دیپ جلتے رہے (چودھواں حصہ)۔

ہم احتیاطاً گھر کی چابی اپنے ساتھ لے گئے تھے کہ واپسی پرتالا بند ملے گا، گو کہ یہ صرف احتیاط ہی تھی، ہمیں معلوم تھا کہ طے کردہ دن اور وقت پر آفس میں جوائننگ دینے سے عزت نہیں رہتی۔ ایک دو دن بعدہی جایا کرتے ہیں۔ اور اگر ان ہی دنوں جب کوئی اسائنمنٹ سامنے رکھا ہو تو، طبیعت ایسی زوروں کی موزوں ہو تی ہے کہ جب تک خیالات کی روانی سمیٹ کر کاغذ میں نہ لپیٹ لی جائے، کسی طور قرار نہیں آتا۔ اور ایک کل وقتی شاعر کے لیے کو ئی آسان نہیں۔

Read more

دیپ جلتے رہے ۔ تیرہواں حصہ

عشق، پیار، محبت اور ہمدردی انہی جذبوں نے کائنات کے رنگوں کو واضح کر رکھا ہے۔ ظلم سہنے والا ظلم میں برابر کا شریک رہتا ہے، ہاتھ پکڑ نہیں سکتے، چھڑا تو سکتے ہیں، ۔ ہم جس سے بہت پیار کرتے ہیں بعض اوقات وہ اسی پیار کو تلوار بنا کر وار کیے جا تا…

Read more

دیپ جلتے رہے (بارہواں حصہ)۔

زندگی پھر اسی ڈھب پر چلنے لگی اب گھر میں تین افراد تھے۔ رامش کے بغیر گود، بستراور گھر کا کونا کونا سوناہو گیا تھا۔ زندگی اسی کانام ہے، سینے میں دھڑکتادل، عارضی یا لمبی جدائی سے بے غرض ایک ہی لے میں سانسوں کو نغمہء حیات سنا تا رہتا ہے۔ مدھم سروں میں یہ گیت کسی کو مست، کسی کو سر شار کسی کو بوجھل، کسی کو گراں، کسی کو بیزار اور کسی پر بار گزرتا ہے، لیکن خاک ہوئے بنا اس کی خاموشی ممکن نہیں۔ جب زندگی کے لالے پڑے ہوں تو آنگن میں بچے کی کلکاریوں سے زیادہ اس کی زندگی کی چاہت سب سے بڑا مقصد بن جا تی ہے۔ کتنی ماؤں نے اپنے بچوں کو ان کی زندگی کی امید میں انہیں خود سے ہمیشہ کے لیے جدا کر دیا۔ دل کو تسلی دیتے تھے کہ ہم زندہ ہیں۔ ورنہ بچوں کی مائیں مر بھی تو جا تی ہیں۔ بس چالیس دن ہی تو رامش کے بغیر گزارنے ہیں۔ پھر دو ماہ کی گرمیوں کی چھٹیوں میں وہ ہمارے پاس ہو گا۔ اس کے بعد یقیناً کوئی سبیل نکل آئے گی۔

Read more

مسجد کے امام اور استغفار پسند عوام

مسجدیں بنانے کی اپیل کرنے والوں کو چندہ با آسانی مل جا تا ہے۔ اوران مسجدوں میں امام کی نوکری اور متصل کمرے میں رہائش بھی آسانی سے مل جا تی ہے۔ یہ نوکری کو ئی جوکھم کا کام بھی نہیں۔ اس نوکری پر رہتے ہوئے آپ کافی سارے کام ایک ساتھ کر سکتے ہیں، ننھے بچوں کو پڑھائیے، پیسے کمائیے۔ نکاح کروائیے۔ پیسے کمائیے۔

ان سارے نیک کاموں کے عیوض پڑوس کے گھروں سے اللہ کو راضی کرنے کے لیے کھانا بھی پہنچا دیا جا تا ہے۔ اور محلے میں بے حساب عزت۔ امام مسجد کی آمدنی بہت زیادہ تو نہیں پھر بھی کسی محنت کش مزدور سے اچھی ہو تی ہے۔ اگر امام کی دینی معلومات کم بھی ہیں تو فکر کی کوئی بات نہیں۔ خواتین کی بے حیائی کو بے نقاب کرنے کے لیے مطالعے کی نہیں آنکھوں اور زبان کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں ہر تباہی کا ذمہ دار عورت کو ٹھہرا یا جا ئے، پھر احادیث کی روشنی میں عورت کو قابو میں رکھنے کے شرعی طریقے بتائے جائیں۔ مسجد میں سامعین سارے مرد ہوتے ہیں بات ان کے مطلب کی ہے، کو ن سوال اٹھائے گا۔

Read more

دیپ جلتے رہے (گیارہواں حصہ)

دوسرے دن امی واپس خیر پور جانے کے لیے تیار ہو گئیں۔ انہیں اطمینان تھا۔ بیٹی کو بے سکون کرنے والا اب اہسپتال میں تھا۔ ہم نے رشی کو ایک بار پھر یہ سوچ کر ان کے ساتھ خیر پور بھیج دیا کہ احمد ہاسپٹل سے جانے کس کیفیت میں آئیں گے۔ بچوں سے زیادہ…

Read more

دیپ جلتے رہے (دسواں حصہ)۔

ریسیپشن پر ایک جاننے والامل گیا۔ نام یاد نہیں، یٰسین فرض کر لیتے ہیں، وہ جا نے کب سے اس ہاسپٹل میں تھا، اس کے گھر والوں نے شاید مسقبل کے اندیشوں کے پیشِ نظر اسے ہمیشہ کے لیے یہاں رکھ چھوڑا تھا۔ احمد کو دیکھ کر گرم جوشی سے ملا۔ ایک مسٹنڈے نے جب احمد کو جنرل وارڈ میں چلنے کے لیے کہا تو یہ غصے سے ہماری طرف بڑھے۔ لیکن اس مسٹنڈے نے ان کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔یسیٰن نے چوہدری کے سے انداز میں ان لوگوں کو حکم دیا کہ ان کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتی جا ئے۔ احمد نے یٰسین کو شعلہ بار نظروں سے دیکھا۔ اور ہاتھ چھڑانے کے لیے زور لگا یا۔ بھابی آپ فکر مت کریں طبیعت صاف کروا دوں گا ان کی، آپ گھر جائیں۔ یٰسین نے انہیں بھڑکانے کے لیے میری طرف دیکھ کر آنکھ ماری اور ایک قہقہ لگایا۔

Read more

دیپ جلتے رہے (نواں حصہ)

شفوکی شادی کے دن قریب آرہے تھے۔ اب ہمیں فکر کہ انہوں نے اس سے ڈیک اور امی سے، اسے زیور دینے کا کہہ دیا ہے۔ اور ہمیں تو باتھ روم کے کے لیے برش خریدنا بھی عیاشی محسوس ہوتا تھا۔ انہوں نے کتاب کا مسودہ تیار کیا اور اپنے کاروباری دوستوں کے پاس کتاب کے سوینیر کے لیے اشتہار مانگنے پہنچ گئے۔ اسی اثنا میں ان کی ٹانگ میں چوٹ لگ گئی۔ زخم پک گیا تھا چلنے میں شدید تکلیف ہوتی تھی، لیکن ایک دھن سمائی تھی۔ ستر ہزار روپے جمع ہوئے۔

چار ہزار کا ڈیک، پینسٹھ ہزار کا سونے کا سیٹ خریدا۔ اور شادی میں شرکت کے لیے خیرپور پہنچ گئے۔ ہمارے معاشی حالات سے قریبی لوگ واقف تھے۔ کسی کو امید نہیں تھی کہ واقعی ہم احمد اپنا کہا پورا کریں گے۔ اس لیے سب کی زبان پر تالے تھے۔ ہر کوئی اپنے اپنے تحائف کا بڑی شان سے ذکر کرتا کہ کس نے شفو کو کیا دیا ہے۔ احمد کی فطری خواہش تھی کہ کوئی کہے کہ احمد نے شفو کو زیور اور ڈیک دیا ہے۔ لیکن جب کسی نے کچھ نہ کہا تو ہم نے خود ہی کہنا شروع کر دیا کہ احمد کی طرف سے کیا دیا گیا ہے۔ اس پر ایک طرف سے آواز آئی اتنا کچھ کرنے کے بجائے اپنے باتھ روم کے لیے برش خرید لیتیں تو اچھا تھا۔ بات اتنی کچھ غلط بھی نہیں تھی لیکن احمد کے حساس ذہن کو تکلیف پہنچانے کے لیے، کا فی تھا۔ دن کو سونے کا موقع نہ ملتا اور رات انہیں نیند نہ آتی انجکشن لگنے کی تاریخ گزرے ایک ماہ ہوچکا تھا۔

