دینی مدارس اور وقار ملک سے مکالمہ

\"bakht\"

گذشتہ تحریر کے جواب میں برادرم جناب وقار احمد ملک صاحب نے اپنے جوابی مضمون میں بندہ سے سوال کیا تھا۔ ان کے الفاظ تھے :

بخت محمد برشوری صاحب نے کہا ہے کہ مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے کی وجہ غربت نہیں بلکہ نظریہ ہے۔ خوش کن بات ہے اگر مدرسے میں پڑھنے والے بچوں کو جدید علم اور متضاد بیانیوں تک رسائی حاصل ہے۔

مزید پڑھئے: ہم کچھ بھی نہیں کہتے، شاد رہیے

اگر سچ اور حقیقت کا فیصلہ مدرسہ کے دروازہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی نہیں سنا دیا جاتا اور فطرت کے دیے دماغ کو سوچنے کی آزادی حاصل ہے، اگر طالب علموں کا معیار زندگی مناسب ہے، تو ہمارے اعتراض کی کیا گنجائش بچتی ہے۔ ہم تو آپ کے شکر گزار ہوں کہ ملک کی کثیر آبادی کو وسائل مہیا کر رہے ہیں۔ ہاں یہ انتظار کرنے کی اجازت تو دیں کہ مدرسے سے کسی نئے طبعی قانون کی دریافت، کسی تہلکا مچا دینے والی ایجاد کی خوشخبری، کسی ریاضیاتی مسئلہ کی سلجھی گتھی کی خبر ہی آ جائے۔ اور اگر یہ کم تر علم ہے اور آپ کے مقام کو زیبا نہیں کہ ان چھوٹی باتوں پر غور کریں تو مجھے اندیشہ ہے کہ موبائل، پنکھے، فریزر کے ٹھنڈے پانی اور کمپیوٹر وغیرہ کا استعمال آپ کے اندر ایک تکلیف دہ دوئی پیدا نہیں کرے گا؟

مزید پڑھئے: مولویوں کا نوحہ کون لکھے گا؟

اس پر ہمارا کمنٹ :محترم وقار احمد ملک صاحب ایک چیز تو الگ کر کے ہی سمجھنی پڑے گی۔ سپیشلائزیشن کے اس دور میں جب پوری سائنس نہیں سائنس کی صرف ایک شاخ پر مکمل پی ایچ ڈی یا نئی تخلیقات کی راہ پاتے انسان کی آدھی سے زیادہ زندگی صرف ہو جاتی ہے۔ زندگی بھر دماغ کھپانے کے بعد ہی کسی ایک شعبے میں کمال مہارت اور تخلیقی صلاحیت کو پہنچا جاسکتا ہے۔ ایسے میں آپ مدارس میں جہاں مذہبی علم، مذہبی فکر اور 14 صدیوں سے قائم شاندار علمی سلسلے پڑھنے، پڑھانے اور نئی سے نئی تحقیقات کرنے کا بندوبست ہے، جہاں طلبہ کو اسی علم میں سپیشلائزیشن کرائی جاتی ہے۔ ایسے ادارے سے آپ موبائل، گھڑی یا پنکھے کا تقاضا کیوں کر بیٹھے۔ ملامت کریں مدرسے کو تو صرف اس بات پر اگر وہاں سے اسلامی علوم، اسلامی افکار اور جدید دنیا کے مسائل سمجھنے والے علماء اور مفتی تیار ہو کر نہ نکلیں۔ ایسے علماء پر تنقید کریں جن کے پاس مدرسے میں پڑھنے کے باوجود عوام، گلی محلے اور معاشرے میں اصلاحی کوششوں اور بہتر سے بہتر منظم اور بااخلاق معاشرہ تیار کرنے کا کوئی پروگرام اور وژن نہیں ہے۔ اگر وہ مذہب کی اصل روح سے نابلد ہے اور چند رسومات کو اسلام کا نام دے کر اس پر اڑ گیا ہے تو یہ مولوی آپ کے لیے قابل ملامت ہے۔ اگر اسلام کو قبائلی روایات، آبا و اجداد کی رسومات، معاشرے کی جھوٹی غیرت کا محافظ بنا کر بیٹھا ہے تو اس پر لعنت ملامت آپ کا حق ہے۔ لیکن مفتی تقی عثمانی صاحب سے آپ کہیں کہ جناب فقہہ تو آپ نے اس قدر پڑھ لی پڑھالی، کتابوں پر کتابیں لکھ ڈالیں، عرب سے عجم تک دنیا بھر میں آپ کی تحقیقات اور نئے فقہی تخلیقات کا غلغلہ ہے، دنیا بھر کے علمی اور فکری مذاکروں اور سیمیناروں میں آپ مدعو ہوتے ہیں مگر بقول حسن نثار ایک جوتا بنا کر نہ دے سکے تو پھر ایں چہ معنی دارد۔۔۔

مزید پڑھئے: مولویوں کا نوحہ کون لکھے گا (2)

اور یہ علم کو کم تر سمجھنے کا طنز کاش آپ نہ کرتے۔ آپ نے کالم میں اس خاکسار کا نام لے کر عزت افزائی کی ہے اس کے لیے ممنون ہوں۔ اب تک لبرل ساتھیوں کے متعلق ہمارا جو تاثر تھا کہ یہ طنز کی انی پر چڑھا کر کسی کی بھی عزت نفس مجروح اور اس کے وقار کا مذاق اڑادیتے ہیں، داڑھی والے سے تو انہیں خدا واسطے کا بیر ہے وہ تقریبا زائل ہوچکا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words