نواز شریف جیت کے لئے ڈرٹی ٹرکس استعمال کر رہے ہیں


پاناما کیس میں اور بعد میں ملک کے اعلی ترین کورٹ کے پانچ جج یہ قرار دے چکے ہیں کہ نواز شریف اچھے گڈ مین نہیں ہیں۔ وہ نہ صرف گورنمنٹ کے لئے نا اہل ہیں بلکہ پولیٹیکل پارٹی بھی نہیں چلا سکتے۔ اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ نہ لودھراں، چکوال اور اب سرگودھا کے ضمنی انتخابات میں ان کا حمایت یافتہ امیدوار کامیاب ہوا ہے بلکہ سینیٹ کے الیکشن میں بھی مسلم لیگ نواز نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے؟ ایک سزا یافتہ نا اہل شخص کی جیت کی وجہ چند ڈرٹی ٹرکس ہیں جن کا ہم ایک مختصر ویویو کریں گے۔

آپ کو یاد ہو گا کہ لاسٹ ایئر چیئرمین پاکستان جسٹس موومنٹ مسٹر عمران خان نے وارن کیا تھا کہ جب بھی ہم مسٹر نواز شریف کی دھاندلی کے ایک طریقے کا توڑ کرتے ہیں تو وہ اگلی باری نیا طریقہ استعمال کر دیتے ہیں اور ہم دوبارہ مسلم لیگ نواز کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ کیا آپ نے نوٹ کیا ہے کہ جسٹس سسٹم کے ہاتھوں سزا پانے کے بعد نواز شریف کیا کیا طریقے استعمال کر رہے ہیں؟ پاکستان جسٹس موومنٹ پر ممکن ہے کہ آپ چونکے ہوں کہ یہ کون سی پارٹی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مخفف پی ٹی آئی کو نواز شریف کے اشارے پر جس طرح بیڈ قافیوں سے جوڑا جاتا ہے، اس کے پیش نظر ہم نے اس پارٹی کا انگریزی ترجمہ استعمال کرنے کو ترجیح دی ہے۔ اب نواز شریف ذرا پی جے ڈی کی بیڈ تحریف تو کر کے دکھائی۔

لودھراں میں دیکھیں۔ سب کو یقین تھا کہ بائی الیکشن میں جیتنے والے جہانگیر ترین جو جسٹس سسٹم کے ہاتھوں سزا پا گئے تھے، لودھراں میں اتنے زیادہ پاپولر ہیں کہ ان کا بیٹا ایزلی یہ سیٹ ون کر لے گا۔ مگر ایکسپیکٹیشن کے برخلاف الیکشن میں جیت اس امیدوار کی ہوئی جسے نواز شریف سپورٹ کر رہے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ پاکستان جسٹس موومنٹ کے انٹیلیجنٹ ووٹر کو ناکام بنانے کی خاطر نواز شریف نے ادھر تمام اپوزیشن امیدوار اکٹھے کر دیے اور یوں جوڑ توڑ کے ذریعے پاکستان جسٹس موومنٹ کو بھاری مارجن سے شکست دی۔ اگر نواز شریف لیول پلیئنگ فیلڈ پر کھیلتے اور مردوں کی طرح ون ٹو ون مقابلہ کرتے تو کبھی نہ جیت پاتے۔ سیاست جوڑ توڑ کا نام تو نہیں ہے، مرد میدان کی طرح اکیلے لڑنے کا نام ہے۔

چکوال میں پیروں کی مخالفت کے باوجود نواز شریف کا امیدوار ون کر گیا تھا۔ اس کا توڑ کرنے کے لئے پاکستان جسٹس موومنٹ کے چیئرمین نے پارٹی کے لئے روحانی امداد کا بندوبست کیا کہ آئندہ ایسی شکست نہ ہو مگر سرگودھا میں پھر بھی ڈیفیٹ ہو گئی۔ حالانکہ پیر سیال شریف کا ادھر بہت انفلوئنس ہے اور وہ مسلم لیگ نواز پر بہت اینگری تھے۔ ان حالات میں مسلم لیگ نواز نے بڑی ڈیپ چال چلی۔

مسلم لیگ نواز یہ جان چکی تھی کہ انٹیلیجنٹ پیپل اس بات سے آگاہ ہیں کہ شیر کے سمبل والوں کو جسٹس سسٹم کرپٹ قرار دے چکا ہے۔ اس لئے انہوں نے چکر چلایا کہ اپنے امیدوار کو شیر کی بجائے پک اپ لوڈر کا سمبل الاٹ کروا کر اس پر الیکشن لڑوایا۔ ساتھ ساتھ علاقے میں یہ ریومر پھیلا دی کہ پولنگ سٹیشنز پر گورنمنٹ کی طرف سے پرائز ڈسٹری بیوشن کے لئے لاٹری ہو رہی ہے اور جس ووٹر کو جو پرائز چاہیے وہ اس پر سٹیمپ لگا دے۔

