بانڈار، بلوچستان کی قدیم ثقافتی تفریح

بانڈار میں دف، تھال اور ٹین کے ڈبے کے بجنے سے جو آواز پیدا ہوتی ہے اس میں جو سواد ہے وہ طبلے، ہارمونیم وغیرہ کے ملغوبہ آوازوں میں کہاں۔ یہ قدیم دور سے ہی میوزک کنسرٹ، کنجرپن یا اس طرح کے دیگر ناموں سے یاد نہیں کیا جاتا تھا۔ اسے شروع سے ہی ایک ثقافتی تفریح سمجھا جاتا تھا۔ اسی لیے یہ دینی طبقے میں بھی یکساں مقبول تھا۔ حتی کہ مساجد کے حجروں میں جو طلبہ قیام پذیر ہوتے تھے جمعہ کی رات کو جب ان کی پڑھائی کی چھٹی ہوتی تو بانڈار ان کی سرگرمیوں کا لازمی حصہ ہوتا تھا۔

اس میں طلبہ، امام مسجد اور محلے کے لوگ سبھی شریک ہوتے۔ البتہ محلے کے لوگ صرف سامعین ہوتے۔ گائیکی اور دف، تھال وغیرہ بجانے کے تمام امور یہ باریش سفید پوش مولوی ہی سنبھالتے۔ ان کے معاملات میں کوئی اہل محلہ مداخلت کی جرات بھی نہ کرتا، کیوں کہ کوئی ان کے ”معیار“ کا گائیک یا ”میوزیشن“ ہوتا ہی نہ تھا۔ ملا، طالب کی یہ سرگرمی سب میں پسند کی جاتی تھی۔ آج بھی بزرگ لوگ اس دور کو یاد کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ ہمارے ایک بزرگ نے ماضی کی مٹتے ہوئے اقدار کا رونا روتے ہوئے جہاں اور دوسری چیزوں کا ذکر کیا تو بہت زیادہ افسوس کے ساتھ یہ بھی کہا : ”اب مساجد ومدارس کے حجروں میں بانڈار بھی نہیں ہوتے“۔

Read more

لاندی، سردیاں اور اگلی نسلیں

باہر شدید سردی، گیلی مٹی، برف، بارش کا پانی اور شدید اندھیرا ہے۔ آپ آتشدان میں جلانے کی لکڑیاں ڈالے آگ تاپ رہے ہیں۔ آگ کے شعلے لپک رہے ہیں اور کمرے کی دیواروں پر روشنیاں ناچ رہی ہیں۔ ایسے میں کھانے کے دسترخوان پر”لاندی“ کا گوشت ہو تو بلوچستان کے لوگوں کو اور کیا…

Read more

یہ تصویر اور داڑھی والے باپ کا خوف

کل شام سے احمد کو بخار ہے۔ سردرد اور گلے کی سوزش، دوا دارو کا سلسلہ جاری ہے۔ میں اور والدہ تو کیا تیمار داری کریں گے۔ بے چینی اور کڑھن تو دادا، دادی کے نصیب میں ہے۔ جتنی بلائیں کل سے اس کی لی جا رہی ہیں۔ ایک سیرپ پلانے کے لیے کتنے جتن…

Read more

بے وقعت ورثہ

جرمن ادیب فرانز کافکا کا ناول پڑھ رہا ہوں۔ سوچتا ہوں اسے پڑھنے اور ختم کرنے کے بعد اس کتاب کا کیا کروں؟ یہ جسے میں نے اپنے بچوں کی رزق میں سے پیسے کاٹ کر خریدا ہے۔ پڑھنے اور الماری میں سجا دینے کے بعد میں اسے اپنی بقیہ زندگی میں (اگر ہے بھی…

Read more

بیمار شہروں کے چہرے

ایک شخص بے حال ہورہا ہے۔ اس کابس نہیں چل رہا کہ وہ میونسپل کارپوریشن کے ”کارندوں“ کا کیا کرے۔ میونسپل کا ایک گندا سا ٹرک کھڑا ہے اور کارندے گنے کے جوس کی ایک مشین اٹھا کر گاڑی میں رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ گنے کی مشین کا مالک شخص گونگا ہے۔ وہ بول بھی نہیں سکتا۔ وہ اپنے درد سے چیخ بھی نہیں سکتا۔ زبان پر قدرت کا قفل لگا ہے۔ ہاتھ پاوں بے بس ہیں کہ پولیس کے غراتے، کالے اہلکار سامنے کھڑے ہیں۔ مشین زمین پر گری، ٹوٹی، ادھڑی ہوئی پڑی ہے۔

کارندوں نے مشین اٹھاکر گاڑی میں ڈال دی۔ گونگے کا صبرجواب دے گیا۔ اینٹ اٹھا کر مارنے لگا۔ کارندوں اور اہلکاروں نے اسے پکڑ لیا۔ گاڑی چل پڑی۔ کارندے دوڑ کر گاڑی میں بیٹھ گئے اور وہ لاغر سا گونگا جوان سڑک پر بیٹھ کر بے بسی سے سرپیٹتا اور بین کرتا رہ گیا۔ یہ پنجاب کی کوئی سڑک تھی جہاں سے میونسپل کارپوریشن ناجائز تجاوزات کا خاتمہ کررہی تھی۔

Read more

مکالمے کے منتظر ہیں

زمین و آسمان کی وسعتوں میں پھیلی ہوئی کائنات، اس کائنات کے اجزائے ترکیبی، اجزائے ترکیبی کا ایک ایک ذرہ، ان ذروں میں دوڑتی زندگی۔ اس زندگی کے وسیع تر سائے میں عالم موجودات میں سب سے افضل و برتر اگر کوئی ذات ہے تو وہ رحمہ اللعالمین کی ذات ہے۔ ہم کیا کہیں اس…

Read more

منظور پشتین! احتیاط جناب والا احتیاط

منظور پشتین نے لاہور میں بھی جلسہ کردیا اور کراچی کے جلسے کے لیے تاریخ بھی دے دی۔ منظور نے اس سے قبل کوئٹہ اور پھر پشاور میں بھی جلسہ کیا تھا۔ پشتون تحفظ مومنٹ بنیادی طورپر وزیرستان میں آپریشن کے بعد عوام کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے اٹھائی گئی تحریک ہے۔ جسے…

Read more
––>