دادا، دادی سے پیارا کوئی نہیں، مگر

شادی کے بعد بچوں کی پیدائش، ان کی پرورش و تربیت انسان کے اندر ایک نئی امنگ اور طاقت پیدا کر دیتی ہے۔ اپنے بچوں کی صحت، خوش گوار زندگی اور روشن مستقبل کے لیے وہ اپنی ساری توانائی اور اسباب اس کی منزل مقصود کو آسان بنانے میں صرف کر دیتے ہیں۔ پھر وقت آپ کی محنت کے ثمر دکھاتا ہے بچے اونچا اڑنے کے لیے پر پھیلا چکے ہیں۔ آپ نے اڑان بھرنے کے لیے انہیں راستہ دکھایا،

Read more

اپنے بچوں کے سکول میں پڑھانے والی مائیں

کوئی ایک نہیں بے شمار باصلاحیت، زمانے میں کچھ کر دکھانے والی،حوصلہ مند،باہمت خواتین جو بچے پیدا ہونے کے بعد صرف اس لیے سکول میں ٹیچنگ اختیار کرتی ہیں کہ ان کے بچے ان کی نظروں کے سامنے رہیں گے اور ان کے بچوں کی فیس میں کچھ رعایت بھی ہو جائے گی۔بچے نظروں کے سامنے رہیں اس کے لیے اس کے خواب، نیند، آرام، چین صبح صبح طلبا کے حاضری رجسٹر میں حاضری لگوا دیتے ہیں۔ اس کی خوشیاں،

Read more

مسلم انصاری کی کتاب ’کابوس‘ پر تبصرہ

کئی دہائیوں سے، غیر ملکی کہانیوں، ان کے بارے میں پسندیدگی کا اظہار، غیر ملکی کہانی کاروں کے بارے میں تبصرے ایک ٹرینڈ بن چکے ہیں۔ پھر ذرا نظر گھماتے ہیں تو چار، پانچ دہائی پہلے کے ادیبوں پر ٹھہر جاتے ہیں۔ عصر حاضر کے ادیبوں پر نہ کوئی بات کرتا ہے، نہ ان کی کتابوں اور تحریروں کا تذکرہ ہوتا ہے۔ کیونکہ مبصرین اب تبصرے کرنے میں مصروف ہیں ان کے پاس موجودہ ادیبوں کی کتابوں کو پڑھنے کے

Read more

کوکھ کا ادل بدل (افسانہ)

شہر کی آبادی سے میلوں دور دشوار گزار راستوں سے گزر کر دھن آباد گاؤں کی حدود شروع ہوتی تھیں۔ چند سو نفوس پر مشتمل اس گاؤں میں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت فطری اصولوں کے مطابق زندگی گزارتے تھے۔ گاؤں کے لوگوں کا ذریعہ، معاش کھیتی باڑی تھا۔ کچھ لوگ شہر میں جا کر نوکری بھی کرتے تھے۔ سال دو سال بعد پیسے کما کر گاؤں آتے تو ان کی بڑی آؤ بھگت کی جاتی۔ شہر میں جوتیوں

Read more

سرکاری اسکول اور میری قابلِ فخر بہو

رامش کی شادی کو چھ ماہ گزرے تھے کہ ایک روز میں نے اسے اور بہو (سوما) کو ایک دوسرے سے بحث کرتے اور الجھتے ہوئے دیکھا۔ سوما نے میری مدد چاہی۔ ”امی بہت پہلے میں نے گورنمنٹ اسکول ٹیچر کے لیے اپلائی کیا تھا۔ حیدرآباد میں ٹیسٹ کے لیے بلایا ہے“ ۔ بہو امید سے تھی، ”بیٹے نے اس بہانے کا سہارا لیتے ہوئے کہا۔ امی یہ کیسے مینج کرے گی؟“ میں نے رامش کو سمجھایا: ”بیٹا ٹیسٹ ہونے

Read more

کم فیس والے اسکولوں کے امیر ترین مالکان

وہ والدین جو کم آمدنی کے حامل ہیں، لیکن اپنے بچوں کو اچھی تعلیم اور تربیت دینے کے خواہش مند ہیں اور خود بھی پڑھے لکھے نہیں کہ بچوں کو خود پڑھا سکیں، انہیں چاہیے کہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکول میں پڑھائیں۔ میٹرک سسٹم کے ایسے پرائیویٹ اسکول جہاں فیس نہایت کم ہے، وہ ایسے اساتذہ رکھتے ہیں جن میں اکثر کی تدریسی، تعلیمی اور علمی قابلیت نہایت کم ہوتی ہے۔ وہ دس بارہ ہزار تنخواہ پر بھی راضی

Read more

اردو ٹیچر کا امتحان

اردو ہماری شان، ہماری پہچان، ہمارا افتخار، یہ سب کہنے کی باتیں ہیں۔ ذرا ہمارے شاگردوں سے پوچھیے، ہمارا صبر دیکھیے۔ اردو بولنا مشکل، لکھنا اس سے کہیں زیادہ مشکل، اور امتحان! مگر یہ بچوں کا بالکل نہیں ہوتا یہ ہوتا ہے استاد کا امتحان۔ گویا روز حساب ہے۔ مگر یہ کیسا ستم ہے کہ اردو کے اساتذہ کا روزِ حساب، سال میں دو بار ہوتا ہے۔ ہم بچوں کو اردو اس لیے نہیں پڑھاتے کہ ہمیں کوئی شوق ہے

Read more

کنیز فاطمہ کو گھر بسانا ہے (پانچویں قسط)

اگر بن بلائے، بن چاہے اولاد ہو، اور وہ بھی لڑکی، کی نشانیاں لیے، تو وہ بیٹی نہیں، لڑکی ہوتی ہے۔ اور لڑکی کا نام پہلے سے نہیں سوچا جاتا، بلکہ بعد میں بھی نام کا تکلف نہیں کیا جاتا۔ اس زمانے میں ہسپتال میں تو بچے ہوتے نہیں تھے، کہ میڈیکل سرٹیفکیٹ میں نام لکھوانے کی غرض سے نرس آئے اور نام پوچھے۔ یہاں تو ہر شیر خوار، لڑکی کو منی کہا جاتا، چوتھی لڑکی تک تو کنیز فاطمہ

Read more

تعلق کا نا دیدہ بوجھ: نادرہ مہر نواز کی کتاب پر تبصرہ

نادرہ مہر نواز کی تحریریں بہت عرصے سے پڑھ رہی ہوں۔ ایک بار ان سے روبرو ملاقات بھی ہوئی، جو سو ملاقاتوں پر بھاری ہے۔ ان کی شخصیت کے کئی پہلو ایک ہی ملاقات میں سامنے آ گئے۔ اس وقت سمجھ نہیں آ رہا، کہ ان کی تحریر پر تبصرہ کروں یا شخصی خاکہ لکھوں۔ انسان کو پڑھنا، سمجھنا میرا پسندیدہ موضوع ہے۔ نادرہ اپنی تحریروں کی طرح سچی اور بے باک ہیں۔ وہ کھل کر ہنستی اور کھل کر

Read more

ویلے کا ادبی چینل

عبدل القیوم ویل صاحب ادبی حلقوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ یہ خود شاعر، ادیب حتی کہ اچھے سامع بھی نہیں۔ ان کی پیٹھ پیچھے لوگ انہیں ویلے صاحب کہتے ہیں۔ اس بیٹھک میں ان جیسے ویلے لوگوں کا کام کن سوئیاں لینا ہے۔ کون کیا کر رہا ہے کس کا کسے چکر ہے کس نے چھپ کر شادی کی ہوئی ہے، کون شراب پیتا ہے کون نوکری نہیں کرتا۔ کل عبدل القیوم ویل صاحب کا فون آیا۔ ”میں نے“ اب

Read more

مس ناز اور یونی فارم کا عذاب

ماما! کل بھی مجھے مس ناز نے ڈانٹا تھا، دوسری ٹیچرز بھی آپ کو گندا کہہ رہی تھیں۔ وہ خود گندی ہیں۔ اردو کی بڑی والی مس کہہ رہی تھیں، کیسی ماں ہے۔ روحان نے ٹیچر کی نقل اتاری۔ بیٹا آج کل آفس میں بہت کام ہے۔ آپ نے دیکھا تھا نہ کل بھی میں کتنا لیٹ آئی تھی۔ مجھے بس یہ فکر تھی، کہ آپ بھوکے بیٹھے ہوں گے۔ سدرہ روہانسی ہو گئی۔ ماما میں بھوک برداشت کر لوں

Read more

اسکول کا آخری امتحانی پرچہ اور جہاد بالقلم

جہاد بالقلم کیسے کیا جاتا ہے، دشمن کی چالوں کو کیسے ناکام بنایا جاتا ہے۔ اس کے لیے نہ تو فوجی مشقیں دیکھنے اور نہ ہی کسی جنگ کے میدان میں جانے کی ضرورت ہے۔ آخری امتحانی پرچے والے روز کسی بھی تعلیمی ادارے کی دیواروں اور طلبا کے یونی فارم پر قلم کے نقش اور اس کی تاثیر دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ وہ دن ہے، جب طلبا اسکول کے نظم کو قلم کی نوک پر رکھ دیتے ہیں۔

Read more

دادی پھر سو گئیں

نانی تیری مورنی کو مور لے گئے۔ باقی جو بچا تھا کالے چور لے گئے۔ وہ کھانسنے لگیں، کھانستے کھانستے ان کی آنکھوں میں پانی بھر آیا، وہ دوپٹے کے پلو سے آنکھیں صاف کرنے لگیں۔ زین ان کی کمر پر ہاتھ مارنے لگا۔ ”دادی سناؤ، دادی سناؤ“ کھاتے پیتے موٹے ہو کے چور بیٹھے ریل میں ان چوروں کی خوب خبر لی موٹے تھانے دار نے ”نئیں نہیں، وہ وہ لکڑی کی کاتی“ ۔ وہ پھر شروع ہو گئیں

Read more

شتر مرغ ہی کیوں نظر آتا ہے

عمر مواقع ملتے گزاری۔ کبھی باپ داد کی چھوڑی ملکیت تو کبھی پانسہ پلٹنے کو اللہ کا کرم اور خوش نصیبی قرار دینے اور زندگی کو جی بھر انجوائے کرنے والوں کو مجلس، میلاد کے پر تعیش کھانے، تبرکات اور رمضان کی برکات کو عوام پر دان کرتے، وقت دماغ میں ہمہ وقت خدا کو خوش کرنے کا خیال جاگزیں رہتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں خوش کرنے کا آئیڈیا بہت پرانا ہے۔ ہمیں کام نکلوانا ہو، یا کسی غلطی کی

Read more

کراچی سیکنڈری بورڈ میں بدعنوانی کا دور دورہ

کراچی کے میٹرک سسٹم کے نجی اسکول، کوچنگ سینٹرز اور سیکنڈری بورڈ کراچی کے تعلیمی نظام کا بیڑا غرق کر رہے ہیں۔ ہائر سیکنڈری کے خراب رزلٹ کا ذمہ دار کرپٹ ترین سیکنڈری بورڈ ہے۔ حافظ نعیم کی بات ٹھیک ہے کہ اگر طلبا اپنی ناقص کار کردگی سے کم نمبر لائے ہیں یا فیل ہوئے ہیں تو نتیجے کو بدلنے کے لیے دباؤ غلط ہے۔ ہر سال کراچی کے سیکنڈری بورڈ ”میٹرک کا شاندار نتیجہ“ کوچنگ سینٹرز، اور نجی

Read more

بڑے شاعر و ادیب کنوارے کیوں مرے؟

مستنصر صاحب! بڑے شاعر و ادیب کنوارے یوں مرے۔ مستنصر حسین تارڑ اپنے کالم میں چند بڑی ہستیوں کے نام لے کر فرماتے ہیں کہ بڑے شاعر و ادیب کنوارے کیوں مر گئے۔ انہوں نے عمر بھر عورت کی قربت سے، ایک بیوی کی رفاقت سے کیوں گریز کیا۔ بھائی صاحب! شاعر اور ادیب یا کسی بھی نارمل مرد کا عورت کے بغیر رہنا اس کا اپنا انتخاب نہیں ہو سکتا۔ انہیں یقیناً لڑکی یا لڑکی کے ماں باپ نے

Read more

مائیکسٹ ادیب

اب یہ جو بک بک آپ پڑھنے والے ہیں، آپ اس پر حسب منشا زیر، زبر پیش لگا لیں۔ تو آپ کو آگے پڑھنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔ یوں تو ادیبوں کی بے شمار قسمیں ہیں، لیکن ٹیکنالوجی کی افتاد کے بعد ادیب کی ایک اور قسم متعارف ہوئی ہے اور وہ ہے ”مائیکسٹ ادیب“ ۔ یہ آپ کو ہفتے میں چار مرتبہ اسٹیج کے اوپر ڈائس پر مائک کے سامنے منہ کھولے کھڑے نظر آئیں گے، یہ شاعر، ادیب

Read more

ایک دن بالاج کے ساتھ

ماں باپ نے ہمیں پیدا کیا۔ پھر ہم نے اپنے بچے پیدا کیے۔ پھر اپنے بچوں کے بچے دیکھے۔ اتنی لمبی زندگی! جی اوب گیا۔ تب بالاج ننھے ننھے قدموں سے چلنے لگے، تو لگا کہ جیسے زندگی اب شروع ہوئی ہے۔ جب یہ تین سال کے ہوئے تو شرارتوں سے ماں کو اجیرن کر کے رکھ دیتے۔ دادی کے پاس تو ہفتے میں ایک بار آتے ہیں۔ دادی کو تو کبھی ان کی کوئی حرکت، کوئی نقصان، کوئی رونا

Read more

شہنواز امیر کی لمبی پینگ

سولہ ماہ قبل جب ایاز امیر کے بیٹے کے ہاتھوں بہو کے قتل کی خبر پھیلی، تو طوفان برپا ہو گیا صحافیوں کے ہاتھ ڈھیروں اسٹوریز لگ گئیں تحقیق، تفتیش، سنی سنائی باتوں کو سچے لہجے میں سنایا جانے لگا۔ گڑے مردے اکھڑ گئے۔ قاتل کے اعمال، پرکھوں کے اعمال سے جوڑے گئے۔ والدین کی تربیت کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ احتجاجی ریلیوں میں قاتل کی پھانسی کے مطالبے کیے گئے۔ عام لوگوں کی جانب سے اس یقین کا اظہار

Read more

شہناز شورو کی کتاب ”کوئی کہکشاں نہیں ہے“

خسرو کا رنگیں سنگھا سن جھومر شاہ بھٹائی کا تہذیبوں کے رنگ سے روشن چہرہ سندھو مائی کا احمد جہانگیر شہناز شورو کی کتاب کا نام ان کے افسانوں کے مرکزی خیال سے جڑا ہے، ”کوئی کہکشاں نہیں ہے“ ۔ یہ افسانے رستے زخموں کی بخیہ گری کے بعد قاری کے حوالے کر دیے گئے۔ بخیہ گری کا یہ سلیقہ بہت کم افسانہ نگاروں کے ہاں نظر آتا ہے۔ ان کی کتاب کا دیباچہ انڈیا کے معروف ادیب حقانی القاسمی

Read more

بزرگ لاچار نہیں، یاد داشت کمزور ہے

عید، بقرعید کو اینکر حضرات ایسے اداروں کا رخ کرتے ہیں جہاں بزرگ رہتے ہیں۔ گو کہ وہ بزرگ ضعیف، بیمار، معذور اور لاچار نہیں ہوتے، بولے تو ہٹے کٹے۔ مصلحتاً منہ سے بھی کچھ نہیں بولتے، لیکن اینکر اپنے تبلیغی بیان میں ان کی جوان اولاد کو برا بھلا کہتا ہے کہ خود اللے تللے کر رہے ہیں اور انہیں لا وارث چھوڑ گئے۔ بیٹے بہو پوتے پوتیوں کی زندگی میں مداخلت اور ان کی سکھی زندگی کو عذاب

Read more

کنیز فاطمہ کو گھر بسانا ہے۔ چوتھی قسط

جمیلہ کے بچوں کے نام فلموں کی ہیرو ہیروئنوں کے نام پر تھے دیبا، زیبا اور شاہد۔ جب کہ کنیز کے بچوں کے نام ان کے سسر نے قرآنی حروف سے رکھے۔ زینت، عفت، شفاعت، محمد زمان۔ سسر ہومیو پیتھ ڈاکٹر اور شاعر تھے، بینائی جاتی رہی تھی۔ ان کا مطب بھی گھر میں ہی تھا۔ شیشی کی بناوٹ سے پہچان جاتے تھے کہ کون سی دوا ہے۔ مریض یا گھر کے کسی فرد سے کنفرم کرنے کے بعد اسی

Read more

ایک امتحانی پرچہ طالب علم کا مستقبل طے کرتا ہے

زمانہ بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ اس وقت پہلے سے کہیں زیادہ نصاب اور تدریسی طریقہ کار میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر اسکول کے اساتذہ کی امتحانی پرچے کی تیاری میں انقلابی بنیا دوں پر تربیت ہونی چاہیے۔ کتنے استاد ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا طریقۂ تدریس اور امتحانی پرچہ طلباء کے اخلاق، نفسیات، کردار اور اس کے مستقبل پر اثر انداز ہوتا ہے۔ عام طور پر سخت گیر محنتی ٹیچر جس کی جماعت میں

Read more

کنیز فاطمہ کو گھر بسانا ہے (3)

جمیلہ، کنیز فاطمہ اور کنیز فاطمہ کی اماں ایک ساتھ ہی حاملہ ہوئیں اور ایک ماہ کے وقفے سے تینوں کے ہاں بیٹیوں کی ولادت ہوئی۔ سب سے پہلے کنیز فاطمہ کی اماں نے بیٹی جنمی۔ کنیز فاطمہ کی ساس نے بہت دباؤ ڈالا کہ اماں کے پاس ہو آؤ، پر کنیز کو اپنا مٹکا سا پیٹ لے کر اماں کے گھر جاتے ہوئے شرم دامن گیر ہوئی۔ ابا جب بیٹی کی مٹھائی لائے تو وہ ابا کے سامنے بھی

Read more

آرٹس کونسل کراچی، انور مقصود سے کیا کام لے سکتی ہے

آرٹس کونسل کراچی کے لیے انور مقصود لازم و ملزوم ہیں۔ پہلے مقبول تھے، اب پاپولر ہیں۔ لوگ ان کا نام سن کر آتے ہیں۔ اور آرٹس کونسل کے ممبر بن جاتے ہیں، یہ کوئی چھوٹی بات نہیں لیکن انور مقصود کے ذریعے قوم جو کچھ حاصل کر رہی ہے۔ اس کی کچھ جھلکیاں۔ پچھلے دنوں ماہرہ خان اور انور مقصود کے مکالمے کے لیے آرٹس کونسل میں محفل سجائی گئی۔ انور مقصود کے علاوہ بہت سے فنکار، لکھاری تھے،

Read more

کنیز فاطمہ کو گھر بسانا ہے – دوسری قسط

منی بلکتی رہی۔ اس معصوم کو کیا معلوم گھر بسانا کسے کہتے ہیں۔ معلوم تو کنیز فاطمہ کو بھی خاک نہ تھا۔ میاں سے سن کے منی کے منہ پر کھینچ مارا بس۔ بھائی منی کا ہاتھ پکڑ کر اسے گھسیٹتا کمرے میں چلا گیا۔ کنیز فاطمہ کے میاں کی مسکراہٹ ان کی آنکھوں میں دیکھی جا سکتی تھی۔ ہونٹوں پر تاسف کی لکیر برقرار رہی۔ اماں نے خدا حافظ کہہ کر منہ پھیر لیا۔ ابا دروازے تک چھوڑنے آئے۔

Read more

کنیز فاطمہ کو گھر بسانا ہے (1)

اپنی والدہ کنیز فاطمہ پر لکھنے کا جب بھی ارادہ کیا، آنکھیں بھر آئیں، ماں پر لکھنا کب آسان ہوتا ہے، پر لکھنا تو ہے، اس پل صراط سے بھی گزر لیں، یہ سوچ کر دل کڑا کر کے ایک روز لیپ ٹاپ سنبھال ہی لیا۔ کنیز فاطمہ نے اچھی بھلی زندگی گزاری ویسی ہی جیسی علیحدگی، خلع، طلاق جیسے الفاظ سے انجان یا انہیں گناہ سمجھنے والی صابر عورتیں گزارتی ہیں۔ ساس، سسر اور شوہر کی خدمت سے نڈھال،

Read more

مادری زبانوں کا ادبی میلہ

انسان کا اپنی پیدائش میں دخل ہے، نہ قسمت پر۔ حالات و واقعات اس کی زندگی میں اتار چڑھاؤ لے کر آتے ہیں۔ ماں کے پیٹ میں ہی بچہ ماں کی آواز اور اس کی بولی سے آشنا ہو نے لگتا ہے۔ ماں کے منہ سے پیار کی میٹھی بولی بچے کے جنم لیتے ہی دماغ میں رس گھولنے لگتی ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ بچہ کیفیات، ضروریات، خواہشات، خوشی، غم، اور شکایات کا اظہار کرنے لگتا ہے۔ اظہار کی

Read more

پاپولر ادیب، شاعر، فنکار کی مجبوریاں اور عقابی آنکھ

نارسائی، گمنامی، فقر، دھتکار، پھٹکار قدرت کی طرف سے ایک تحفہ ہے، جسے پورے دل سے قبول کر لیں تو اپنی ذات پر اعتماد بڑھ جاتا ہے۔ پھر آپ کسی بزرگ فقرے باز کے چند پھکڑ جملے جو فوج اور حکومت کی طرف اچھالے گئے، اس کی پاپولر رہنے کی مجبوری سمجھ کر، سوزش دل کی طمانیت اور جن کا آپ کچھ نہیں بگاڑ سکتے ان پر ٹھٹھا اڑا کر بے جان بے ربط فقرے کو ہوا میں بکھیر دیتے

Read more

گل مہر کتاب پر تبصرہ

تکلیف سے تڑپتے لوگوں کے لیے کہیں کچھ فرشتے اتارے گئے ہیں، جو راحت کا سامان فری ڈیلیوری کے ساتھ اپنے کاندھوں پر لیے پھرتے ہیں۔ نہ تھکتے ہیں نہ انہیں اونگھ آتی ہے۔ خوش نصیبی یہ کہ آپ ایسے فرشتوں کو دیکھ، سن اور محسوس کر سکتے ہیں۔ نگاہ حسن سے دنیا میں بے رنگی دیکھنے والے شکوہ کرنے کے بجائے خود رنگ بھرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ جن کی آہ عرش سے ٹکرا کر ان کی سماعتوں

Read more

جوائے لینڈ۔ استغفراللہ

ہم جوائے لینڈ دیکھ کر آئے تو کافی پر جوش تھے۔ فیس بک پر اسٹیٹس لگایا۔ ”نوجوانی میں سینما میں ارمان اور دیگر فلمیں دیکھی تھیں۔ آج نوجوان بیٹے الہام کے ساتھ سینما میں جوائے لینڈ دیکھی۔ کمال پیشکش، ایسی فطری اداکاری اور مناظر، جانے کون اداکار، اور ہدایت کار۔ ہم تو بس ثروت گیلانی، ثانیہ سعید اور سلمان پیرزادہ کو ہی جانتے ہیں۔ میرے بیٹے الہام کو بھی شاباش جو اماں کو سینما لے گیا۔“ کسی کا کمنٹ آیا۔

Read more

سید حیدر حسین کی کتاب ماریا اور دوسرے افسانے

ایک روز ان باکس میں میسج ملا میں حیدر حسین ہوں، اپنا واٹس ایپ نمبر دے دیجیے، آواز میں ایک اعتماد اور نرمی تھی، نمبر دے دیا گیا۔ ایام اعزا تھے، غالباً سات یا آٹھ محرم، فون آ گیا کہا کہ اگر کوئی مصروفیت نہیں تو وہ آج شام ہی میر احمد نوید اور ہم سے ملنا چاہتے ہیں۔ ہم نے شام پانچ بجے کا وقت دے دیا، ٹھیک طے کردہ وقت پر ہم نے ان کا استقبال کیا۔ دیر

Read more

بد رو عشرت اور خوب صورت آئینہ

عشرت صبح سو کر اٹھی، آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ کر چونک گئی۔ کیسی بد شکل ہو گئی ہوں، ثاقب ٹھیک کہتے ہیں۔ کل ہی تو ثاقب نے کسی بات پر اسے بالوں سے پکڑ کر آئینے کے سامنے کیا تھا۔ دیکھ اپنی شکل اور مجھے دیکھ، کوئی میچ ہے؟ بے وقوف عورت میں تیری سادگی سے متاثر ہوا تھا، یہ تو اب پتہ چلا، سادگی اور گھامڑ پن میں بہت معمولی فرق ہو تا ہے۔ وہ باتھ روم میں

Read more

 مذکر

اس کی تین بیٹیاں تھیں، صدف اور سارا کی شادی اس نے ایک ساتھ کر دی تھی۔ اب صرف بشریٰ رہ گئی تھی۔ بشریٰ میڈیکل کے آخری سال میں تھی۔ دو سال قبل اس کی منگنی ہوئی تھی اب لڑکے والے شادی کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔

اس روز بشریٰ کالج گئی ہوئی تھی، احسان نے کھا نا مانگا۔ فوزیہ آٹا گوندھنے لگ گئی۔ احسان کی بھوک برداشت سے باہر ہوئی تو وہ بھونکنے لگا۔

دروازے کی گھنٹی پر کوئی ہاتھ رکھ کر بھول گیا تھا۔
آ رہا ہوں آ رہا ہوں۔ احسان تیز تیز چلتا ہوا دروازے پر پہنچا۔

بشری کو دروازے پر کھڑے دیکھا تو فوراً اپنے تاثرات درست کیے۔ آ جاؤ بیٹا آ جاؤ۔ آج جلدی آ گئیں۔ کیوں؟

Read more

بے غیرت، بے حیا، ناقص العقل

والدین کو اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرنی چاہیے، رشتہ سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے، اگر شوہر مارپیٹ کرے تو فوراً طلاق لے لینی چاہیے، دولت دیکھ کر شادی کریں گے تو یہ ہی ہو گا، پہلے سے چھان پھٹک کرنی چاہیے، محبت کی شادی کا یہ ہی انجام ہو نا تھا۔ یہ سارے مشورے، نصیحتیں اور باتیں عورت کے ساتھ ہونے والے کسی بھی بھیانک واقعے کے بعد سب ہی لوگ کرتے ہیں۔ امیر ہوں یا غریب، اعلیٰ تعلیم

Read more

بہو اور داماد

چلیے پہلے بات کر لیتے ہیں بہو کی، یہ رشتہ گو کہ برسوں سے بڑا متنازعہ رہا ہے مگر تمام خواتین اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ اس رشتے کی موجودگی نے آپ کی ساری فکرات اور ذمہ داریاں اپنے سر نہیں لے لی ہیں۔ آپ کے بیٹے کو سنبھالنا کوئی آسان کام ہے کیا۔ اس کی بہت سی بری عادتوں سے سمجھوتہ کر لینا یا اپنی سمجھداری اور بے پایاں محبت سے ان سے چھٹکارا دلا دینا

Read more

احمد اقبال صاحب! ایک ادیب سے اس سنگدلی کی توقع نہ تھی

کتنے مرد شعرا جنہوں نے ٹرین سے کٹ کر خود کشی کی۔ کس نے ان کے اعمال کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ کتنے ادیب اور شعرا قتل ہوئے۔ کس نے ان کے جان سے جانے کی وجہ ان کی بد کرداری قرار دی۔ مگر سارا شگفتہ آج بھی معتوب ٹھہرتی ہے۔ سیمیں درانی ایک ادیبہ شاعرہ کی اندوہناک موت پر شدید غم و غصے میں کی گئی پوسٹ پر ایسے ظالمانہ تبصرے کسی ادیب کے نہیں ہو سکتے۔ لیکن یہ تبصرے

Read more

صادقہ نصیر کی کتاب: پہلے نام کی موت

صادقہ نصیر کا تعارف ان کا ’ہم سب‘ میں شائع ہو نے والا ایک حساس موضوع پر افسانہ تھا، افسانے کے موضوع اور اس کے ٹریٹمنٹ نے ہمیں بھی متاثر کیا۔ دیگر قارئین کے ساتھ ہم نے بھی کھل کے انہیں داد دی، اور پھر یہ ہم سب کی دوست بن گئیں۔ انہوں نے بڑی مہربانی کی کہ لاہور سے ہمیں کتاب بھجوانے کا اہتمام کیا۔ جبکہ خود کینیڈا میں رہتی ہیں۔ پہلا افسانہ تو کتاب ہاتھ میں لیتے ہی

Read more

آپ سورما ہیں

ہمارے ہاں بیٹیاں غیروں کو نہیں دیتے ہمارے ہاں بیٹیاں برادری سے باہر نہیں دیتے ہمارے ہاں بیٹیاں غیر سیدوں کو نہیں دیتے۔ ہمارے ہاں بیٹیاں سنیوں کو نہیں دیتے۔ ہمارے ہاں بیٹیاں شیعوں کو نہیں دیتے۔ ہمارے ہاں بیٹیاں غیر مسلموں کو نہیں دیتے۔ ہمارے ہاں بیٹیاں ماں باپ کی مرضی کے بغیر شادی نہیں کرتی ہیں۔ ہمارے ہاں بیٹیاں، حسرتیں دبائے قبر میں جا لیٹتی ہیں۔ لیکن شرم سے زبان نہیں کھولتیں۔ ہمارے ہاں بیٹیاں زور سے نہیں

Read more

ٹیچر کی ڈائری

موضوع تھا باہمی یگانگت۔ ہم نے بچوں سے اس کے متعلق دو تین منٹ بات کی اور کرسی پر بیٹھ گئے۔

مس یہ کیوں نہیں ہو سکتا کہ پوری دنیا میں تمام انسان اخلاقی بنیا دوں پر ایک دوسرے کے غم گسار بنیں۔ آپس میں شادی کریں۔

صائمہ جماعت میں سب سے ذہین بچی ہے دور کی کوڑیاں لاتی ہے۔

Read more

لیونگ ریلشن، ڈبل ہے استاد

رمضان کا مبارک مہینہ، علماء کرام تمام چینلز پر رمضان کی فیوض و برکات کے ساتھ اسلام کو بجا طور پر پر مکمل ضابطۂ حیات دین فطرت قرار دینے کے ساتھ ساتھ ناظرین کو افطاری کی تیاری سے بھی جوڑے رکھتے ہیں۔ روزے دار کے سامنے کچھ کھانے پینے سے احترام رمضان پر آنچ آتی ہے، پر روزہ کھلنے سے ذرا پہلے ٹی وی پر شربت اور کھانے پینے کے اشتہا انگیز اشتہار ات سے احترام رمضان کا ثواب بالواسطہ طور

Read more

نوجوانی کا عشق: بے حیا کون ہے؟

یہاں بات دعا کی نہیں بد دعا کی ہے، جو نسوانی اعضا لے کر جنم لینے والی لڑکی کا نصیب ہے۔ بیس سال سے تدریس سے وابستہ ہوں ہر عمر کے بچوں سے رابطہ رہا۔ جب موبائل عام نہیں تھے، تب بھی چھوٹی عمر کی بچیوں کے ٹوٹی پھوٹی لکھائی میں لڑکوں کے نام محبت نامے عام بات ہوا کرتے تھے۔ بعض اوقات لڑکے بھی پہل کیا کرتے تھے لیکن یہ اسی وقت ہوتا تھا جب بچیاں انہیں مسکرا کر

Read more

اللہ تو مجھے سب کچھ دے بیٹھا تھا

تقریباً چار سال ہوئے الیکشن مہم زوروں پر تھی۔ ہم خیر پور جا رہے تھے۔ صبح کا وقت تھا۔ ایک سرائے پر بس ڈرائیور نے سستانے کے لیے بس روکی۔ مسافر ناشتہ پانی کے لیے بسوں سے اترے۔ ایک چھوٹے سے ہوٹل کے سامنے کچھ لوگ چارپائی پر بیٹھے تھے، کئی چارپائیاں خالی پڑی تھیں۔ کچھ لوگ بیت الخلا کی طرف روانہ ہوئے۔ بچے بھی بیت الخلا کی طرف لپکے۔ ہم ایک خالی چار پائی پر بیٹھ گئے۔ ٹی وی

Read more

میں تو شادی کروں گا، ایک دو تین چار

بھائی جی کو کنوار پنے میں قبض ہوا، تب انہوں نے شوخ انداز میں بتیسی نکال کے ایک چنچل نغمہ گایا تھا۔ سوری میرا خیال ہے، شادی والے بابو کے ہاں نغمہ تو حرام شے میں شمار ہو گا۔ انہوں نے کلام پڑھا ہے۔ اس میں انہوں نے شادیٔ عمد کا عندیہ دیا۔ کچھ دن گزرے، اس کلام نے مقبولیت کے سارے ریکارڈ توڑے۔ ثواب دارین، پیسہ اور شہرت کی صورت میں بھائی جی تک پہنچا۔ اللہ کے کرم سے

Read more

کھیل کو جان بنائیں جان کو کھیل مت بنائیں

ہمارے ہاں دکان کھولنا مشکل، مدرسہ یا اسکول کھولنا نہایت آسان ہے۔ شاید آپ نے نہ دیکھے ہوں ہم نے ایسے اسکول اور مدارس بھی دیکھے جہاں عمارت تنگ ہونے کی بنا ء پر اسمبلی تک نہیں ہوتی۔ تنگ گھروں سے نکل کر بچے تنگ کمروں کے اسکولوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح پڑھتے ہیں۔ بریک میں بچے جماعت میں بیٹھ کر لنچ کرتے ہیں۔ ایسے اسکولوں میں بچے شوق سے اسکول نہیں جاتے۔ اکثر اسکول جانے کا بہانہ کر

Read more

حکومتی امداد

میرے جیسے بے نشاں، بے نام، بے پیسہ لوگ اول تو بیماری کی عیاشی کرتے نہیں، کر لیں تو پڑوسن سے مشورہ کر لیتے ہیں، چند ٹوٹکے بتانے کے ساتھ وہ ادرک لونگ اور لیمو بھی مفت دے دیتی ہے۔ دو دن افاقہ نہ ہوتو میڈیکل اسٹور والے کو حال بتا کے گولیاں اور سیرپ لے لیتے ہیں۔ آرام گھر پر تو جب ملے گا جب فرصت ملے گی، سو گھر میں کم ہی ملتی ہے۔ کام پر جا کر

Read more

سید زادی اور زنگ آلود تالے

ایک مجہول سا لڑکا، ہمارے گھر آیا کرتا تھا، اس کے ماں باپ مر چکے تھے۔ مجھے اکثر کسی نہ کسی لڑکی کا حوالہ دے کر کہتا کہ میں اس کے ہاں رشتہ  لے کر جاؤں۔ پتہ نہیں کیوں مجھے اس سے خاصی بیزاری سی ہوتی۔ اس کی امی اور میری ساس پڑوسن تھیں۔ احمد اس سے ہمدردی کا برتاؤ کرتے تھے، اس لیے وہ اکثر ہمارے گھر آ جایا کرتا۔ بیزاری کے باوجود میں اس سے کھانا چائے وغیرہ کا

Read more

مداحوں کی عقیدت کے وار

کہنے کو خاصا بے ضرر واقعہ ہے، بیان کیا جائے یا نہ کیا جائے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مداحوں کے وار سہتے آئے ہیں۔ لیکن ایک پوسٹ پر رد عمل دیکھ کر محسوس ہوا کہ مداح کی آسمان کو چھوتی عقیدت، کا پلڑا کتنا بھاری ہوتا ہے۔ جون ایلیا کی صاحب زادی نے اپنے والد کی برسی کے موقع پر برسوں سے دل میں پوشیدہ کچھ زخموں کو نمایاں کیا، تو جون ایلیا کی عقیدت میں گرفتار پس و پیش

Read more

شبنم گل اور خواب نگر (کتاب پر تبصرہ)۔

شبنم گل کا کردار، کام، تحریر، مزاج لب و لہجہ، شخصیت اور حتی کہ اس کا نام ایک دوسرے سے مربوط ہیں، شبنم کی تحریر کانوں کو دکھائی اور آنکھوں کو سنائی دیتی ہے۔ اس کی تحریر میں چوڑیوں کی جھنکار، پرندوں کی چہچہاہٹ، ہوا کا شور، پتوں کی سرسراہٹ، بارش کی چھم چھم بچوں کی ہنسی، لڑکیوں کی سرگوشیوں کی آوازیں مدھم موسیقی کی طرح کانوں میں رس گھولتی ہیں۔ شبنم کی تحریر ایک گداز احساس کا نام ہے۔

Read more

مردوں کو خود دعوت دیتی ہو، پھر چلاتی ہو

مشاہدہ، غور و فکر اور مطالعے سے آپ بھوک، افلاس، بے بسی اور بے اختیاری کے احساس کی اس شدت سے ہمکنار نہیں ہوتے جو آپ کو ذاتی تجربے سے حاصل ہوتا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ اس احساس کو رقم کرنے کے لیے ہمیں وجاہت مسعود نے "ہم سب” کی تختی دے رکھی ہے۔ ہم نے دس، بارہ سال کراچی کی بس میں سفر کیا ہے۔ بس میں ہر طبقے اور پیشے سے تعلق رکھنے والے سفر کرتے

Read more

نکلو بھیڑیے کی کھال سے، اوڑھو برقعہ

یہ جو عورت ہے نہ اپنے بھاگ کے بھوگ سہتی ہے۔ عورت کہیں بھی ہو، اس کا مصرف کائنات کی خوبصورتی اور مرد کی دل جوئی کے سوا کچھ نہیں سمجھا جاتا۔ دوسرے ممالک میں انصاف کا نظام پختہ ہونے کی وجہ سے مرد اپنے موڈ، شوق، مزاج اور غصے کو قابو میں رکھتا ہے۔ لیکن برصغیر میں روٹی دیر سے ملے تو جوتی، اپنی مرضی چلائے تو گھونسہ، انکار کیا تو قتل۔ سڑک پر چلتی تنہا عورت تو ہے ہی مفت کا مال۔

Read more

خیرپور میرس کے محرم

سندھ دھرتی ہمیشہ سے باہمی یگانگت کا بے مثال نمونہ رہی ہے۔ یہاں غیر مسلم، سنی، شیعہ آپس میں مل جل کر پیار محبت سے رہتے ہیں۔ یہاں دیو بندی، اہل حدیث اور دیگر فرقوں کو پنپنے کا موقع اس لیے بھی نہیں مل سکا کہ ان کے پاس مذہبی بنیادوں پر نفرتیں پالنے، تفتیش، تحقیق، کھوج اور کافر قرار دینے کے لیے دماغ اور معلومات نہیں۔ یہ اپنے دماغ کو اس حد تک وسیع کرنے اور اس قسم کی

Read more

کیا محلے کی کسی بد چلن عورت کے کردار کی تعمیر کے لیے کبھی چندہ اکٹھا کیا

بیٹے نے گاڑی سے سامان نکالتے ہوئے مجھے کہا کہ وہ سارا سامان لے آئے گا، میں تیز تیز قدموں اوپر چڑھ رہی تھی۔ سر پر ٹوپی رکھے، سفید کپڑوں میں ملبوس جوان آہستہ آہستہ چڑھ رہا تھا۔ میری آہٹ محسوس کر کے نظریں نیچی کیے دیوار سے لگ کر کھڑا ہو گیا تاکہ میں پہلے گزر جاؤں۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا، اور اپنی منزل کی سیڑھیاں طے کر کے اپنے فلیٹ کے دروازے پر جا پہنچی۔

Read more

ردی (افسانہ)۔

اس کا نام دانش تھا۔ کہنے کو وہ سب کچھ رد کرتا تھا مگر کچھ رد نہیں ہوتا تھا۔ اس لیے ایسی ردی ہو کر رہ گیا تھا جسے نہ تو ری سائکل کیا جا سکتا تھا، نہ ہی مکمل طور پر نیست و نابود کیا جا سکتا تھا۔ اس لیے آلودگی کے مسئلے کی طرح جوں کا توں زمانے کی ٹھوکروں میں پڑا تھا۔

زندگی کو تماشا سمجھنے والا، خود تماشا ہو کر رہ گیا تھا۔ ایسا تماشا جسے بغیر ڈگڈگی بجائے ہر وقت دیکھا جا سکتا ہے۔

Read more

دلہن بننے کا شوق

ستائیس سال قبل شبانہ اعظمی کا بیان سامنے آیا جس کے مطابق شادی کے سات سال بعد میاں بیوی کو ایک دوسرے کو چھوڑ دینا چا ہیے۔ اپنے اس بیان کے موقف میں انہوں نے کئی دلائل دیے۔ اسی دوران احمد نوید نے نے ہمیں پروپوز کر دیا۔ ہماری متلون مزاج کیفیت شبانہ اعظمی کے اس بیان سے کافی لگا کھاتی تھی۔ پھر شعراء کے بارے میں بھی سن رکھا تھا کہ عاشق مزاج ہو تے ہیں۔ اس زمانے میں

Read more

کمر بند، صرف بالغ پڑھیں

انگریزی فلموں کے لیے سینما گھروں میں جو انگریزی فلمیں لگا کرتی تھیں ان کے لیے اخبارات میں اشتہارات چھپا کرتے تھے۔ ہر اشتہار کے نیچے اردو میں لکھا ہوتا۔ ”صرف بالغان کے لیے“ تجسس کے مارے بچے بوڑھے جوان سبھی فلم دیکھنے جایا کرتے، اور وہ بات فلم کے اختتام تک نہ ہوتی جس کے لیے وہ پیسے خرچہ کرتے تھے۔ واپسی پر رستہ سنسر بورڈ کو گالیاں دیتے گزرتا۔

Read more

ڈئیر والدین! بیٹی کی بربادی مبارک ہو

بیٹی پیدا ہوتے ہی والدین، اسے دوسرے گھر میں آباد کرنے کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔ وہ اپنی بیٹی کو مشرقی تہذیب کی پروردہ شرم و حیا کا پیکر دیکھنا چاہتے ہیں لیکن جانے انجانے میں کچے ذہن کے لڑکی کے دماغ میں سیکس کا بھس بھرتے رہتے ہیں۔ بے شعور والدین اپنی بیٹیوں کے سامنے دن میں کئی بار دہراتے ہیں کہ جیسے ہی یہ بڑی ہوگی ہم تو اچھا رشتہ آتے ہی اس کی شادی کر دیں گے۔

آپ مجھے بتائیے شادی کا مطلب سوائے سیکس کے اور کیا ہے۔ 

Read more

جنسی مریضہ

عورت ہو یا مرد قدرت نے دونوں کے اندر جنسی لذت سے لطف اندوز ہونے کے جذبات رکھے ہیں۔ کچھ مردوں میں یہ جذبات کم اور کچھ میں زیادہ ہوتے ہیں۔ اگر انہیں چند ماہ بیوی سے الگ رہنا پڑے تو وہ اس کا متبادل تلاش کرتے ہیں۔ ان مردوں کے ہی مزاج کی طرح کچھ عورتیں بھی ہوتی ہیں جو چودہ، پندرہ برس کی عمر سے ہی مخالف جنس کی طرف شدید میلان رکھتی ہیں۔ اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے یہ کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔ لیکن نہیں جاتیں اپنے جذبات اور دوشیزگی اپنے ہونے والے شوہر کے لیے محفوظ رکھتی ہیں۔ شادی کے بعد وہ صرف اپنے شوہر کا قرب اور اسی کی ہو کر رہنا چاہتی ہیں۔

لیکن اگر ایسی عورتوں کے شوہر اس طرف یا اپنی بیوی کی طرف رغبت نہ رکھتے ہوں، مصروف رہتے ہوں یا روزگار کے سلسلے میں باہر رہتے ہوں، تو ارمانوں پر اوس پڑ جاتی ہے وہ اپنا دھیان بٹانے کے لیے خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کرتی ہیں خود پر جبر کرتی ہیں۔ اور جو کبھی حادثاتی طور پر کوئی بچھڑا دوست، دور پار کا رشتے دار میسر آ جائے تب یہ جو بیچ میں حجاب، شرم کا پردہ حائل ہے، یہ منہ زور بے لگام خواہشات کے آگے زیادہ دیر ٹکتا نہیں۔ کاغذی پیرہن میں کسی کے ساتھ کیے گئے ایجاب و قبول کے الفاظ، منہ زور بے لگام جذبات کے آگے چند گھڑیوں کے لیے دھندلے ہو جاتے ہیں، اور وہ اپنی اس فطری ضرورت کو حق سمجھ کر وصول لیتی ہیں۔

Read more

ملالہ کا مزار نہیں بن سکا

ملالہ کا مزار نہیں بن سکا، ملالہ بچ گئی، اس لیے وہ سب فراموش کر دیا جائے گا کہ جب وہ تعلیم کے لیے خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مسلسل جد و جہد کر رہی تھی، اس وقت جب کہ طالبان لڑکیوں کے اسکول پر بمباری کر رہے تھے۔ تب بھی وہ کتابیں ہاتھ میں لے کر اسکول جاتی رہی۔ اس سے کہا گیا کہ طالبان لڑکیوں کی تعلیم کے دشمن ہیں۔ اسے یونی فارم میں اسکول

Read more

کیا ہم سب حریم شاہ ہیں؟

نسیمہ میرے بچپن کی دوست ہے۔ اس کا گھرا نہ قدامت پسند تھا، وہ اکثر اپنی ماں سے اپنے نام دقیانوسی پر جھگڑا کرتی۔ وہ اپنی سہلیوں سے سیمی کہلوانا پسند کرتی تھی۔ مگر میرے منہ پر نسیمہ ہی چڑھا تھا، جس پر وہ اکثر مجھ سے ناراض ہو جاتی تھی۔ اسے ماڈرن کپڑے پہننے اور امیر لڑکیوں جیسے رہن سہن رکھنے کا شوق تھا۔ خود بھی وہ امیر گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ باپ اس کا درزی تھا۔ گو

Read more

جس محلے میں تھا ہمارا گھر

سجاد احمد صدیقی کی کتاب پر تبصرہ پڑھنے سے پہلے بس اتنا سمجھ لیجیے کہ ڈاکٹر شیر شاہ سید اور آصف فرخی کے دوست ہیں۔ پھر یہ ہی نہیں شیر شاہ ہمت بڑھائیں اور آصف فرخی پیدائشی مصنف قرار دے کر ان کا سب سے پہلا مضمون ’ ہم سب‘ میں شائع بھی کروا دیں۔ تب پھر سوچ کو پرواز اور اظہار کو روانی کیوں نہ ملے۔ سال بھر کے وقفے سے ان کے تین چار مضامین ’ہم سب‘ میں شائع

Read more

میرے پاپا

احمد کی جیسے جیسے عمر بڑھتی جا رہی ہے وہ مجھے اپنے پاپا جیسے دکھتے ہیں، کبھی کبھی میری بہنیں بھی کہتی ہیں، احمد بھائی پاپا کی طرح لگتے ہیں۔ اچھا لگنا اور ہونا الگ الگ بات ہو سکتی ہے، لیکن ان کی عادتیں تو شروع دن سے پاپا کی طرح ہیں۔ غیر مذہبی، انسان دوست، رکھاؤ، مروت، مہمان نوازی، پلمبر، مزدور، الیکٹریشن سب کے وقت کے حساب سے چائے، پانی اور کھانے کا خیال۔ ارے بھئی یہ مضمون پاپا

Read more

انتظار (افسانہ)

بچے کے رونے کی آواز سے اس کی آنکھ کھلی، اس نے دیوار پر لگی گھڑی کی جانب دیکھا گھڑی کے درمیانی حصے میں اس کا چہرہ ٹنگا تھا۔ اس نے خود دروازہ بند کر کے کنڈی لگائی تھی۔ لیکن ہمیشہ کی طرح وہ دروازے کی کسی جھری سے اندر آ گیا تھا۔ اس نے غور سے اس کی سوئیوں کو دیکھا، مگر وقت دیکھ کر بھی دھیان میں نہ رکھ سکی، کیوں کہ وہ مسلسل اسے تکے جا رہا

Read more

فش کے ساتھ اردو بھی فنش ۔ (ٹیچر کی ڈائری)

برگر فیملی کی اصطلاح ان گھرانوں کے لیے استعمال ہوتی ہے، جو شہر کے پوش ایریا کے بڑے بڑے گھروں میں رہتے ہیں۔ ایک دوسرے سے انگریزی میں بات کرتے ہیں۔ نوکروں سے بات کرنے کے لیے ایک الگ ملازم یا ملازمہ ہوتی ہے۔ جسے انگریزی اور اردو دونوں زبانوں پر عبور ہوتا ہے۔ یہ اپنے مخصوص لباس اور لہجے سے اپنے طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس طبقے کو اردو زبان کی علالت، بستر مرگ اور اور اس کی

Read more

ٹیچر کی ڈائری: اعلیٰ سکول میں غریب بچوں کے مسائل

جیب اور دماغ کشادہ نہیں تو بچے کو شہر کے بڑے اسکول میں مت پڑھائیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شہر کے بڑے اسکولوں میں طلبا کو بے مہار آزادی ہوتی ہے، جماعت میں ٹیچر حکمرانی کے بجائے رہنمائی کرتا ہے۔ طلبا کو فری زون میں سوال کرنے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے۔ ان اسکولوں میں سوچنے، سوال کرنے، بولنے اور جذبات کے اظہار کی مکمل آزادی دی جاتی ہے۔ بچہ کھل کے ہنستا، روتا اور شرارت کرتا ہے۔

Read more

ملالہ بیٹا! مشرقی روایات بھول گئیں

ہمارے ہاں قومی مزاج کو جاننے والے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ چینلز کے مشہور اینکرز اب اپنے یوٹیوب چینلز سے ہر وہ بات کرتے ہیں، جو بہت دور تک جائے اور دیر تک زباں پر رہے پچھلے دنوں ایک یوٹیوبر نے روس کا حوالہ دے کر اپنی آواز میں سنسنی پیدا کرتے ہوئے خبر دی کہ کرونا کا علاج تو ڈسپرین سے بھی کیا جا سکتا تھا۔ چند گھنٹوں میں یوٹیوبر کی مراد پوری ہو گئی اور اس ویڈیو کے

Read more

با حیا لاج ونتی، بہادر غنڈے

ہمارے میاں، میر احمد نوید کہتے ہیں کہ عورت کو بہادر اور مرد کو باحیا ہو نا چاہیے۔

ایک بہادر عورت ہی اپنی حیا کی حفاظت کر سکتی ہے اور باحیا مرد کبھی عورت کی تذلیل نہیں کر سکتا۔ حیا کے بغیر، بہادر مرد محض غنڈہ ہے، اور عورت بہادری کے بغیر محض لاج ونتی ہے۔

Read more

گستاخ اکبر، بے چاری ماں اور محب اللہ

محب اللہ: تم تو سب جانتی ہو ماں اکبر کیسا ہے، پھر بھی انجان بن رہی ہو۔ اس نے تمہارے بارے میں جو کہا میں دہرا نہیں سکتا۔ مگر تم تو جانتی ہو کہ وہ تمہارے بارے میں کیا کہتا ہے۔ ماں : مجھ سے تو وہ کبھی کچھ نہیں کہتا، کوئی فرمائش، کوئی شکوہ کوئی التجا نہیں کرتا۔ محب اللہ : یہ ہی تو کہہ رہا ہوں ماں وہ گستاخ ہے، تم سے مانگنا اسے پسند نہیں۔ ماں :

Read more

ڈاکٹر شیر شاہ سید کے جنم دن پر ’دل چارہ گر‘ کا تحفہ

26 مارچ، ڈاکٹر شیر شاہ کا جنم دن، کیا اس تاریخ کو پیدا ہونے والے ان ہی عادت و اطوار، خصوصیات کے حامل ہوتے ہوں گے جیسے ہمارے شاہ صاحب ہیں۔ کون سا وقت، کون سی دعا، کون سا برج، کون سا ستارہ کون سا سیارہ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سورج نہ ستارہ، برج نہ سیارہ، شبھ گھڑی نہ دعا۔ ڈاکٹر عطیہ ظفر سی ماں، اور سید ابو ظفر سے باپ جن بچوں کے حصے میں آئیں تب ایک

Read more

واویلا کرنے والی عورتیں

چند دن پہلے ایک تعلیمی ادارے میں سر عام محبت کے برملا اظہار کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی۔ سوشل میڈیا پر پڑھی لکھی خواتین کی جانب سے ان بچوں کی اس حرکت پر خوب لے دے ہوئی، ان کی جانب سے محبت کا اظہار کرنے والے بچوں پر تعلیمی ادارہ بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ ہم حیران ہیں کہ وہ یہ مطالبہ کیسے کر سکتی ہیں۔ عورتوں میں ممتا کا جذبہ بلا تفریق ہوا کرتا ہے۔ یہ تووہ

Read more

چھوٹا سا موبائل اور لمبی جدائی

پچھلے زمانے میں تیرہ، چودہ سال کی لڑکی گھریلو کاموں میں طاق کر دی جاتی تھی، رشتے آنے لگتے تھے۔ لڑکے کا لڑکی سے پندرہ بیس برس عمر میں بڑا ہونا عام بات تھی۔ اس زمانے میں عمر کا اتنا ہی فرق اس خیال سے مناسب خیال کیا جا تا تھا کہ ایک عمر میں آ کر اپنے شوہر سے بڑی نہ لگے۔ ماں باپ بہن بھائیوں کے ساتھ رہنے کا زیادہ موقع ہی نہ ملتا تھا۔ اور جتنا بھی

Read more

تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

اگر تم سمجھ سکو تو سمجھو کہ خواہش پالنا، اور پھر ان کے انڈے بچوں سے مستفید ہونا کتنی بڑی نعمت ہے۔ اور یہ ادراک کہ تمہیں کیا غم ہے، کیا تکلیف ہے، کون سا مرض ہے۔ اور کس مرض میں مرنے کا امکان ہے۔ کیسا با برکت ہے

کرونا کا ٹیسٹ پازیٹیو آنا اور پھر قرنطینہ ہو جانا بھی کتنی بڑی عیاشی ہے۔ شکر گزاری کے جذبات سے دل اور روح منور ہونا اپنے آپ میں روحانی بالیدگی، سپردگی اور سرشاری کا بے کراں احساس ہے۔

پھ

Read more

رواج ہے ہمارے میں

شدید گرمی اور حبس میں پسینے سے شرابور میں، بس میں بیٹھی تھی۔ بس ایک اسٹاپ پر رکی تو۔ پانچ چھ مختلف عمروں کی عورتیں سوار ہو گئیں۔ ان کے پسینے کی ناگوار بو ساری بس میں پھیل گئی۔ وہ ساری عورتیں اپنے مخصوص لباس کی وجہ سے تھر کے علاقے سے لگتی تھیں۔ ان سب کے ہاتھوں میں کہنیوں تک پلاسٹک کی چوڑیاں پڑی تھیں۔ لمبے لمبے ریشمیں گھاگرے پہنے ہوئے تھیں۔ ہر عورت، لڑکی اور بچی کی گود میں ہر عمر کا بچہ تھا۔ ایک لڑکی گود میں بچہ لیے میرے قریب بیٹھ گئی۔ پندرہ سولہ برس کا سن ہو گا اس کا۔ وہ سوکھا سا بچہ جس کی آنکھیں اور پیٹ ابلا پڑ رہا تھا۔ مسلسل رو رہا تھا۔ وہ اسے گود میں لٹائے اپنی ایک ٹانگ زور زور سے ہلانے لگی۔ مگر بچہ بکھرے جا رہا تھا۔

Read more

کیا ہم ایک دوسرے کی بد دعاؤں میں ہیں؟

الفاظ اہمیت رکھتے ہیں، ان کے ذریعے خواہشات کی ادائیگی، امید کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ آپ کی سچائی اورجھوٹ کا اظہار کرتے ہیں۔ غصہ، پیار، خلوص، دھمکی، دوستی دشمنی ظاہر کرتے ہیں۔ یہ شر اور خیر پھیلانے کی قوت رکھتے ہیں۔ انسان الفاظ کے ذریعے ہی اپنے عزائم کا اظہار کرتا ہے اور پھر انہیں پورا کرنے کے لیے کوشش کرتا ہے۔ الفاظ کہیں فضاؤں رہ جاتے ہیں اور پلٹ کر ہماری زندگیوں میں داخل ہو کر ہماری خواہش

Read more

جنسی زیادتی ہو تو زبان بند رکھو

غلطی آپ کی ہے آپ انسان تھیں، کیا انسانیت کے اصول سیکھنے کے لیے اپنی جنم بھومی پر قدم ٹکانے ضروری ہیں۔ یہ سب حیلے بہانے چھوڑیے سچی بات تو یہ ہے کہ آپ اپنے بچوں کو پاکستان دکھانا چاہتی تھیں۔ بچوں کو سنی سنائی باتوں کے بجائے خود ان کی آنکھوں سے انہیں یقین دلانا چاہتی تھیں کہ پاکستان کے خلاف جو کچھ کافروں اور غداروں کے منہ سے نکلتا ہے سب جھوٹ ہے۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بڑے کروفر

Read more

ڈاکٹر شیر شاہ سید کی کتاب: دل ریزہ ریزہ

ڈاکٹر شیر شاہ سید کا شمار ان نابغۂ روزگار دیدہ وروں میں ہوتا ہے، جنہیں ملیں تو لگتا ہے پڑھ رہے ہیں، پڑھیں تو لگتا ہے مل رہے ہیں۔

شاہ صاحب اس دور کے وہ انسان ہیں جو کسی بھی دور میں کہیں بھی پیدا ہو جاتے سب کو ایسا ہی گرویدہ کر لیتے۔ اچھا انہیں گرویدہ کرنے سے غرض بھی نہیں ہوتی، یہ تو خود گرویدہ رہتے ہیں سب کے، ہر ایک کے۔ بغیر کسی وجہ کے، چھوٹی چھوٹی باتیں اور درد، جن کے لوگ اپنے چہرے پر لگی آنکھوں کی طرح عادی ہوتے ہیں، یہ انہیں بھی پہاڑ ایسا محسوس کرتے ہیں۔

Read more

میر انیس کے گھرانے کی سنّی بہو

خاندانی لوگوں کی پہچان ان کے عمل سے ہوتی ہے۔ احمد نوید نے جب اپنے ابّا سے کہا کہ وہ جس لڑکی سے شادی کرنا چا ہتے ہیں وہ سنّی ہے، تب انہوں نے مسکرا کر کہا مجھے کوئی اعتراض نہیں، اپنی امی سے پوچھ لو۔ انہوں نے کہا امی سے پوچھ چکا ہوں، انہوں نے بھی یہی کہا ہے ۔ادھر مجاہد بریلوی کی بیگم نزہت شیریں جو ہماری کولیگ تھیں انہوں نے ہمیں بتایا کہ احمد نوید ہم سے شادی کرنا چا ہتے ہیں تو ہمارے دماغ میں بھی یہی آیا کہ رشتہ فوراً مسترد ہو جائے گا ۔خیر پہلے تو ہم موصوف سے ملے اور سمجھا دیا کہ کو ئی امید نہ رکھیں، رشتے میں بہت بڑا عیب ہے۔ یہ بھی بڑے سیانے تھے۔

مجاہد بریلوی اور شیریں کے ساتھ گھر پہنچ گئے۔ مجاہد بھائی کی سفا رش رنگ لائی۔ پاپا نے رشتہ قبول کر لیا۔ بڑی بہن نے کہا، لوگ کیا کہیں گے۔ بولے جب ایک باپ اپنی بیٹی کی شادی خود کر رہا ہو تو کسی کی ہمت نہیں ہو تی کہ کو ئی کچھ کہے۔ شاندار مہندی ،شاندار بری، مگر یہ سب امی ( ساس ) کے رکھ رکھاؤ اور سلیقہ مندی کا منہ بولتا ثبوت تھی ۔ ورنہ امی تو اپنی شاہی ذندگی کے ساری آسائشیں انڈیا میں چھوڑ آئی تھیں۔ اور وہاں سے شاہی وقار اور تمکنت کے ساتھ صبر و قناعت کی دولت سمیٹ لائی تھیں۔ پاپا کی منشاء کے مطابق سنّی طریقے سے نکاح ہوا ، سسرال میں ابّا ( سسر ) نے صیغے پڑھے اور یہ رشتہ مزید مضبوط ہو گیا۔ کچھ دن بعد محرّم آ گئے ۔