اب جب ووٹر لاٹری کا سن کر پولنگ بوتھ پہنچے تو ادھر دیکھا کہ پرچی پر سب سے اوپر شیپ بنی ہوئی تھی۔ ممکن ہے کہ ویلیج کی کچھ مائنارٹی شیپ کو بہت لائک کرتی ہو مگر میجارٹی ووٹروں کو اس میں کسی قسم کی کوئی اٹریکشن محسوس نہ ہوئی۔ اس سے نیچے پاکستان جسٹس موومنٹ کے الیکشن سمبل بیٹ کی ایسی تصویر بنائی گئی تھی جیسا ویلیج میں کپڑے واش کرنے والا ڈنڈا ہوتا ہے۔ ووٹروں کو یہ ڈنڈا جیتنے میں دلچسپی نہیں تھی۔ اس کے نیچے ٹوتھ برش تھا۔ ویلیج میں مسواک چلتی ہے، ٹوتھ برش کون استعمال کرتا ہے۔ اسے بھی ووٹر نے نظرانداز کر دیا۔ سب سے نیچے لوڈر گاڑی تھی۔ نہ صرف بھیڑ، ڈنڈے اور ٹوتھ برش کے مقابلے میں یہ ویلیج والوں کے لئے زیادہ یوز فل ہوتی ہے بلکہ اس کی قیمت بھی باقی تین تھنگز کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اس لئے ووٹروں کی بھاری اکثریت نے گاڑی پر سٹیمپ لگا دی کہ ہم اس کی لاٹری میں شامل ہو رہے ہیں۔ یوں مسلم لیگ نواز ایک ناجائز میتھڈ استعمال کر کے یہ ضمنی انتخاب جیت گئی۔

آپ نوٹ کریں کہ مسلم لیگ نواز نے یہی میتھڈ سینیٹ میں استعمال کیا ہے۔ اسے علم ہو گیا تھا کہ کوئی انٹیلیجنٹ ممبر اسمبلی جسٹس سسٹم سے نا اہل پانے والے نواز شریف کے شیر کے سمبل والے امیدوار کو ووٹ نہیں دے گا۔ اس لئے مسلم لیگ نواز نے شیر کے سمبل پر الیکشن لڑنے میں دلچسپی ہی نہیں لی بلکہ اپنے سب سپورٹڈ کینڈیڈیٹ بطور انڈیپینڈینٹ امیدوار کھڑے کر دیے۔ ہمیں یقین ہے کہ ادھر بھی کوئی ویسا ہی چکر چلایا گیا ہو گا جیسا سرگودھا میں چلایا گیا تھا۔ نتیجہ یہ کہ سینیٹ کے الیکشن میں مسلم لیگ نواز میجارٹی پارٹی بن گئی۔

لیکن نواز شریف اس پر جوبیلنٹ مت ہوں۔ وہ چاہے جتنے بھی ڈرٹی ٹرکس استعمال کریں، چاہیں نئے انتخابی سمبل پر الیکشن لڑ کر کلین سویپ کر لیں، اگلی گورنمنٹ ان کی نہیں ہو گی۔ بن بھی گئی تو چلے گی نہیں۔ چاہے وہ جسٹس سسٹم سے آنے والے ہر فیصلے کو اپنے حق میں استعمال کر کے مزید پاپولر ہوتے رہیں اور پہلے سے زیادہ ووٹ حاصل کرتے رہیں، مگر یہ بات یاد رکھیں کہ وہ پہلے بھی اس طرح جیت کر ہار چکے ہیں۔

جب پریزیڈنٹ غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی گورنمنٹ کرپشن کے الزامات پر برطرف کی تھی تو ان کی حکومت کو جسٹس سسٹم کے ذریعے بحال کر دیا گیا تھا۔ مگر پھر یہ بڑی نا انصافی دیکھ کر کارکنان قضا و قدر کو جوش آیا اور نواز شریف کو کمانڈ سٹک کی نوک پر گھر بھیج کر نئے الیکشن کرائے گئے اور بے نظیر حکومت میں آ گئیں۔ اب بھی نواز شریف چاہے دو تہائی اکثریت لیں یا چار تہائی، ان کی حکومت نہیں چلے گی۔ جسٹس سسٹم یہ بات یقینی بنائے گا کہ وہ رخصت ہو چکے ہیں۔ اب اگلی حکومت پاکستان جسٹس موومنٹ ہی کی بنے گی۔ انشا اللہ۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar