لڑکیاں پنجاب یونیورسٹی لاہور کی

پنجاب یونیورسٹی لاہور چھوڑے ہوئے 30 سال ہونے کو ہیں مگر زخم آج بھی تازہ کے تازہ ہیں۔ کریدنے کی ضرورت ہی نہیں۔ جن لوگوں نے پنجاب یونیورسٹی میں پڑھا نہیں وہ اسلامی جمعیت طلبہ کی قدامت پسند اور بے رحم ڈکٹیٹرشپ کا اندازہ نہیں لگا سکتے چاہے انہوں نے جنرل ضیاالحق کا مارشل لاء ہی کیوں نہ گزارا ہو۔ کیونکہ ضیاالحق نے دہشت گردی کو جنم دیا مگر جنرل ضیاالحق کا اپنا جنم اسلامی جمعیت طلبہ  کے بطن سے ہوا۔ اس لئے دونوں کا کردار ایک دوسرے کو مضبوط بنانے اور اس خطے یعنی پاکستان اور افغانستان میں انسانیت کو کمزور کرنے میں بہت اہم اور واضح ہے۔

Read more

مدرسے کے لڑکوں کو بھی عبایہ پہننے کا حکم جاری کریں

پی ٹی آئی نے ملک کے اہم مسائل کو جڑ سے پکڑ لیا ہے اور حل کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔ محکمہ تعلیم کے پی نے لڑکیوں کے سکولوں میں وقت کی پابندی اور عبایہ لازمی ڈریس قرار دے دیا ہے۔ عبایہ کی افادیت اور اہمیت پر زور دے کر بتایا گیا کہ اس سے لڑکیاں اپنے جسموں کو مکمل طور پر ڈھانپ سکیں گی اور انہیں جنسی ہراسانی اور باقی تمام قسموں کے جنسی تشدد سے چھٹکارا مل جائے گا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے غوطہ خور ایک خاص قسم کا لباس پہن لیتے ہیں تاکہ غوطہ خوری کے دوران میں شارک ان پر حملہ آور نہ ہو سکے۔

Read more

قندیل بلوچ کے قتل پر شریف لوگوں کی گمبھیر سمسیا

”وہ راتوں کو دیر تک گھر سے باہر رہتی تھی۔ غیر مردوں کے ساتھ شراب پیتی تھی اور وہ مرد اس کے ساتھ کیا کیا نہیں کرتے ہوں گے۔ قندیل بلوچ تو اپنی مرضی کی زندگی گزار رہی تھی لیکن آپ نے کبھی اس تکلیف کا اندازہ لگایا جس سے اس کے بے چارے بھائی اور والد ہر روز گزرتے ہوں گے۔ کیسے سامنا کرتے ہوں گے وہ ہر صبح اپنے پڑوسیوں کا۔ “

Read more

پولیس، سستے ہوٹلوں کے مالکان اور نوجوانوں کی ڈیٹ

ہم نے دروازہ آرام سے کھٹکھٹایا تاکہ وہ سمجھیں کہ ویٹر آیا ہے۔ اس نے تھوڑا ٹائم لیا، شاید کپڑے وپڑے سنبھال رہے ہوں گے، لیکن پھر دروازہ کھول دیا۔ ہم نے اندر داخل ہوتے ہی لڑکے پر پستول تان لیا۔ اس کی شاید ضرورت بھی نہیں تھی، ہماری وردیاں ہی کافی تھیں ان کی جان نکال دینے کے لیے لیکن پھر بھی پستول کی اپنی ہی دہشت ہے۔ ظاہر ہے بہت گھبرا گئے۔ ان دونوں کو چپ لگ گئی۔ ان کی شکلیں دیکھنے والی تھیں۔ میں نے آگے بڑھ کر لڑکے کے منہ پر دو تھپڑ لگائے اور اس سے پوچھا کہ کسی اچھے گھر کی ہے یا کہیں سے گشتی پکڑ لائے ہو۔

