میری ذات کو مانو! میں عورت ہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے رشتوں کے حوالوں میں رکھ کے تقدس کی قربان گاہ پہ قتل کرتے ہو۔ تو کبھی ایک بغاوت کے الزام میں سر عام سنگسار کرتے ہو۔ تم مجھ پہ اپنا حق سمجھتے ہو ایسا حق جو کسی ملکیت پہ ہوتا ہے۔ کہیں تمہیں یہ گوارہ نہیں کہ میں خود مختار ہوں تو حنا شاہنواز کی طرح گولیوں سے بھون ڈالتے ہو۔ میں اگر تمہیں زبردستی اپنے جیون کا حصہ نہ بننے دوں تو اسما کی طرح خواب آنکھوں میں لیے مجھے بے وقت موت کی آغوش میں جانا پڑتا ہے۔ یوں تو میں کم عقل و احمق لیکن تمہاری عزتوں کے بوجھ میرے ناتواں کندھوں پر ہے۔

یہ گہنے جو میرے حسن میں اضافے کا بہانہ ہیں یہ علامتیں ہیں اس دور غلامی کی جو مجھے باندی سمجھتا ہے۔ آج مہذب ہوئے تو بیڑیاں نہیں پہنا سکے تو پائل لادی۔ ہتھکڑیوں میں نہیں جکڑ پائے تو چوڑیاں پہنا دی۔ نکیل ہاتھ میں نہیں لے سکتے تو نتھلی پہنا دی۔ طوق پہ اختیار نہیں رہا تو گلو بند بنا لائے۔ عزت کے نام پہ چادر اور چاردیواری میں قید رکھتے ہو۔ ایک اپنے نام کے بدلے مجھ سے اپنے لیے جینے، سوچنے، بولنے، ہنسنے رونے کا حق چھین لیتے ہو۔ احترام کا لالی پاپ تھما کے بتاتے ہو کہ عزت اسی میں ہے کہ تمہارا نام کسی مرد کے نام سے جڑا رہے۔ تم بھول جاتے ہو میں دماغ بھی رکھتی ہوں اور دل بھی۔

میرا وجود اس لیے نہیں کہ تم اس کے خال و خم کو ناپو۔ میرے حسن سے آنکھیں خیرہ کرو میں گوشت کی دکان نہیں کہ تم بھوکے جانوروں کی طرح مجھ پہ ٹوٹ پڑو۔ یہ بھول جاؤ کہ قصور کی زینب، جنوبی پنجاب کی ؑعائشہ تمہاری ہوس کی بھوک مٹانے کا سامان نہیں ہیں۔ تم پاگل ہو جاؤ اور یہ سمجھ ہی نہ پاؤ کہ یہ جیتے جاگتے انسان ہراحساس، محبت، نفرت، سوچ اور خیال ہر بات سے لبریز ہیں اور یہ بھول جاؤ کہ میں انسان ہوں جو سوچتی ہے، سمجھتی ہے محسوس کرتی ہے۔ تمہاری نظر کی بھوک نے تمہاری آنکھوں پہ پٹی باندھ دی ہے تم بھول گئے

میں مدرٹریسا ہوں۔ میرے دل میں ہمدردی ہے میں ہر دکھی کی مدد کے لیے تیار ہوں۔ میں روتھ فاؤ جو ان کوڑھ ذدہ لوگوں کے لیے اپنا وطن چھوڑ سکتی ہوں جن کا علاج کرنا تو ایک طرف کوئی ان کی طرف دیکھنا گوارہ نہیں کرتا تھا۔ میں نمیرہ سلیم ہوں جو خلا کی وسعتوں میں سفر کر آئی۔ میں نرجیس موال والا ہوں جوپہلی پاکستانی خاتوں جس نے گریویٹیشنل ویوز کی ابزرویشن کی۔ میں شیریں عبادی ہوں جو گھٹے ہوئے سماج سے نکل کے اپنی مٹی اور نسل کے گن گاتے ہوئے ادب کی نوبل کی حقدار ہوئی۔ میں ملالہ ہوں جو ان جانوروں کے سامنے ڈٹ گئی کہ جن کی پشت پناہی آج بھی جاری ہے۔ میں عاصمہ جہانگیر ہوں جو ہر ظلم کے خلاف ڈٹ گئی۔

مجھے اپنا آپ منوانے کے لیے کسی کے نام، کسی تقدس، کسی بوسیدہ نظرے کی ضرورت نہیں ہے۔ میرا دل ہے دماغ ہے میں سوچتی ہوں محسوس کرتی ہوں۔ میرا دن بھلے مت مناؤ مجھے مانو۔ میری ذات کو تسلیم کرو۔ یہ تخصیص جو نہ ہمیں ڈھنگ سے جینے دیتی ہے نہ مرنے دیتی ہے اس سے نکل آو۔ احترام، حقوق و فرائض سب انسانوں کے لیے ہیں، برابری کی سطح پہ سمجھوتو ہم ہیں نہ سمجھو تو یہ وحشت کا شکار ہوتا ہوا سماج ہے اور اس میں دو ٹانگوں پہ چلتے جانور۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •