دیپ جلتے رہے

ہم کالج کے مالک سے کہہ چکے تھے کہ اب ہم اپنی پوری تنخواہ ملنے کے بعد ہی پڑھائیں گے کیوں کہ تنخواہ کے آسرے پراس کالج میں مزید رہناحماقت تھی۔ مرد لیکچرار تو کالج میں ہنگامہ کر کے اپنے واجبات لے کر جاچکے تھے اور ہم جو اب تک ضبط کیے بیٹھے تھے۔ جب…

Read more

ہاۓ اللہ اوئی اللہ ٹائپ لڑکیاں اپنے گھر بیٹھیں

کچھ لڑکیاں پڑھائ اور اپنے کام پر کم اوردوسروں کی نظروں پر زیادہ دھیان دیتی ہیں.اس کے لیے انہیں بار بار مردوں کی طرف دیکھنا پڑتا ہے کہ وہ انہیں دیکھ تو نہیں رہے. ان کی آپس کی گفتگو بھی اسی تحقیق پرمبنی ہوتی ہے.جی ہاں میری اس تحریر کا محرک لاہور کےایک لیکچرار کی…

Read more

آپ کا بچہ پڑھنے کے لیے اسکول نہیں جاتا

آپ کا بچہ اسکول ضرور جا تا ہے لیکن پڑھنے نہیں جاتا، وہ چند گھنٹے کے لیے جیسا جا تا ہے ویسا ہی آجاتا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ سنی بچہ اسکول سے پلٹا تو شیعہ ہو گیا۔ ہندو بچہ، مسلمان ہو گیا۔ جھوٹ بولنے کا عادی بچہ سچ بولنے لگا، بے انداذہ کمائی…

Read more

دیپ جلتے رہے قسط 21

دو تین دن ہی ہوئے تھے، میں رشی کے اسکول کے وزٹنگ ایریا میں میں بیٹھی تھی کہ میری نظر ثوبیہ کی امی پر پڑی، وہ لیونگ سرٹیفکیٹ بنوانے آئی تھیں۔ میں بھی اسی کام سے آئی تھی۔ ہمیں انتظار کرنے کو کہا گیا تھا۔ انہیں دیکھتے ہی میں ان کے قریب پڑی خالی کرسی…

Read more

اس کی چتا کو آگ لگی، نہ میں اسے دفن کر سکا

کالج میں برہان کی سادھنا سے گہری دوستی تھی۔ ٹیچرز اور طلبا اس دوستی کو کوئی اور رنگ دیتے تھے، پر میں نے کوئی اہمیت نہ دی کیوں کہ تعلیمی اداروں میں اتنے سال گزارنے کے بعد تجربے سے یہ ہی جا نا تھا کہ کالج کہ بعد نئی درس گاہیں، پھر نوکری اور پھر نئی دوستیاں نئے تعلقات اور پھر تم کہاں ہم کہاں۔ کچی عمر کی دوستیاں بھی کچی ہو تی ہیں۔

کوئی آٹھ سال بعد ہم نے گھر شفٹ کیا تو ایک دن اپارٹمنٹ کے گیٹ پر برہان مل گیا۔ اپنے پرانے طالب علم کو دیکھ کرخوش ہوئی، لاکھ ذہن پر زور دینے کے باوجود اس کا نام یاد نہ آیا۔ لیکن معلوم نہیں کیوں اس کے حوالے سے سادھنا کا نام پٹ سے دماغ میں کودا۔ تومیں نے سوالیہ لہجے میں استفسار کیا۔ سادھنا؟

Read more

دل بے حجاب عورتوں پر ہی آتا ہے

آج میرے ہاتھ جو پرانی بلیک ایند وائٹ تصاویر کا البم آیا تو مدھم ہوئی تصاویر میں سب سکھیوں کے چہرے آنکھوں میں اجلا گئے۔ یادوں نے رنگ بکھیرنے شروع کیے تو سوچا انہیں انگلیوں سے پکڑ کر کمپیوٹر اسکرین پر سجا دیا جا ئے۔ تصویر کے چرمرائے ہو ئے کونے پر ماروی کھڑی ہے، تو چلیں پہلے اسی کے قصے میں آپ کو شریک کر لیتے ہیں۔