Read more

ایک لڑکی بنی قندیل بلوچ

ایک لڑکی بنی قندیل بلوچ، وہ اپنی ادنی حیثیت ہی بھول بیٹھی۔ اسے اپنی کسی غلطی کا احساس تک نہیں تھا، حالانکہ اس کی غلطیوں بلکہ جرائم کی لسٹ بہت لمبی تھی۔ سب سے پہلا جرم تو اس کا یہ تھا کہ وہ ایک لڑکی تھی۔ وہ ہمارے پاک اور غیرت مند معاشرے میں پیدا…

Read more

او بی ایل نہیں اب ایم بی ایس کا دور ہے

میں چاروں بڑے چیفوں کا ٹاؤٹ نہیں تھا۔ ان میں دو میرا بہت ہی خیال رکھتے تھے اور دوسرے دو نے مجھے رخصت پر بھیج دیا تھا۔ یہ جو چیف ہوتے ہیں کچھ میرے سینئر ہوتے ہیں اور کچھ جونیئر لیکن جب وہ چیف بن جاتے ہیں تو پھر چھٹی بھیجنا یا نوکری دینا انہی…

Read more

مجھے کوئی میری نظروں سے نہیں گرا سکتا

میں نے ہر تقریر میں نوجوانوں کو میرٹ کا یقین دلایا اور پھر پنجاب کا وزیر اعلی دیا۔ صرف یہی نہیں اس بے چارے کا دفاع بھی کرتا ہوں۔ لوگ مجھے برا بھلا کہتے ہیں اور بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ پاکستان میں ایسا پہلے دفعہ نہیں ہوا۔ ایوب خان چونکہ بہت طاقت ور صدر تھے تو لوگوں کو لگتا کہ صدر ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ بھٹو صاحب نے چوہدری فضل الہی صاحب کو صدر بنا دیا اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ صدر کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔

Read more

سوار وہی صرف گھوڑے بدلے ہیں

پاکستانی سکولوں کا مضمون مطالعہ پاکستان بہت بدنام ہے۔ لیکن پھر بھی اتنا بدنام نہیں جتنا اس نے پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک ایسی قوم تیار ہو گئی ہے جس کے دماغ میں سوال تو پیدا ہوتا ہی نہیں۔ مثلاً پی ٹی آئی کے دوست اگر فیس بک سٹیٹس پڑھتے ہیں کہ ”پی ٹی آئی نے 2013 کا الیکشن ہارا تھا نہ 2018 کا الیکشن جیتا ہے“ تو خوش ہو جاتے ہیں کہ دیکھو لوگ مان گئے کہ 2013 کے الیکشن میں پی ٹی آئی کے خلاف دھاندلی ہوئی تھی۔ وہ یہ بھی دیکھ نہیں پاتے کہ یہ دھاندلی کرنے والے کون تھے؟ اور یہ کہ 2018 میں بھی وہی دھاندلی کیوں نہیں ہوئی۔

Read more

گھبرانا نہیں، کپتان ہے نا

لوگ بلا وجہ پریشان ہیں کہ آئی ایم ایف، پیپلز پارٹی سے مستعار لیا ہوا مشیر خزانہ اور جنات پاکستان کی معیشت کے بارے میں فیصلے کر رہے ہیں اور اس سے پاکستان کی معیشت برباد ہو جائے گی۔ پاکستان قرضوں کی دلدل میں پھنستا جا رہا ہے۔ عام آدمی کی زندگی تنگ ہو گئی…

Read more

جج صاحب کی مبینہ اعترافی ویڈیو پر ایک اور میم

کچھ بھی نیا نہیں ہے اس ویڈیو میں۔ ذرا ٹھہر کر سوچیں کہ اس پریس کانفرنس سے کون سی ایسی بات سامنے آئی ہے جو پہلے ہی ایک کھلے راز کی طرح سب کے علم میں نہیں تھی۔ وہ پہلے جو بڑے مزے سے لوگ کہتے تھے نا کہ اس میں کچھ پردہ نشینوں کے نام آتے ہیں تو وہ سٹیج کب کی گزر گئی ہے۔ اب پردہ نشین خود ہی چھپ کر نہیں بیٹھتے اور چاہتے ہیں کہ ان کے نام آئیں۔ اب تو اپنے کارناموں کا کریڈٹ لینے کی دوڑ ہے۔ اس لیے پردہ نشینوں کے نام آنے کا بہانہ ختم ہو چکا۔

Read more