جوانی میں واجد علی شاہ۔۔۔  بڑھاپے میں اکبر الہ آبادی


ہمیشہ سے ہو تا آیا ہے کہ بڑھتی عمر میں لوگ اپنے دور کو اچھا اور خود کو نیک اور پارسا ثابت کرتے ہوئے، کہتے ہیں کہ ہمارے دور میں ایسا نہیں ہو تا تھا، آج کے بچے بہت شریر ہیں، ماحول بہت خراب ہے، طلاقیں زیادہ ہو رہی ہیں، بے حیائی پھیل رہی ہیے۔ آج ہمارے ہم عمر اس دور کو سیدھا سادا کہتے ہیں جس میں ہم بچے تھے یعنی چایس پینتالیس سال پہلے والا دور، تو ہم حیران ہو جا تے ہیں۔ ہماری یاد داشت اچھی ہے اور ہمیں یاد ہے کہ یہ سب باتیں ہمارے دادا بھی کیا کرتے تھے۔ اور ریڈیو پر بجنے والے گانوں کو اور سینما میں لگنے والی فلموں کو معاشرے میں جنم لینے والی ہر برائی کا ذمہ دار ٹھہرایا کرتے تھے۔ حالانکہ ان معصوم فلموں میں ہمیشہ بدکار کو ہیرو سے بری طرح پٹتے اور اس کا انجام خراب ہی دکھایا گیا۔ ہمارے بہنوئی جو ہمارے پھوپھی زاد بھائی بھی ہیں انہوں نے اپنی جوانی میں ہر طرح کا فیشن کیا، بیل باٹم پینٹ، ٹائٹ شرٹ، چوڑی قلمیں، بڑی بڑی مونچھیں اور لمبے بال۔ اس دن اپنے بیٹے کو جدید فیشن کے لباس، اور ہیر اسٹائل پر لعن طعن کر رہے تھے۔ ہماری ایک سہیلی نے خود کشی کی دو ناکام کوششیں کیں تب کہیں جا کر اس کی پسند سے شادی ہوئی۔ لیکن اب میڈیا کو قصور وار گردانتے ہوئے دونوں ماں باپ اپنی بیٹی کی پسند کی شادی کی راہ میں اس لیے مزاحم ہیں کہ ان کی بیٹی ایسے شخص سے شادی کرنا چا ہتی ہے جو ان کے فرقے کا نہیں۔ ایک رشوت خور سفارشی افسر کے پر تعیش گھر میں جب ڈاکہ پڑا اور ان کے ہاں کام والی اس میں ملوث پائی گئی تب بھی قصور ٹی وی ڈراموں کا نکلا جس میں بڑے بڑے گھر اور قیمتی ساز و سامان دکھایا جا تا ہے، جسے دیکھ کر ملازمہ کے دل میں لالچ پیدا ہوا۔

جب بھی کسی کو معتوب کرنا ہو، اسلامی تعلیمات بھول جا نے کا طعنہ دیا جا تا ہے۔ جب کہ اسلامی تعلیم دینے والوں کو اپنا سبق ازبر یاد ہو نے کے با وجود ان کے کچھ شرم ناک کارنامے آئے دن دنیا والوں کے سامنے آ کر قوم کو شرمسار کرنے کا سبب بنتے رہتے ہیں۔ زینب کا قاتل عمران نعت خواں ہے، یہ حال ہی کا تازہ واقعہ ہے۔

موجودہ دور کے کچھ بزرگ نوجوان نسل کی علمی صلاحیت کو یہ کہہ کر مسترد کر دیتے ہیں کہ اتنے نالائق ہیں کہ انہیں درخواست تک لکھنی نہیں آتی، انتہائی احترام سے ان کی خدمت میں عرض ہے کہ اب درخواست کا زمانہ نہیں، خط کا زمانہ ہے۔ اپنے حق کے لیے درخواست کیسی، ہاں لیکن آج بھی کچھ بزرگ ضرور ہیں جنہیں درخواست ’’ہی‘‘ لکھنا آتی ہے۔

