ ہوا کہ امی صبح مجھے جلدی میں جانگیہ

Read more

ٹرمپ کا ٹیرف اور ہمارے ماہرین معاشیات

ہم جیسے کم پڑھے لکھوں کو معاشیات کے پیچیدہ تصورات اور بھاری بھرکم اصطلاحات کی مشکل سے ہی سمجھ آتی ہے لیکن کیا کریں کہ حکومتوں اور بڑی طاقتوں کے معاشی فیصلے اور پالیسیاں سب سے زیادہ غریب عوام پر ہی اثر انداز ہوتی ہیں۔ اور عوام کی اکثریت ناخواندہ یا کم پڑھی لکھی ہوتی ہے۔ اس لئے ہم اپنے ماہرین معاشیات سے ہی رجوع کرتے ہیں کہ وہ ہمیں سمجھائیں کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ ہمیں یاد

Read more

(11) خواب، محبت اور زندگی 

ابی پان کھانے کے عادی تھے۔ ہر صبح دکان کی طرف جاتے ہوئے، وہ راستے میں فٹ پاتھ پر چھابڑی لگائے بیٹھی ایک بڑھیا سے پان بنوایا کرتے تھے۔ میں جس روز بھی ابی کے ساتھ جاتی، وہ بوڑھی عورت مجھے دیکھتے ہی پان کی ایک گلوری بنا کر میری طرف بڑھا دیتی تھی اور میں اسے اس کا محبت بھرا تحفہ سمجھ کر خوشی خوشی کھا لیا کرتی تھی۔ بہت عرصہ بعد مجھے پتہ چلا کہ وہ اس گلوری

Read more

خواب، محبت اور زندگی (10)

وزیر خان کی مسجد کے پیچھے لاہور میں ہمارا قیام ابی کی مرحومہ پھوپھی کے مکان میں رہا (جن کی بڑی بیٹی سے ابی کی شادی ہوتے ہوتے رہ گئی تھی) ۔ یہ مکان وزیر علی خان کی تاریخی مسجد کی عقبی گلی میں واقع تھا۔ لاہوریوں کی موجودہ نسل اسے اب وہاں نہیں پائے گی کیونکہ برسوں پہلے اسے مخدوش قرار دے کر منہدم کیا جا چکا ہے لیکن میری یادوں میں وہ آج تک اسی طرح قائم و

Read more

سیاسی انبوہ میں تنہا، تاج حیدر

ستر کے عشرے میں کراچی یونیورسٹی میں این ایس ایف (رشید حسن خان گروپ) کے طلبہ کراچی کے جن نوجوان رہنماؤں اور دانشوروں سے متاثر تھے۔ ان میں سر فہرست معراج محمد خان اور تاج حیدر تھے۔ تاج حیدر کی شادی اسی زمانے میں ہوئی تھی اور ہمارے گروپ کے طلبہ ان کے ولیمے میں مدعو تھے۔ مجھے یاد ہے میں نے ریگل چوک سے انہیں تحفے میں دینے کے لئے داس کیپیٹل کا تین جلدوں پر مشتمل سیٹ خریدا

Read more

خواب، محبت اور زندگی 9

یہ دن جنوبی ایشیا کی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک تھا۔ امی نے کئی مرتبہ یہ واقعہ ہمیں کچھ اس طرح سنایا: ”میں عروسی لباس میں ملبوس سہیلیوں میں گھری بیٹھی تھی۔ گھر میں رشتہ دار اور پڑوسی جمع تھے۔ اچانک باہر شور اٹھا، ملی جلی آوازیں آنے لگیں ’انہوں نے گاندھی کو مار دیا۔ گاندھی کو گولی مار دی گئی۔ گاندھی کا قتل ہو گیا‘ یہ سنتے ہی سب لوگ باہر بھاگ گئے اور میں کمرے

Read more

خواب، محبت اور زندگی – 8

آج کل کے دور میں یہ سوچنا بھی مشکل لگتا ہے کہ اس ”پرانے“ دور میں امی اور ابی کے درمیان رومانس کیسے پروان چڑھا ہو گا؟ موجودہ نسل کے لئے تو اس کا تصور بھی مشکل ہے۔ لیکن جمشید پور کے امتیاز علی نے اپنی فلم ”لو آج کل ”میں ان کا یہ مسئلہ حل کر دیا ہے۔ میرے خیال سے وہ بھی اسی راہ سے گزرے ہوں گے جس سے سیف علی خان اور ان کی محبوبہ یعنی

Read more

ہم سب کے مسیحا ڈاکٹر ہارون

یہ 1962 کا ذکر ہے، میں نے لائلپور کے کوہ نور اسکول سے درجۂ ہفتم کا امتحان پاس کیا تھا کہ خاندان میں آنے والی ایک سونامی کی وجہ سے ہمیں کراچی منتقل ہونا پڑا۔ ایک مڈل کلاس گھرانا جس کے واحد کفیل ابی تھے۔ انہیں کراچی آتے ہی نوکری تو مل گئی تھی لیکن ”خاندانی سونامی“ کے ’اثرات مابعد‘ کی وجہ سے امی انہیں جناح ہسپتال کے شعبہ ء نفسیات میں لے گئیں جہاں ڈاکٹر ذکی اور ڈاکٹر ہارون

Read more

ہم سب کے مسیحا: ڈاکٹر سید ہارون احمد

یہ 1962 کا ذکر ہے، میں نے لائلپور کے کوہ نور اسکول سے درجہ ہفتم کا امتحان پاس کیا تھا کہ خاندان میں آنے والی ایک سونامی کی وجہ سے ہمیں کراچی منتقل ہونا پڑا۔ ایک مڈل کلاس گھرانا جس کے واحد کفیل ابی تھے۔ انہیں کراچی آتے ہی نوکری تو مل گئی تھی لیکن ”خاندانی سونامی“ کے ’اثرات مابعد‘ کی وجہ سے امی انہیں جناح ہسپتال کے شعبہ ء نفسیات میں لے گئیں جہاں ڈاکٹر ذکی اور ڈاکٹر ہارون

Read more

خواب، محبت اور زندگی 7

خالہ کی طرح ابی بھی سرکاری ملازم تھے اور انہیں بھی یہ فیصلہ کرنا تھا کہ وہ ہندوستان میں رہیں گے یا پاکستان جائیں گے۔ ابی نے تنہا پاکستان آنے کا فیصلہ کیا۔ شاید اس فیصلے کی تین وجوہات رہی ہوں گی: اول یہ کہ دادا نیشنلسٹ تھے اور قیام پاکستان کے حامی نہیں تھے۔ ویسے بھی وہ چاند والی حویلی کو چھوڑنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتے تھے۔ دوسرے، امیتابھ بچن کی مشہور فلم دیوار کی طرح ابی کا

Read more

خواب، محبت اور زندگی 6

چاند والی حویلی کے باہر اگر کانگرس اور مسلم لیگ کی انگریزوں سے آزادی کی تحریک زوروں پر تھی تو حویلی کے اندر اب جو اسٹار پلس پر ساس بہو کے ڈرامے دکھائے جاتے ہیں، اسی قسم کے ڈرامے چلتے رہتے تھے۔ برسوں پہلے جب میری دادی حویلی چھوڑ کر چلی گئی تھیں تو اس کے کچھ عرصہ بعد ہی ابی کی پھوپھیاں ہمارے دادا کے لئے نئی دلہن بیاہ کر لے آئی تھیں۔ پہلے تجربے نے انہیں بھی محتاط

Read more

خواب، محبت اور زندگی 5

ابی کے والد، میرے دادا ضیا الدین حافظ قرآن تھے اور رمضان میں دہلی کی جامع مسجد میں تراویح پڑھاتے تھے۔ پیشے کے لحاظ سے وہ ایک ماہر خطاط تھے اور دیوان سنگھ مفتون اور دیگر اپنی تصنیفات کی کتابت کے لئے ان کے پاس آیا کرتے تھے جب کہ ان کے چھوٹے بھائی کمال الدین عمارتوں کے نقشے بنایا کرتے تھے۔ دونوں بھائی گھر کی عورتوں کے معاملات اور جھگڑوں سے الگ رہتے تھے۔ ابی تھوڑے بڑے ہوئے تو

Read more

خواب، محبت اور زندگی (4)

امی ہمیشہ اپنے والد یعنی ہمارے نانا کو یاد کر کے اداس ہو جاتی تھیں۔ ”ابھی میں نے ٹھیک طرح سے ہوش بھی نہیں سنبھالا تھا کہ وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔“ لیکن بچپن کی کچھ خوشگوار یادیں بھی ان کے ساتھ رہتی تھیں۔ اپنی سہیلیوں کا ذکر وہ بہت محبت بھرے انداز میں کرتی تھیں خاص طور پر دو سکھ بہنوں کلونت کور اور بلونت کور کا جن کے ساتھ ان کا زیادہ وقت گزرتا تھا۔ ”سکھ، ہندو،

Read more

خواب، محبت اور زندگی (3)

جب دل ہی ٹوٹ گیا (Broken Heart Syndrome) پارٹیشن کے وقت امرتسر کی نصف آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی اور انہیں یقین تھا کہ امرتسر پاکستان میں شامل ہو گا۔ اسی طرح سکھ اور ہندوئوں کو جو لاہور کی آبادی کا ایک تہائی حصہ تھے یقین تھا کہ لاہور ہندوستان کو ملے گا۔ پارٹیشن سے پہلے کے مہینوں میں ہی امرتسر میں پر تشدد مذہبی فسادات شروع ہو گئے تھے۔ امی کے چھوٹے بھائی، ہمارے نثار ماموں کی عمر اس

Read more

خواب، محبت اور زندگی( 2 )

زندگی۔ حصۂ اول یہ حصہ میرے بچپن یعنی پچاس اور ساٹھ کے عشرے کی یادوں پر مشتمل ہے۔ اس میں کچھ کہانیاں رومینٹک یا چٹ پٹی ہونے کی وجہ سے قارئین کے لئے دلچسپی کا باعث ہوں گی۔ خاص طور پر میرے والدین کی ڈرامائی لو میرج جو 1948 میں ایک غیر معمولی بات تھی۔ بچپن میں ہی مجھے سرمایہ دار طبقے کی رعونت اور جوڑ توڑ دیکھنے کا موقع ملا۔ اس کے ساتھ ساتھ میں نے اپنے والد کی

Read more

خواب، محبت اور زندگی (1)

