ہر دور کی اپنی پروین

بڑی بڑی آنکھیں، گول چہرہ، سرائیکیوں کی پہچان ہلکا سانولا رنگ، صاف ستھرے گھریلو لباس میں دبلی پتلی لڑکی باجی پروین کو ہم نے ہمیشہ خاموشی سے کام کرتے یا سورہ یسین کی تلاوت کرتے دیکھا۔ کام کرتے بھی اس کے ہونٹ اکثر کسی ذکر و ورد میں مصروف متحرک ہوتے۔ تب ہم بچے تھے اور کسی بھی کام سے باجی پروین کے گھر جا گھستے، وہ جنوبی پنجاب کی ایک روایتی خاندانی لڑکی تھی جو سسرال میں روایتی دلہن کی طرح ہمیشہ خاموش، اطاعت گزار اور کام کاج میں مصروف رہتی۔ سسرال بھی جنوبی پنجاب ہی کا تھا جو تلاش روزگار میں کوئٹہ آ کر آباد ہوا تھا۔

ہمیں یاد نہیں کہ اس کی شادی کو کتنے برس ہوئے تھے لیکن ان کے ہاں بچہ نہیں ہوا تھا اور اس کا یہ ناکردہ ”جرم“ روز بہ روز ناقابل معافی ہوا جا رہا تھا۔ گھر میں جب بھی مردوں کو اسے آواز دیتے دیکھا تو آواز میں ایک رعب، کرختگی اور وحشت دیکھی۔ ہم بچوں کے لیے اس کی خاموشی، سکون، تلاوت کلام، غلامی کی حد تک اطاعت شعاری یہ سب کچھ معمول کی چیز تھی یہاں تک کہ پھر اخبار کی خبر پڑھ لی۔ اخبار محلے کے ایک لڑکے ہاتھ میں تھا جسے وہ لہراتا آ رہا تھا۔ پھر اس نے ایک سہ کالمی سرخی پر انگلی رکھ کر خبر پڑھی دیور نے بھائی کے ساتھ مل کر بھابھی کو قتل کر دیا۔ ملزمان میں پروین کے شوہر اور دیور کے نام درج تھے۔ پھر وہی کہانی لکھی تھی جو دو دن سے پورے محلے کو از بر تھی۔

Read more

لاندی، سردیاں اور اگلی نسلیں

باہر شدید سردی، گیلی مٹی، برف، بارش کا پانی اور شدید اندھیرا ہے۔ آپ آتشدان میں جلانے کی لکڑیاں ڈالے آگ تاپ رہے ہیں۔ آگ کے شعلے لپک رہے ہیں اور کمرے کی دیواروں پر روشنیاں ناچ رہی ہیں۔ ایسے میں کھانے کے دسترخوان پر”لاندی“ کا گوشت ہو تو بلوچستان کے لوگوں کو اور کیا چاہیے۔ کھانے ہماری ثقافت کا حصہ ہوتے ہیں۔ ثقافت زمانوں کی پرورش پا کر بڑھتی ہے۔ موسم اور سماجی حالات اسے تشکیل دیتے ہیں۔ تہذیب

Read more

انگور کا رس اور نیم کا نچڑا پانی

مجھ سے کوئی کہے کہ میں سب سے دردناک تصویر پینٹ کرنا چاہتا ہوں۔ جس میں اقتدار، سرمایے، سماج، انصاف اور تقدیر کی ساری شقاوتیں یکجا مل جائیں۔ میں بلا چوں و چراں اسے کچے مکان کے اس احاطے میں لے جاؤں گا جہاں وہ معمر ماں پچاس ہزار روپے کی گڈی ہاتھ میں لیے بیٹھی ہے۔ ان پیسوں کا وہ کیا کرنے والی ہے یہ ذرا بعد میں۔

سب سے پہلا وار اس خاتون پر اس کی تقدیر کا تھا جب اس کا شوہر فوت ہو چکا۔

دوسرا کھیل سرمائے کی طاقت نے کھیلا۔ بڑا بیٹا مزدوری پر ٹرک چلا رہا تھا۔ ایک دن ٹرک منشیات کی سمگلنگ میں پکڑا گیا۔ اصل سمگلر سامنے آیا نہیں۔ ٹرک مالک نے اوپر ہی اوپر ذمہ داری ڈرائیور پر ڈلوا کر گاڑی چھڑا لی اور ڈرائیور کو سالہا سال قید کی سزا ہو گئی۔

Read more

عورت مارچ ہو یا حیا مارچ: منزل کہیں بھی نہیں

میں چھ سال کی مسکان سے کوئی دو چار بار ہی ملا ہوں۔ ذہین اور شریر سی یہ بچی اپنے والد کو نہیں جانتی۔ اس کا والد زندہ ہے مگر اس نے اسے ایک ہی بار دیکھا ہے اور وہ بھی اس طرح کہ وہ اپنے والد کو پہچانتی نہیں تھی۔ مسکان کی والدہ اس کے والد کی دوسری شادی تھی۔ خاندان کی اجازت کے بغیر اس نے شادی کی تھی۔ کچھ عرصہ ساتھ رکھا اور پھر خاندان کے دباؤ میں آ کر چھوڑ دیا۔ خاتون نے سرکاری جاب حاصل کر لی۔ وہی جاب اور چھوٹی سی مسکان اس کی زندگی کا کل سرمایہ رہے۔

والدہ کے بالوں میں اب چاندی اتر چکی تھی۔ جاب اور جوانی کا دفاع کرتے، سنبھلتے سنبھالتے اس کی زندگی وقت سے پہلے ادھیڑ عمری کو پہنچ چکی تھی۔ کیسے کیسے لوگوں کے رویے اور کیسی کیسی نظریں اس نے سہیں؟ کیسی ہوس ناک آنکھیں اس کے جسم کے گرد ناگ کی طرح لپٹیں؟ کیسے کیسے ذو معنی جملے اسے کچوکے لگا کر کر فضا میں تحلیل ہوئے؟ کبھی وہ سنیں تو اپنے معاشرے پر پھیلی چاندنی کی چادر اترتی محسوس ہو۔ اس کے نیچے جمع غلاظت کے ڈھیر اور اس کی اٹھتی بھبھک نتھنوں کو پھاڑنے لگیں۔

اس کی والدہ کی آنکھوں میں اب بھی آنسو سے چمک اٹھتے ہیں جب وہ اپنے شوہر کا ذکر کرتی ہے۔ حیرت سے آپ اسے تکتے رہ جائیں کہ کس خمیر سے بنی ہے عورت!

آخری بار اس نے اپنے شوہر کو کب دیکھا وہ بار بار بتاتی تھی۔ ”اس دن میرے سر میں شدید درد تھا، مجھے بخار ہو رہا تھا، میں اپنی بہن کے گھر جانے کے لیے مسکان کو لے کر گھر سے نکلی۔ سڑک پر بس سٹاپ پر کھڑی تھی۔ گرمیوں کی ایک گرم سہ پہر تھی۔ ایک کار آ کر رکی، اس نے کہا چلو تمہیں چھوڑ دوں۔ کار میں ایک ہی شخص بیٹھا تھا۔ میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ اپنے بخار اور سر درد سے بے حال، گاڑی چلانے والے اور مسکان کے درمیان کیا باتیں ہوئی مجھے یاد نہیں۔

بس اتنا یاد ہے اس نے کہا تھا ”مسکان اب ماشا اللہ کتنی بڑی ہو گئی ہو“ ، میں نے منزل پر پہنچ کر اسے رکنے کا کہا تو اس نے گاڑی روک دی، میں اتر گئی۔ پیچھے شکریہ ادا کرنے کو مڑ کر گاڑی والے کی طرف دیکھا تو پہچان گئی کہ وہ مسکان کا باپ تھا۔ اس نے میری طرف دیکھے بغیر گاڑی آگے بڑھا دی اور میں وہیں مبہوت کھڑی مسکان کو آوازیں دیتی رہی ”مسکان! یہ تمہارے والد تھے“ ۔ اور پھر دیر تک میں اور مسکان سڑک کنارے کھڑے ایک دوسرے سے لپٹ کر ایک دوسرے کو تسلیاں دیتی رہیں۔

اس ماں بیٹی کی زندگی کا کرب لفظوں میں کیسے بیان ہو گا؟ میں نہیں جانتا۔

گائنی کی ایک ڈاکٹر کہہ رہی تھی ”الٹراساؤنڈ میں یہ دیکھنے کے بعد کہ ماں کے پیٹ میں بچی ہو تو والدین کو نہیں بتاتے، بچہ ہو تو فوراً بتاتے اور مبارک باد دیتے ہیں“ ۔ مجھے حیرت بھی ہوئی اور افسوس بھی، کہ آخر پڑھی لکھی ہونے کے باوجود بھی تمہیں بچی کی پیدائش کی خوشی کیوں نہیں ہوتی۔ کہا ”ہمیں تو فرق نہیں پڑتا بچہ ہو یا بچی۔ مگر بچی ہو تو ہم نہیں چاہتے اس کی والدہ بچی جننے سے پہلے ہی طعنوں اور تشدد کا سامنا کرے، کچھ دن ہی سہی اسے سکون سے رہنے کا حق تو ہے، جو قیامت مہینہ ڈیڑھ بعد ٹوٹنی ہے، وہ ابھی سے ہمارے بتانے پر ہی کیوں ٹوٹے“ ۔

گائنی کی ڈاکٹر بتا رہی تھی :ایک خاتون کے ہاں بچی کی پیدائش ہوئی۔ اس نے پوچھا بیٹا ہے یا بیٹی؟ پاس بیٹھی نرس نے کہا بیٹی، وہ چیخ چیخ کر رو پڑی، کہا مجھے بھی یہیں مار دو، میری بیٹی کو بھی یہیں قتل کر دو۔ میں باہر شوہر کے پاس نہیں جانا چاہتی۔ سٹاف تسلی دینے لگا۔ خاتون نے کہا : ”میری اس سے پہلے ایک دو سال کی بیٹی میرے شوہر نے گلا دبا کر مار دی ہے۔ اب کی بار اس نے کہا ہے کہ اگر پھر بیٹی پیدا کر دی تو اس کے ساتھ تمہیں بھی مار دوں گا“ ۔

اب اس کم بخت شوہر کو کون ڈھونڈ کر سمجھائے کہ جناب آپ دہری جہالت کا شکار ہیں۔ ایک تو بیٹی کو نقصان سمجھنا اور دوسرا اس کی تخلیق اور پیدائش کا ذمہ دار اس کی ماں کو سمجھنا۔

ایک عورت چار سال کی چھوٹی سی بچی کو لے کر آئی جس کا ریپ کیا گیا تھا۔ نرسز بچی کو لے کر اندر گئیں، ماں سیڑھیوں میں ہی ڈھ گئی۔ بچی بھی رو رہی تھی اور اس کی ماں بھی۔ ماں کہہ رہی تھی: ”اسے وہیں مار دو باہر واپس نہیں لاؤ۔ اسے میں سماج کی نظروں سے بچا کر بڑی بھی کر دوں تو بیاہ نہیں سکوں گی کیوں کہ شادی کی پہلی رات بھی یہ ماری ہی جائے گی“ ۔

بچی کیوں رو رہی تھی، ذرا کلیجہ تھام کر سنیے!

وہ کہہ رہی تھی ”اس انکل نے مجھ کہا تھا تمہیں ٹافیاں اور اچھی اچھی چیزوں دوں گا، مگر اس نے کچھ بھی نہیں دیا۔“

یہ ہمارے سماج میں عورت کی بے بسی کی چند حقیقی مثالیں ہیں۔ عورت کی جسمانی کمزوری اور مرد کے زور بازو نے کیا اسے اتنا اعلیٰ و برتر بنا دیا کہ وہ عورت کے متعلق اپنی مرضی سے جو بھی چاہے فیصلہ کرے؟ اس کی زندگی موت کے فیصلے بھی اس کے ہاتھ میں ہوں۔ اس کی کوکھ میں کیا ہونا چاہیے یہ فیصلہ اس کے اختیار میں ہو؟ مرد کیا عورت کے مقابلے میں کسی بھی قاعدے قانون سے آزاد اور ماورا ہے؟ مرد عورت پر کیا ہر طرح سے ہاتھ اٹھانے میں آزاد ہو جاتا ہے؟ آخر کون سا مذہب اور کون سا نظریہ ہے جس نے یہ اختیارات صنفی بنیادوں پر تقسیم کر دیے ہیں؟

عورت مارچ ہر سال آتا ہے اور سانپ کی طرح ایک لکیر چھوڑ جاتا ہے، جسے ہم بڑے عرصے تک پیٹتے رہتے ہیں۔ عورت مارچ میں بہت کچھ ہوتا ہے۔ مجرے ڈانس بھی ہوتے ہیں۔ قمیصیں بھی لٹکائی جاتی ہیں۔ کراس فائر نعرے بھی لگتے ہیں۔ عجیب و غریب سلوگنز کے بینرز اور پلے کارڈ بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ ان سب چیزوں نے معاشرے میں عورت کے مسائل کو مزید گہنا دیا ہے۔

میرے خیال میں حیا مارچ بھی عورت کے مسائل کی ترجمانی نہیں کر رہا۔ ان دونوں سے ہٹ کر ایک اور فورم ہونا چاہیے جہاں عورت کے حقیقی مسائل پر بات ہوا کرے۔ معاشرے میں پھیلی اس جہالت پر بات ہو جس کی وجہ سے کوئی عورت خودکشی پر مجبور ہو جاتی ہے۔ اس سماج کی روح میں بسی جہالت کی جڑیں اکھاڑنے کو تربیت اور اصلاح کی بہت پرزور کوششیں تحریکیں چلانے کی ضرورت ہے۔ یہ کسی مخصوص کمیونٹی کے نعروں سے حل ہونے والا مسئلہ نہیں۔ یہ کسی طعنہ گردی اور لعنت ملامت سے حل ہونے والا مسئلہ بھی نہیں۔ عورت مارچ ہو یا حیا مارچ، منزل ان دونوں راہوں میں کہیں بھی نہیں۔

اس کے لیے اہل دانش کو کسی مخصوص پس منظر کے تعصب سے ماورا ہو کر مل بیٹھ کر سوچنا ہو گا۔ کچھ مشترکہ فورمز پر بات رکھنی ہو گی۔ افہام اور تفہیم کے جذبے سے ایک دوسرے کو سننا ہو گا۔ ایک نئی فکر تخلیق کرنی ہو گی۔ مکالمے سے ایک نیا راستہ تلاش کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ عورت کی نجات کی منزل ابھی بہت دور ہے۔

Read more

ایک فن کار ماں جو بچوں کی خاطر پاگل بھکارن بن گئی

شیکسپیئر کا ایک خیال بہت مشہور ہے کہ یہ دنیا ایک سٹیج ہے اور ہر انسان اس کا فن کار، ہم میں سے ہر ایک یہاں اپنا کردار ادا کرنے آتا ہے اور ادا کرکے چلا جاتا ہے۔

آپ کو ایک بات بتاؤں! آپ نے کوئٹہ دیکھا ہے؟ کچلاک کی جانب بھی گئے ہوں گے۔ ائرپورٹ روڈ کی پاگل بڑھیا اب بھی یہاں کے لوگوں کو یاد پڑتی ہے۔ جس کے دائیں ہاتھ میں ایک موٹی سے لاٹھی اور بائیں کندھے سے ایک بورا جھولتا تھا۔ سڑک کنارے کاغذ اور کولڈ ڈرنکس کے پلاسٹک کی بوتلیں اور ٹین کے خالی پیک چنتے اسے ہر گزرنے والا دیکھتا تھا۔ لاٹھی ٹیکنے اور سہارا لینے کے کام آتی تھی۔ کبھی کبھی غصے میں ہوتیں تو دونوں ہاتھوں میں تھامے فضا میں گھماتی چلتیں۔

Read more

امریکی دباؤ پر عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی تنازع حل ہونے کے قریب

عبداللہ عبداللہ نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا ہے کہ افغانستان کے سیاسی تنازع کے حل کے لیے اصل اتفاق رائے پر پہنچ چکے ہیں اور جزئیات پر کام جاری ہے۔ جلد ہی ایک متفقہ اتحادی حکومت میں سب یکجا ہوں گے۔ افغان حکومت نے تاحال اس حوالے سے کچھ نہیں کہا مگر افغان صدر کے نائب سیکرٹری سرور دانش نے کل اقوام متحدہ کے نمائندہ خاص برائے افغانستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ عبداللہ عبداللہ اور

Read more

دیہات کا دھوکہ

ہم جب بھی شام کی چائے پر اکٹھے ہوئے وہ مجھے چائے پلانے اپنے دومنزلہ بنگلے کی چھت پر لے گیا۔ کیوں کہ وہاں کی ڈیکوریشن اس نے اپنی پسند سے خصوصی طورپر کروائی ہے۔ گھر کی وسیع چھت پر ڈیکوریشن کے لیے انہیں یہ منفرد آئیڈیا سوجا کہ اسے دیہاتی گھر کا لُک دیا جائے۔ چنانچہ ہرطرف گملے سجا کر سبزے اور خوبصورت پھولوں کی بہار لائی گئی۔ دیواروں پر مٹیالے رنگ کا گارا نما لیپ کیا گیا۔ ایک

Read more

وبا کے محاصرے میں قلعہ احمد نگر سے خط

("غبار خاطر” میں مولانا ابوالکلام آزاد کے خاص اسلوب سے استفادہ) صدیق مکرم! وہی صبح کا جانفزا وقت ہے۔ چائے کا فنجان سامنے دھرا ہے۔ نسیم صبح کا مزاج بدلتا محسوس  کررہاہوں۔ بہار کا موسم گل بکف رخصت ہوا چاہتا ہے اور گرمیوں کی آمد آمد ہے۔ یوں بھی قلعے کے دیواروں کے بیچ بہار کی آفرینیوں کا کیا کام۔ آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی موسم کی نیرنگیوں

Read more

دشت کا بہشت کا ، ازل سے ایک منظر ہے فقط آنکھیں بدلتی ہیں

 عادت ہے کہ تصویر یا ویڈیو میں کسی بھی  منظر کو دیکھنے کے بعد اس کا تجزیہ کرنے بیٹھ جاتا ہوں۔تصویر اور منظر کے ان حصوں پربھی غور کرتا ہوں جو ہائی لائٹ نہیں یا غیر اہم ہیں۔ پرانی عادت ہے ۔  وبا کے محاصرے کے دنوں میں بڑی کام آرہی ہے۔ مثلا میرے سامنے کسی شخص کی تصویر ہو تو تصویر دیکھنے کے بعد دیکھتا ہوں کہ اس کے قدموں کے نیچے فرش کس طرح کا ہے۔ پیچھے کیلنڈر

Read more

طیب اردوان اور عمران خان کی تقریر میں فرق: جو ہونا چاہیے تھا

وزیراعظم عمران خان نے کشمیر میں جاری مظالم، پاک بھارت تعلقات میں تناو، اسلامو فوبیا اور مسلم دہشت گردی پر اقوام متحدہ میں ایک بھرپور خطاب کیا ہے۔ سامنے دو مائک اور آگے بڑا مجمع، اچھا خطاب کرنا کچھ ایسا خلاف توقع بھی نہیں تھا۔ مزاجاً خطیب واقع ہوئے ہیں، اور کچھ ہو نہ ہو خطاب وہ اچھا کرتے ہیں۔ کشمیر کے مسئلے پر انہوں نے بھارت اور خصوصا بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ کشمیریوں پر ہونے

Read more

بانڈار، بلوچستان کی قدیم ثقافتی تفریح

بانڈار میں دف، تھال اور ٹین کے ڈبے کے بجنے سے جو آواز پیدا ہوتی ہے اس میں جو سواد ہے وہ طبلے، ہارمونیم وغیرہ کے ملغوبہ آوازوں میں کہاں۔ یہ قدیم دور سے ہی میوزک کنسرٹ، کنجرپن یا اس طرح کے دیگر ناموں سے یاد نہیں کیا جاتا تھا۔ اسے شروع سے ہی ایک ثقافتی تفریح سمجھا جاتا تھا۔ اسی لیے یہ دینی طبقے میں بھی یکساں مقبول تھا۔ حتی کہ مساجد کے حجروں میں جو طلبہ قیام پذیر ہوتے تھے جمعہ کی رات کو جب ان کی پڑھائی کی چھٹی ہوتی تو بانڈار ان کی سرگرمیوں کا لازمی حصہ ہوتا تھا۔

اس میں طلبہ، امام مسجد اور محلے کے لوگ سبھی شریک ہوتے۔ البتہ محلے کے لوگ صرف سامعین ہوتے۔ گائیکی اور دف، تھال وغیرہ بجانے کے تمام امور یہ باریش سفید پوش مولوی ہی سنبھالتے۔ ان کے معاملات میں کوئی اہل محلہ مداخلت کی جرات بھی نہ کرتا، کیوں کہ کوئی ان کے ”معیار“ کا گائیک یا ”میوزیشن“ ہوتا ہی نہ تھا۔ ملا، طالب کی یہ سرگرمی سب میں پسند کی جاتی تھی۔ آج بھی بزرگ لوگ اس دور کو یاد کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ ہمارے ایک بزرگ نے ماضی کی مٹتے ہوئے اقدار کا رونا روتے ہوئے جہاں اور دوسری چیزوں کا ذکر کیا تو بہت زیادہ افسوس کے ساتھ یہ بھی کہا : ”اب مساجد ومدارس کے حجروں میں بانڈار بھی نہیں ہوتے“۔

Read more

یہ تصویر اور داڑھی والے باپ کا خوف

کل شام سے احمد کو بخار ہے۔ سردرد اور گلے کی سوزش، دوا دارو کا سلسلہ جاری ہے۔ میں اور والدہ تو کیا تیمار داری کریں گے۔ بے چینی اور کڑھن تو دادا، دادی کے نصیب میں ہے۔ جتنی بلائیں کل سے اس کی لی جا رہی ہیں۔ ایک سیرپ پلانے کے لیے کتنے جتن کیے جاتے ہیں۔ ایک گلاس دودھ پلانے سے پہلے جتنی دیر اس کے منت ترلے کیے جاتے ہیں۔ دادی بار بار سر پر ہاتھ رکھ

Read more

بے وقعت ورثہ

جرمن ادیب فرانز کافکا کا ناول پڑھ رہا ہوں۔ سوچتا ہوں اسے پڑھنے اور ختم کرنے کے بعد اس کتاب کا کیا کروں؟ یہ جسے میں نے اپنے بچوں کی رزق میں سے پیسے کاٹ کر خریدا ہے۔ پڑھنے اور الماری میں سجا دینے کے بعد میں اسے اپنی بقیہ زندگی میں (اگر ہے بھی تو) کتنی مرتبہ اور اٹھا کے پڑھوں گا؟ شاید کبھی دوبارہ، سہ بارہ پڑھنے کی فرصت ملے۔ یا شاید کبھی اس کے کسی کردار، ماحول،

Read more

بیمار شہروں کے چہرے

ایک شخص بے حال ہورہا ہے۔ اس کابس نہیں چل رہا کہ وہ میونسپل کارپوریشن کے ”کارندوں“ کا کیا کرے۔ میونسپل کا ایک گندا سا ٹرک کھڑا ہے اور کارندے گنے کے جوس کی ایک مشین اٹھا کر گاڑی میں رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ گنے کی مشین کا مالک شخص گونگا ہے۔ وہ بول بھی نہیں سکتا۔ وہ اپنے درد سے چیخ بھی نہیں سکتا۔ زبان پر قدرت کا قفل لگا ہے۔ ہاتھ پاوں بے بس ہیں کہ پولیس کے غراتے، کالے اہلکار سامنے کھڑے ہیں۔ مشین زمین پر گری، ٹوٹی، ادھڑی ہوئی پڑی ہے۔

کارندوں نے مشین اٹھاکر گاڑی میں ڈال دی۔ گونگے کا صبرجواب دے گیا۔ اینٹ اٹھا کر مارنے لگا۔ کارندوں اور اہلکاروں نے اسے پکڑ لیا۔ گاڑی چل پڑی۔ کارندے دوڑ کر گاڑی میں بیٹھ گئے اور وہ لاغر سا گونگا جوان سڑک پر بیٹھ کر بے بسی سے سرپیٹتا اور بین کرتا رہ گیا۔ یہ پنجاب کی کوئی سڑک تھی جہاں سے میونسپل کارپوریشن ناجائز تجاوزات کا خاتمہ کررہی تھی۔

Read more

مکالمے کے منتظر ہیں

زمین و آسمان کی وسعتوں میں پھیلی ہوئی کائنات، اس کائنات کے اجزائے ترکیبی، اجزائے ترکیبی کا ایک ایک ذرہ، ان ذروں میں دوڑتی زندگی۔ اس زندگی کے وسیع تر سائے میں عالم موجودات میں سب سے افضل و برتر اگر کوئی ذات ہے تو وہ رحمہ اللعالمین کی ذات ہے۔ ہم کیا کہیں اس ذات والی صفات کے بارے میں جو ذات باری تعالی کے ستودہ ہیں۔ ایک محدود زبان، محدود سوچ، محدود ذہن اور صلاحیتیوں سے عاری دماغ

Read more

منظور پشتین! احتیاط جناب والا احتیاط

منظور پشتین نے لاہور میں بھی جلسہ کردیا اور کراچی کے جلسے کے لیے تاریخ بھی دے دی۔ منظور نے اس سے قبل کوئٹہ اور پھر پشاور میں بھی جلسہ کیا تھا۔ پشتون تحفظ مومنٹ بنیادی طورپر وزیرستان میں آپریشن کے بعد عوام کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے اٹھائی گئی تحریک ہے۔ جسے باہر کی دنیا میں نقیب محسود کے قتل پر ہونے والے احتجاجی دھرنے کے بعد شہرت ملی ہے۔ اندرون و بیرون ملک شہرت کا عروج

Read more

راما کنور، ثاقبہ کاکڑ: دوش کس کو دیں؟

ادارہ ‘ہم سب’ بخت محمد برشوری صاحب کے خیالات سے سخت اختلاف رکھتے ہوئے اپنی آزادی اظہار کی پالیسی کی بنیاد پر یہ تحریر شائع کر رہا ہے۔ ہمیں برشوری صاحب کی تحریر کے دوسرے پیراگراف کی ان سطروں سے اختلاف ہے۔ \” دیکھنے کو نظر آتا ہے کہ بھائیوں کا کردار ہر جگہ منفی ہے مگر بھائی کیا کرے، اس معاشرے میں پھر اس کی زندگی بھی تو زندگی نہیں رہتی، وہ سماج، پڑوسیوں اور علاقہ بھر کے آگے

Read more