شکر ہے آٹھ مارچ کے خلاف کسی کو تو غیرت آئی
کیا دن دیکھنے پڑ گئے ہیں۔ پنجاب حکومت اور سعودی عرب دونوں ہی بے غیرتی کی راہ پر چل نکلے ہیں تو پھر پنجاب کے غیر مند مسلمان نوجوان مرد بے چارے کدھر جائیں۔ سعودی عرب سے ہماری امیدیں، بم دھماکوں کے خرچے اور مساجد کے اماموں کی تنخواہیں اور وابستہ تھیں لیکن انہوں نے دل ہی توڑ دیا ہے۔ سب سے پہلے عورتوں کے لیے ڈرائیونگ کو حلال قرار دیا۔ پھر عبایا کی پابندی ہٹا دی اور گلیوں بازاروں میں عورتوں کے لباس پر کڑی نظر رکھنے والی اسلامی پولیس ہٹا دی، ویلنٹائن کو حلال قرار دے دیا اور اب عورتوں کی میراتھن بھی کروا دی۔ ہمارا دل ٹوٹ گیا اور ہم پریشان ہو گئے۔ ہم نے تو کئی دہائیاں کوشش کی کہ ہم پاکستان میں سعودی عرب کا اسلام نافذ کر کے پاکستان کو سعودی عرب ہی بنا ڈالیں گے۔ جہاں ہمارا بس چلتا وہاں ہم سعودی اسلام نافذ بھی کر دیتے تھے۔ پنجاب یونیورسٹی ہی کی مثال لے لیں۔
ہم نے پنجاب یونیورسٹی میں عورتوں کو سعودی عرب کی ”فیل“ (feel) دینے کی کامیاب کوشش کی تھی۔ وہاں پر کوئی خاتون پروفیسر بھی اپنے مرد شاگردوں کے ساتھ بیٹھ کر چائے وغیرہ نہیں پی سکتی تھی۔ سعودی عرب ہی کی طرز پر غیرت مند برگیڈ کے نوجوان ساری یونیورسٹی میں گھومتے اور طلبا اور طالبات کو حیا کا سبق پڑہاتے رہتے اور کہیں بھی لڑکیوں اور لڑکوں کو اکٹھا دیکھتے تو برائی کو ہاتھوں سے روک دیتے اور باقیوں کو بھی عبرت ہو جاتی۔ پھر ہم میں سے کچھ زیادہ خوش قسمت اور نیک نوجوان طالبان بن گئے تو انہوں نے ہر اس جگہ غیرت کی یہی اخلاقیات نافذ کر دیں۔ کتنا مزا آتا تھا جب افغانستان میں طالبان کی حکومت تھی۔ ہم کافی پر امید تھے کہ پاکستان میں بھی جلد ہی طالبان کا غلبہ ہو گا اور ہم پاکستان میں طالبان کا اسلام نافذ کر کے اسے بھی افغانستان جیسی جنت بنا دیں گے لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا اور اب سعودی عرب کے بدل جانے سے ہماری امید اور بھی کم ہو گئی ہے۔
ہم نے یہ سب کچھ سعودی عرب ہی سے سیکھا تھا اور وہی کلچر لانا ہمارا مقصد بھی تھا اس لیے اب تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔ یہ تو شکر ہے کہ ہم سوچنے اور شرمندگی محسوس کرنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ ورنہ سعودی عرب میں عورتوں کو ”آزاد“ کرنے کی خبریں پاکستانی میڈیا ایسے سناتا ہے جیسا کہ ہمیں طعنے مار رہا ہو۔ میڈیا کے ان طعنوں کی تو خیر ہے کیونکہ ان میں اکثر ہمارے جیسے ہی ہیں لیکن یہ لنڈے کے لبرل بھی سوشل میڈیا پر اسی طرح کی پوسٹیں لگا رہے ہیں۔ ہم ابھی تک چپ ہی ٹھیک ہیں۔ اب ہم کوئی نیا بیانیہ لے کر آئیں گے پھر ہی لب کھولیں گے۔ ویسے دنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔ کیونکہ سعودی عرب کو غیر اسلامی بھی تو نہیں کہہ سکتے۔ ویسے سچی بات ہے یہ جو تبدیلیاں آ رہی ہیں یہی ہمارا کل کا مذہبی کلچر بن جانا ہے۔ جیسے آج فوٹو بنوانا اور چھاپہ خانہ حرام نہیں لگتا اسی طرح کال ویلنٹائن منانا بھی حلال ہی لگے گا۔ میں تو اس ساری صورت حال میں بہت کمزور محسوس کرنے لگا ہوں۔
آپ کو یاد ہی ہو گا چند سال قبل لاہور میں ایک میراتھن کا انتظام کیا گیا تھا جس میں عورتوں نے بھی شامل ہونا تھا تو ہم نے اس وقت اس بے غیرتی کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا اور یہ حرکت کرنے والوں کو سڑک پر خوب سبق سکھایا تھا۔ لیکن اب جب کہ سعودی عرب خود ایسی حرکتیں کرنے لگ گیا ہے تو پھر کیا کیا جا سکتا ہے۔ اب یہاں بھی ایسا ہی چلے گا۔ اور جیسا کہ یہ لنڈے کے لبرل کہتے تھے کہ اس طوفان کو روکنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اب لاہور نے عورتوں کا عالمی دن منایا ہے۔ ساری بڑی سڑکوں پر عورتوں کے فوٹو والے بڑے بڑے پوسٹر لگائے ہیں اور ان کے کارناموں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب بھلا عورتوں کے کارناموں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور ان کی حوصلہ شکنی کی بجائے حوصلہ افزائی کرنا معاشرے کو مکمل تباہ کرنے کے سازش نہیں تو اور کیا ہے۔ ہم غیرت مند نوجوان اس سارے غیر اسلامی تماشے کو روکنے کی خاطر کوئی اجتماعی ایکشن کا سوچ بھی نہیں سکے۔ میں بہت پریشان تھا۔
میں چہل قدمی کرتا ہوا لاہور کی ایک بڑی سڑک پر جا رہا تھا اور یہ سارے پوسٹر دیکھ کر دل ہی دل میں اس قوم کے اخلاق اور غیرت کا جنازہ نکلنے کا افسوس کر رہا تھا کہ میری نظر ایک پوسٹر پر پڑی جو شاید ملکہ ترنم نور جہان کا تھا۔ اس پوسٹر پر نور جہان کے فوٹو کو سپرے پینٹ کی مدد سے غیرت کے دائرے کے اندر لایا گیا تھا۔ اس پوسٹر کو دیکھ کر دل کو کچھ تسلی ہوئی کہ اس قوم کے نوجوان کی غیرت ابھی مری نہیں۔ کوئی تو ہے جو اب بھی پر امید ہے کہ آٹھ مارچ منانے جیسی بے غیرتی کے سیلاب کے آگے بند باندھنے کو تیار ہے۔


