ٹینشن اور ہم ڈاکٹر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پہلے میڈیکل کالج میں داخلہ کی ٹینشن پھر حاضری، روز کالج جانے کی، یونیفارم، ہر دو ہفتے بعد اسسمنیٹ، گھر سے دوری، ہوسٹل میں جیل جیسا کھانا، ہر پروفیسر کے ہاتھوں بےعزتی کو ثواب سمجھنے کی پریشانی، preps کے دن، امتحان کی پریشانی، کمرہ امتحان میں تین گھنٹوں کی سزا۔ سزا اس لیے بھی کہ ایک بندے کو سوالوں کے جوابات نہ آتے ہو اور دوسری طرف باہر جانے کی بھی اجازت نہ ہو اس سے بڑھ کر سزا جب آپ کو پتہ ہو کہ ساتھ والے کو سب کچھ آتا ہے لیکن وہ بتا نہیں رہا اور پھر آخرکار سب سے زیادہ result کی پریشانی۔ اصل بات یہ ہے کہ باقی پریشانیوں کا پتہ تو بس صرف ہمیں ہوتا ہے اور result کی پریشانی گھر والوں کے ساتھ ساتھ پورے محلے کو ہوتی ہے۔ result کے دنوں میں کبھی بندہ ویسے غلطی سے کتاب کھولنے کی کوشش کریں تو ہر کوئی کہتا ہے“ لگتا ہے فیل ہوگیا ہے۔ کسی کو بتا نہیں رہا۔ “ کسی رات ویسے نیند پوری نہ ہو تو ہر کسی شک ہو جاتا ہے کہ فیل ہے شاید اس لیے نیند نہیں آئی ہوگی۔ کسی کو سلام نہ کرے بندہ تو کہتا ہے ”دیکھا ابھی ڈاکٹر نہیں بنا ہی حرکتیں شروع ہیں“۔ اور ان دنوں سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال ”بیٹا result کا کیا بنا ”۔ اتنے سوالوں کے جوابات تو پانچ سال کے امتحانات میں نہیں پوچھے کسی نے ۔

اور جب بندہ ڈاکٹر بنتا ہے تو مریضوں کی بلاوجہ پریشانی۔ کسی پرائے کی شادی میں مفت کا کھانا کھا کر پیٹ خراب کی، آدھی رات میں آپ کی نیند خراب کر کے آپ کو پریشان کرے گا۔ وارڈ میں ہر دوسرا مریض خوب کھا پی رہا ہوگا لیکن جب ڈاکٹر دیکھنے جاتا ہے تو کہتا ہے ڈاکٹر صاحب میرے پاؤں ٹھنڈے ہیں۔

ڈاکٹر کہتا ہے“ بابا آپ اپنے اوپر کمبل ڈال دیں“۔ تو وہ کہتا ہے ڈاکٹر صاحب ”تم میری بات سمجھا نہیں“ اور اصل میں پاؤں ٹھنڈے سے اس کا مطلب موت ہے حالانکہ اس کو پتہ ہوتا ہے کہ اس نے مرنا نہیں اگلے پچاس سال تک بھی لیکن بس ڈاکٹر کو مفت کی پریشانی اس نے دینی ہے اور پھر اس کا بلڈ پریشر وغیرہ دیکھا جاتا ہے۔ کچھ لوگ تو کئی برسوں سے ایک ہی دوائی کھاتے ہیں اور ان کو پتہ ہوتا ہے کہ دن میں کتنی بار اس کو استعمال کر سکتے ہیں یا کتنی بار کھانی ہے لیکن وہ ہر دوسرے دن آ کے پوچھے گا کہ بیٹا اس دوائی کو میں کھانے سے پہلے استعمال کروں یا بعد، سونے سے پہلے استعمال کروں یا بعد۔ ایک تو ہر کوئی اپنے گنجے پن کا علاج چاہتا ہے ” ڈاکٹر صاحب یہ دیکھے ذرا میرے بال گر رہے ہیں لیکن ان کو ڈاکٹر کا اپنا گنجا سر نظر نہیں آتا۔ ہر دوسری خاتون سے اگر پوچھو کھانے میں کیا کھاتی ہو؟ تو کہتی ہے ڈاکٹر صاحب میں تو کھانا ہی نہیں کھاتی۔ تو پھر ایک ہی چیز ہے جس سے یہ موٹی ہوئی ہے اور وہ ہے ڈاکٹروں کا ”دماغ“۔

ہر مریض کے ساتھ کوئی ایک attendant ضرور ہوتا ہے جس کو مریض سے زیادہ اپنی فکر ہوتی ہے اور ہر ڈاکٹر سے کہتا ہے ” ڈاکٹر صاحب میرے لیے بھی کوئی طاقت کی دوائی یا drip لگا دو۔ آج کل لوگ دواؤں کے فائدے سے زیادہ ان کے نقصانات side effects کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ بندے کا دل کرتا ہے کہ بول دے کہ سب سے زیادہ نقصان تو آپ کو موت کے منہ سے نکال کر لانا ہے اور کچھ attendants تو دوائی لکھنے سے پہلے ہی پوچھ لیتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب اس دوائی سے ہمارے مریض کو کوئی نقصان تو نہیں ہو گا۔ اب بھائی دوائی دے رہا ہوں کوئی زہر نہیں۔

کسی جگہ بندہ مہمان بن کر جاتا ہے تو ادھر کوئی ایک 90 سال کا بابا مل ہی جاتا ہے جو کہے گا بیٹا چلتے چلتے جوڑوں میں درد ہو جاتا ہے۔ بندے کا دل کرتا ہے کہ بولے بابا یہ جوڑوں میں درد تو ہم جوانوں کا کام ہے اس عمر میں تو بندہ مر بھی جائے تو اللہ کا شکر ادا کریں۔

بس پتہ نہیں اس پریشانی کو بھی ڈاکٹروں سے کیا محبت ہے ۔ کبھی کبھی تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ جو ڈاکٹر موٹے ہیں یہ کھانے سے زیادہ پریشانی کھا کر موٹے ہوئے ہیں اگر یقین نہیں آتا تو خون کے چند ٹسٹ کر لو پتہ چلے گا کہ خون میں کولیسٹرول کے بجائے پریشانی ہی پریشانی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •