عمران خان…. پاکستان کی سیاسی تاریخ کا انوکھا لاڈلا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان لوگوں کو بیوقوف بنانے میں اگر پی ایچ ڈی کر چکے ہیں تو ان کے آس پاس موجود کم از کم اس معاملے میں ایم فل تو ضرور ہوں گے۔ ان کے یوٹرن اتنے مشہور ہو چکے ہیں اب کوئی یہ لفظ بولتا ہے تو سامنے عمران خان کی شکل آ جاتی ہے۔ ان کے ماضی کے قصے کہانیوں کو چھوڑیں جب یہ کہا کرتے تھے کہ میں کسی مشرقی لڑکی سے بیاہ رچاﺅں گا۔ سب نے دیکھا کہ موصوف مغربی کلچر کی دلدادہ اور اس رئیس خاندان کی جمائما گولڈ سمتھ کو بیاہ لائے، جس کے باپ کو سونے کی آنکھ والا، کہا جاتا تھا۔ یہ شادی نہیں چلی تو موصوف نے پھر مغربی کلچر ہی سے ایک خاتون ریحام خان کا انتخاب کیا اور بد قسمتی ملاحظہ کیجیے کہ یہ شادی بھی فلاپ ہوئی اور اب انہوں نے ایک پیرنی صاحبہ کو جیون ساتھی بنایا ہے۔ خبریں گرم ہیں کہ پنکی صاحبہ کو آنحضورﷺ نے خواب میں آکر عمران خان سے شادی کے لیے کہا ہے۔ یاد رہے کہ اس خاتون نے اپنے شوہر سے طلاق لے کر اس لیے شادی کی، کیونکہ ان کے خیال میں اس شادی کے بعد پاکستان جیسے بدقسمت ملک کا سنہرا دور شروع ہو جائے گا۔ اب یہ اور بات ہے کہ اس شادی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کو چکوال، لودھراں اور سرگودھا میں  مثالی شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور حالیہ سینیٹ الیکشن میں سب سے زیادہ لوگ “صاف چلی، شفاف چلی” ہی کے بکے ہیں اور اس کا اعتراف میڈیا کے سامنے آکر خود تبدیلی کے رجسٹرڈ دعوے دار، عمران خان کر چکے ہیں۔ اور ان کی معصومیت کی انتہا دیکھیں کہ بجائے خود ان بکاﺅ لوگوں کے خلاف ایکشن لینے کے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کر رہے ہیں کہ ان کے خلاف کارروائی کریں۔ منافقت کی کوئی حد ہوتی ہے کہ نہیں؟

چلیں کے پی کے میں موصوف کو نہیں پتہ چلا ہو گا لیکن یہ پنجاب سے چودھری سرور کیسے جیت گئے؟ پنجاب میں پی ٹی آئی کے 30 ووٹ تھے۔ چودھری سرور کو 44 کیسے مل گئے؟ 14 ووٹ زیادہ۔۔۔ ؟ اور کمال دیکھیں کہ عمران خان اس کو ہارس ٹریڈنگ نہیں گردان رہے۔۔۔ الٹا چودھری سرور کو فون کر کے مبارک بادیں دے رہے ہیں۔ یہ عجیب آدمی ہے۔ موروثی سیاست کے خلاف کنٹینر پر چڑھ چڑھ کر کزن کے ساتھ بولا کرتا تھا اور آج بھی بولتا ہے۔ لیکن لودھراں میں عدالت سے نااہل ہونے والے جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین کو ٹکٹ دے دیتا ہے۔ اسی طرح موصوف کے کینٹینر کزن طاہر القادری پہلے جھنگ سے خود الیکشن لڑتے ہیں اور پھر اپنے بیٹے کو کھڑا کر دیتے ہیں۔ اور دونوں ہی ذرا بھی شرماتے نظر نہیں آتے ہاں مریم نواز، بلاول بھٹو، حمزہ شہباز وغیرہ میں انہیں موروثیت منوں اور ٹنوں کے حساب سے نظر آتی ہے۔

ان کی فلاسفی دیکھیں کہ عدالت سے نا ہل میاں نواز شریف برا ہے۔ اس کو کہیں دیکھنا پسند نہیں کرتے ہیں لیکن اسی کورٹ سے نا اہل جہانگیر ترین کو ساتھ ساتھ لیے پھرتے ہیں۔ ان کی اپنی پارٹی کے جسٹس وجیہہ نے فیکٹ اینڈ فائندنگ مشن کی ذمے داری دیانت داری سے نبھاتے ہوئے پارٹی الیکشن میں بے ضابطگیوں اور بد عنوانیوں کی رپورٹ مرتب کر کے کچھ رہنماﺅں کے خلاف کارروائی کی تجویز دی۔ لیکن آج وہی جسٹس وجیہہ پارٹی سے باہر ہیں اور جن لوگو ں نے بے ضابطگیاں اور بدعنوانیاں کیں۔ وہ پارٹی میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ انہی کی پارٹی کا ایک سابق رہنما اور بانی رکن اکبر ایس بابر کئی سال سے پارٹی سے غیر ملکی فنڈنگ کا حساب مانگنے الیکشن کمیشن گیا ہو ا ہے اور آج تک اسے یہ حساب نہیں دیا گیا۔ کے پی کے کا احتساب کمشنرانہوں نے کیوں ہٹایا؟ اس کی ہو شربا داستانیں بھی میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں۔

ابھی ارشد عزیز ملک نامی ایک نیک نام صحافی پوری جزیات کے ساتھ ان کے صوبے کے پی کے میں بلین ٹری سونامی منصوبہ میں غیر شفافیت، بدعنوانی، من پسند لوگوں کو ٹھیکے دینا، پیپرا رولز کی خلاف ورزی سمیت بہت سے دیگر معاملات سامنے لا چکے ہیں اور سنگین قسم کے سوالات بھی اٹھا رہے ہیں۔ جن میں ایک بڑا بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ، بلین ٹری سونامی منصوبے، میں لوگوں کو اربوں روپوں کی ادائیگی مختلف مدات میں کیش کی صورت میں کی گئی۔ یہ تشویش ناک بات ہے کہ سرکاری محکموں میں چند ہزاریا چند لاکھ کی رقم کے لیے ٹھیکیدار لوگ کئی کئی مہینے چیک حاصل کرنے کے لیے دفاتر میں ذلیل وخوار ہوتے نظر آتے ہیں تو اتنی بڑی رقم کی ادائیگی ہزاروں لوگوں کو کیش ادا کرنے کا کیا جواز تھا؟ اور پھر جن لوگوں کو ٹھیکے دئیے گئے ان کے بارے بھی سوال کیے جا رہے ہیں کہ یہ کون لوگ ہیں۔ ان کی سیاسی وابستگیاں کن سے ہیں؟ ایک دلچسپ سوال یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ گیارہ افراد کے سٹاف نے ایک ارب اٹھارہ کروڑ پودے کیسے گن لیے؟ ان کی پارٹی کے اپنے لوگ کے پی کے میں پرویز خٹک پر اس کے وزراء پر کرپشن کے الزامات لگاتے ہیں۔ خود عمران خان صاحب شیر پاﺅ کی پارٹی کے لوگوں کو کرپشن کے الزامات پر وزارتوں سے ہٹاتے ہیں اور پھر چپکے سے انہیں واپس اقتدار کی کرسی پر لا کر بٹھا دیتے ہیں۔ اگر انہوں نے کرپشن کی تھی تو پھر انہیں واپس کیوں لیا گیا؟ ان سے ریکوری کروائی گئی؟ کیا شیر پاﺅ کے لوگ یہ حلف دے کر آئے کہ آئندہ کرپشن نہیں کریں گے؟ اگر کرپشن نہیں کی تھی اور خودعمران خان نے جھوٹ بولا تھا تو کیا شیر پاﺅ گروپ سے معافی مانگی گئی؟ اور سب سے بڑا سوال کہ کیا اس جھوٹ کے بعد عمران خان صاد ق و امین رہ جاتے ہیں؟

سلیم صافی بتاتے ہیں کہ ٹاک شوز میں قرآنی آیات پڑھ کر عمران خان سے بندے کا دن رات دفاع کرنے والے علی محمد خان ایک تھانے پر ساتھیوں سمیت حملہ آور ہوئے اور انہیں آج تک کسی نے کچھ نہیں کہا۔ ان کے تیز طرار اور لائیو ٹاک شوز میں افتخار چودھری کے بیٹے پر ہاتھ اٹھانے والے ایم این اے مراد سعید کے لیے پشاور یونیورسٹی نے میک اپ ایگزامز کا  خصوصی اہتمام کیا اور عمران خان آج تک نہیں بولے۔