Read more

کربلا یوں بسائی جاتی ہے: یہ ہمارے ابا نے بتایا

گھڑی کی سوئیوں کی تیزی کے ساتھ، اس کے چمکتے شیشے میں اپنا عکس دیکھتی ہوں تو مجھے اپنی ماں نظر آتی ہے اور سر جھکائے غور و فکر میں غلطاں اپنے شوہر کو دیکھتی ہوں تو مجھے ان میں ان کے ابا کی شباہت نظر آتی ہے۔ اپنے ماں باپ سے لاکھ اختلاف کے باوجود گزرتا وقت ہمارے چہرے میں ان کی شباہت ہی نہیں لاتا، عادت و اطوار بھی ان سے لگا کھانے لگتے ہیں۔ ماں کی عظمت

Read more

اگر تمہارے ابا کا انتقال ہو جائے تو

اگر تمہارے ابا کا انتقال ہو جا ئے تو کیا تم لال کپڑے پہنو گی! اگر تمہارے ابا مر جائیں تو کیا تم گانے سنو گی! اگر تمہارے ابا مر جائیں تو کیا تم شادی میں جاؤ گی! اگر تمہارے ابا کا انتقال ہو جائے تو تم کیا مووی دیکھو گی! اگر تمہارے ابا مر جائیں تو کیا تم اپنے گھر میں دعوت کروگی! اگر تمہارے ابا کا انتقال ہو جائے تو کیا تم پکنک پر جاؤ گی! اگر تمہارے

Read more

سچا سعادت، جھوٹی طاہرہ

شادی کو تین سال ہی ہوئے تھے۔ ضرورت تو نہیں تھی لیکن ماں کے اصرار پر سعادت نے اپنا اور طاہرہ کا چیک اپ کروا لیا تھا۔ رپورٹ آنے کے بعد سعادت نے طاہرہ کو منع کر رکھا تھا، کسی کو نہ بتائے کہ بے اولادی کا سبب سعادت ہے۔ طاہرہ اس کی محبت میں ایک ہاتھ آگے بڑھ گئی۔ سعادت کی ماں نے جب رپورٹ کی بابت پوچھا تو طاہرہ نے بتایا کہ سعادت بالکل ٹھیک ہے جب کہ

Read more

میاں بیوی اور دوست ہونے میں کیا فرق ہے؟

موجودہ زمانے میں جہاں اب نکاح کے کانٹریکٹ پر جن دلہا، دلہن کے دستخط ہوتے ہیں وہ محض ایک دوسرے کے بستر کے ساتھی نہیں ہوتے، وہ ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں، پارٹنر ہوتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ عمر بھر دکھ سکھ نبھانے کا معاہدہ کرتے ہیں۔ اس معاہدے میں کہیں کسی ایک کی موجودگی میں کسی دوسرے کے ساتھ بستر شیئر کرنے کی شق نہیں ہوتی۔ روایتی میاں بیوی کے ہاں دوسری شادی کی ضرورت یا اجازت

Read more

ہمیں تصویروں کو نہیں پڑھانا

بچے کچھ دن کے لیے نانی کے ہاں چلے جائیں تو کیسا لگتا ہے۔ آپ بچوں کی تصویر سے باتیں کر کے جی بہلاتے ہیں۔ کیا کبھی کوئی تصور کر سکتا تھا کہ اساتذہ اسکول جائیں، مگر بچے اسکول میں نہ ہوں۔ بنا ٹیچرز کے اسکول ہو ایسا خواب تو بچے دیکھتے ہیں۔ لیکن اسکول میں بچے نہ ہوں، ٹیچرز خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے۔

وہ بچے جن کے شور سے اسکول کی عمارت سہمی رہتی تھی۔ جن کے بھاگتے دوڑتے قدم اسکول کی عمارت کو لرزائے رکھتے تھے۔ آج ساکت و جامد کھڑی ہے۔

Read more

حرمت کیا ہے

بے کار کا سوال کیا ہے تم نے یہ کس قسم کا سوال ہے بیٹا! بڑوں سے ایسے سوال نہیں کرتے۔ مذہب کے بارے میں سوال کرنا گناہ ہے۔ بس ہم نے کہہ دیا، اب کوئی سوال نہیں۔ اچھا تھوڑی دیر بعد پوچھنا۔ بزرگوں سے تمہیں بات کرنا کب آئے گی۔ بات کیوں کاٹی۔ آنکھیں نیچی۔ تمیز سیکھو پہلے۔ اتنی بڑی ہستیوں کا نام لینے کی تمیز ہے تمہیں۔ تم اس مسجد میں کیوں گئے۔ ارے وہ کافر ہیں۔ گفتگو

Read more

شاعر ایسا ہی ہوتا ہے بھائ اسے جوتے مت دیجیے

شاعر کئی قسم کے ہوتے ہیں، بیوروکریٹ شاعر، پی آر پسند شاعر، افسر شاعر، شوقین شاعر، شو باز شاعر، تاجر شاعر، بے روز گار شاعر، کل وقتی یا جز وقتی شاعر۔ اور ایک ہوتا ہے صرف شاعر۔ ایسا شاعر دنیا وی معاملات میں کرنا تو بہت کچھ چاہتا ہے، لیکن فطرتاً اس شعر کی عملی تفسیر ہوتا ہے۔ کیا کر رہا ہوں اور کیا کیا کروں گا میں کرنے کے کے باب میں یہی سوچا کروں گا میں تقریباً سارے

Read more

رزق کی ترسیل کس فرشتے کے ذمے ہے؟

ہمارے ہاں کسی غریب بستی کے سرکاری اسکول میں معائنے کے دوران صرف چند سوالات کے متوقع جواب نہ پا کر اساتذہ اور اسکول کو نا اہل اور بچے کو نکما ظاہر کرنے اور قوم کے منو رنجن کے لیے ایک ویڈیو لازمی بنائی جاتی ہے۔ تاکہ بیگار، فرض کی ادائیگی کی صورت میں محفوظ ہو جائے۔ پڑھنے لکھنے، اور سوال کرنے والے سے سوچنے سمجھنے اور غور و فکر کرنے اور سوال اٹھانے والا بہتر ہوتا ہے۔

اسکول اور اساتذہ کا مضحکہ اڑا کر محض اپنی نوکری جسٹیفائی کرنے اور جی حضوری کرنے والوں کے لیے ان بچوں کے آگے بڑھنے کے جذبے اور کچھ کر دکھانے کی صلاحیت سمجھنا ان کے بس کی بات ہوتی تو سوالات کی نوعیت یہ نہ ہوتی۔

Read more

صاحبِ منبر کو گارڈ تو رکھنے پڑیں گے

پاکستان میں کسی مبلغ یا عالم دین کی ریٹنگ، یا دوسرے معنوں میں مقبولیت کا پیمانہ کیا ہے؟ یہ کیسے حاصل کی جا سکتی ہے؟ اس کے لیے کن عوامل کا ہو نا ضروری ہے؟

تنازعات پر مبنی شہرت پر لگا کر اڑتی ہے۔ پاکستان کی تیس فی صد آبادی ڈگری کی حد تک پڑھی لکھی ہے۔ علمی و ادبی معیار پر آبادی کا تناسب شاید پانچ فی صد سے بھی کم ہو۔ آج کل جیسے جیسے فاصلے سمٹ رہے ہیں، ویسے ویسے شہرت کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔

ہر شخص اپنی مرضی کے الفاظ سننا اور اپنی مرضی کا منظر دیکھنا چاہتا ہے۔ غور و فکر سے بے بہرا، علمی و ادبی سوچ سے بے نیاز ہجوم کو اس کی مخالف سوچ اور نظریے کے حامل لوگوں سے سے متصادم کرنے اور خطیبانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے صاحب منبر کو ایسا مواد اکٹھا کرنا پڑتا ہے۔ جو مخصوص سوچ کے حامل لوگوں کو وقتی تسکین کے ساتھ دوسروں کے عقائد پر ٹھٹھا لگانے کا سامان بھی مہیا کرے۔ جب الفاظ کے تیر کم پڑ جائیں تو مخالف کی جان لینے سے ہی دل کی تسلی ہوتی ہے۔ منبر پر بیٹھے شخص کا حلیہ، زبان اور حرکات و سکنات مخصوص ہوتی ہیں۔ سامنے بیٹھا ہجوم اور اس کا رد عمل بھی مخصوص ہوتا ہے۔ دوسروں کے عقائد پر کڑی تنقید کرنے اور پھبتیاں کسنے سے ہی اس کی شہرت بڑھتی ہے۔

Read more

کورونا کا حکیمی اور عمرانی علاج

مجھے پورا یقین تھا کہ یہ لوگ جو گھروں پر تراویح نمازوں کی باجماعت ادائیگی کر کے اللہ کو اپنی پر خلوص عبادت کے ذریعے راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اللہ ان کی ضرور سنے گا۔

عشق میں ڈوب کر بے خطر یوم توبہ کو اللہ سے گڑگڑا کر اپنی خطاؤں کی معافی مانگنا آخر ایسی کون سے خطا ہے کہ جو رب ان کی اجتماعی توبہ اور عبادات قبول نہ کرے۔ نمرود کی آگ ٹھنڈی ہوئی تھی، کرونا بھی بھسم ہو گا۔

Read more

تمہارے سوا، تمہارا کوئی نہیں، کورونا نے سمجھا دیا

مجھے پورا یقین تھا کہ یہ لوگ جو گھروں پر تراویح نمازوں کی باجماعت ادائیگی کر کے اللہ کواپنی پر خلوص عبادت کے ذریعے راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اللہ ان کی ضرور سنے گا۔ عشق میں ڈوب کر بے خطر یوم توبہ کو اللہ سے گڑگڑا کر اپنی خطاؤں کی معافی مانگنا آخر ایسی کون سے خطا ہے کہ جو رب ان کی اجتماعی توبہ اور عبادات قبول نہ کرے۔ نمرود کی آگ ٹھنڈی ہوئی تھی، کرونا

Read more

یہ آصف فرخی کی علالت نہیں عدالت تھی

سب آصف فرخی پر لکھ رہے ہیں، ان کے ساتھ بیتی یادیں شیئر کر رہے ہیں ان کے آخری لمحات تفصیل سے بیان کیے جار ہے ہیں۔ کرونا کے دنوں میں سماجی رابطے ختم ہو گئے۔ کوئی کسی کے کاندھے پر سر رکھ کر رو سکتا ہے نہ ان کے پیاروں کو گلے لگا کر دلا سا دے سکتا ہے۔ ان کے پیارے کون؟ وہ سب جو ان کے ساتھ رہتے تھے، ان کے مزاج آشنا تھے۔ اور وہ خونی رشتے جو اپنے رشتے نبھاتے دور دیس جا بسے تھے۔ وہ جو ان کے ادبی حوالوں سے ساتھ تھے۔ لیکن ان سے کہیں بڑی تعداد ان کے گمنام چاہنے والوں کی تھی۔ اور ’ہم سب‘ پر ہم سب تھے جو ان کی تحریریں پڑھتے تھے، سنتے تھے۔

’ہم سب‘ کے پلیٹ فارم پر ہمیں آصف فرخی بڑی سہولت سے ہر وقت دستیاب تھے۔ ’ہم سب‘ کے ہمراہ ہم نے ان کے ساتھ بہت سے یادگار پل بتائے۔ گو کہ ان کی تحریریں مختلف عنوانات لیے ہوتی تھیں۔ لیکن اگر دیکھیں تو وہ اپنی خود نوشت لکھ کر جا چکے۔

Read more

سنو مسٹر! سندھ دھرتی نے ہماری تربیت کی ہے، سچل اور بھٹائی نے ہمیں ایجوکیٹ کیا ہے

میرے دیس کا ہر صوبہ، ہر شہر اپنی مثال آپ ہے۔ ان صوبوں اور شہروں میں بولی جانے والی میٹھی بولیاں جیسے ماں کی لوری، کوئل کی کوک، بہتے جھرنوں کی آواز، چوڑیوں کی کھنک، پائل کی چھن چھن، جیسے بانسری کا گیت۔ پاکستان کے چاروں صوبوں میں رہنے والوں کی جڑیں کہیں سے جا ملتی ہوں لیکن جس جگہ ہمارا بچپن بیتا ہو، جوانی کے سہانے دن بتا ئے ہوں، اس جگہ سے پیار ہو جانا فطری بات ہے۔ چھوٹے

Read more

عرفان خان! تم کردار سے جان نکالنا بھی جانتے ہو

اداکاروں کی چکا چوند زندگی کے ڈوبتے پل، کسی کی حقیقی زندگی پر بننے والی فلموں کو بڑے سے پردے پرروشن کرنے سے پہلے ہال میں گھپ اندھیرا۔ فلم شروع ہوئی، ہلکے پھلکے مناظر کے بعد ٹریجڈی سین۔ ملنا بچھڑنا، انتظار، موت، حاضرین کی خاموش سسکیاں دماغ میں اپنے کسی دکھ کا تصور۔ ہدایت کار فلم بینوں کی حساسیت سے واقف ہے۔ بہت دیر کرب میں رکھنا اچھا نہیں ہو تا۔ سو آئٹم سونگ آگیا، یا کسی مزاحیہ اداکار کی

Read more

خدا کا پردہ، سفید پوش طبقہ

مہینا تو شعبان کا ہے، لیکن نہ جانے کیوں فیلنگ رمضان والی ہے۔ ہر چینل پر غریبوں کی امداد کے لیے کسی نہ کسی حوالے سے لائحہ عمل طے کیا جا رہا ہے۔ ہمارے یہاں غریب طبقے کی مالی امداد کا درد ہر پیسے والے کے دل میں موج زن رہتا ہے۔ اور ان کی مالی اعانت کر کے ان کے ہاتھ پیر ہی نہیں توڑے گئے بلکہ ان کے اندر خود ترسی اور خود غرضی کی ایسی صفات پیدا

Read more

وبا کے موسم میں اورنج ڈبہ اور استعمال شدہ ٹشو پیپر

میری مرحومہ ساس کا لہجہ نہایت شستہ، فصیح و بلیغ زبان نشست و برخاست میں رکھ رکھاؤ تھا۔ انتہائی کسمپرسی کے دنوں میں بھی سلیقہ شعاری کے باعث خاندانی وقار اور شان و شوکت کا بھرم ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ غلط لب و لہجہ اور روایات کے برعکس زبان ان کے ہاں ممنوع تھی۔ ایک بار کیا کئی بار، عادتاً لفظ کچرا اپنی گفتگو میں استعمال کیا اور صرف دیکھ کر رہ جاتیں، مگر احمد لحاظ نہ کرتے۔ کچرا

Read more

ہرے لوٹے سے دین کو خطرہ نہیں

قدرتی آفات میں جب بھی زندگی کو خطرات لاحق ہوئے ہماری معصوم، ایماندار، با اخلاق اور انسانیت کا درد رکھنے والی عوام کی اکثریت نے اسے اللہ کے عذاب سے تعبیر کیا، اللہ کا عذاب ہمیشہ عورت کی بے حیائی کی وجہ سے آیا۔ پھر سینما کی فلمیں اور بے ہو دہ گانوں نے الگ، اللہ کے قہر کو دعوت دی، اور اب کرونا نے جس طرح غدر مچایا ہے اس کی وجہ سعودی عرب میں کھلنے والے سینما گھر،

Read more

اپنے غیر ضروری خرچے روکیں، بچوں کی فیس نہیں

اسکول کی لمبی تعطیلات، اور اس خود ساختہ قید میں میں بچوں کے مزاج میں چڑ چڑا پن، ہٹ دھرمی اور عجیب سا بدلاؤ آگیا ہے۔ ان کے باغیانے رویے سے بعض اوقات آپ بھی اپنے اعصاب کھونے لگتے ہیں۔ اور بے ساختہ آپ کی زبان سے نکلتا ہے۔ اسکول کھلیں تو جان چھوٹے۔ اسکول کھلیں گے، اور آپ کے جگر گوشے پوری آب و تاب سے اسکول بھی جا ئیں گے۔ لیکن آپ کچھ بھول رہے ہیں۔ آپ نے

Read more

وبا، تنہائی اور شاعرکی وحشت

ہماری بہت پیاری دوست، اور ہر دو اعتبار سے بہترین مسیحا، ثروت زہرا، کا فون آیا، احمد کے لیے متفکر تھی۔ وہ خود بھی ایک حساس شاعرہ ہے۔ شا عرانہ مزاج کی نزاکتوں اور حساساسیت سے واقف ہے۔ کہنے لگی مجھے معلوم ہے احمد بھا ئی کو گھر پر روکے رکھنا ایک مشکل کام ہے لیکن انہیں باہر نکلنے مت دیجیے گا۔ میں نے کہا انہیں گھر پر روکنا، کرونا کو روکنے سے زیادہ مشکل ہے۔ بات تو مذاق تھی۔

Read more

وبا نے دو نمبر، تین نمبر اور رانگ نمبر کی پہچان کرا دی

برصغیر میں حکمران ایک طرف مملکت کی حدود وسیع کرنے کے لیے قرب و جوار کے علاقے فتح کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو دوسری طرف وہ تبلیغِ دین کے ذریعے اقوام ِ عالم پر اپنی عددی برتری بھی ثابت کرنا چا ہتے تھے۔ مظلوم اور بے بس طبقے کی بڑی آبادی کو مذہب کی تبدیلی، اپنے حالات کی تبدیلی کا واحد حل نظر آئی۔ مسلمانوں کی بڑھتی تعداد کے پیشِ نظر دیگر مذاہب کے ماننے والے با اقتدار وبا

Read more

رکنِ اسمبلی مولانا معاویہ کی خدمت میں

معروف عالم دین، مولانا معاویہ نے فرمایا کہ جہانِ خالق نے اپنی مرضی سے انسانی جسم کو اعضا، رشتے، تقدیر، ماحول اور حالات عطا کیے ہیں۔ اگر مرضی چلانی ہے تو خود کو مرد بنا لیں۔ انہوں نے شفقت بھرے انداز میں فرمایا کہ ”میری بہن اپنے جسم اور کسی بیرونی ایجنڈے کی مرضی کو اپنے اوپر نافذ نہ کریں“ مولانا صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ اللہ کی مرضی سے عطا کیے گئے اعضا سے انسان نے اپنی

Read more

شوہر سے گھن آئے تو۔۔۔

میرا جسم میری مرضی میرا جسم، میرا اختیار، میرا حق، میری خوشی، میری خواہش، میری سہولت۔ میرا جسم میری مرضی کسی بھی انسان کی خواہش پر خواہ وہ میرا شوہر ہی کیوں نہ ہوں میں اپنے بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہو سکتی۔ عورت اور مرد کچھ نہیں دونوں کے بنیادی حقوق کا احترام ہونا چاہیے۔ میرا جسم میری مرضی میں اپنی سہولت اور ماحول کے مطابق اپنے جسم کو ڈھانپنے کے لیے لباس کے انتخاب کا فیصلہ خود کر

Read more

اسلامی درد ختم ہوا توپھر ہو گا کیا؟

یہ فطری بات ہے کہ انسان کو قریبی رشتوں، دوستوں رشتے داروں کی تکلیف کا زیادہ احساس ہو تا ہے۔ وطن اور مذہب سے تعلق رکھنے والے دنیا کے کسی بھی خطے میں ہوں ہم مذہب اور ہم وطن ان کی تکلیف پر تڑپ اٹھتے ہیں۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کے ساتھ جب بھی نا انصافی یا ظلم ہوا، پاکستانی قوم نے اس درد کو محسوس کیا، اور ان پر روا رکھے ظلم کے خلاف آواز بلند کی، چند حساس،

Read more