جوزا کچھ بھی کر سکتا ہے۔ (A Gemini can do anything) مجھے یہ کہانی پہلے، بہت پہلے لکھنی چاہیے تھی لیکن ہمیشہ کی طرح زندگی آڑے آ گئی۔ آج پچھتر سال کی عمر میں چھاتی کے سرطان کی سرجری سے گزرنے کے بعد میں میں نہیں جانتی کہ میرے پاس اپنی کہانی لکھنے کے لئے کتنا وقت بچا ہے۔ منیر نیازی کے بقول ’ہمیشہ دیر کر دیتی ہوں میں‘ ۔ جب میں کہتی ہوں کہ زندگی آڑے آ گئی تو

Read more

خواتین کے بارے میں پولیس اور وکلا کا رویہ

گزشتہ کالم میں ہم نے لکھا تھا کہ اخبار اٹھاؤ تو زیادہ تر بری خبریں ہی پڑھنے کو ملتی ہیں مگر آج صبح ہی یہ خبر پڑھ کر دل خوش ہو گیا کہ صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد کے کیسز میں غیر سنجیدہ رویہ اپنانے پر سندھ ہائی کورٹ نے پولیس کو سرزنش کی ہے۔ اور صوبائی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ کاروکاری کے کیسز میں پولیس کی ناقص تحقیقات کا نوٹس لے۔ عدالت عالیہ کی رائے

Read more

مرد حضرات کے ہاتھوں عورتوں کا قتل

صبح صبح اٹھ کر اخبار کھولو تو زیادہ تر بری خبریں ہی پڑھنے کو ملتی ہیں۔ آج صبح بھی ایسی ہی چند خبریں پڑھنے کو ملیں اور دن بھر کوشش کرتی رہی کہ ان کے بارے میں نہ سوچوں لیکن رات گئے رہا نہیں گیا اور لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھ گئی۔ پہلی خبر تو یہ تھی کہ کراچی میں ملیر کورٹ کے باہر ایک صاحب نے اپنی بیوی کو چاقو کے وار کر کے ہلاک کر دیا، بیٹی نے

Read more

دریاؤں کے لئے کچھ کرنے کا دن

دریاؤں کے لئے کچھ کرنے کا عالمی دن تو 14 مارچ کو منایا جاتا ہے لیکن سندھ میں تو کئی دنوں سے سندھو دریا میں پانی کی کمی کے حوالے سے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اس وقت جب ہم مضامین لکھ رہے ہیں اور سیمینار کر رہے ہیں تو جامشورو کے پاس دریا کے کنارے بیٹھے ہوئے ماہی گیر اس انتظار میں ہیں کہ کوٹری سے نیچے دریا میں زیادہ پانی آئے تو وہ مچھلیاں پکڑ سکیں کیونکہ یہی ان

Read more

آئینہ سفاک ہے

گوہر تاج کا تعلق بھی اسی قبیلے سے ہے جس نے 70 کے عشرے میں اپنے زمانہ طالبعلمی میں انقلاب کے خواب دیکھے اور اس خواب کے پورا نہ ہونے کے باوجود زندگی بھر اپنے کام یا اپنی تحریروں کے ذریعے کچلے ہوئے مظلوم طبقات کے لئے آواز اٹھائی۔ گوہر صحیح معنوں میں ایک فائٹر ہیں۔ ابتدا میں ہی انہوں نے اپنے لئے جو راہ متعین کی تھی اور جس منزل کا تعین کیا تھا، اس سے کبھی پیچھے نہیں

Read more

جس نے بھی ڈالی، بری نظر ڈالی

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل پر لکھتے ہوئے عمر گزر گئی، قوانین بھی بن گئے لیکن لگتا یہی ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ابھی تک ملازمت پیشہ خاتون کے تصور کو قبول نہیں کیا گیا حالانکہ اسی ملک میں ایک خاتون دو مرتبہ وزیر اعظم بنی اور آج کل پنجاب کی وزیر اعلیٰ بھی ایک خاتون ہے۔ لیکن ملازمت پیشہ خواتین کو آج بھی مختلف طرح کی ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس میں جنسی ہراسانی، امتیازی رویہ، اور

Read more

کلائمٹ چینج، کوئی ہمیں بھی سمجھائے

ہم پاکستانیوں کو ہر بات دیر سے پتہ چلتی ہے۔ کلائمٹ چینج پر دنیا میں ایک عرصہ سے کام ہو رہا ہے۔ ہماری آنکھ ہمیشہ کی طرح دیر سے کھلی ہے۔ ایک دو عشرے پہلے اوزون کی پرت میں سوراخ کا شور و غوغا مچا تھا۔ پھر پاکستانیوں کی حد تک بات آئی گئی ہو گئی۔ تو آئیے کلائمٹ چینج کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کا تعلق موسم سے ہے۔ بچپن سے ہم سال کے مختلف حصوں

Read more

انسانی حقوق کا ارتقا اور تصور

اگر آپ انسانی حقوق کی آغاز و ارتقا اور جدید عالمی نظام کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو آپ کو توصیف احمد خان اور عرفان عزیز کی تحقیقی کتاب ”انسانی حقوق کا ارتقا اور تصور“ ضرور پڑھنی چاہیے۔ یہ ایک بہت ہے محنت سے لکھی گئی کتاب ہے جس پر مصنفین کو پی ایچ ڈی کی ڈگری ملنی چاہیے۔ بائیں بازو کے ایک اہم اور معتبر نام سہیل سانگی اور جسٹس فہیم احمد صدیقی کے ابواب بھی اس کتاب

Read more

جرنلزم اور جرنلسٹ

ہماری نسل کے وہ صحافی جنہوں نے پرنٹ میڈیا کے عروج کے زمانے میں اس پیشے کو اپنایا اور میڈیا پر پابندیوں کے خلاف تحریکیں چلائیں، اب پرنٹ میڈیا کا زوال اور ڈیجیٹل انقلاب برپا ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ وقت کا پہیہ ہمیشہ آگے ہی چلتا ہے اور تبدیلی کا عمل ناگزیر ہے لیکن نئی نسل کو اپنے زمانے کی کہانیاں سنانا اور زندگی کے سفر میں ان کی رہنمائی کرنا بھی ضروری ہے۔ مقبول خان ہم سے کچھ

Read more

کب ملیں گے عورتوں کو انسانی حقوق؟

کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے کہ مجھ میں بھی ڈاکٹروں والی امیونٹی آ گئی ہے۔ جیسے وہ لاشیں دیکھ دیکھ کر بے حس ہو جاتے ہیں، میں بھی عورتوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے واقعات پڑھ پڑھ کر شاید بے حس ہو گئی ہوں۔ اب سوشل میڈیا پر صبح سے اس خبر کے بارے میں نوجوان لڑکیوں کا واویلا دیکھ رہی ہوں کہ وہاڑی میں ایک جواری نے بازی ہارنے پر جیتنے والے کو اپنی بیوی کا

Read more

سفر جاری ہے

وہ لوگ جن کو کانفرنسوں اور ورکشاپس میں شرکت کے لئے بیرون ملک جانے کا موقع ملتا ہے، واپس آ کے صرف دفتری رپورٹ لکھنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو عام قارئین کو اپنے کام کی تفصیلات بتانے کے ساتھ ان ممالک کے تاریخی، ثقافتی اور تفریحی مقامات کی سیر بھی کراتے ہیں۔ اردو ادب کی ایک قاری کی حیثیت سے سفر ناموں کا مطالعہ بچپن سے میرا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ ان سفر

Read more

طاہرہ کاظمی کی جوتی

میں جب بھی طاہرہ کی تحریریں پڑھتی ہوں، سال کے سال اس سے ملتی ہوں، اس کی باتیں سنتی ہوں تو یوں لگتا ہے کہ اس کے اندر تخلیقی توانائی کا آتش فشاں پھٹ پڑا ہے۔ جسے اس نے نجانے کب سے دبا رکھا تھا۔ توانائی کا یہ گرم اور ابلتا ہوا لاوا پدرسری سماج کی کہنہ روایات کو نیست و نابود کرنے پر تلا ہوا ہے۔ طاہرہ امراض نسواں کی ماہر ہیں اور خود کو گائنی فیمنسٹ کہتی ہیں

Read more

انگریز اور لاہور

لاہوریوں کی تو بات کیا کریں۔ ہم دوسرے شہروں کے لوگ بھی کسی نہ کسی حوالے سے لاہور کے رومانس میں مبتلا رہے ہیں۔ اس لئے یہ تو طے ہے کہ ہم سب کو پروفیسر عزیز الدین کی کتاب کولونیل لاہور پڑھ کر بہت مزہ آئے گا۔ یہ کتاب دراصل ان کے 1990 کے عشرے میں لکھے جانے والے مضامین کا مجموعہ ہے جسے ان کے چھوٹے بھائی محمد تحسین نے کتابی شکل دی ہے اور اس کا تعارف وجاہت

Read more

جرم محبت کی سزا

صبح اٹھتے ہی اخبار اٹھایا تو ایک لڑکی کے اپنی مرضی سے شادی کرنے کے جرم میں چچا کے ہاتھوں قتل ہونے کی خبر پڑھنے کو ملی۔ سندھ ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ ہمارے قانونی نظام اور پورے معاشرے کو صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد اور سماجی جبر کے معاملات پر مسلسل توجہ دینے اور کارروائی کی ضرورت ہے۔ اس لڑکی کا مقدمہ ایک خاتون جج کی عدالت میں زیر سماعت تھا جنہوں نے اس بات پر دکھ

Read more

شاردا سنہا۔ بہار کی کوئل

کہتے ہیں کہ ہماری آواز اور ہمارے الفاظ ہمیں دوسری مخلوقات پر فوقیت دلاتے ہیں۔ ہمارے اپنے درمیان ہمیں وہ لوگ زیادہ اچھے لگتے ہیں جو اپنی آواز اور الفاظ کو شعر و ادب اور موسیقی کی دنیا کے لئے مخصوص کر دیتے ہیں۔ اپنے الفاظ اور آواز کے ذریعے یہ لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کرتے ہیں۔ ان کے الفاظ ہمیں خوابوں کی دنیا میں لے جاتے ہیں اور ہم تلخی ء ایام کو بھول جاتے ہیں۔ ان میں

Read more

انور پیر زادو۔ پل دو پل کا ساتھ۔ صدیوں پر بھاری

انور پیر زادو کو آپ سب صحافی، کالم نگار اور سندھ کی تاریخ، زبان اور شاہ لطیف کی شاعری پر عبور رکھنے والے عالم اور ماہر کی حیثیت سے جانتے ہیں لیکن میں انہیں ضیا الحق کی آمریت کے مشکل وقت کے دوست کی حیثیت سے جانتی ہوں۔ یہ 1979 کا ذکر ہے۔ صحافیوں کی تحریک ختم ہو چکی تھی۔ ترقی پسندوں، بائیں بازو کے صحافیوں کو بیروزگاری اور پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی کارکنوں کو سزاؤں اور قید و

Read more

لو ہم نے دامن جھاڑ دیا

احفاظ کا حلقۂ احباب بے حد وسیع تھا، اس میں صحافی، شاعر، ادیب، کرکٹر، ٹریڈ یونینسٹ اور سیاست دان سبھی شامل تھے۔ احفاظ سے شادی کے بعد میں ان سب کی بھابھی بن گئی تھی۔ پاکستان کے علاوہ بیرون ملک مقیم ان دوستوں میں سے ایک اشفاق حسین بھی تھے۔ جن کی فیض صاحب سے محبت کا ثبوت کئی کتابوں کی شکل میں سامنے آ چکا ہے۔ یعنی اشفاق سخن ور ہی نہیں، فیض اور فراز جیسے سینئر شعرا کا

Read more

پاکستان میں بریسٹ کینسر سے مرنے والی خواتین

ہر گزرے ہوئے سال کو ہم کسی اہم ذاتی یا بیرونی واقعے کے حوالے سے یاد رکھتے ہیں۔ 2024 مجھے بریسٹ کینسر کے حوالے سے یاد رہے گا۔ ویسے بھی ہر سال اکتوبر کے مہینے کو بریسٹ کینسر یا چھاتی کے سرطان کی آگاہی کے مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ٹی وی چینلز پر اینکر حضرات پنک ربن لگا کر بیٹھتے ہیں اور مفید معلوماتی پروگرامز پیش کرتے ہیں۔ خواتین کو بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنی چھاتیوں

Read more

دوسرے کمرے میں بیٹھا خیال

عالیہ مرزا کی کتاب کا عنوان ہی اتنا انوکھا اور دلکش ہے کہ آپ پہلے سے ہی سوچ لیتے ہیں کہ آپ اس کتاب کو پڑھیں گے ضرور اور ممکن ہوا تو اس کے بارے میں کچھ لکھیں گے بھی۔ ”دوسرے کمرے میں بیٹھا خیال“ کے عنوان سے شائع ہونے والی عالیہ کی نثری نظموں کی پہلی کتاب گلزار جیسے معتبر اور بے مثال نثری نظمیں لکھنے والے کے تبصرے کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔ اس پر ہم ان کی

Read more

Foul language 2024

گفتگو، تقریر اور خطابت ملکی سیاست کا اہم حصہ رہی ہے۔ ایک مہذب جمہوریت محض سیاسی پارٹیوں کی حمایت یا مخالفت کا نام نہیں۔ بلکہ یہ زبان کی جمہوریت یعنی لینگویج ڈیموکریسی ہے۔ جس طرح آزادی کے بعد سیاست میں تبدیلی آئی، اسی طرح زبان اور سیاستدانوں کے ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات لگانے کا اسٹائل بھی تبدیل ہوا ہے۔ سیاست میں زبان کا معیار دن بدن گر رہا ہے۔ ناشائستہ اور لچر زبان سیاست کی شناخت بن

Read more

سیاسی مقدمے، کل اور آج

ہمارے بچپن میں ایوب خان کا مارشل لا لگا تو اخبارات میں اور گھر میں بڑوں کی سیاسی گفتگو میں ایک لفظ ”ایبڈو“ پڑھنے اور سننے کو ملا کچھ عرصہ بعد اس کا مطلب سمجھ میں آیا کہ ایوب خان نے سیاست دانوں اور ان کی سرگرمیوں پر پانچ سال کے لئے پابندی لگا دی ہے۔ سیاست دانوں کو اختیار دیا گیا تھا کہ یا تو وہ رضاکارانہ طور پر اپنی سیاسی سرگرمیاں چھوڑ دیں یا پھر حکومت کی تادیبی

Read more

شہناز اور مصطفیٰ زیدی کی کہانی

یہ نصف صدی سے پہلے کا قصہ ہے۔ جب اخبارات اور ریڈیو ہی ہماری معلومات کا ذریعہ ہوا کرتے تھے اور میرا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جو صبح صبح اخبار نہ پڑھ لیں تو ان کا دن ہی نہیں شروع ہوتا تھا۔ اور تب ہی ایک روز حریت اخبار میں ایک خبر پڑھی جس میں بتایا گیا تھا کہ مشہور شاعر مصطفیٰ زیدی اپنے فلیٹ میں مردہ پائے گئے اور اسی فلیٹ میں شہناز گل نامی ایک خاتون

Read more

سعیدہ گزدر: خود فراموشی کے ماہ و سال

اب یہ کہانی سنانا ضروری ہو گیا ہے کہ اس لشکر کے بچے کھچے سپاہی بھی ایک ایک کر کے رخصت ہوتے جا رہے ہیں جن کے دلوں میں صداقت اور جن کے نطق اور قلم میں طاقت تھی۔ جو ضیاءالحق کے طوق و سلاسل کو شورش بربط و نے سکھانے نکلے تھے جو ہمت کا بھرپور خزینہ رکھتے تھے، جن کی ہر ساعت ایک عمر تھی اور ہر فردا ان کا امروز تھا۔ ہاں وہ سب رخصت ہو رہے

Read more

چوتھے ستون کا مرثیہ

منہاج برنا صاحب نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں مرثیہ چہار ستون لکھا تھا۔ اس وقت انہوں نے سوچا بھی نہیں ہو گا کہ آنے والے دنوں میں صحافیوں کے حالات مزید بد تر ہوتے چلے جائیں گے۔ ِاور صحافت میں آنے کا مطلب سوئے مقتل جانا ہو گا۔ زیادہ دور کیوں جائیں صرف 2021 ء میں صحافیوں کے لئے خطر ناک ترین جگہ بلوچستان یا قبائلی علاقے نہیں بلکہ اسلام آباد تھا۔ جی ہاں، ان کے لئے اسلام

Read more

پولیو ورکر کا ریپ: پدر سری معاشرے کی بد صورتی کی بدترین مثال

کوئی دن جاتا ہو گا جب انسانی حقوق کا دفاع کرنے والے کسی نہ کسی متاثرہ شخص کو انصاف دلوانے کے لئے آواز نہ اٹھاتے ہوں۔ ایک حالیہ واقعہ جیکب آباد کے ایک گاؤں میں پولیو مہم کے دوران 11 ستمبر کو پیش آیا جب ایک خاتون پولیو ورکر کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران ریپ کا نشانہ بنایا گیا اور اس پدرسری معاشرے کی بدصورتی کی بد ترین مثال اس وقت سامنے آئی جب اس واقعہ کا

Read more

لیبر فورس میں عورتوں کی شمولیت: رکاوٹیں

پاکستان کی لیبر فورس میں عورتوں کی شراکت دنیا کے مقابلے میں اور خود اپنے جنوبی ایشیا کے ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں بھی کم ہے۔ پاکستان کی لیبر فورس میں 2019 میں پندرہ سے 64 سال کی عمر کی عورتوں کا حصہ 22.6 فی صد تھا جو 2023 میں بڑھ کر 23.18 فی صد ہو گیا۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ ٓاخر ہم عورتوں کے لیبر فورس میں شامل ہونے پر زور کیوں دیتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے

Read more

کراچی: کنکریٹ کا جنگل

  ایک زمانہ تھا کراچی کو عروس البلاد، روشنیوں کا شہر، غریب پرور شہر اور نجانے کیا کچھ کہا جاتا تھا۔ ہم کراچی کے صنعتی شہر ہونے پر فخر کرتے تھے، ملک بھر سے لوگ یہاں روزگار کی تلاش میں آتے تھے۔ اس وقت یہ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ آبادی میں اضافہ اور کارخانوں کا دھواں اور صنعتی فضلہ آگے چل کر ماحولیاتی مسائل پیدا کرے گا۔ امسال پھر کراچی کو ہیٹ ویو Heat Wave کا سامنا کرنا

Read more

موسمیاتی تبدیلیاں اور ہم

اس وقت دنیا کو جس سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے، وہ موسمیاتی تبدیلیوں، گلوبل وارمنگ اور پانی کی کمی کا ہے۔ دیگر آفات کی طرح اس آفت سے بھی عورتیں اور لڑکیاں خواہ کسان ہوں یا مزدور، کنزیومر یعنی صارف ہوں یا اپنا گھر سنبھال رہی ہوں، ایکٹوسٹ ہوں یا لیڈر ہوں یا کاروباری منتظم ہوں، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں کیونکہ دنیا کے غریبوں میں اکثریت عورتوں اور بچیوں کی ہے اور اپنی

Read more

کراچی کیا سے کیا ہو گیا

ساٹھ کے عشرے میں جب ہم لائلپور سے کراچی آئے تو ہمیں سب سے زیادہ اچھی جو چیز لگی وہ کراچی کی ہوا تھی، پھر شہر میں عمارتوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور ہوا کہیں چھپ گئی۔ کل جب نرگس رحمن اور کراچی کے دیگر درد مند دوستوں کی جانب سے منعقدہ سیمینار میں طارق الیگزینڈر قیصر نے ہم سمیت سارے شرکا سے پوچھا کہ کس کس کو کراچی کی ہوا یاد ہے تو سب سے پہلے

Read more

کراچی کے مسائل

میں نے کراچی کو ساٹھ کے عشرے کے ایک صاف ستھرے شہر سے ابلتے ہوئے گٹروں، کچرے کے ڈھیر اور کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہوتے دیکھا ہے۔ کچھ اسے لاوارث بچہ اور کچھ سندھ حکومت کو اس کی سوتیلی ماں بھی کہتے ہیں۔ جن لوگوں کو میں نے صحیح معنوں میں دردمندی سے کراچی کے مسائل کے بارے میں سوچتے اور ان کا حل پیش کرتے ہوئے پایا ہے، ان میں سر فہرست عارف حسن اور نرگس رحمن ہیں۔

Read more

سندھ میں ترقی کی حرکیات

جاوید سوز سے میرا پہلا تعارف کپاس چننے والی عورتوں پر ان کے کام کے حوالے سے ہوا تھا۔ اس کے بعد معلوم ہوا کہ موصوف شاعر بھی ہیں۔ اور اب ان کے سندھ کی ترقی کے بارے میں انگریزی مضامین کا مجموعہ کتابی شکل میں ملا تو مزید حیرت ہوئی اور اس سے کہیں زیادہ خوشی ہوئی کہ یہ سندھ میں عملی طور پر ترقیاتی کام کرنے والے شخص کا نقطہ نظر ہے۔ سب سے پہلے انہوں نے سندھ

Read more

تار تار پیرہن

کشور ناہید کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ خواتین کی تحریک اور ضیا الحق کی آمریت کے خلاف جدوجہد میں وہ 1983 میں لاہور میں مال روڈ سے نکلنے والے اس جلوس میں شامل تھیں جس میں پولیس نے عورتوں پر لاٹھیاں برسائی تھیں۔ وہ شروع سے ایک باغی عورت اور ایک بہادر فیمنسٹ رہی ہیں۔ کبھی انہوں نے سیمون ڈی بوائر کی کتاب کا ترجمہ اور کبھی ’بری عورت کی کتھا‘ لکھ کر تہلکہ مچایا۔ ان کی نظم

Read more

بے نظیر: چہرہ بہ چہرہ روبرو

زاہد حسین کی نئی کتاب Face to face with Benazir ان انٹرویوز کا مجموعہ ہے جو انہوں نے ماہنامہ ہیرالڈ اور نیوز لائن کے لئے کیے تھے۔ زاہد حسین کا شمار پاکستان کے سینئر ترین صحافیوں، مصنفین اور سیاسی مبصرین میں ہوتا ہے۔ بے نظیر کے انٹرویوز کی اہمیت اپنی جگہ لیکن ہر انٹرویو کے ساتھ زاہد حسین نے اس دور کی صورتحال کا جو بے لاگ تجزیہ پیش کیا ہے وہ اس دور کے بارے میں لکھنے کے خواہشمند

Read more

پاکستانی سیاست (فوج اور نوکر شاہی کا کردار)

ضیا الحق کے دور میں پاکستان کے ترقی پسندوں کے لئے حمزہ علوی کے تحقیقی مقالوں کی وہی اہمیت تھی جو آج کے دور میں ارون دھتی کی تحریروں کی ہے۔ ضیا الحق نے معاشرے میں تنقیدی فکر اور روشن خیالی کے دریچے بند کرنے اور لوگوں کو کنویں کا مینڈک بنانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ ایسے میں حمزہ علوی کے مارکسی ویژن نے پاکستان میں جمہوریت کے عاشقوں کو روشنی کی کرن دکھائی۔ پاکستان کی بدقسمتی یہ

Read more

دوسری بیوی

پاکستانی معاشرے میں ضیا الحق کے نزول کے بعد تو عورتوں کے لئے بہت سے مسائل پیدا ہوئے اور اس کے لئے انہوں نے ایک طویل لڑائی لڑی لیکن اس سے پہلے تعلیم یافتہ عورتوں اور شہری عورتوں کا سب سے بڑا مسئلہ شوہر کی دوسری شادی تھا۔ 1955 میں جب محمد علی بوگرہ نے دوسری شادی کی تو خواتین خاص طور پر اپوا کی ارکان نے شدید احتجاج کیا اور جلوس نکالے۔ ان ہی خواتین کی پیروکاری کے نتیجے

Read more

اداکار شکیل بھی رخصت ہوئے

عید کی چھٹیوں میں ہم وہاں تھے جہاں موبائل کے سگنلز مشکل سے ہی آتے تھے۔ جمعہ کی شام کو کچھ سگنلز ملے تو فیس بک کھولی اور پہلی نظر اس خبر پر پڑی کہ اداکار شکیل بھی رخصت ہوئے اور مجھے یاد آیا کہ برسوں پہلے کراچی سے ایک انگریزی فلمی رسالہ نکلتا تھا۔ ایسٹرن فلمز یا کچھ ایسا ہی نام تھا۔ آصف نورانی اس کے ایڈیٹر ہوتے تھے۔ انہوں نے دو خوبصورت نوجوانوں پر ایک پورا فیچر چھاپا

Read more

کم از کم تنخواہ؟

شہری بابو جن کی زندگی دفتروں میں نوکری کرتے گزرتی ہے، ان کے گھرانے مکمل طور پر ان کی تنخواہ پر انحصار کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے ہمارے بچپن میں ریڈیو سیلون سے ہر پہلی تاریخ کو یہ گانا نشر ہوا کرتا تھا ”خوش ہے زمانہ، آج پہلی تاریخ ہے“ ۔ ہم بچے مہینے کے درمیان یا آخر میں جب بھی کوئی فرمائش کرتے تھے تو امی کا یہی جواب ہوتا تھا ”پہلی تاریخ آنے دو پھر لے دوں گی“

Read more

Pakistan left review, then and now

”تاریخ میں کچھ ایسے لمحے بھی آتے ہیں جو سریع الحرکت ہوتے ہیں۔ تب تبدیلی کی رفتار اتنی تیز اور انتشار لئے ہوتی ہے کہ عوام اور سماج کے لئے اس کا ساتھ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی لمحات میں انقلابات رونما ہو سکتے ہیں۔ یا پھر شاید انقلابات ہی ایسے لمحات کو جنم دیتے ہیں۔ لیکن وجوہات کچھ بھی ہوں، اصل بات یہ ہے کہ کبھی کبھی ہمارے ارد گرد جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے، اسے