ان کی قانونی ٹیم میں بابر اعوان کو دیکھ لیں، اس کی پی ایچ ڈی کی جعلی ڈگری کی کہانیاں انصار عباسی کوہ قاف کی پریوں اور جنوں بھوتوں تک کے علم میں لا چکے ہیں لیکن مجال ہے کہ عمران خان اس بارے کچھ بولیں۔ اس بابر اعوان کا نام نندی پور پاور پروجیکٹ کو اربوں کا نقصان پہنچانے میں بھی لیا جاتا ہے۔ لیکن عمران خان کو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ جعلی ڈگریوں سے یاد آیا کہ  دنیا بھر میں جعلی ڈگریاں بیچنے کا مکروہ بزنس کرنے والی کمپنی ایگزیکٹ کے مالک شعیب شیخ کے ٹی وی چینل بول اور پاک نیوز ان دنوں دن رات عمران خان کے لیے Campaignچلاتے نظر آرہے ہیں۔ ان دونوں چینلز نے میاں نواز شریف اور اس کی پارٹی کو خاص ٹارگٹ پر رکھا ہوا ہے۔ ایف آئی اے کے ڈی جی کہہ چکے ہیں کہ AXACT  کی 75% کمائی جعلی ڈگریوں کے بزنس سے ہوتی ہے۔ شعیب شیخ جیل میں ہے اور عمران خان اس شعیب شیخ اور اس کے ٹی وی چینلز کے حق میں سب سے توانا آواز بن کر ے ہیں۔ ایسے میں عمران خان کی قانونی ٹیم میں اگر بابر اعوان موجود ہے تو حیران ہونے کی ضرورت نہیں۔ کل تک یہ بابر اعوان اس آصف زرداری کا، نفسِ ناطقہ، تھا، جس کے بارے عمران خان حامد میر کے شو میں کہہ چکے کہ زرداری سب سے بڑا ڈاکو ہے۔ اور اس بابر اعوان کے عمران خان  کے بارے میں شاندار خیالات، یو ٹیوب پر پوری قوم سن سکتی ہے۔ دوسرا آدمی جو سب کو پھلانگ کر اس میرٹ والی پارٹی کا مرکزی سیکرٹری اطلاعات بن چکا ہے وہ جہلم کا  فواد چودھری ہے۔ پہلے مشرف اور پھر زرداری اور اب عمران کے ساتھ۔ اس فواد چودھری نے ایک چینل پر بیٹھ کر دھرنے کے دنوں میں کئی لوگوں کے مرنے کی جھوٹی خبر دی۔ یہ ملک میں ہنگامے، فساد اور بلوے کرانے کی ایک ناپاک سازش تھی۔ اس پر چینل انتظامیہ نے اخبارات میں باقاعدہ اشتہار دے کر حکومت اور قوم سے معافی ہی نہیں مانگی بلکہ فواد چودھری کو چینل سے فی الفور فارغ بھی کیا۔ اب ایسے لوگ عمران خان کے آس پاس ہیں۔ ان لوگوں کو کس میرٹ پر پارٹی میں اہم اور بڑے عہدے دئیے گئے؟ اس کا جواب جاننا ہو تو فوزیہ قصوری، عمر سرفراز چیمہ، ولید اقبال اورحامد خان سے پوچھ لے کوئی۔ برسوں کی محنت کا صلہ یہ ملا ان لوگوں کو کہ پی ایم ایل این چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہونے والا اربوں پتی چودھری سرور سینیٹ کا ٹکٹ حاصل کر لیتا ہے۔ موٹی اسامی اعظم سواتی، جہانگیر ترین، علیم خان، فیصل واڈا کا جو مقام ہے وہ بھلا جسٹس وجیہہ ٹائپ لوگوں کا کیسے ہو سکتا ہے؟ نہ وہ جہاز دے سکتے ہیں اور نہ ہی پراڈواور نہ ہی جلسوں اور کچن کے خرچے اٹھا سکتے ہیں۔

عمران خان کے نزدیک عدلیہ بارے بھی مختلف سوچ ہے، خود اس کے فیصلوں کو شرمناک کہہ دیں تو کوئی توہین نہیں۔ عدالت کا اپنا نااہل ترین، قبول نہیں ہاں دوسرا کوئی نااہل ہے تو وہ تین بار قبول ہے کہتے نظر آئیں گے۔ یہ جس منطق کو لے کر ماڈل ٹاﺅن سانحے کی ذمے داری شریفوں پر ڈالتے ہیں اسی منطق کو اسلام آباد دھرنے کے دوران ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو پر بہیمانہ تشدد کے بعد خود پر اور اپنے کزن قادری پر لاگو نہیں کرتے ہیں، اگر شریف ماڈل ٹاﺅن واقعے کے ماسٹر مائنڈز ہیں تو ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو پر تشدد کے ماسٹر مائنڈز، وہ اور قادری کیوں نہیں ہو سکتے؟ ان کی طرف سے پارلیمنٹ پر حملہ ہو تو جائز، پی ٹی وی کی عمارت پر ان کے ٹائیگرز اور قادری کے فدائین مسلح ہو کر قبضہ کر لیں تو کوئی بات نہیں۔ اس کو وہ بعد میں صرف اور صرف قادری گینگ کی کارستانی گردانتے ہیں۔ چلے اکٹھے، رہے اکٹھے، گالیاں اکٹھے دیں، تبرے کیے اکٹھے، لعنتیں بھیجیں اکٹھے، دعوے کریں اکٹھے، الزام تراشیاں کریں اکٹھے، اور جب بات ہاتھ سے نکل جائے تو پھر وہ تو قادری کے لوگ تھے ہمارے نہیں، کیا بات ہے خان صاحب کی قسم سے۔

ان کے جھوٹ منافقت اور دوغلی پالیسی دیکھیں کہ پارلیمنٹ پر لعنت بھجتے ہیں اسے چوروں ڈاکوﺅں اور ٹھگوں کی آماجگاہ بتاتے ہیں اور پھر استعفےٰ دے دیتے ہیں اور پوری کائنات کے سامنے اسی لعنتی اور چوروں اور ٹھگوں کی پارلیمنٹ میں ڈھیٹ ہو کر بیٹھ جاتے ہیں اور خواجہ آصف کے طعنے اور مہنے، کوئی شرم ہوتی ہے۔ کوئی حیا ہوتی ہے، بھی انہیں باہر جانے پر مجبور نہیں کرتے، اور آج اسی پارلیمنٹ کو پھر اپنے شیخ رشید کی تان میں تان ملا کر لعنتی، کہتے ہیں اور تنخواہیں بھی وصول کیے جا رہے ہیں۔ فرشتے کہاں سے لاﺅں؟ کی بات پرانی ہو چکی۔ اب اس پارٹی میں سب سے بڑے ڈاکو زرداری کی پارٹی سے آنے والے تھوک کے حساب سے نظر آ رہے ہیں۔ اکیلا وہ شاہ محمود قریشی نہیں ہے جس کی کمائی کا ایک بڑا ذریعہ اس کی سجادہ نشینی ہے۔ پڑھی لکھی پارٹی کا سینئر وائس چئیرمین غریب مریدوں سے نذرانے، چندے، چڑھاوے کے ضمن میں لاکھوں لیتا ہے اور پارٹی کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ خیر اب اس جماعت میں نذر گوندل ہے، فردوس عاشق اعوان ہے، راجہ ریاض ہے، اور پی ایم ایل این سے ابھی جانے والا ان کا سابق گورنر چودھری سرور ہے، گوجرانوالا سے ابھی اسی پارٹی کے لوگ پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ہیں۔ جہاں تک ڈکٹیٹر بشرف کے ساتھیوں کی بات ہے تو اول تو فواد چودھری ہی کافی تھا لیکن خورشید قصوری، علیم خان، جہانگیر ترین، شیریں مزاری اور اس طرح کے لوگوں کی ایک لمبی قطار ہے۔ اس کے باوجود یہ پارٹی تبدیلی کی علمبردار ہے۔ جمہوریت کی داستانیں سناتی ہے اور بھول جاتی ہے کہ خود پارٹی کے عظیم چئیرمین عمران خان اس بدترین ڈکٹیٹر کے ریفرنڈم کے سب سے بڑے سپورٹر بن کر ٹی وی چینلز پر بیٹھے ہوتے تھے اور آج اس پر ہاتھ جوڑ جوڑ کر قوم سے معافی مانگنے کے ڈرامے کرتے ہیں اور دوسروں کو آمریت کی پیداوار قرار دیتے ان کی زبان مبارک نہیں تھکتی۔ پھر ساتھ ہی عرصہ سے ان کو کسی امپائر کا بھی انتظار ہے۔ اور بقول جاوید ہاشمی، موصوف اپنے ججز کے آنے کی بھی پیش گوئیاں کیا کرتے تھے۔

میاں نواز شریف سے انڈیا کا وزیر اعظم مودی آکر مل لے تو میاں نواز شریف کو انڈین نواز قرار دینے میں ایک منٹ نہیں لگاتے۔ لیکن اگر خود برطانیہ جا کر اپنے یہودی دوست کی الیکشن کمپین چلائیں اور اس کے لیے ووٹ مانگیں تو کوئی بات نہیں۔ حالانکہ اس کے مقابلے میں ایک مسلمان صادق خان بھی لندن کے مئیر کے الیکشن میں کھڑا تھا اور پھر عمران خان کی مخالفت کے باوجود صادق خان جیت جاتا ہے۔ ذرا سوچئے کہ اگر ایسا کوئی کام میاں نواز شریف یا کسی اور لیڈر نے کیا ہوتا تو کیا اسے عمران خان معاف کرتے ؟

اس نے الیکشن میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کا الزام لگایا اور ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ پھر بھی صادق و امین کہلاتا ہے۔

نجم سیٹھی پر 35 پنکچرز کا الزام ثابت نہ کر سکا لیکن صادق و امین ہے۔

میر شکیل اور جنگ گروپ پر غیر ملکی فنڈنگ کا الزام ثابت نہ کر سکا۔

سابق چیف جسٹس افتخار چودھری پر الزام لگایا اور اب ثابت کرنے کورٹ نہیں جا رہا۔

میاں شہباز شریف پر الزام لگایا اور اب ہرجانہ کیس میں کورٹ میں ثبوت نہیں دے پا رہا۔

یہ شخص روز کسی کو پکڑتا ہے، اس کی پگڑی اچھالتا ہے اور ثبوت دینے کی باری آئے تو بھاگ جاتا ہے۔ کبھی یہ الطاف حسین کے خلاف برطانیہ جا کر ثبوت دینے کی باتیں کیا کرتا تھا۔ الطاف حسین اپنی حماقتوں کی وجہ سے اسکرین سے آﺅٹ ہو گیا۔ اگر اس پر بات رہتی تو اس نے سوائے الزام تراشیوں کے کچھ نہیں کرنا تھا۔ قوم اس پر کیا اعتبار کر سکتی ہے؟ جو کسی کی عزت نہ کرنا جانتا ہو۔ جو دوست ملکوں بارے اظہارِ خیال کرتے ہوئے بے احتیاطی کا مظاہرہ کرتا ہو۔ جس نے عین دھرنے کے دنوں میں دوست ملک چین کے صدر کے بارے میں جھوٹ بولا ہو۔ جو سعودی عرب بارے الفاظ کے چناﺅ میں غیر ذمے دار ہو۔ جو صرف الزام کی سیاست ہی سے آشنا ہو۔ اور ثابت کرنے کی باری آئے تو کورٹ میں کہہ دے کہ بطور اپوزیشن لیڈر کے میرا کام الزام لگانا ہے۔ اس آدمی بارے کوئی کیا کہے؟جو الزام جھوٹا ثابت ہونے کے بعد معافی تک نہ مانگے اور اس کی سگی بہن مریم نواز کو خط لکھ کر اپنی غلط فہمی اور الزام تراشی پر معافی مانگ لے۔ اس کو اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھانے سے پہلے سوچنا تو چاہیے۔ اس ملک میں اب ایسا بھی قحط الرجال نہیں کہ ایسے لوگ شیروانی سلوا کر ہماری قیادت فرمانا شروع کر دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •