بالی: ایک حسین مگر غریب لڑکی شاملاتِ دیہہ کا جوہڑ کیسے بنی؟


بالی میرے علاقے کی حسین ترین عورت کا نام ہے۔ اس کے آباﺅ اجداد تقسیم کے وقت قاسم بیلا سے آئے اور ہمارے علاقے میں مزارعین بن کر مقیم ہوئے۔ یہ چند خاندان تھے جس میں رمضان ککرا اور امام دین ککرا دو چچیرے بھائی تھے۔ رمضان کو ڈیرہ داری کے کام میں لگا دیا گیا جبکہ امام دین کو امیر چمن نامی آموں کے باغات کے ذمہ داری سونپی گئی۔ تقسیم کے وقت یہ دونوں نوجوان تھے۔ جاتے جاتے ہندو انہیں صادق اور امیں بنا کر اپنا زیور تھما گئے کہ بھیا اگر ہم کبھی لوٹ آئے تو ہمارا مال ورنہ تمھارا۔ دس بر س تک اس مال کی حفاظت کی گئی پھر یہ سوچ کر کہ وہ بیلی تو لوٹ کر نہیں آئے تو علاقے کے وڈیرے اور وقت کے کوتوال بابا حاجی صاحب کو چھاج بھر کر سونے کا امانتاً سپرد کردیا کہ جب ضرورت ہو گی، لے لیں گے۔ بابا حاجی صاحب بھی کب تک چوکیداری کرتے، اُس مال کو بیچ کھایا۔ بابا حاجی صاحب اور دونوں چچیرے بھائیوں کا آپسی پیار بھی بہت تھا اور رمضان اور امام دین وفاداری کی مثال تھے۔ رمضان کو سرکاری بیلدار کا عہدہ بھی حکومت کی طرف سے دلوا دیا گیا تھا۔

اس کہانی میں ایک کردار حاجی صاحب کے منجھلے لڑکے کا بھی ہے۔ تقسیم کے وقت اس نوجوان جاگیردار کی عمر چار برس تھی۔ رمضان اور امام دین کی شادیاں ہوئیں۔ رمضان کے دو بچے ہوئے۔ 80 کی دہائی میں اور بیوی ﷲ کو پیاری ہوئی تو بچے جوان اور شادی شدہ تھے۔ ادھر امام دین کے ایک لڑکے منظور کی بھی شادی ہوچکی تھی۔ منظور کی پہلی اولاد ایک لڑکی تھی جس کا نام اقبال بی بی رکھا گیا۔ اقبال بی بی 5 سال کی عمر میں ہی چھوٹے جاگیردار کے گھر میں پہنچا دی گئی۔ گھریلو کام کاج کے بدلے داج (جہیز) کا رواج تھا۔ جب لڑکی کی بیاہ کی عمر ہوتی تو اسے جہیز اور ایک بیگھا زمین کا دے دیا جاتا تھا۔ یہ سودا مہنگا نہیں تھا لیکن۔۔۔۔ اقبال بی بی بہت حسین تھی۔ اقبال بی بی کا پیار کا نام بالی تھا اور وہ بالی پتے کے زیور جیسی حسین تھی۔ 13 برس کا سن ہو، اٹھتی جوانی اور بلا کا حسن ہو تو جاگیرداروں کا گھر اکثر عقوبت خانہ بن جاتا ہے۔ بالی کی مالکن اور اس کی سہیلی نے اُس بچی کو جنسی طور پر ہراساں کیا ہوا تھا۔ عورت کا عورت پر دل آ جانا کوئی نئی بات نہیں اور نہ ہی اس دور میں کوئی اچھنبے کی بات تھی۔ بس وہ بچی گھبرائی ہوئی تھی۔ جب وہ دونوں عورتوں کے ساتھ خلوت میں مبحوس ہوتی تو اچھے برتاﺅ پر اس کا حق ہوتا۔ اور اگر وہ مدارات میں کوتاہی کرتی تو گھریلو کام کاج کی شکایت کر کے اسے وڈے ملک صاحب سے پٹوایا جاتا۔ بالی پر ملک صاحب کی کوتوال جیسی مار نے دہشت بیٹھارکھی تھی۔ اس لئے ملک صاحب نے جب اُس کی معصومیت سے ناجائزفائدہ اٹھایا تو وہ چپ رہی۔ یہ چپ جاگیرداروں اور وڈیروں کے گھر وں میں کام کرنے والی بچیوں کو اُن سے بڑی عمر کی ملازمائوں سے تربیت میں ملتی ہے جو خود اس استحصال کا شکار رہ چکی ہوتی ہیں۔ ملک صاحب یا ملکانی کے مظالم کا بیان کبھی حویلیوں کی اونچی دیواروں سے باہر نہیں نکلتا۔ جس نے بھی آواز اٹھائی، وہ جان سے گئی اور اُس کے ساتھ غیرت کے نام پر کوئی چھوکرا ملازم بھی بے موت مار دیا جاتا۔ کہانی ختم۔ اب وہ ملکانی 70 کے پیٹے میں ہے اور کہتی ہے کہ یہ بستی قتل گاہ ہے۔ میں خود عینی شاہد ہوں کہ یہاں باپ بیٹوں کو، بھانجے ماموں کو اور بھائی بھائی کو مار ڈالتے ہیں۔ سزا کا کوئی تصور نہیں۔ خاندان سوچتا ہے کہ ایک تو گیا، اب دوسرے کو پھانسی لگوا کر کیا نام مٹا دیں۔

بات بالی کی ہو رہی تھی۔ سنہ 83 میں رمضان نے دوسری شادی کرنا چاہی۔ کسی گرہستن بیوہ کی تلاش شروع ہوئی۔ ادھر منظور نے بھی اپنی بیٹی بالی بیاہنا تھی۔ یہ تمام فیصلے ملکوں نے کرنا ہوتے تھے۔ بالی کا مائی باپ بابا جی صاب کا منجھلا بیٹا تھا جس کی گھریلوملازمہ بالی تھی۔  چھوٹے ملک نے منظور کو حکم دیا کہ بالی کا رشتہ 50 سالہ رمضان سے طے کیا جائے۔ بالی کو مایوں بٹھا دیا گیا۔ بالی خاموش رہی۔ اتنے طاقتور لوگوں کے سامنے 13 سالہ بچی کی بات ویسے بھی کیا معنی رکھتی؟ بالی بتاتی ہے کہ جب رمضان نے مجھے چھوا تو میں جانتی تھی کہ یہ ملک صاحب والا کام ہی کرے گا تو میں نے شرما کر کہا، بابا نہ کر۔۔۔ اور رات گزر گئی۔ پر شاید اصل رات اب شروع ہو رہی تھی۔ رمضان کے ڈیرے پر جاتے ہی ملک صاحب آن وارد ہوئے کہ دیکھ بالی تیرا بیا ہ قاسم بیلے والے تیرے ماموں کے بیٹے سے ہو جانا تھا پر تو مجھے اتنی بھائی کہ میں نے رمضان سے بیاہ کر تجھے اپنے لئے یہیں رکھ لیا ہے۔

بالی کو ماں بننے کے بعد مردوں کی بہت زیادہ ہی سمجھ آ گئی تھی۔ اُس نے اب اپنی قیمت وصول کرنا شروع کر دی۔ ایک ہاتھ لو، ایک ہاتھ دو۔ اور ملتا بھی کیا تھا 2 کلو آٹا یا پاﺅ بھر گھی۔ سوکھی لکڑیاں چننے کی اجازت یا دو کدو۔ رمضان کو تو ہر ماہ پنشن کے 500 اور ڈیرہ داری کے 1000 روپے ملتے تھے تا دمِ مرگ اس میں کوئی اضافہ نہ ہوا۔ پر ہر سال ایک بچے کا اضافہ ہوجاتا تھا۔ چونکہ ماں کے نام سے جانے جائیں گے بروزِ قیامت تو میں انہیں صرف بالی کی اولاد ہی کہوں گی۔ طرح طرح کی باتیں بچوں کو لے کر بالی پر کی گئیں۔ ملک صاحب نے بھی کہاں اسے محض اپنے لئے مخصوص کر رکھا تھا۔ اور بھی تو ملک تھے بستی میں باری باری بالی پر سب نے ہاتھ صاف کیا۔ بالی رسوائے زمانہ فاحشہ بنا دی گئی تھی۔ 18 سال کی عمر میں ہر چھوٹے بڑے ملک کے بستر سے ہو آئی تھی۔ اور 30 سال یہ سلسلہ چلا پر بالی کا دل اِن میں سے کسی ملک پر نا آیا۔ کیونکہ بستر چھوڑتے ہی بالی سب کے لئے چچوڑی ہوئی ہڈی رہ جاتی تھی۔ اس بات کا علم بالی کو تھا۔ بالی کے اندر احساس زیاں تھا۔ رمضان اُس سے ملکوں کے بارے میں کوئی بات نہیں سنتا تھا۔ رمضان جانتا تھا کہ ڈیرے پر جو ملک اُ س کو چارپا ئی پر اور باقیوں کو نیچے بٹھاتے ہیں تو وہ سب اس بالی کی کرامت ہے۔

بالی کادل آیا بھی کس پر ایک موچی پر۔ حسین موچی بھی اُسے بے طرح چاہنے لگا۔ میں بیاہ کر اِسی بستی میں آچکی تھی۔ میں چونکہ میاں کی پسند سے آئی تھی اِس لئے مجھے کوئی ملازمہ فراہم نہیں کی گئی۔ نئی دلہن پر ہونے والے مظالم کا سُن کر بالی نے میرے شوہر سے کہا، باجی کے کام میں کردیا کروں گی یوں میری بالی سے دوستی ہوگئی۔ میں نے بالی سے کہا کہ میاں کو چھوڑ کر حسین سے نکاح کر لو یا حسین کو چھوڑ دو۔ وہ بولی باجی اگر میاں چھوڑ سکتی تو شادی ہی نہ کرتی۔ اور حسین کو کیسے چھوڑ دوں۔ میں بھی تو انسان ہوں۔ میرے ساتھ مجھے میری عمر کا ساتھی چاہئے جو میرے ساتھ ہنسے بولے۔ رمضان کی عمر نہیں کہ وہ میرے ساتھ لاڈ دلار کرے۔ مہینے میں ایک دو بار اپنی ضرورت پوری کر لیتا ہے۔ تو پھر میں ملکوں کے ساتھ سوﺅں کہ عاشق کے ساتھ، کیا فرق پڑتا ہے؟ حسین کے ساتھ دل مِلا ہوا ہے۔ ملکوں کو تو صرف بھگتاتی ہوں۔ پر باجی طعنہ مجھے صرف حسین سے ملنے پر سننا پڑتا ہے بستی والوں سے۔ (ہائے بالی تو ہی بری ہے۔ ملک تو سب اعلٰی حضرت ہیں پگلی) پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور بس یہی کہے جا رہی تھی شوکدا ناگ لڑے ملک کوں (پھنکارتا ناگ کاٹے ملک کو)۔

میں اسی ادھیڑ بن میں رہی کہ کسی طرح بالی کی رمضان سے جان چھوٹے اور ملکوں سے بھی مگر میں کسی کے لئے کیا کرتی جو اپنے لئے کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ ایک دن بالی میرے پاس آئی اور رونے لگی۔ مجھ سے معافی بھی مانگے جارہی تھی اور رو بھی رہی تھی۔ اپنے میاں کو بھی میں جانتی تھی۔ رسم ورواج اور بالی کو بھی۔ لوگ بالی کے ہاتھ کی پکی روٹی نہیں کھاتے تھے حتیٰ کہ ملک حضرات بھی کہ ایک فاحشہ ہمارے باورچی خانے کو ناپاک کر دے گی۔ میں نے اسے چپ کروتے ہوئے کہا، یہ نہ تو تمھارے لئے کوئی نئی بات ہے، نہ میرے لئے۔ اُٹھ چائے بنا۔ دونوں پیتے ہیں۔ اس نے چائے بنائی اور ہم دونوں نے مل کر اپنی بربادیوں کو چائے کی چسکیوں میں اڑا دیا۔ ہم ملک صاحبان کے لئے اشیائے صرف ہوں گی پر اپنے لئے ہم زندہ عورتیں تھیں۔

اس کہانی میں میں اپنا اور ملک منظور کا رشتہ بتانا بھول گئی۔ ملک صاحب میرے سسر تھے۔ جب میری اور میرے شوہر کی زندگی میں swap wife والا بھونچال آیا تو میرے سسر نے سب سے پہلے اپنے بیٹے کے بے غیرت ہونے کو مانا اور  کہا ”میں جانتا ہوں وہ بڑا بے غیرت ہے۔ اُسے معلوم تھا کہ بالی میرے استعمال میں رہی ہے۔ پھر بھی اس سے ہمبستری کرلی تھی۔ اس سے کچھ بعید نہیں “۔ یعنی میرے سچ کا ثبوت باپ بیٹے کے ہاتھوں بالی کا استحصال تھا۔ میں اپنے محسن سسر کو کیا نام دوں۔۔۔۔ نام دوں یا الزام دوں۔ بالی کی وجہ سے میں نے سسر کا اعتماد جیت لیا۔ اس بالی کو کیا انعام دوں؟ رمضان اور میرا سسر دونوں مر چکے ہیں۔ بالی کے باپ منظور کی بیوی بھی مر گئی ہے۔ منظور کی عمر قریب 70 برس ہو گی۔ آج کل اسے بیوی کی تلاش ہے۔

Facebook Comments HS