آصف علی زرداری کے اندر باہر کی اسٹیبلشمنٹ


سینیٹ چیئرمین کی سیٹ حاصل کرنے کے لیے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی، سیاسی جماعتوں سے ملاقاتیں کر کے جوڑ توڑ میں مصروف ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے میاں رضا ربانی کو دوبارہ چیئرمین بنانے کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن بے تاب نظر آئی۔ میاں رضا ربانی سینٹ کے چیئرمین بننے سے پہلے بھی دبنگ سمجھے جاتے تھے مگر چیئرمین سینیٹ بننے کے بعد ان کی کارکردگی سے ایوان اور عہدے کا وقار بلند ہوا۔ پاکستان کی سیاست میں یہ روایت ہے کہ پہلے جس بھی امیدوار کا نام کسی سیاسی یا غیر سیاسی عہدے یا پھر عبوری حکومت کو بنانے کے لیے لیا جاتا ہو وہ عموماً رد ہو جاتا ہے۔ بظاہر تو لگ رہا ہے کہ میاں رضا ربانی چیئرمیں سینیٹ کے دوڑ سے باہر ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی تاحیات قیادت کرنے والے میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز شریف کا بیانیہ روز بروز سخت ہوتا جا رہا ہے جس میں وہ ملکی اسٹیبلشمنٹ اور اداروں کو اپنے جلسہ عام سے لیکر میڈیا ٹاک میں للکارتے نظر آتے ہیں اس سے قطع نظر کہ میاں نواز شریف سمیت کئی مسلم لیگی رہنماؤں کو توہین عدالت کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے میاں رضا ربانی اور فرحت اللہ بابر کی سینیٹ کی الوادعی تقریب میں خطابات بھی گرج چمک کے ساتھ میڈیا پر دکھائی دیے جس میں انہوں نے ملک میں غیر سیاسی قوتوں کی مداخلت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔  بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ زیادہ گرج چمک اور ژالہ باری چیئرمین اور سینیٹر کی سیٹ نہ ملنے پر ہوئی۔ یہ ایک ہوائی فائرنگ تھی جس کے کچھ فائر آصف علی زرداری کے اوپر بھی کیے گئے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو ملکی سیاست میں جوڑ توڑ اور چو مکھی لڑائی کا ماہر مانا جاتا ہے اور اب ساری نظریں ان پر ہیں کہ وہ شطرنج کی بساط پر کیا کھیل کھیلتے ہیں۔ کیا وہ چیئرمین سینیٹ کے لیے شیری رحمان یا سلیم مانڈوی والا یا پھر اپنے وکیل خاص یا پھر اپنے ایلچی خاص کو منتخب کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ یا پھر پاکستان مسلم لیگ ن سے میاں رضا ربانی جیسے ہم خیال سینٹر کو فوقیت دیں گے تاکہ میاں نواز شریف جو کام میاں رضا ربانی سے کروانا چاہتے ہیں وہ خود کریں اور خود بھریں۔ اصل میں آصف علی زرداری پاکستان پیپلز پارٹی کے اندر میاں رضار ربانی اور دیگر ان جیسے ہم خیال لوگوں کو اپنی پارٹی کے اندر کی اسٹیبلشمینٹ سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں پارٹی کے اندر اسٹیبلشمنٹ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ ہر سپاسی قیادت اپنی پارٹی میں ٹھوس اور واشگاف مؤقف رکھنے، پارٹی پالیسی اور قیادت پر تنقید کرنے والے رہنماؤں کو پارٹی کی اندرونی اسٹیبلشمینٹ سمجھتے ہیں اور ہر دور میں پارٹی کے اندر ایسے لوگوں کو کوئی بھی عہدہ یا ذمہ داری کے حصول کے لیے دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آصف علی زرداری یہ بھی واضع کر چکے ہیں کہ وہ ملکی اسٹیبلشمینٹ کے ساتھ مل کر ملک کو مشکلات سے نکالنا چاہتے ہیں۔ اس لیے وہ کوئی بھی ایسا کام یا ایسا نام آگے نہیں لائیں گے جس سے ان کی دوبارہ اینٹ سے اینٹ بج جائی۔ آصف علی زرداری کو یہ بخوبی اندازہ ہے کہ ووٹ کے لیے تو طاقت کا سرچشمہ عوام ہے مگر حکومت بنانے اور جوڑ توڑ کے لیے دعا اور دوا کے بغیر کام نہیں چلتا۔ آصف علی زرداری پاکستان مسلم لیگ ن کی مشکلات سے بھرپور فائدہ حاصل کر کے یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ روز روز میثاق جمہوریت نہیں ہوتا۔

اس وقت آصف علی زرداری کی نظر چیئرمین سینیٹ سے زیادہ آنے والے انتخابات پر ٹکی ہوئی ہے اور وہ بساط پر مات اور شہ والی چال کی تیاری میں مصروف ہے۔ اگر پاکستان تحریک انصاف ان کے ساتھ سینیٹ کے اس جوڑ توڑ میں شامل ہو جاتی ہے تو پھر آصف علی زرداری کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہوں گی اور ساتھ ساتھ وہ اپنی کہی ہوئی باتوں کو بھی سچ ثابت کرنے میں یقیناً کامیاب ہو جائیں گے کہ ایک تو عمران خان کو اگر سیاست سیکھنی ہے تو ان سے سیکھے اور دوسرا یہ کہ سینیٹ میاں صاحب کو لینے نہیں دیں گے۔ اگر یہ سب کچھ نہ ہو پایا تو پھر آصف علی زرداری کا بیانیہ وہی پرانا ہوگا کہ اگر وہ چاہتے تو کبھی بھی وہ مسلم لیگ ن کو چیئرمین سینیٹ کی سیٹ نہیں دیتے۔

آج کل نجومی، سیاسی پنڈت اور کچھ دم درود کرنے والے پیر و فقیر آصف علی زرداری کے حق میں فیصلہ سنا رہے ہیں کہ وہ یہ بازی جیت جائیں گے مگر یاد رہے کہ ایک زرداری سب پر بھاری والا نعرہ اس سے پہلے بھی ایک دفعہ ناکام ہو چکا ہے۔

Facebook Comments HS