آٹھ مارچ اور تمہاری پیدائش پر ہمارا رونا دھونا

ان گندی تصویروں کو دیکھ کر دل بڑا دکھی ہوا۔ حالانکہ گندی تصویروں کو دیکھ کر اکثر تو دل خوش ہو جاتا تھا لیکن اس دفعہ معاملہ کچھ اور تھا۔ یہ گندی تصویریں تو ہماری پسندیدہ اور خوبصورت گندی تصویروں کو محض لفظوں میں بیان کر رہی تھیں، جو کہ بہت غلط اور ناپسندیدہ عمل ہے۔ یہ گندی تصویریں تو ہماری اپنی ان عورتوں نے اٹھا رکھی تھیں جنہوں نے خود تو کپڑے پہنے ہوئے تھے لیکن ہمارے معاشرے کے کپڑے اتار رہی تھیں اور اسے تباہ کرنے کے درپے تھیں۔ اور ہم مرد آئینہ دکھا دکھا کر چڑا رہی تھیں۔افسوس کہ آزادی کے نام پر اپنے اصلی فرائض سے منکر کچھ خواتین آج اس نہج پر کھڑی ہو چکی ہیں کہ انھیں یہ بھی نہیں پتا کہ آزادی کے نام پر گندی گندی باتیں لکھ کر ان کے ساتھ فوٹو بنوا رہی ہیں جب کہ انہیں شرما کر دور بھاگنا چاہیے تھا۔

Read more

کھاتے پیتے لبرل گھروں کی مادر پدر آزاد عورتیں

وہ خوب صورت، آزاد خیال، سگھڑ، پڑھی لکھی اور ذمہ دار تھی اور ایک ماڈرن تہذیب یافتہ مڈل کلاس گھر میں پیدا ہوئی تھی۔ یونیورسٹی تک بہترین تعلیم پائی اور اچھی ملازمت مل گئی۔ شادی کے سلسلے میں بھی کوئی پابندی نہ تھی اور اپنی پسند کے لڑکے سے شادی ہو گئی۔ سسرال کا ماحول بھی میکے جیسا ہی تھا۔ نوکری جاری رہی۔ کتابیں پڑھنا، فلمیں دیکھنا، گھومنا پھرنا اور دوستوں سے ملنا جلنا ویسا ہی رہا جیسے پہلے تھا۔ کچھ عرصہ ہی جوائنٹ فیملی میں رہنا پڑا اور پھر الگ گھر لے لیا اور ہنسی خوشی شفٹ ہو گئے۔ سبھی لوگ بہت پیار کرنے والے اور مددگار تھے۔ سسرال اور میکے سے ملنے کی روٹین بن گئی لیکن روٹین پر عمل بہت ضروری بھی نہ تھا۔ اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق اس میں تبدیلی بھی کر لیتے تھے۔

Read more

جاوید چوہدری اور طالبان ترجمان احسان اللہ کی 2014 میں گفتگو

2014  میں کراچی میں دہشت گردی کے واقعہ میں ایکسپریس ٹی وی چینل کے تین لوگ شہید ہوئے۔ احسان اللہ نے جاوید چوہدری صاحب کے ساتھ لائیو ٹی وی پر اس کی ذمہ داری فخر کے ساتھ قبول کی۔ وہ گفتگو ملاحظہ فرمائیں۔

٭٭٭      ٭٭٭

جاوید چوہدری۔ طالبان کے ترجمان جناب احسان اللہ احسان صاحب نے ابھی فون کیا ہے۔ ۔۔۔ احسان اللہ احسان صاحب اس وقت ہمارے ساتھ ہیں۔۔۔ احسان صاحب ۔۔۔ یہ جو واقعہ ہوا ہے انتہائی افسوس ناک اس پر آپ کوئی تبصرہ ۔۔۔

احسان اللہ احسان: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ سب سے پہلے تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ حملہ طالبان نے کیا ہے اور ہم اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

Read more

بوٹ کی کہانی خدمت سے شہرت تک

جوتا بڑی نعمت ہے۔ عوام اور حکومت دونوں ہی جوتے کے سہارے چلتے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ لوگ جوتے پاؤں میں پہن کر چلتے ہیں اور حکومت سر پر پہن کر چلتی ہے۔ اور پھر سردی میں اگر آپ بوٹ کے بغیر چلنے کی کوشش کریں گے تو آپ کے پاؤں سن ہو…

Read more

میڈم اسسٹنٹ کمشنر اٹک کی تقریر اور عقیدے کی چھلنی

پہلے میڈم اے سی اٹک صاحبہ کی انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کی گئی اسلام اور آئین پاکستان مخالف تقریر ملاحظہ فرمائیں۔ ”۔ اور دیکھیں کہ عورتوں کے حقوق۔ کتنے ضروری ہیں اور خواتین کا احترام کرنے سے آپ کتنے بہترین شہری بن سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جو نان مسلمز…

Read more

مشال خان ہو یا سید طفیل الرحمن، اصل خرابی تشدد کو جائز سمجھنا ہے

”آج بروز جمعرات بتاریخ 12 دسمبر 2019 کو لادینیت کے پرچارک طلبہ کے غنڈوں نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام میں اسلامی جمعیت طلبہ کے“ کتاب میلہ ”پروگرام کے اختتامی نشست کے موقعے پر اچانک مسلح حملہ کر کے میرے سب سے چھوٹے، والدین اور بہن بھائیوں کے“ دلارے ”پیارے سید طفیل الرحمن ہاشمی کو“…

Read more

قانون ہاتھ میں لینا جرم تو ہے لیکن جمعیت…

کیا قانون ہاتھ میں لینا جرم ہے؟ اس سادہ، صاف اور مختصر سوال کا جواب تو کسی آئیں بائیں شائیں کے بغیر ہی آنا چاہیئے۔ چاہے آپ اپنی گفتگو کے ذریعے لوگوں کو بے وقوف بنانے کا جتنا بھی تجربہ رکھتے ہوں اور اپنے اس تجربے پر جتنے بھی نازاں ہوں، پلیز اس سوال کا…

Read more

لڑکیاں پنجاب یونیورسٹی لاہور کی

پنجاب یونیورسٹی لاہور چھوڑے ہوئے 30 سال ہونے کو ہیں مگر زخم آج بھی تازہ کے تازہ ہیں۔ کریدنے کی ضرورت ہی نہیں۔ جن لوگوں نے پنجاب یونیورسٹی میں پڑھا نہیں وہ اسلامی جمعیت طلبہ کی قدامت پسند اور بے رحم ڈکٹیٹرشپ کا اندازہ نہیں لگا سکتے چاہے انہوں نے جنرل ضیاالحق کا مارشل لاء ہی کیوں نہ گزارا ہو۔ کیونکہ ضیاالحق نے دہشت گردی کو جنم دیا مگر جنرل ضیاالحق کا اپنا جنم اسلامی جمعیت طلبہ  کے بطن سے ہوا۔ اس لئے دونوں کا کردار ایک دوسرے کو مضبوط بنانے اور اس خطے یعنی پاکستان اور افغانستان میں انسانیت کو کمزور کرنے میں بہت اہم اور واضح ہے۔

Read more

مدرسے کے لڑکوں کو بھی عبایہ پہننے کا حکم جاری کریں

پی ٹی آئی نے ملک کے اہم مسائل کو جڑ سے پکڑ لیا ہے اور حل کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔ محکمہ تعلیم کے پی نے لڑکیوں کے سکولوں میں وقت کی پابندی اور عبایہ لازمی ڈریس قرار دے دیا ہے۔ عبایہ کی افادیت اور اہمیت پر زور دے کر بتایا گیا کہ اس سے لڑکیاں اپنے جسموں کو مکمل طور پر ڈھانپ سکیں گی اور انہیں جنسی ہراسانی اور باقی تمام قسموں کے جنسی تشدد سے چھٹکارا مل جائے گا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے غوطہ خور ایک خاص قسم کا لباس پہن لیتے ہیں تاکہ غوطہ خوری کے دوران میں شارک ان پر حملہ آور نہ ہو سکے۔

Read more

قندیل بلوچ کے قتل پر شریف لوگوں کی گمبھیر سمسیا

”وہ راتوں کو دیر تک گھر سے باہر رہتی تھی۔ غیر مردوں کے ساتھ شراب پیتی تھی اور وہ مرد اس کے ساتھ کیا کیا نہیں کرتے ہوں گے۔ قندیل بلوچ تو اپنی مرضی کی زندگی گزار رہی تھی لیکن آپ نے کبھی اس تکلیف کا اندازہ لگایا جس سے اس کے بے چارے بھائی اور والد ہر روز گزرتے ہوں گے۔ کیسے سامنا کرتے ہوں گے وہ ہر صبح اپنے پڑوسیوں کا۔ “

Read more