Read more

سندھ کا ملامتی صوفی۔ فقیر جانن چن

سب سے پہلے تو مجھے اپنی بے خبری اور لاعلمی کا اعتراف کرنے دیجئے، رمضان میمن کی کتاب ’حلقۂ زنجیر میں زباں‘ پڑھنے سے پہلے میں فقیر جانن چن کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی۔ کتاب پڑھنے کے بعد میں نے انہیں انٹر نیٹ پر تلاش کیا تو یو ٹیوب ان کے صوفیانہ کلام اور ان کے بارے میں معلومات سے بھری ملی اور میں سوچتی رہ گئی، کاش فقیر کی زندگی میں ہی ان سے ملاقات ہو جاتی۔

Read more

حلقہ زنجیر میں زباں

ساٹھ اور ستر کے عشرے میں بائیں بازو کے لوگ صرف ایک مثالی معاشرے کے خواب ہی نہیں دیکھتے تھے اور صرف انقلاب کے رومانس میں ہی مبتلا نہیں تھے بلکہ وہ اپنے نظریات سے بے پناہ وابستگی کے باعث ہر طرح کی تکلیف اٹھانے پر بھی آمادہ رہتے تھے۔ اس کی ایک روشن مثال رمضان اور شاہینہ ہیں۔ پاکستان کے ترقی پسند حلقوں میں ایسے بہت کم لوگ بلکہ ایسے بہت کم مرد ملیں گے جنہوں نے اپنے جیون

Read more

سائنسی سوچ کہاں سے آئے گی؟

کراچی کے سائنس میوزیم کا ذکر ایک عرصہ سے سن رہی تھی اور سوچتی تھی کہ کبھی جا کر دیکھوں گی، جب ضرار کھوڑو نے ایک نجی چینل کے شو ”ذرا ہٹ کے“ میں اس میوزیم کے بارے میں پروگرامز کیے تو میرا ارادہ اور پختہ ہو گیا لیکن زندگی کی بھاگ دوڑ سے فرصت ہی نہیں ملتی تھی مگر عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہمارے بیٹے صاحب نے ہماری پوتی کو سائنس میوزیم دکھانے کا پروگرام بنایا ہوا

Read more

جامعہ ملیہ کو سابق طلبا نے گود لے لیا

اپنی مادر علمی کسے پیاری نہیں ہوتی، زمانہ ء طالبعلمی میں ساحر لدھیانوی کی دیگر نظموں کی طرح ہمیں ان کی یہ نظم بھی بہت پیاری تھی، جس میں انہوں نے کہا: اے وادیٔ جمیل میرے دل کی دھڑکنیں، آداب کہہ رہی ہیں تیری بارگاہ میں، تو آج بھی ہے میرے لئے جنت خیال، ہیں تجھ میں دفن میری جوانی کے چار سال، تیری نوازشوں کو بھلا یا نہ جائے گا، ماضی کا نقش دل سے مٹایا نہ جائے گا۔

Read more

ملازمت پیشہ خاتون کا سفر۔

کل آرٹس کونسل کی چوتھی ویمن کانفرنس میں ورکنگ ویمن یا ملازمت پیشہ خواتین کے بارے میں ایک سیشن کنڈکٹ کرنے لئے خود کو ذہنی طور پر تیار کر رہی تھی کہ خیال آیا کہ یہ 2023 ہے اور میں نے اپنی پہلی ملازمت روزنامہ مساوات کراچی میں 1973 میں شروع کی تھی یعنی مجھے ملازمت پیشہ خاتون بنے پچاس سال ہو گئے۔ یہ نصف صدی کا قصہ ہے۔ دو چار برس کی بات نہیں۔ پھر سوچا کہ گوگل پر

Read more

محمد عثمان جامعی کی فکاہیہ تصنیف: چپ رہا نہیں جاتا

پاکستان میں ادیب و شاعر حضرات روزی روٹی کے لئے صحافت کے شعبے میں آتے رہے ہیں خواہ وہ فیض احمد فیض جیسے عظیم شاعر ہوں یا خدا کی بستی کے خالق شوکت صدیقی۔ اور بھی ایسے بہت سے نام ہیں۔ کاش ہم اپنے شاعروں اور ادیبوں کو فکر معاش سے بے نیاز اور صرف کتابوں کی رائلٹی پر آسودہ حالی فراہم کر سکتے۔ اگر کسی ترقی یافتہ مغربی ملک میں رہتے ہوئے عثمان جامعی نے وہاں کے سیاسی حالات

Read more

کتاب: زرد موسم کی یاد داشت

زرد موسم کی یاد داشت۔ ارشد رضوی کی نئی کتاب ایک علامتی خود نوشت ہے۔ سرورق بھی بہت خوب ہے۔ سرسوں کے پھولوں جیسا خوبصورت پیلا رنگ، کالی مردانہ قمیص اور کالر کے اوپر چہرے کی بجائے پھول۔ سوانح عمریاں تو بہت پڑھیں مگر اس علامتی خود نوشت کی بات ہی کچھ اور ہے۔ یہ دراصل نثر ہے ہی نہیں۔ ہر باب ایک خوب صورت نظم ہے۔ ارشد رضوی کو لگتا تھا کہ کہانی اس سے بچھڑ گئی۔ بہت دن

Read more