بوٹ کی کہانی خدمت سے شہرت تک

جوتا بڑی نعمت ہے۔ عوام اور حکومت دونوں ہی جوتے کے سہارے چلتے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ لوگ جوتے پاؤں میں پہن کر چلتے ہیں اور حکومت سر پر پہن کر چلتی ہے۔ اور پھر سردی میں اگر آپ بوٹ کے بغیر چلنے کی کوشش کریں گے تو آپ کے پاؤں سن ہو…

Read more

میڈم اسسٹنٹ کمشنر اٹک کی تقریر اور عقیدے کی چھلنی

پہلے میڈم اے سی اٹک صاحبہ کی انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کی گئی اسلام اور آئین پاکستان مخالف تقریر ملاحظہ فرمائیں۔ ”۔ اور دیکھیں کہ عورتوں کے حقوق۔ کتنے ضروری ہیں اور خواتین کا احترام کرنے سے آپ کتنے بہترین شہری بن سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جو نان مسلمز…

Read more

مشال خان ہو یا سید طفیل الرحمن، اصل خرابی تشدد کو جائز سمجھنا ہے

”آج بروز جمعرات بتاریخ 12 دسمبر 2019 کو لادینیت کے پرچارک طلبہ کے غنڈوں نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام میں اسلامی جمعیت طلبہ کے“ کتاب میلہ ”پروگرام کے اختتامی نشست کے موقعے پر اچانک مسلح حملہ کر کے میرے سب سے چھوٹے، والدین اور بہن بھائیوں کے“ دلارے ”پیارے سید طفیل الرحمن ہاشمی کو“…

Read more

قانون ہاتھ میں لینا جرم تو ہے لیکن جمعیت…

کیا قانون ہاتھ میں لینا جرم ہے؟ اس سادہ، صاف اور مختصر سوال کا جواب تو کسی آئیں بائیں شائیں کے بغیر ہی آنا چاہیئے۔ چاہے آپ اپنی گفتگو کے ذریعے لوگوں کو بے وقوف بنانے کا جتنا بھی تجربہ رکھتے ہوں اور اپنے اس تجربے پر جتنے بھی نازاں ہوں، پلیز اس سوال کا…

Read more

لڑکیاں پنجاب یونیورسٹی لاہور کی

پنجاب یونیورسٹی لاہور چھوڑے ہوئے 30 سال ہونے کو ہیں مگر زخم آج بھی تازہ کے تازہ ہیں۔ کریدنے کی ضرورت ہی نہیں۔ جن لوگوں نے پنجاب یونیورسٹی میں پڑھا نہیں وہ اسلامی جمعیت طلبہ کی قدامت پسند اور بے رحم ڈکٹیٹرشپ کا اندازہ نہیں لگا سکتے چاہے انہوں نے جنرل ضیاالحق کا مارشل لاء ہی کیوں نہ گزارا ہو۔ کیونکہ ضیاالحق نے دہشت گردی کو جنم دیا مگر جنرل ضیاالحق کا اپنا جنم اسلامی جمعیت طلبہ  کے بطن سے ہوا۔ اس لئے دونوں کا کردار ایک دوسرے کو مضبوط بنانے اور اس خطے یعنی پاکستان اور افغانستان میں انسانیت کو کمزور کرنے میں بہت اہم اور واضح ہے۔

Read more

مدرسے کے لڑکوں کو بھی عبایہ پہننے کا حکم جاری کریں

پی ٹی آئی نے ملک کے اہم مسائل کو جڑ سے پکڑ لیا ہے اور حل کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔ محکمہ تعلیم کے پی نے لڑکیوں کے سکولوں میں وقت کی پابندی اور عبایہ لازمی ڈریس قرار دے دیا ہے۔ عبایہ کی افادیت اور اہمیت پر زور دے کر بتایا گیا کہ اس سے لڑکیاں اپنے جسموں کو مکمل طور پر ڈھانپ سکیں گی اور انہیں جنسی ہراسانی اور باقی تمام قسموں کے جنسی تشدد سے چھٹکارا مل جائے گا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے غوطہ خور ایک خاص قسم کا لباس پہن لیتے ہیں تاکہ غوطہ خوری کے دوران میں شارک ان پر حملہ آور نہ ہو سکے۔

Read more

قندیل بلوچ کے قتل پر شریف لوگوں کی گمبھیر سمسیا

”وہ راتوں کو دیر تک گھر سے باہر رہتی تھی۔ غیر مردوں کے ساتھ شراب پیتی تھی اور وہ مرد اس کے ساتھ کیا کیا نہیں کرتے ہوں گے۔ قندیل بلوچ تو اپنی مرضی کی زندگی گزار رہی تھی لیکن آپ نے کبھی اس تکلیف کا اندازہ لگایا جس سے اس کے بے چارے بھائی اور والد ہر روز گزرتے ہوں گے۔ کیسے سامنا کرتے ہوں گے وہ ہر صبح اپنے پڑوسیوں کا۔ “

Read more

پولیس، سستے ہوٹلوں کے مالکان اور نوجوانوں کی ڈیٹ

ہم نے دروازہ آرام سے کھٹکھٹایا تاکہ وہ سمجھیں کہ ویٹر آیا ہے۔ اس نے تھوڑا ٹائم لیا، شاید کپڑے وپڑے سنبھال رہے ہوں گے، لیکن پھر دروازہ کھول دیا۔ ہم نے اندر داخل ہوتے ہی لڑکے پر پستول تان لیا۔ اس کی شاید ضرورت بھی نہیں تھی، ہماری وردیاں ہی کافی تھیں ان کی جان نکال دینے کے لیے لیکن پھر بھی پستول کی اپنی ہی دہشت ہے۔ ظاہر ہے بہت گھبرا گئے۔ ان دونوں کو چپ لگ گئی۔ ان کی شکلیں دیکھنے والی تھیں۔ میں نے آگے بڑھ کر لڑکے کے منہ پر دو تھپڑ لگائے اور اس سے پوچھا کہ کسی اچھے گھر کی ہے یا کہیں سے گشتی پکڑ لائے ہو۔

Read more

ایک لڑکی بنی قندیل بلوچ

ایک لڑکی بنی قندیل بلوچ، وہ اپنی ادنی حیثیت ہی بھول بیٹھی۔ اسے اپنی کسی غلطی کا احساس تک نہیں تھا، حالانکہ اس کی غلطیوں بلکہ جرائم کی لسٹ بہت لمبی تھی۔ سب سے پہلا جرم تو اس کا یہ تھا کہ وہ ایک لڑکی تھی۔ وہ ہمارے پاک اور غیرت مند معاشرے میں پیدا…

Read more

او بی ایل نہیں اب ایم بی ایس کا دور ہے

میں چاروں بڑے چیفوں کا ٹاؤٹ نہیں تھا۔ ان میں دو میرا بہت ہی خیال رکھتے تھے اور دوسرے دو نے مجھے رخصت پر بھیج دیا تھا۔ یہ جو چیف ہوتے ہیں کچھ میرے سینئر ہوتے ہیں اور کچھ جونیئر لیکن جب وہ چیف بن جاتے ہیں تو پھر چھٹی بھیجنا یا نوکری دینا انہی…

Read more