ہمارے بزرگ آج بچوں کی بڑھتی ہو ئی ذہانت کو ان کی معصومیت ختم ہونے سے تعبیر کرتے ہیں اگر ایک آٹھ سال کا بچہ یہ احمقانہ بات تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ بچہ چھت سے ٹپکتا ہے تو اس میں ایسی کو ئی تشویش اور بے شرمی کی بات نہیں۔ آج سے دو سو سال پہلے غریبوں کے ہاں ایک ہی کمرے میں سب کام ہو تے تھے اور بچے بھی پیدا ہوتے تھے۔ تب بھی غریب بچے اچھی طرح جانتے تھے کہ بچہ کہاں سے آتا ہے۔ البتہ بڑوں کی تسلی کے لیے چھت کی طرف اشارہ کر دیتے تھے، اور آج بھی کہیں انفارمیشن ایند ٹیکنالوجی نے، تو کہیں غربت نے بچوں کو ان کی عمر سے زیادہ سکھا دیا ہے۔ لیکن غربت کے ہاتھوں بچوں نے جو جبری طور پر سیکھا اور سہا ہے وہ اس سیکھ سے کہیں زیادہ خطر ناک اور تکلیف دہ ہے جو انفارمیشن ایند ٹیکنالوجی کی بدولت بچوں کو حاصل ہوا ہے۔ آئیے ذرا ماضی کے اس دور پر نظر ڈالتے ہیں جب میڈیا، انگریزی تعلیم اور یہودیوں کی سازش کے نہ ہونے کے سبب لوگ تقویٰ و زہد کی مثال ہوا کرتے تھے۔

اردو تھیٹر کے ارتقا میں پرتگال اور برطانیہ سے آنے والوں کا نام لیا جاتا ہے جنہوں نے اس کی داغ بیل ڈالی اور پروان چڑھایا۔ 1750 میں انگریزوں نے کچی دیواروں کا ایک تھیٹر بمبئی میں قائم کیا، لیکن اس عیش پرستی میں جدت اور اختراعات کے حقیقی بادشاہ واجد علی شاہ ہیں، تخت سے محرومی کے باوجود ان کے بیان کے مطابق بیگمات کے علاوہ محلات کی دیگر خواتین اور رقص و موسیقی کی محفلوں کے سلسلے میں جمع کی گئی عورتوں کی تعداد 259 بنتی ہے، اور سالانہ اخراجات 12895 بنتے تھے۔ واجد علی شاہ کے محل کی حسین اور خوش گلو طوائفوں کی باقاعدہ تعلیم کے لیے ایک خاص عمارت پری خانہ کے نام سے مخصوص تھی، حاصل ہو جانے والی طوائف پری، اور چہیتی طوائف بیگمات میں شامل ہو جاتی، اور حاملہ ہو جانے والی محل کہلاتی تھی۔ وہ جو ہم بچپن میں سنا کرتے تھے کہ ناچ گانا تو ہندؤں کے مذہب میں ہوتا ہے، ہوتا ہو گا، لیکن اس نیک کام کو بھی بڑھاوا دینے میں واجد علی شاہ کا بھی اہم کردار ہے۔ ان کی نجی محفلوں یا عوامی جشن میں رہس منعقد کئے جاتے تھے جو ان ہی کی ایجاد ہیں۔ اس کے دو مشہور انداز ہیں ایک میں سکھیاں دائرے کی صورت میں رقص کرتی ہیں جسے چھوٹا جلسہ کہتے تھے اور دوسرے میں کرشن اور گوپیوں کا رقص ہے۔ اس میں گم شدہ کرشن کو سکھیاں تلاش کرتی ہیں اس میں ناچنے والیوں کی تعداد زیادہ ہو تی ہے اور وہ دو قطاروں میں رقص کرتی ہیں اسے بڑا جلسہ کہتے تھے۔

واجد علی شاہ نے کلکتہ میں نظر بندی کے دوران بھی یہ کھیل تماشے جاری رکھے۔ ڈرامہ کی ابتدا بھی واجد علی شاہ کے ڈرامہ رادھا کنہیا سے ہوئی پھر امانت لکھنوی کا اندر سبھا مشہور ہوا، اسی طرح کالی داس کے ڈرامے کا اردو ترجمہ شکنتلا، مختلف لوگوں کے نام سے موسوم ہے۔ جسے اردو کا پہلا ڈرامہ کہا جا تا ہے۔ ہندستان میں خوش حال گھرانوں میں مردوں کا کوٹھے پر جانا اور شراب پینا عام بات تھی۔ اور بات یہیں پر ختم نہیں ہو تی۔ جوان بیٹے کو مردانگی کے ٹیسٹ کے لیے شادی سے پہلے طوائف کے پاس بھیجنا ضروری خیال کیا جا تا تھا۔ اس زمانے میں ہم نے جتنی بھی مشہور طوائفوں کے نام پڑھے وہ سب مسلمان گھرانوں سے تھیں۔ ایک طرف یہ سب عیاشیاں عروج پر تھیں اور دوسری طرف اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی واپسی کے لیے تحریک جاری تھی، بڑے بڑے علماء کرام اسلام کی آبیاری کے لیے تبلیغی اجتماعات منعقد کرتے تھے۔ اس سے ایک طرف یہ تو ہوا کہ مسلمان، اسلام کی تعلیمات کو سمجھنے اور عہدِ گذشتہ کی عظمت کو سمجھنے کے قابل ہوئے، لیکن ساتھ ہی ان میں ایک احساس تکبر پیدا ہو گیا، انہیں اپنی ہر چیز اچھی اور دوسروں کی بری نظر آنے لگی۔ یہ ہی وہ اسباب تھے جس کی بنا پر مولانا حالی کو مدو جزرِ اسلام لکھنا پڑی۔ اس نظم میں انہوں نے مسلمانوں کے اعمال کو ہی ان کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیا۔ لیکن اب دیر ہو چکی تھی، ہر عالم نے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لی۔ یوں مسلمان، غیر مسلموں سے تو نفرت کرنے لگے ہی لیکن آپس میں بھی ایک دوسرے کے ایمان کو جانچنے کی راہ پر لگ گئے۔ اور یہ سلسلہ آج تک تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ اب حالت یہ ہے کہ اپنے گریبان میں جھانکنے کے بجائے ہم دوسرے کے اعمال تولنے کے لیے اپنے ہاتھ میں ترازو پکڑے بیٹھے ہیں۔

اگر الیکٹرانک میڈیا،اخلاقی گراوٹ اور تمام تر برائیوں کا ذمہ دار ہے تو مولانا الطاف حسین حالی کو سو برس پہلے مدو جزرِ اسلام لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

جوانی علامہ اقبال کا شکوہ ہے تو بڑھاپا جوابِ شکوہ۔ جوانی میں جو مقدور بھر واجد علی شاہ ہوتے ہیں، وہی بڑھاپے میں اکبر الہ آبادی بن جاتے ہیں۔ لیکن کیا واقعی یاد داشت اتنی کمزور اور ایمان اتنا طاقتور ہو جاتا ہے یا موت کی چاپ ہمیں دوسروں کو دھمکانے پر مجبور کرتی ہے۔

ہر نسل اپنی پچھلی نسل سے ذہین ہو تی ہے، آج کی نسل پچھلی نسل سے بہت آگے نکل چکی ہے۔ پچھلی نسل کے بزرگوں کو نوجوان نسل کی منفی صلاحیتوں کو کھو جنے اور انہیں لعن طعن میں وقت برباد کرنے کے بجا ئے، اپنے بچپن کی شرارتیں، نوجوانی کی کوتاہیاں اور جوانی کی لغزشیں، چند غلط فیصلے اور غلطیوں کے سبب اپنی زندگی کے سکون اور خوشیوں کو برباد کرنے والی حقیقتوں کو نہ صرف یاد رکھنا چاہیے بلکہ ان کے بارے میں نوجوان نسل کو آگاہ کرنا چاہیے، تب بچے نا صرف متاثر ہو ں گے بلکہ وہ آپ کے تجربے سے کچھ سیکھیں گے۔ خود کو فرشتے کے روپ میں پیش مت کریں۔ یہ دور ہو یا وہ دور ہو، بچپن، لڑکپن اور جوانی، زندگی کی طرح انسان اپنی عمر کے ان سارے ادوار سے صرف ایک ہی مرتبہ لطف اندوز ہو سکتا ہے جو اس کا حق بھی ہے۔ ان ادوار کے حسن سے محرومی شدید نامساعد حالات میں ہی ہو سکتی ہے جسے بد نصیبی کے علاوہ کچھ نہیں کہا جا سکتا، لیکن بڑھاپے میں اس پر فخر کرنا کہ ہم ایسے نہیں تھے، ہم ویسے نہیں تھے، فہم سے بالا ہے۔

Facebook Comments HS