”کھانا خود گرم کر لو“ مائیکرو ویو اوون ہے نا!


بے خبری بہت بڑی نعمت ہے صاحب۔ ایک بے خبر انسان دنیا و مافیہا سے بے پروا اپنی زندگی کے دن بہت سکون سے گذارتا ہے۔ بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ زندگی کا مزہ ہی بے خبری میں ہے توبے جا نہ ہو گا۔ بے خبر بالغ اور ہر طرح کا نا بالغ ایک طرح سے زندگی کا لطف حاصل کرتے ہیں۔ یعنی فکر نہ فاقہ عیش کر کاکا۔ اگر آپ نے کسی سے کوئی پرانا بدلہ چکانا ہے تو بس اسے خبر دار کر دیں۔ کوئی نہ کوئی خبر اس کے کانوں میں انڈیل دیں۔ کسی خدشے کا شکار بنا دیں۔ بس پھر دیکھیے کتنا مزہ آتا ہے۔ ایک اچھا خاصا خوش مزاج انسان باخبر ہوتے ہی خوش مزاجی بھول جاتا ہے۔ اس کے ماتھے پر تیوریاں نمودار ہو جاتی ہیں۔

مگر لکھنے والوں کے لیے بےخبری عذاب ہے۔ لکھنے کے لیے باخبر رہنا بہت ضروری ہے۔ اگر کوئی خبرنہیں ہو گی تو الفاظ قلم سے برآمد نہیں ہوں گے۔ جب الفاظ برآمد نہیں ہوں گے تو قلم خاموش رہے گا۔ اور اگر قلم خاموش رہے تو لکھنے والے کی ایسی کی تیسی پھر جائے گی۔ لہٰذا ثابت یہ ہوا کہ لکھنے والے زندگی کا لطف ہرگز نہیں اٹھا سکتے کیونکہ انہیں باخبر رہنا پڑتا ہے۔

اسی باخبری کے چکر میں ہم خواتین کے حقوق کے عالمی دن کے موقع پر ایک خبر سے جا ٹکرائے جس میں زور وشور سے ایک بینر کا ذکر تھا جس پر جلی حروف میں کسی دل جلی لڑکی نے لکھا تھا کہ ”کھانا خود گرم کر لو“۔ بینر مزے کا تھا مگر ہم چونکہ خواتین کے حقوق کے بہت بڑے علم بردار ہیں اس لیے ہمیں یہ التجا یا مشورہ یا ہدایت یا نصیحت جو بھی تھا، بہت اچھا لگا۔ ہم نے سوچنے کی کوشش کی کہ وہ لڑکی کتنے ناگفتہ بہ حالات سے گزری ہو گی جس کے بعد اس نے نہایت مجبور ہو کر کھانا گرم نہ کرنے کے حق میں احتجاج کیا۔

عین ممکن ہے کہ اس کے والد صاحب یا بھائی کام کاج سے تھکے ہارے رات گئے گھر واپس آئے ہوں اور گرم کھانا کھانے کی فرمائش اپنی لاڈلی بیٹی سے کر ڈالی ہو۔ ہو سکتا ہے وہ بیٹی ٹی وی پر اپنا من پسند پروگرام دیکھ رہی ہو یا موبائل فون پر اپنے من پسند دوست سے گپ شپ لڑا رہی ہو۔ ایسے میں کھانا گرم کرنا واقعی زہر لگنے لگتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا شوہر رات کی شفٹ میں کام کر کے آدھی رات کے بعد گھر آتا ہو۔ ایسے میں بیوی کی نیند خراب ہو جاتی ہو۔ اکثر نیند خراب ہو جانے کے بعد کھانا گرم کرنا بہت برا لگتا ہے۔

تو ایسے میں مردوں کے لیے ہمارے پاس ایک مفت کا مشورہ ہے۔ اپنے گھر کے لیے ایک مائیکرو ویو اوون خرید لیجیے۔ مائیکرو ویو اوون میں کھانا دو منٹ میں گرم ہو جاتا ہے۔ اس میں کوئی محنت بھی نہیں لگتی۔ بس شیشے کے برتن میں کھانا نکال کر مائیکرو ویو اوون میں رکھیئے اور ٹائمر پر ٹائم سیٹ کر دیجیئے۔ دو منٹ میں گرم گرم بھاپ اڑاتا ہوا کھانا آپ کے سامنے ہو گا۔ مزے لے لے کر کھایئے۔ بلکہ گھر کی خواتین کو بھی اصرار کر کے کھلائیے۔ یہ ان کا بھی حق بنتا ہے۔ آخر پکایا تو انہی نے ہو گا۔ پکا لینے کے بعد انہی سے کھانا گرم کروانا کوئی اچھی بات تو نہیں ہے نا۔

اس سے پہلے کہ اگلے برس خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ”کھانا خود گرم کرلو“ کے بجائے ”کھانا خود پکالو“ کا بینر اٹھا لیا جائے، ایک عدد مائیکرو ویو اوون اور ایک واٹرڈسپنسر فوری طور پر گھر میں لا رکھیے۔ اب آپ پوچھیں گے کہ بھئی یہ واٹر ڈسپنسر کیوں؟ تو جناب برابری کا زمانہ ہے۔ آپ مائیکروویو اوون میں کھانا گرم کیجیے اور ڈسپنسر اور اس پر دھرنے کے لئے انیس لیٹر نیسلے کی بوتل خواتین کے حوالے کر دیجیے۔ آخر ان کا بھی تو کوئی حق ہے۔

Facebook Comments HS

اویس احمد

پڑھنے کا چھتیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ اب لکھنے کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ کسی فن میں کسی قدر طاق بھی نہیں لیکن فنون "لطیفہ" سے شغف ضرور ہے۔

awais-ahmad has 122 posts and counting.See all posts by awais-ahmad