مرد بھی بکتے ہیں مگر دام ذرا اونچے ہیں

میرے یہاں ایک بار پھر محبت کا قحط پڑا ہے۔ شوہر بھا ئی بیٹا تمام رشتہ دار مجھ سے محبت کی گھٹا اُڑا لے گئے ہیں۔ کوئی اتنا کٹھور کیسے ہو سکتا ہے۔ ہوگئے ہیں۔ جب بھی کوئی محبت دینے آتا ہے اُس محبت کا پرائس ٹیگ ساتھ لاتا ہے۔ شوہر کی محبت اپنی ذات کی نفی کرکے خریدی۔ سسر کی محبت حق مہر واپس کر کے خریدی بھائی کے محبت زمین سے دست بردار ہوکر خریدی بیٹے کی محبت نے تو مجھ کو تہی دامن ہی کر ڈالا تھا اگر میں سنبھل نہ جاتی۔ اْس کو رہنے کا مکان دیا اور بیٹیاں چھوڑیں۔ میرے معاشرے کے مردوں کی محبت اور عزت واپس پانے کے لئے شوہر کی تمام بیویوں کو قبولا۔ اپنا ہر حق چھوڑا۔ اکیلی بے کل زندگی اپنائی سوسائٹی کی محبت پانے کے لئے لبوں کو سی لیا محض اندھیری زندگی گزارنی شروع کی۔ محض اس لئے کیوں کے مجھے معاشرہ نفرت کی نگاہ سے نہ دیکھے اپنے جذبات کا قتل کیا۔
پھر بھی قیمت پوری ادا نہ ہوئی کسی بھی رشتے کی۔ کیسے ہوتی؟ محبت کوئی سوداہے؟ کوئی جنس ہے؟ محبت تو ایک احساس ہے۔ پر میرے عزیزوں نے اس احساس کی بھی قیمت لگا دی۔ میں نے بھی ادائیگی کی پر ابھی کچھ قرض چکانے ہیں۔ شوہر کی خاطر اْس کی دیے ہوئے زخموں کو ناسور نہیں بننے دینا۔ اُس کی محبت خرید جو بیٹھی تھی۔ اب جوقرض باقی ہیں اُن میں سے ایک تو یہ ہے کہ دل کمبخت کی رکھوالی کرنا ہے۔ تن سے جدا کیا ہے من سے کیسے کروں؟ نہیں ہوتا۔ زخموں کو پھول بنا کر رکھنا ہے۔ مرجھانے نہیں دینا۔ بھائی کے لئے مجھے ایک 80 سالہ بیوہ کاکردار ادا کرنا ہے۔ جس کے ہاتھ میں تسبیح ہو اور وہ جائے نماز پر سفید بے رنگ لباس پہن کر بیٹھی ہو۔ جذبات کا جوار بھاٹا بھلے مجھے راکھ کر دے مگر بھائی سے محبت کی یہی قیمت ہے۔
بیٹے کی محبت کے لئے ابھی بہت خرچہ کرنا ہے اپنی روٹی خود کمانا ہے اور گھر دیر سے نہیں آنا۔ مطلب سکول سے 1:30 پر چھٹی ہونے کے بعد 2:00 بجے کے بعد 50 سالہ ماں کو جواب دینا ہوتا ہے کہ دیر کیوں ہوئی۔ کہیں ساتھ نہیں لے کر جاتا۔ ڈاکٹر کے پاس بھی نہیں مگرکس ڈاکٹر کے پاس گئی تھی اُس کا بتانا بہت ضروری ہے۔ ڈاکٹر نے کیا کہا یا بیماری کیا ہے دوا کے پیسے ہیں یا نہیں اس کی خبراس نے کبھی نہیں لی۔ ا س کی محبت حاصل کرنے کے لئے مجھے اُس ہاتھ میں اپنی سوچوں کا دھارا دینا ہے مجھے وہ سوچنا ہے جو وہ سوچوانا چاہے۔ مردوں کے معاشرے کے لئے اپنی زبان بند کرلینا ہے۔ زیادہ دوست نہیں بنا نے گو کے وہ سب کو ایجوکیشن میں پڑھتے ہیں اور مر د اور عورت ایک ساتھ کام کرتیں ہیں۔
میں نے دوستیاں نہیں کرنی کسی مرد سے کیوں کے میں بدنام ہو جاؤں گی اور پھر اکیلی عورت سے زمانہ روٹھ جائے گا۔ ہنسی آتی ہے جب کوئی مرد مجھے سہارا دینے کے لئے آگھے بڑھتا ہے تو کمبخت اُسی لمحہ اپنی قیمت بھی بتا دیتا ہے۔ اور قیمت میرے ساتھ بے تکلفی کی حدوں کو پار کرنا ہے۔ مجھے بتائیں محبتیں اپنی ذات کو فنا کیے بغیر مجھے کیوں نہیں ملتیں۔ میں نے تو اپنی محبت ایک روشن دیے کی طرح چوراہے پر رکھ دی ہے۔ آؤ سب اس روشنی میں نہاؤ۔ ذات کے اندھیرے دور کرو۔ حقیقی محبت کا کوئی مول نہیں ہوتا محبت کا عوض محبت بھی نہیں ہوسکتی۔ محبت صرف دینے کا نام ہے۔ پھر مجھ سے اتنی بھاری قیمت کیوں وصول کی جانے کی ٹھان رکھی ہے سب نے یقینایہ کھوٹی محبت ہے۔ بالکل بازارِحسن میں پائی جانے والی محبت پر میں نے زبان دی ہے سب کو کہ میں آپ کی محبت لوں گی۔ ابھی جان باقی ہے محبتوں کا قرض سانسیں اُتاردیں گی۔ میڈان چائنا محبت پر مہر جاپان کی لگی ہے یہ بھی معلوم ہے۔ زیادہ دن چلیں گی نہیں یہ محبتیں اس لئے اب نئی محبتوں کا سودا کرنا ہے مجھے۔ پہلے سے ہی مول تول کرلوں تو اچھا ہے۔ تو کون ہے جو محبت پیچنا چاہتا ہے میں خرید لوں گی۔ کیونکہ زندگی محبت کے بغیر نا مکمل ہے۔
ویسے اگر میں نے پرانا سودا کینسل کردیا تو زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا۔ مجھے سانس آنے لگے گی۔ میرے پر پھیل جائیں گے۔ میری اُڑان اونچی ہو جائے گی مجھ پر زندگی مہربان ہو جائے گی۔ ٹھیک ہے میں سارے کانٹریکٹ ختم کرنے کا اعلان کرتی ہوں اور کرب سے نجات حاصل کرتی ہوں۔
آج ابھی اسی وقت تجھ سے اب اور محبت نہیں کی جاسکتی۔
خود کو اتنی بھی اذیت نہیں دی جاسکتی۔