جیسے ہی امتحان ختم ہوئے، اس کا رشتہ آگیا، یہ اپنی چار بہنوں میں سب سے چھوٹی تھی۔ والدین ہندوستانی تھے مگر اس کے نام کی وجہ سے ہر کوئی اسے سندھی سمجھتا۔ ساری بہنیں ہی بہت خوب صورت تھیں لیکن ماروی سب سے حسین تھی۔ ایک روز اس نے ہمیں بتا یا کہ اس کا رشتہ آیا ہے، لڑکے کی سکھر میں برتنوں کی دکان ہے، اور حامد نام ہے۔ وہ چاہتی تھی کہ ہم ساری سہیلیاں اس لڑکے کو دیکھ لیں اگر ہم لوگ او کے کریں گے تب ہی وہ اس سے شادی کرے گی۔

Read more

دیپ جلتے رہے (20)

بچے ننھی سی عمر میں اپنے بابا کے نام، کام، مقام اور اور اماں کی سخت جان سے واقف ہو چکے تھے۔ اپنے بابا کو سوالات کی کھوج میں غلطاں دیکھ کر کبھی انہوں نے بابا سے کچھ پوچھا نہ فرمائش کی۔ نہ کبھی کو ئی تکلیف دی۔ بچوں کا اپنے بابا پر پکا ایمان…

Read more

دیپ جلتے رہے (قسط 19 )۔

ہم سمجھ گئے کہ انجکشن میں جو تاخیر ہو ئی اس سبب گجو بھا ئی کے تو مزے آگئے، پر ہمیں بڑے ”مزے“ آنے والے ہیں۔ ہمارے دیور تو دہری خوشی کے ساتھ روانہ ہو گئے اور ہماری جان پر بن گئی۔ ان سے انجکشن کے لیے کہا تو فرمایا ”اب کچھ نہیں ہو گا بابا نے خاص میرے لیے نسخہ تیار کیا ہے۔ میری طبیعت اور گھر کے حالات سب ٹھیک ہو جائیں گے۔ یہ انجکشن ونجکشن سب ختم ہو جا ئے گا تم دیکھنا۔“

گجو بھا ئی کو شادی کا بڑا شوق تھا۔ اورپتہ نہیں کیوں ہربقرعید سے پہلے انہیں شادی کی دھن سوار ہو جاتی۔ گھر بھر کو وارننگ دیتے پھرتے۔ ”بھینس کاتی آوو، ہمو شادی نئیں اچھا نئیں۔“ احمد سے پوچھا تو بتا یا کہ ان کا مطلب ہے ”بقرعید آنے والی ہے اگر اس بار ہماری شادی نہیں ہو ئی تو اچھا نہیں ہو گا۔“

Read more

محسن نقوی کے نام سے منسوب مشہور دعا ”اس قوم کا دامن غمِ شبیر سے بھر دے“ میر احمد نوید کی ہے

معروف شاعر محسن نقوی کے شاعرانہ کلام کی تعریف وتوصیف میں کچھ کہنا بلا مبالغہ سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ ان کے کلام پر تبصرے کے لیے میرا قد اور مطالعہ اہل نہیں۔ اس لیے سیدھا موضوع کی طرف آتی ہوں۔

خوب صورت اور مشہور دعا جو ہر شیعہ گھر کی مجلس میں پڑھی جاتی ہے اور بچے بچے کو ازبر ہے۔ ہمیں کبھی علم نہ ہو سکا کہ احمد کے چند دوستوں اور احمد کی کتابوں میں چھپے ہونے کے باوجود شیعوں کی اکثریت اسے محسن نقوی سے منسوب سمجھتی ہے

Read more

دیپ جلتے رہے۔ (قسط 18 )

ہم نے اپنے کیریر کا آغاز وکالت سے کیا، تب ہمارے سینیر وکیل نے ہمیں وکالت میں کامیابی کا پہلا اصول یہ سمجھا یا تھا کہ موکل وکیل کی ظاہر ی حیثیت دیکھ کر مرعوب ہو تا ہے۔ قیمتی سامان سے مزین آفس، بڑی گاڑی، اور بہترین لباس میں ملبوس رہ کر آپ تگڑی فیس…

Read more