ماما آفس نہیں جاؤ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں اپنے آپ کو گناہگار سمجھنے لگی ہوں۔ ساری رات اس کے ننھے ننھے ہاتھ اور پاؤں چومتے گزر جاتی ہے۔ نیند اآجائے تو جھٹک کر اس کے جسم کو سہلانے لگتی ہوں اور یہ سوچ ذہن میں چیخ بن کر گونجتی رہتی ہے کہ صبح کا سورج مجھے پھر سے اس معصوم سے کئی گھنٹوں کے لئے دور لے جائے گا اوروہ دن کی روشنی یہ سوچنے میں گزار دے گا کہ آخر ماں کا ہر روز چلے جانا کیوں ضروری ہے۔

یہ احساسات شاید ہر اس ماں کے ہوں گے جو جاب کرتی ہے اور اپنے بچوں کو خود سے دور کرنے پر مجبور ہیں۔
میں اپنے اڑھائی سال کے بیٹے کے رویے میں واضح تبدیلی محسوس کر سکتی ہوں۔ اس کے چھوٹے سے دل و دماغ میں غصہ نے گھر کر لیا ہے۔ روتا کم ہے مگر پورا دن اپنی می می (نانی) اور باجی (آیا) کو بلا وجہ مارنا چیزیں اٹھا کر پھینکنا، ضد کرنا، سونے سے کترانا، کھانا نہ کھانا جیسی بہت سی تبدیلیاں عیاں ہونے لگیں ہیں۔

جب میرا بیٹا پیدا ہوا تو جاب کو الوداع کہہ کر میں نے ایک امریکی نیوز ایجنسی کے لئے گھر سے کام کرنا بہتر سمجھا۔ میرے مطلب کا کام نہیں تھا کیونکہ میرا شوق الیکٹرانک میڈیا تھا۔ مگر اس نوکری میں میں اپنے بچے کو پورا وقت دے سکتی تھی سو میں نے اسے رحمت جانا۔ اب ان کے ساتھ کنٹریکٹ ختم ہوا تو ایک اچھے نیوز چینل میں نوکری مل گئی۔ سوچا اگر ابھی یہ موقع گنوا دیا تو پھر کہیں اور جاب ملنا مشکل ہو جائے گا اور میں میڈیا فیلڈ سے آؤٹ ہو جاؤں گی۔ آخر تین برس سکرین سے دور رہی تھی۔ اور ہمارے میڈیا میں ایک کہاوت ہے کہ جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے۔ بس یہ سوچ کر کہ کہیں کیرئیر ختم ہی نہ ہوجائے، میں نے نوکری شروع کر دی۔

مگر کیا جاب کرنے کی صرف یہی وجہ تھی؟ نہیں۔ مجھے پیسے چاہئیں تھے۔ اتنے کہ اپنے بچے کی ہر ضرورت اس کے کہے بغیر پوری کر سکوں۔ اسے کسی چیز کے لئے انتظار نہ کرنا پڑے۔ اس کے اچھے مستقبل کے لئے کچھ بچت کر سکوں۔ تاکہ اگر کل کو میں یا اس کا باپ سر پر نہ ہو تو اسے کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ میں اپنے شوہر کا ہاتھ بٹانا چاہتی ہوں اس کی ذمہ داریاں شئیر کرنا چاہتی ہوں۔ اپنی پہچان بنانا چاہتی ہوں۔ اپنے بیٹے کو یہ احساس اور اعتماد دینا چاہتی ہوں کہ اس ماں ایک مضبوط عورت ہے، کل کو جب وہ باہر کی دنیا میں قدم رکھے تو وہ بھی فخر سے یہ بتا سکے کہ اس کی ماں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اچھے عہدے پر فائض ہے۔ کیا میری سوچ غلط ہے؟

جب جاب شروع کی توفیلڈ میں واپس آکر خوشی ہوئی مگر پھر آہستہ آہستہ ایک احساس جرم دل و دماغ پر طاری ہوگیا۔ کہیں میں اپنے بچے کے ساتھ زیادتی تو نہیں کر رہی۔ کہیں وہ نفسیاتی دباؤمیں تو نہیں اآجائے گا۔ میرے گھر والوں اور دوستوں کا کہنا تھا کہ کل کو میرے بیٹے کو یہ یاد نہیں رہے گا کہ میں نے اس کے ساتھ وقت کتنا گزارا ہاں لیکن کل کو اس پر خدا نخواستہ کوئی مشکل پڑی تو یہ ضرور پوچھے گا کہ ماں آپ نے میرے لئے کیا کیا ہے؟

بہت کچھ ہے ذہن میں۔ کیا پیسے کی فراوانی کی خواہش کرنا غلط ہے؟ َ کیا اپنی پہچان واپس پانا غلط ہے؟ میں نے اڑہائی برس تک اپنے بچے کو خود سے دور نہیں کیا۔ اب بھی دفتر سے واپسی سے دوبارا دفتر جانے تک کا وقت میں اس کے ساتھ گزارتی ہوں۔ تھکاوٹ جتنی بھی ہو اس کے سارے کام خود کرتی ہوں۔ رات کو جتنی بار بھی اٹھے اسے پیار سے دلار سے اپنے سینے سے لگاتی ہوں واپس سلاتی ہوں۔ میری نیند دو سے تین گھنٹے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے صرف اس لئے کہ میں اس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزار سکوں پھر بے شک وہ سویا ہی کیوں نہ ہو۔
خود ہی اپنے آپ کو یہ تسلی دیتی ہوں کہ کوئی بات نہیں میں کچھ غلط نہیں کر رہی پر دل پر ایک بوجھ ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ بھاری ہوتا جارہا ہے۔

کیا آپ کو بھی یہی محسوس ہوتا ہے؟ وہ مائیں جو جاب پر جاتی ہیں۔ کیا میرا احساس جرم ٹھیک ہے؟ شاید کچھ والد بھی میری تحریر پڑھتے ہوئے اپنی بیگم کے احساسات سے اب واقف ہو رہے ہوں شاید انہوں نے کبھی سوچا ہی نہ ہو کہ ان کی بیوی جب صبح دفتر جاتی ہے تو وہ کس ذہنی کیفیت سے دوچار ہوتی ہے۔ اور شاید ان لوگوں کو بھی یہ احساس ہو جو شادی شدہ خواتین خاص طور پر جن کے بچے بھی ہیں انہیں بڑے آرام سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ گھر بیٹھو بچے کی دیکھ بھال کرو۔ اور یا پھر یہ کہ اس عورت کو تو باہر کی لت پڑی ہے، بچے، گھراور شوہر سبھی کو نظر انداز کرتی ہے۔

ارے صاحب آپ کیا جانیں کہ کوئی بھی عورت شوقیہ گھر سے نہیں نکلتی بلکہ اس کی مجبوریاں، ضروریات اور اپنی پہچان کی تلاش اسے باہر کا راستہ دکھاتی ہے۔ آپ کو تو خوش ہونا چاہیے کہ ایک عورت ایک بیوی اور ایک ماں ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کے شانہ بشانہ باہر کا کام بھی کرتی ہے اور آپ کے گھر اور بچوں کی دیکھ بھال بھی کرتی ہے اور آپ کا معاشی بوجھ بانٹتی ہے۔ اسے تو بس تھوڑی سی پذیرائی اور حوصلہ افزائی چاہیے۔ باہر کی دنیا سے بھی اور اپنے گھر سے بھی تاکہ جب وہ اپنے بچوں کو چھوڑ کر گھر سے نکلے تو وہ خود کو ان کا یا معاشرے کا مجرم تصورنہ کرے۔

آٹھ مارچ کو عورتوں کے عالمی دن پر عورتوں کے برابری کے حقوق پر کالم لکھے جاتے ہیں، سیمینار ہوتے ہی، واکس ہوتی ہیں، سیاستدان حقوق نسواں کے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں، ٹی وی چینلوں پر پیکجز بنتے ہیں۔ مگر کیا کبھی آپ نے کسی کالم یا پیکج میں یہ پڑھا یا سنا ہے کہ بہت سے پرائیویٹ یا سرکاری اداروں میں خواتین کے لئے الگ واش روم کی سہولت نہیں ہے یا یہ کہ خواتین کی زچگی کی چھٹیوں میں اضافہ ہونا چاہیے تاکہ وہ نوکری ترک کرنے یا اپنے چالیس دن کے بچے کو ڈبے کے دودھ پر چھوڑ کر دفتر آنے پر مجبور نہ ہو اور یا پھر یہ کہ تمام ادارے اپنے ہر دفتر میں ایک ڈے کئیر سینٹر بنائیں تاکہ ہر کام کرنے والی ماں میری طرح ہر روز اپنے دل پر بھاری پتھر رکھ کر گھر کی دہلیز پار نہ کرے اور نہ ہی دفتر آکر اپنے ساتھیوں کی سرگوشیاں سنے۔

خواتین پاکستان کی کل آبادی کا نصف ہیں مگر انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں نوکری پیشہ خواتین کی تعداد دنیا میں سب سے کم 4.3 فیصد ہے۔ 65٪ خواتین ڈاکٹرز شادی کے بعد کام نہیں کرتی۔ اسی طرح 80 فیصد بزنس گریجوئیٹ خواتین شادی کے بعد گھر بیٹھ جاتی ہیں۔ وجوہات یہی ہیں کہ یا تو فیملی پریشر ان کے کام کے آڑے آجاتا ہے اور یا پھر بچوں کی پرورش۔

میں اب جس ادارے سے منسلک ہوں وہاں ڈے کئیر سینٹر تو نہیں ہے مگر ہاں میرے سینئیرز کا یہ کہہ دینا میری ہمت بندھانے کے لئے کافی تھا کہ تم جب چاہو اپنے بچے کو اپنے ساتھ دفتر لے آیا کرو۔ مگر ایسا روز تو نہیں ہو سکتا۔ آخر وہ کھیلے گا کہاں، سوئے گا کہاں پھر ابھی وہ ماں کے کام کی نزاکت کو سمجھنے کے لئے بھی بہت چھوٹا ہے۔ اور یقیناً اس کا خیال مجھے کام پر سو فیصد دھیان دینے سے روکتا ہے۔

مجھے نہیں پتا کہ میری اس تحریر کا کسی پر کوئی اثر ہوگا یا نہیں مگر میں کم از کم اپنی صحافی برادری خصوصاً صحافتی تنظیموں سے جو اپنے ہر احتجاج پر یا انتخابی مہم کی کامیابی کے لئے ساتھی خواتین کو آگے آگے رکھتی ہیں یہ توقع رکھتی ہیں کہ وہ خواتین کی سہولیات کے لئے آواز اٹھائیں گے۔ یہ چند بنیادی سہولیات آپ کے ساتھ کام کرنے والی تمام خواتین کا حق ہے۔ وہ آپ سے کم کام نہیں کرتیں بلکہ زیادہ ہی کرتی ہیں کیونکہ ان کی ڈیوٹی دفتر سے جانے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتی اور نہ چھٹی والے دن۔ تو براہ مہربانی ایک احتجاج اس لئے بھی ایک آواز اس لئے بھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •