سری لنکا ایک جادو نگری ہے


حیران کن طور پر کینیڈا کی اس پینٹ شرٹ اور چیونگم کھانے والی سلم سمارٹ لڑکی بابا بلھے شاہ کے کلام سے لے کر وارث شاہ کی ہیر تک سے آشنا تھی۔
شام کو مسکراتے اور ہاتھ ہلاتے ہوئے وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ گئی اور میں نوئریلیا کی طرف چلا گیا۔ وہ نوئریلیا دیکھ کر آ رہی تھی اور مجھے ابھی جانا تھا۔

آپ سب نے لیپٹن چائے کا نام سن رکھا ہوگا۔ 1890 میں سری لنکا برطانیہ کی کالونی تھا اور لیپٹن چائے کی فیکڑی کی بنیاد نوئریلیا میں ہی رکھی گئی تھی۔ گلاسکو کے سر تھامس لیپٹن نے یہاں ساڑھے پانچ ہزار ایکٹر زمین خریدی تھی اور یہاں سے براہ راست چائے برطانیہ برآمد کرنا شروع کی تھی۔ پہاڑی سیاحتی شہر نوئریلیا چاروں اطراف سے تا حد نگاہ چائے کے باغات میں گھرا ہوا ہے اور یہاں کے آبشاریں اس کے حسن میں مزید اضافہ کر دیتی ہیں۔ سری لنکا اس وقت بھی دنیا میں چائے پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے۔ سری لنکا 1505 پرتگالی کالونی بنا، 1658 میں یہ ہالینڈ (ڈچ حکومت) کے ماتحت آ گیا اور پھر 1796 میں برطانیہ کے زیر انتظام چلا گیا۔ 1948 میں مکمل آزادی کے بعد بھی اس کا نام سیلون ہی تھا لیکن 1972 میں اس کا نام تبدیل کرتے ہوئے سری لنکا رکھ دیا گیا۔

یورپی تہذیب کے اثرات آج تک یہاں موجود ہیں، لوگ جھگڑالو نہیں ہیں۔ شرح خواندگی نوے فیصد سے زائد ہے اور لوگ دھیمے لہجے میں بات کرتے ہیں۔

یہاں چائے کے دلفریب باغات کے ساتھ بنانے والی فیکڑی کے سیر بھی کی جا سکتی ہے۔ باغات میں چائے کے پتے چننے والی خواتین نے پہلی مرتبہ مجھے یہ فرق سمجھایا کہ سیلون بلیک، وائٹ اور گرین ٹی ایک ہی پودے سے حاصل ہوتی ہے لیکن چائے کے پتوں کی عمر اور سائز میں فرق ہوتا ہے، جس بنیاد پر اسے تین مختلف گیٹیگیرز میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اگر پودے کی جڑوں میں پانی زیادہ دیر تک کھڑا رہے تو چائے کا پودا مرجھانا شروع کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چائے کے باغات پہاڑی علاقے میں ہوتے ہیں۔ زمین ناہموار ہونے کہ وجہ سے پانی نیچے کی طرف بہتا جاتا ہے۔نوئریلیا میں میں جس گیسٹ ہاوس میں ٹھہرا تھا اس کے ساتھ ہی ایک مسجد تھی۔ فجر کی اذان ہوئی تو میں بھی مسجد چلا گیا۔ ویسے تو سنہالی انتہائی منکسرالمزاج اور خوش اخلاق لوگ ہیں لیکن وہاں کے مسلمان بھی پاکستان سے بے حد محبت کرتے ہیں۔ اس چھوٹی سی مسجد میں نماز کے بعد فضائل اعمال کی تعلیم شروع ہو گئی۔ سری لنکا کی مجموعی آبادی کا تقریبا دس فیصد مسلمان ہیں اور ان میں سے ہزاروں مسلمان رائے ونڈ کی تبلیغی جماعت کے ساتھ منسلک ہیں۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ اب ان کا پاکستان جانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے اور پاکستانی سفارت خانہ انہیں بہت کم ویزے جاری کرتا ہے۔ سری لنکا میں مسلمانوں زیادہ تر طبقہ کاروباری ہے۔ کولمبو میں مسلمانوں کا رہائشی علاقہ مہنگے ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔

نوئریلیا کی دنیا بھر میں مقبولیت کی دوسری سب سے بڑی وجہ نوئریلیا سے ایلا تک جانے والی ٹرین ہے۔ جنوبی پہاڑوں کے بادلوں، چائے کے باغات اور سرنگوں کے درمیان سے گزرتی ہوئی ٹرین کے اس سفر کو دنیا کا خوبصورت ترین ریلوے سفر قرار دیا جاتا ہے۔
نوئریلیا کو لٹل انگلینڈ بھی کہا جاتا ہے اور سیاحتی مقام پر جگہ جگہ برطانوی سلطنت کے نشانات دیکھے جا سکتے ہیں۔
سمن نے مجھے ریلوے اسٹیشن پر اتارا اور خود ایلا کی جانب گامزن ہو گیا تا کہ ہم وہاں مل سکیں۔میں ٹرین پر بیٹھا ہی تھا کہ مجھے ڈانئیل مل گیا۔ اس کا تعلق کروشیا سے تھا لیکن اس کی رہائش جرمنی میں تھی۔ جلد ہی ہم نے جرمن زبان میں گپ شپ شروع کر دی۔ وہ اس رومانوی سفر کا تجربہ کرنے کے لیے ایلا سے نوئریلیا آیا تھا اور اب واپس ایلا جا رہا تھا۔ ہم دونوں سیٹوں کی بجائے ایک ڈبے کے دروازے میں بیٹھ گئے اور یہ ہمارا بہترین فیصلہ ثابت ہوا۔
ایک طرف بلندو بالا پہاڑ اور دوسری طرف ہزاروں میٹر گہری کھائیاں ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ٹرین بادلوں کی پٹڑیوں پر اڑ رہی ہو۔ایلا میں سمن مجھے اس ہوٹل میں لے کر گیا جو ایک مسلمان کا تھا۔ ہوٹل مالک کی عمر کوئی چالیس برس کے درمیان ہو گی لیکن انتہائی خوش اخلاق اور مہمان نواز تھا۔ اسے پتا چلا کہ اس کے ہوٹل میں ایک پاکستانی ٹھہرا ہے تو وہ اپنے گھر سے مجھے ملنے آیا۔

ڈانئیل اور میں رات کا کھانا کھانے کے بعد ایلا کے بازار میں گھومنے چلے گئے۔ یہ چھوٹا سا بازار ہے لیکن ریستورانوں، پبز اور چائے خانوں سے اٹا اٹ بھرا ہوا ہے۔ وہاں زیادہ تر نوجوان یورپی سیاح ہی گھوم رہے تھے۔ ابھی ہم تھوڑا ہی چلے تھے کہ ایک خوبرو لڑکی نے ڈانئیل کو آگے بڑھ کر گلے لگا لیا۔

ڈانئیل میریسا بیچ سے سیدھا ایلا پہنچا تھا اور یہ جرمن لڑکی بھی اسے وہاں ہی ملی تھی۔ دونوں تین دن تک وہاں دنیا کی رنگینیوں سے لطف اندوز ہوتے رہے تھے لیکن بعد میں دونوں نے اپنے اپنے راستے پر جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے ساتھ ایک دوسری لڑکی بھی تھی۔ ہم چاروں کچھ دیر سڑک کنارے لگی کرسیوں پر بیٹھے اپنی اپنی مرضی کے ڈرنک پیتے رہے لیکن تھکاوٹ اس قدر شدید تھی کہ ہم رات گیارہ بجے ہی اٹھ کر اپنے اپنے ہوٹلوں میں سونے چلے گئے۔

صبح اٹھ کر میں نے میریسا بیچ کی طرف نکلنا تھا لیکن ڈانئیل جافنا جیسے ان تامل علاقوں کو ایکسپلور کرنا چاہتا تھا جہاں سیاح نہیں جاتے۔ ڈانئیل نے موٹر سائیکل کرائے پر لے رکھی تھی۔ سری لنکا کی سڑکوں پر آپ کو خواتین بھی بکثرت موٹر سائیکل، ٹرک، بسیں اور ویگنیں چلاتی نظر آئیں گی۔ سڑکیں بہترین اور صاف ستھری ہیں۔ ہیلمٹ کے بغیر کوئی ایک بھی موٹر سائیکل سوار نظر نہیں آئے گا کیوں کہ خلاف ورزی کرنے والے کو بہت بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔

پہاڑی علاقوں کے علاوہ پورے سری لنکا میں سردیوں میں بھی پچیس سے تیس سینٹی گریڈ رہتا ہے۔ دھوپ چبھنے والی ہے اور ہر دوسری عورت یا مرد نے ہاتھ میں چھتری پکڑی ہوتی ہے۔

مضمون ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ مزید پڑھنے کے لئے نیچے موجود بٹن پر کلک کریں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3