Read more

دیپ جلتے رہے (آٹھواں حصہ)۔

ہم سب پر جب سے یہ خود نوشت شائع ہو ہی ہے، بیان کردہ حقائق جاننے والے حیرت میں ہیں۔ یہ سب لکھنا آسان نہیں، پوچھتے ہیں اتنی ہمت کیسے آئی؟ نوید بھا ئی کو علم ہے؟

پہلی بات تو یہ کہ انہیں نہ صرف علم ہے بلکہ چھپنے کے بعد انہیں سنا تی بھی ہوں۔ پھر ان کے دوست احباب بھی انہیں خبر دیتے ہیں، اور اگر کبھی ان کی عدم دستیابی کی بنا پر انہیں سنا نہیں پاتی تو وہ انہیں سنا دیتے ہیں۔ میں یہ سب لکھنا چا ہتی تھی، مگر احمد نوید کی طرف سے واضح اجازت کی منتظر تھی۔ پھر ایک دن نا صرف انہوں نے مجھے اجازت دی بلکہ اس خود نوشت کا نام بھی تجویز کیا۔ ایسا بڑا آدمی، جسے اپنے قد کا اندازہ، کام پر یقین، محبت پر ایمان اور ساتھی پر بھروسا ہوتو ماضی سے جڑی ایک اعصابی تھکن کو کاغذ پر اتار پھینکنے کی اجازت دینے میں کوئی سبکی محسوس نہیں ہو تی۔

Read more

دیپ جلتے رہے۔ ( ساتواں حصہ )۔

سوچا تھا پاپا کی موت کی طرح یادوں کے اس سلسلے کو بھی آسانی سے نبٹادیا جا ئے گا۔ مگر بھائی یہ زندگی ہے، سرسری نہیں گزرتی۔ زندگی ہو یا اس سے جڑا ساتھی، قربانی کی بھینٹ وفا کی صورت چاہتا ہے۔ ساتھ چھوڑنے کے لیے ہاتھ چھڑانے میں دیر نہیں لگتی پر ہاتھ میں ہاتھ دے کر ساتھ قدم ملاکر چلنے میں کئی ساتھیوں کو پیچھے چھوڑنا پڑتا ہے۔ تب غم اور خوشی آپس میں یوں مدغم ہوتے ہیں کہ یار اداس ہو تو قہقہوں کوروک لگا دی جا ئے۔

اور یار کی خوشی د وبالا کرنی ہو تو اپنے پیارے کی موت کے غم کو بھی ہنسی میں لپیٹ دیا جائے۔ اس کشا کش میں دل کی نہیں چلتی۔ ہونٹوں اور آنکھوں کے کرتب دکھانے پڑتے ہیں۔ اچھی اداکاری تماشائیوں کو تالی بجانے پر اکساتی ہے۔ زندگی کی حقیقی داستان کے موڑ آسانی سے نہیں کاٹے جا تے۔ اذیت، مصیبت بلائیں ہر موڑ پر بکل مارے بیٹھی ہو تی ہیں۔ ان کا سامنا کیے بغیر انہیں روند کر آگے بڑھنا نا ممکنات میں سے ہے۔ آگے تو اس کے بھی بہت ہے پر اس خود نوشت کا مقصد سے نفسیاتی مریضوں کے ساتھ صبر و تحمل کے ساتھ خصوصی برتاؤ کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔

یہ واحد مرض ہے جس میں مریض کی بے گانگی اپنے مرض سے متعلق جتنی بڑھتی ہے، وہ زندگی کو اتنا ہی آسان سمجھنے لگتا ہے۔

Read more

’’یہ تم نے کس کو سرِ دار کھو دیا لوگو‘‘ کے اصل خالق فیضؔ نہیں، احمد نوید ہیں

کبھی تو سوچنا تم نے یہ کیا کیا لوگو یہ  تم نے کس کو سر دار کھو دیا لوگو ہوائے بغض و خباثت چلی تو اپنے ساتھ اڑا کے لے گئی انصاف کی قبا لوگو دیا تھا صبحِ مسرت نے اک چراغ تمہیں اسی کو تم نے سرِ شام کھو دیا لوگو مسافتوں کے سوا…

Read more