میں ان دنوں روزنامہ خبریں لاہورمیں سب ایڈیٹر تھا، جب ایک روز گورنر ہاؤس لاہور کے قریب واقع تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ لائبریری میں مختلف فائلوں کی ورق گردانی کرتے ہوئے اچانک میری نظر سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے تحریک پاکستان کے مشہور ترین کارکن اصغر سودائی کی فائل پر پڑی اصغر سودائی کا دعوی ہے کہ’’پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔ لا الہ الا اللہ‘‘ نعرہ اس کی تخلیق ہے اور اس بناء پر اصغر سودائی کو تحریک پاکستان کا ورکر مان کر اس کو بھی گولڈ میڈل سے نوازا جا چکا ہے لیکن اس کی اپنی فائل میں ایک پریس ریلیز مع ثبوت لگی ہوئی چیخ چیخ کر اس کے دعوے کو جھٹلا رہی تھی۔
اس پریس ریلیز کے ساتھ ایک نظم کی فوٹو کاپی بھی منسلک تھی اور ساتھ کئی لوگوں کے نام بطور گواہوں کے درج تھے کہ اصغر سودائی کے دعوے سے بہت پہلے نہ صرف، پاکستان کا مطلب کیا۔ لا الہ الا اللہ، نعرہ تخلیق ہو چکا تھا بلکہ ایک نظم کی صورت میں چھپ بھی چکا تھا۔ مذکورہ پریس ریلیز سے صاف عیاں تھا کہ اصغر سودائی اس نعرے کے خالق نہیں ہیں اور انہوں نے یہ نعرہ چوری کیا ہے اور اس کی وجہ سے تاریخ کو بھی مسخ کیا ہے لیکن اس تاریخی گھپلے کے باوجود آج تک انہی کا نام اس نعرے کے ساتھ لیا جاتا ہے اور نعرے کے اصل خالق کی کسی کو خبر تک نہیں ہے۔
Read more