دیپ جلتے رہے۔ (پانچواں حصہ )

وقت گزرنے کے ساتھ احمد کی حالت میں بہتری آتی چلی گئی۔ لیکن ان کی دوائیں ختم کرنے کا فیصلہ میں اپنے طور پر کر چکی تھی، اس زمانے میں پرائیڈل کی شیشی ڈیڑھ سو یا ڈھائی سو کی ملا کرتی تھی۔ میرا دیور، علی مجھے وہ اور ان کے انجکشن اور دیگر ٹیبلیٹس ہر…

Read more

رئیس کی بیوی سب سے اچھی

گاؤں سے رئیس اپنی بیوی حاجرہ کو لے آیا تھا۔ آج صاحب کے گھر بڑی محفل تھی۔ مرد عورتیں سب ہی شریک تھے۔ بیگم صاحبہ کے کہنے پر وہ حاجرہ کو کام میں مدد کے لیے لے تو آیا، پر اسے یہ بے شرمی والا ماحول بالکل پسند نہیں آیا۔ اس نے حاجرہ کو اپنے کوارٹر میں بھیج دیا۔ اور خود سب کو مشروب دینے لگا۔ اس محفل میں چہرہ چھپانے والی تمام خواتین ان عورتوں کو بے شرم کہہ رہی تھیں، جنہوں نے اپنے چہرے کھولے ہوئے تھے، لیکن میک اپ سے بے نیاز تھے۔سادگی پسند خواتین، میک اپ والی خواتین کو بے شرم کہہ رہی تھیں،

Read more

ایک شاعرہ پر پابندیوں نے اسے اپنی زندگی جینے کو آزاد کر دیا

خوشبو کی حقیقی کہانی میں نے آٹھ مارچ کو ہم سب کے لیے رکھ چھوڑی تھی۔ لیکن 8 مارچ کو اسکول میں صبح اسپرنگ فیسٹیول اور شام کو او لیول کی الوداعی تقریب کی تیاریوں اور شرکت کی وجہ سے مضمون بھی نہ بھیج سکی اور جو آج صبح فیس بک پر مختلف دوستوں کے اسٹیٹس پر نظر پڑی تو اندازہ ہوا کہ اس بار کے نعروں نے اچھوں اچھوں کی قلعی کھول دی۔ایک خاتون کے کارڈ پر درج تھا میں آوارہ میں بد چلن۔ایک حساس افسانہ نگار نے کمنٹ لکھا، کہیں یہ دعوت تو نہیں۔اسی طرح ایک خاتون کو کچھ خواتین کے کارڈ پر لکھے گئے چند بے باک نعروں پر اعتراض تھا۔ ہمارے ایک اور حقوقِ نسواں کے علمبردار بھی خواتین کے کچھ نعروں پر معترض تھے اور ایسی خواتین کے لیے اپنے دل سے احترام جا تا ہوا محسوس کر رہے تھے۔

Read more

جب رامش کو سالا ہندو سمجھا گیا

سوشل میڈیا ہو یا عام دوستوں کے ساتھ بات چیت، پاکستان کی ہندو برادری کے لیے تضحیک اور تو ہین آمیز جملے پڑھ اور سن کر احساسِ شرمندگی ہو تا ہے۔ سوچتی ہوں ان پاکستانی شہریوں پر کیا گزرتی ہوگی۔ ہماری ہندو برادری کا مرنا جینا اور روز گار پاکستان سے وابستہ ہے۔ یہ بھی…

Read more

دیپ جلتے رہے

چونک کر بستر سے اٹھ بیٹھی۔ ان سے کہا آپ گر جا ئیں گے، اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر چپ رہنے کا شارہ کیا اور کان میں رازدارانہ انداز سے بولے دیوار پر سانپ ہے وہ رشی پر نہ گر جا ئے۔

کوئی چیز ڈھونڈنے لگے، مجھے لگا، ان دیکھے سانپ کو ماریں گے۔ اور چوٹ کسی کو بھی لگ سکتی ہے۔ میں نے فوراً دیوار کی طرف دیکھ کر کہا، وہ سانپ رشی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کہنے لگے، کہاں ہے؟ دیوار کی طرف اشارہ کیا تو کہنے لگے، دیوار پر سانپ کیسے ہو سکتا ہے۔ میں نے کہا ابھی آپ ہی تو کہہ رہے تھے۔

اتنا کہنا تھا کہ آنکھیں غصے سے لال ہوئیں، چہرہ پر شدید طیش کی کیفیت میں سخت ہو گیا۔

میں اگر کہوں میں اللہ میاں ہوں تو تم کیا وہ بھی یقین کر لو گی۔ بتا ؤ؟

Read more

دیپ جلتے رہے

ولیمہ بخیر و خوبی نبٹ گیا۔ تیسرے دن ہم دونوں نے اپنی اپنی C Vتیار کروائی، اور بہت ساری فوٹو کاپیز کروا کے فائلز میں رکھ لیں۔ اس عرصے میں علی ( ہمارے پیارے دیور جی) انہیں مسلسل ان کے نفسیاتی معالج کے پاس ان کے معائنے کے لیے چلنے پر اصرار کرتے رہے، لیکن…

Read more

دیپ جلتے رہے

بولیں پتہ نہیں کیا کیا لکھ کر پھینک دیتا تھا۔ ہم اس کے کمرے سے یہ سب اٹھا کے ان تھیلوں میں بھر تے رہے اس دن کے لیے ہم نے یہ سنبھال کر رکھے تھے۔ اب تم آگئی ہو جو رکھنے کا ہے رکھو اور جو پھینکنے کا ہے پھینک دو۔ ہم وہ دونوں تھیلے لے کر کمرے میں آگئے۔ یہ ابھی تک سو رہے تھے۔ ہم نے مڑے تڑے کاغذات کو ہاتھ سے سیدھا کیا۔ کمال رومانی غزلیں تھیں لیکن جانے کیوں انہوں نے انہیں پھینک دیا تھا۔ ایک کاغذ پر مہناز کی آنکھوں کی تعریف میں بڑی خوب صورت نظم تھی۔

ان کی طرف دیکھا۔ جو ابھی تک بند تھیں۔ پھر دوسرا پرچہ دیکھا، یہ غالبا! مہناز ہی کا نفرت نامہ تھا۔ متن کچھ اس طرح تھا کہ اس کے باپ کی خواہش اور امداد کی پیش کش کے با وجود اگر دبئی جا کر نوکری کر لیتے تو کیا تھا۔ لیکن تمہیں تو بس بستر پر پڑے رہنے اور کاغذ کالے کرنے سے ہی فرصت نہیں۔ سنو یہ شاعری واعری میں کچھ نہیں رکھا، تمہیں ڈیڈی نے جو دوسرا آپشن دیا ہے اس پر ضرور غور کرنا۔ ورنہ پھر میرے پاس دوسرا آپشن موجود ہے۔

Read more

دیپ جلتے رہے – آپ بیتی

احمد نوید کے بڑے بھائی حسنین جعفری ( مرحوم ) بھی بہت اچھے شاعر تھے۔ لیکن جانے کیوں احمد نوید سے بیک وقت نفرت اور محبت میں مبتلا تھے۔ ہماری منگنی کے بعد ایک دن مجاہد بریلوی کے پاس آئے اور انہیں اس شادی کے دور رس نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کیوں کہ وہ براہِ راست اس شادی کی انجام پذیری میں شریک ہیں، اس لیے اب وہ ہی اس شادی کو روک سکتے ہیں، وجہ یہ بتائی کہ احمد نوید نروس بریک ڈاؤن کا مریض ہے۔ نوکری ووکری نہیں کرتا، سارا دن ڈبو کھیلتا رہتا ہے۔ مجاہد بھائی نے ہم سے کہا کہ وہ ہمارے والدین سے، ایک غلط آدمی سے ہمارے رشتے کی سفارش کرنے پر ہاتھ جو ڑ کر معافی مانگ لیں گے، ہمیں یہ شادی کسی طور نہیں کرنی چاہیے۔

ہمیں ان کی بات پر کسی حد تک یقین توآیا، کیوں کہ ان کے ہاتھوں میں رعشہ کبھی کبھی بہت بڑھ جا تا تھا۔ اب معلوم ہوا کہ اس کی وجہ شدید اعصابی تناؤ میں ہائی ڈوز دوائیں تھیں۔ ہم جو ہمیشہ سے مشکل پسند ہیں ہم نے کہا کہ یہ ایک مرض ہے کوئی برائی نہیں۔ اس لیے انہیں اس رشتے میں معاون بننے پر کسی پچھتاوے یا ہمارے امی ابا سے معا فی مانگنے کی کوئی ضروت نہیں۔ اب سراسر یہ فیصلہ ہمارا ہے۔

Read more

رسولﷺ کے عفو و درگزر کے واقعات کی نفی کرنے کے در پردہ کیا مقاصد ہو سکتے ہیں؟

عفو و در گزر، اعلیٰ ظرفی، بلند اخلاقی اور وسیع انظری کی عملی مثال کے لیے ہمارے ذہنوں میں وہ سارے واقعات ازبر ہیں، جو میرے نبی ﷺکی زندگی میں پیش آئے۔ مکہ میں جب میرے نبی نے انقلابی تعلیم کا آغاز کیا تو ان کے بلند اخلاق سے متاثر عزیز اقرباء ان کے ساتھ…

Read more

اذان ہوتے ہی صرف عورتیں ہی کیوں سر ڈھکتی ہیں؟

احمد نوید کی مقبول نظم ”تو کیا تمہیں میں کبھی یاد ہی نہیں آیا۔ “ میں ایک مصرع ”اذان ہوتے ہی آنچل سے سر کو ڈھکتے ہوئے۔ “ ایک بار پھر نظر سے گزرا تو احمقانہ خیالات نے نظم مکمل نہ ہو نے دی ہم نے کتاب ایک طرف رکھ کر سوچا کہ اذان ہوتے ہی آنچل سر پر ڈھک لینا رسم ہے یا احترامِ اذان ہے۔ اگر یہ احترا مِ اذان ہے تو صنفِ نازک ہی اس عمل میں آگے کیوں ہیں۔ اسکول اسمبلی میں تلاوت کے دوران بھی ساری بچیاں تلاوت کے دوران سر ڈھک لیتی ہیں۔ اسی طرح کسی بھی ادارے کے کسی ادبی، ثقافتی یا تنظیمی پروگرام کی ابتدا میں نعت یاحمد پیش کی جائے تب بھی خواتین کے ہاتھ میکانکی انداز سے اپنے سروں کو آنچل سے ڈھانپنے لگتے ہیں۔

Read more