اچھی عورتوں کے غلامی مارچ کے نعرے

بری عورتوں کے آزادی مارچ سے ہمارے دل چھلنی ہیں۔ ان زخموں کو بھرنے کے لیے اب اچھی عورتوں نے بھی مارچ کی تیاری کر لی ہے۔ اس مارچ کے لیے ہمارے مشرقی معاشرے کی عظیم روایات کے عین مطابق مندرجہ ذیل نعرے تیار کیے گئے ہیں۔ ان نعروں سے ہمارا کھویا ہوا مقام ہمیں واپس مل جائے گا۔

Read more

طوفان میل کیپسول شادی شدہ حضرات کے لیے

”ڈک پک اپنے پاس رکھو“۔ اس میں تو کوئی بے حیائی کی بات نہیں ہے۔ غیرت برگیڈ کو تب برا لگنا چاہیے تھا کہ لڑکی کہے کہ ”اپنی ڈک پک بھیجو“۔ انہوں نے تو منع ہی کیا ہے۔ اس بات پر تو کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ”ڈک پک“ کو دیکھنے سے انکار تو حیا دار خواتین کا کام ہے۔ آپ اس انکار سے برا نہ منائیں اور بالکل پہلے کی طرح کوشش کرتے رہیں ہو سکتا ہے کوئی کہہ دے کہ بھیجو تو آپ ضرور بھیج دیں۔

”اکیلی، آوارہ، آزاد“ اور بد چلن۔ یہ ”اکیلا، آوارہ اور آزاد“ تو ایک لائف سٹائل ہے جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ ہمارے مرد دوستوں میں اگر کسی کو یہ عیاشی نصیب ہو کہ وہ معاشی اور سماجی پریشانیوں سے آزاد ہو، اکیلا ہو، اور آوارگی افورڈ کرتا ہو اور گھوم پھر کر زندگی کو انجوائے کرتا ہو تو سب لوگ اس پر رشک کرتے ہیں۔ ہمارے مرد دوستوں میں جو بھی ایسا کر پائے اسے لوگ آزاد منش ہی کہتے ہیں۔ قریبی دوست اور بعض اوقات وہ خود بھی اپنے آپ کو آوارہ کہہ لیتا ہے۔

Read more

آٹھ مارچ اور تمہاری پیدائش پر ہمارا رونا دھونا

ان گندی تصویروں کو دیکھ کر دل بڑا دکھی ہوا۔ حالانکہ گندی تصویروں کو دیکھ کر اکثر تو دل خوش ہو جاتا تھا لیکن اس دفعہ معاملہ کچھ اور تھا۔ یہ گندی تصویریں تو ہماری پسندیدہ اور خوبصورت گندی تصویروں کو محض لفظوں میں بیان کر رہی تھیں، جو کہ بہت غلط اور ناپسندیدہ عمل ہے۔ یہ گندی تصویریں تو ہماری اپنی ان عورتوں نے اٹھا رکھی تھیں جنہوں نے خود تو کپڑے پہنے ہوئے تھے لیکن ہمارے معاشرے کے کپڑے اتار رہی تھیں اور اسے تباہ کرنے کے درپے تھیں۔ اور ہم مرد آئینہ دکھا دکھا کر چڑا رہی تھیں۔افسوس کہ آزادی کے نام پر اپنے اصلی فرائض سے منکر کچھ خواتین آج اس نہج پر کھڑی ہو چکی ہیں کہ انھیں یہ بھی نہیں پتا کہ آزادی کے نام پر گندی گندی باتیں لکھ کر ان کے ساتھ فوٹو بنوا رہی ہیں جب کہ انہیں شرما کر دور بھاگنا چاہیے تھا۔

Read more

لڑکیوں کو مرضی کی شادی کی اب اجازت ہے

آف کورس نجمہ کو اپنی مرضی کی شادی کی اجازت ہے۔ جہالت کے وہ زمانے گئے جب لڑکیوں کو اپنی مرضی کی شادی کرنے کی اجازت نہیں ہو تی تھی اور ان کے والدیں یا گھر کے مرد خود ہی فیصلہ کر کے ان سے پوچھے بغیر کسی بھی کھونٹے سے باندھ دیتے تھے۔ پھر…

Read more

میریٹل ریپ اور عدم توجہی: لینا حاشر اور صائمہ ملک کی کہانیاں

"برسوں سے امان ایک مانوس اجنبی کی طرح رابعہ کے ساتھ زندگی کے سفر پر گامزن تھا۔ ۔۔۔۔۔ وہ اس کے پیار بھرے لمس کو ترستی تھی ۔۔۔۔ چھ فٹ کے بستر پر برسوں کے فاصلے حائل تھے۔ ۔۔۔۔ وہ ٹیکنالوجی کی مدد سے گھنٹوں الگ کمرے میں فلمیں دیکھنے میں مگن رہتا" حسب سابق…

Read more

غیرت  کے نام پر قتل اور پاکستانی مسلمان

چند دن قبل پاکستان میں ایک جرگے نے اسلامی تعلیمات کے خلاف عمل کرتے ہوئے ایک لڑکی کو غیرت کے نام پر زندہ جلا دینے کا فیصلہ دیا اوراس فیصلے پر فوراً عمل کرتے ہوئے  لڑکی کو زندہ جلا دیا گیا۔ یہ واقعہ خیبر پختونخوا میں پیش آیا جو کہ غالباً پاکستان کا سب سے زیادہ مذہبی صوبہ سمجھا جاتا ہے ہمارے دانشور  ہمیشہ کی طرح ہمیں یہ باور کرا رہے ہیں کہ  جرگے کا فیصلہ غیر اسلامی ہے اور نہ صرف یہ کہ اس کا ہمارے مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے  بلکہ ہمارا مذہب اور سچے مسلمان اس کی انتہائی مخالفت اور شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم جیسے کم عقل لوگ جنہیں مذہب کا علم  بھی کم ہی ہے تذّبذب کا شکار  رہتے ہیں ان کے لئے آئینہ ہے کہ  اس بھیانک واقعے پر ملک کے مذہبی حلقوں کو شدید ٹھیس  پہنچی ہے اور اسی شدًت سے اس کا رد عمل بھی سامنے آیا ہے۔

Read more

نوکری چھوڑنے والی ہر بہو پچھتاتی ہے

والد صاحب جنوبی پنجاب کے ایک شہر میں دکان کیا کرتے تھے. تھوڑی سی آمدنی تھی۔ بہت پڑھے لکھے نہیں تھے لیکن سیانے تھے اور بیٹیوں کی تعلیم کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ ساری بیٹیوں کو خوب پڑھایا۔ ایک بیٹی ڈاکٹر بن گئی۔ وہ سارے گھر کا فخر تھی۔ گھر میں چونکہ بیٹوں اور بیٹیوں میں کوئی تفریق نہیں برتی جاتی تھی اس لیے بیٹیاں پر اعتماد تھیں اور اپنی حفاظت کر سکتی تھیں۔ ڈاکٹر بیٹی پانچ سال لاہور میں میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں رہی اور مزید تگڑی ہو گئی۔ اپنی ذمے داریوں اور حقوق کو سمجھتی تھی۔ ڈاکٹر صاحبہ کو محکمہ صحت پنجاب میں نوکری مل گئی اور پوسٹنگ بھی لاہور ہی کے ایک سرکاری ہسپتال میں ہو گئی۔

Read more

میں لبرل ہوں، غدار نہیں

میں ایک لبرل پاکستانی شہری ہوں۔ پاکستان کو ایک لبرل معاشرے اور لبرل ملک کے طور پر دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں لبرل ازم کا پرچار کرتا ہوں۔ میرا پرچار کرنے کا طریقہ بھی لبرل ازم کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔ میں اپنی رائے مسلط نہیں کرتا۔ میں پر امن مکالمے کا قائل ہوں۔ میں…

Read more

سڈنی بیچ، قدرتی شرمیلی لڑکیاں اور اندھے مرد

پچھلے برس میں اپنی فیملی کے ساتھ سڈنی ساحل سمندر، باؤنڈی بیچ، گیا۔ یہ نہایت خوبصورت اور صاف ستھری جگہ ہے۔ آسٹریلیا میں آج کل سردیوں کا موسم ہے اور بیچ کی اصلی رونقیں تو گرمیوں میں ہی ہوتی ہے لیکن پھر بھی دن کو اگر آسمان صاف ہو جو کہ یہاں اکثر ہی ہوتا…

Read more

کیا ہمارے بچے اب 16 دسمبروں سے محفوظ ہیں

یہ ڈھاکہ اور پشاور والے 16 دسمبر کے قومی سانحے ہمیں کیوں دیکھنے پڑے؟ یہ بہت اہم سوال ہے جو ہم نے مکمل سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ اپنے آپ سے شاید ہی کبھی پوچھا ہو۔ ارباب اختیار نے ہمیشہ ہی بیرونی ہاتھ کا بہانہ استعمال کیا اور اپنے اندر کبھی نہیں جھانکا۔ جو پاکستان…

Read more