جوتے کسے پڑنے چاہئیں؟


خواجہ آصف پر سیاہی پھینکی گئی۔ اگلے دن ہی نواز شریف کو جوتا مار دیا گیا۔ جوتا مارنے والا ان سے بمشکل چھے فٹ دور موجود تھا اور جوتا پھینکنے کے بعد وہ آرام سے دونوں بازو بلند کر کے نعرے لگاتا رہا۔ وہ چاہتا تو اس دوران سیدھا نواز شریف پر جسمانی حملہ بھی کر سکتا تھا۔ ویڈیو سے اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ حاضرین کی پہلی صف میں موجود تھا۔

خواجہ آصف پر سیاہی پھینکنے کے بعد نواز شریف کی حفاظت پر مامور افراد کو خاص طور پر نہایت چوکنا ہونا چاہیے تھا۔ خاص طور پر گزشتہ چند ماہ سے گردش کرنے والی ان اطلاعات کے مطابق کہ الیکشن سے پہلے دہشت گرد کسی بڑے لیڈر کو نشانہ بنانے کے خواہاں ہیں، سیکیورٹی میں کسی قسم کی کوتاہی کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن آج نواز شریف کے واقعے کے چند گھنٹوں کے اندر اندر ایک شخص عمران خان کے انتہائی قریب بھی پہنچ گیا۔

فروری 2017 میں شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان کے سوتیلے بڑے بھائی کم جونگ نام کو ملائشیا میں قتل کیا گیا۔ قتل دو خواتین نے کیا تھا۔ ان کو چند افراد نے یہ کہہ کر کانٹریکٹ دیا تھا کہ وہ ایک مذاقیہ ٹی وی پروگرام کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے ان دو خواتین کو مختلف افراد کے چہرے پر بے بی لوشن ملنے کا کہا۔ کئی افراد کے چہرے پر بے بی لوشن ملنے کے بعد ایک دن ائیرپورٹ پر کم جونگ نام کے چہرے پر لوشن ملنے کے لئے کہا گیا جس میں ایک زہر موجود تھا جس کے اثر سے کم جونگ نام کی موت ہو گئی۔ یعنی ایسے طریقے موجود ہیں کہ قاتل صرف قریب ہو کر زہر جلد پر لگا دے تو موت ہو جاتی ہے۔ اس صورت میں کسی انجانے شخص کو نواز شریف کے اتنے زیادہ قریب کیسے جانے دیا گیا؟

ایک سے زیادہ افراد نے نواز شریف کی طرف جوتے مارے ہیں مگر ہم سب سے پہلی صف میں بیٹھے شخص تک ہی بات کو محدود کرتے ہیں۔ اس شخص نے پہلے جھک کر پاؤں سے جوتا نکال کر ہاتھ میں لیا ہو گا، پھر ہاتھ کو کاندھے تک بلند کر کے پیچھے کی طرف لے گیا ہو گا اور اس کے بعد جوتا پھینکا ہو گا۔ اس کے بعد اس نے سکون سے ڈائس کے سامنے کھڑے ہو کر نعرے بازی کی۔ اس سارے عمل میں کم و بیش دس سیکنڈ لگے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نواز شریف کے باڈی گارڈ اس وقت کہاں تھے؟ پہلی صف میں بیٹھنے والوں کی کلیرنس کس نے دی تھی؟ جب ایک شخص اچانک جھک کر اپنے پاؤں سے کوئی ممکنہ آتشیں یا دیگر ہتھیار نکال رہا تھا تو ان پہلے پانچ سیکنڈ کے اندر نواز شریف کی حفاظت پر مامور عملہ کیا کر رہا تھا؟ کیا وہ افراد اس قابل ہیں کہ ان کو کسی بھی اہم شخص کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی جائے؟ خدانخواستہ اس شخص کے پاس کوئی آتشیں ہتھیار یا پھینک کر مارنے والا خنجر ہوتا تو کون ذمہ دار ہوتا؟ کیا سیکیورٹی کے ذمہ داروں کو جوتے نہیں پڑنے چاہئیں؟ (جوتے پڑنا کا محاورہ استعمال کیا گیا ہے۔ مطلب سخت ڈسپلنری ایکشن ہے)۔

کیا ہمارا ملک اس پوزیشن میں ہے کہ کسی بھی بڑی پارٹی کے لیڈر کے دہشت گردانہ حملے کا شکار ہو جانے کو برداشت کر سکے؟ ہم ابھی تک بے نظیر بھٹو کے بعد ملک میں لگنے والی آگ کو نہیں سنبھال پائے۔ اس وقت تو آصف زرداری نے اشتعال کو قابو میں کر لیا تھا۔ خدانخواستہ اب کوئی بڑا نقصان ہو گیا تو ملک میں لگنے والی آگ کون بجھا پائے گا؟ اب تو تمام پارٹیوں کے حامی نہایت جذباتی ہو چکے ہیں۔ کسی ایک کا نقصان بقیہ سب کو بھی نشانہ بنا دے گا۔

یہ لیڈروں کی بھِی ذمہ داری ہے کہ وہ اشتعال پھیلانے سے گریز کریں۔ احترام سے اختلاف کرنے کی طرف راغب ہوں۔ اپنے پیروکاروں کو بھی اس کی تلقین کریں۔ جس طرح نواز شریف کے بدترین مخالف سے لے کر بقیہ اہم لیڈروں نے اس واقعے کی غیر مشروط مذمت کی ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔ مگر وہ یہ بیٹھ کر سوچیں بھی کہ حالات اس نہج تک پہنچے کیوں۔

پہلے سے مسموم سیاسی فضا میں پیر خادم رضوی کا دھرنا مزید آگ لگانے باعث بنا ہے۔ حکومت کو دیگر ریاستی و غیر ریاستی عناصر کے علاوہ خود سیاستدانوں نے بھی بے توقیر کیا ہے۔ حکومت کسی طاقتور شخص یا جماعت کے خلاف کارروائی کرنے سے خود کو معذور پاتی ہے کہ اس کی پشت پر کوئی ایسی قوت ہوتی ہے جس سے ٹکراؤ میں حکومت اپنے لئے پریشانی دیکھتی ہے۔ عقائد کا احترام اپنی جگہ مگر ریاستی قانون کو پوری سختی سے نافذ کرنے کی حمایت کرنی چاہیے۔

اگر ریاستی قوانین کو پائمال کیا جاتا رہا تو کیا ایسی صورت میں ملک چل پائے گا؟ کیا یہاں امن رہ سکے گا؟ یا پھر ہم تیزی سے ایسی نفرتوں کا الاؤ بھڑکاتے رہیں گے جن کا انجام خانہ جنگی کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔ بہتر یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن مل کر ایسی کمیٹیاں بنائیں جو ریاست کی رٹ کو ہر قیمت پر نافذ کرے اور اس معاملے میں سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے اجتناب کیا جائے۔ ریاستی اداروں کو بھی اس معاملے میں حکومت کو فری ہینڈ دینا ہو گا۔ ورنہ وقتی مفاد تو حاصل ہو جائے گا لیکن ملک ڈوب جائے گا۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar