سری لنکا ایک جادو نگری ہے


میریسا کے لیے نکلے تو سب سے پہلے ہم نروانا فالز گئے۔ ایلا سے صرف چھ کلومیٹر کے فاصلے پر یہ سری لنکا کی سب بڑی آبشار ہے۔ یہ لیجنڈری سری لنکن بادشاہ راون سے منسوب ہے۔ ہندو مت کی روایت کے مطابق جب راون نے شہزادی سیتا کو اغوا کیا تھا تو دونوں اسی آبشار کے پیچھے موجود غاروں میں چھپے تھے۔ وہاں سیاحوں کی بھیڑ تھی۔ میں نے آبشار کے ٹھنڈے یخ پانی سے منہ ہاتھ دھویا لیکن اس کوشش میں میرے تمام کپڑے گیلے ہو چکے تھے اور سمن دور کھڑا مسکرا رہا تھا۔

ایلا سے میریسا تک کا راستہ تقریبا چھ گھنٹے کا ہے۔ اس دوران مجھے سری لنکا کے دیہی علاقے دیکھنے کا موقع ملا۔ ہم سری لنکا کے وسطی صوبے سے جنوبی صوبے کی طرف سفر کر رہے تھے۔ بدھ مت میں سفید رنگ کو مقدس رنگ سمجھا جاتا ہے۔ اسکولوں اور کالجوں کے لڑکے لڑکیاں اور اساتذہ سبھی سفید رنگ کے کپڑے اور ساڑھیاں پہنتے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں خواتین کی تعداد مردوں کی نسبت زیادہ ہے۔ دنیا کی سب سے پہلی خاتون وزیراعظم بھی انیس سو ساٹھ میں اسی ملک میں بنی تھی۔ کولمبو اور گال جیسے شہروں میں خواتین مغربی لباس، جینز اور میک اپ میں نظر آتی ہیں لیکن دوسرے صوبوں کی خواتین انتہائی سادہ اور روایتی لباس لنگوٹی کرتے میں نظر آتی ہیں۔ سڑکوں کے کنارے جگہ جگہ کوکونٹ اور دیگر پھلوں کے ٹھیلے نظر آتے ہیں۔ کئی علاقوں میں کیلے کے باغات میلوں پر محیط ہیں جبکہ ایک جگہ ہاتھیوں نے سڑک بلاک کر رکھی تھی۔

بدھ مت میں بھی مردے کو جلا دیا جاتا ہے لیکن غریب خاندان اب دفنانا شروع ہو گئے ہیں۔ فوتگی پر سبھی لوگ سفید لباس پہنتے ہیں۔ مردے کے یاد میں پانچواں، ساتواں، پندرہواں، پچیسواں سے بھی آگے تک بات جاتی ہے جبکہ امراء سالانہ اور ماہانہ ختم بھی دلواتے ہیں۔

سمن نے گاڑی میں ہی مہاتما بدھ کی ایک چھوٹی سے مورتی رکھی ہوئی تھی اور ہر صبح سفر سے پہلے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر دعا مانگتا تھا۔ میں اپنی عربی زبان میں دعا پڑھتا تھا اور یوں ہمارا سفر چلتا رہا۔ سمن صبح صبح اٹھ کر یوگا لازمی کرتا تھا۔ سانس اندر اور باہر لے جانے کے عمل کو سنہالی میں آسواس پرسواس کہتے ہیں۔ پاکستان میں بعض مشائخ ذکر قلبی کرتے ہوئے پاس انفاس کی مشق کرواتے ہیں۔ وہ یوگا کے دوران دل ہی دل میں سب دشمنوں کو معاف کرنے کی مشق کرتا تھا۔

میریسا جنوبی ساحلی شہر ماترا کے قریب واقع انتہائی خوبصورت بیچ ہے۔ سری لنکا کے مشہور وزیراعظم راجا پاکسے کا تعلق بھی ماترا سے ہی ہے۔

میریسا کے گیسٹ ہاوس میں سامان رکھتے ہی میں بیچ کی طرف نکل گیا۔ سمندری پانی ہلکا سبزی مائل ہے اور ساحل پر اونچے اونچے لہلاتے ہوئے ناریل اور پام کے درخت اس کی رنگینی میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔ قدرتی حسن کے لحاظ سے یہ ایک شاہکار ہے۔ میں دیر تک دور سمندر میں ڈوبتے ہوئے سورج کو دیکھتا رہا کہ اچانک مجھے ایک آواز آئی، کیا اس چھوٹی پہاڑی پر جانے کا کوئی راستہ ہے؟ میریسا بیچ کی مغربی سائیڈ پر ایک چھوٹی سی پہاڑی سمندر کے اندر ہے۔ وہاں جانے کے لیے پانی میں اترنا پڑتا ہے۔

یہ ہانگ گانگ سے آئی ہوئی ٹین جوان تھی، جو اپنی سہیلی کے ساتھ میری طرح آج ہی میریسا پہنچی تھی۔ خلاف معمول دونوں کے نین نقش تیکھے تھے۔
میں نے کہا کہ میں خود وہاں جانا چاہتا ہوں لیکن ابھی تک پانی میں نہیں اترا۔ اس نے کہا چلو ٹرائی کرتے ہیں۔ اس وقت پانی صرف گھٹنوں تک تھا اور ہم ایک چھوٹے سے پگڈنڈی نما راستے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس ٹیلا نما پہاڑی تک پہنچ گئے۔

یہ ایک دل کو چھو لینے والا منظر تھا۔ شور مچاتی ہوئی لہریں پتھروں سے ٹکراتی تھیں تو کبھی کبھار پھوار چہرے تک آ جاتی تھی۔ وہ دونوں ایک کمپیوٹر فرم میں کام کرتی تھیں۔ ہم پاکستان اور چین کی باتیں کرتے رہے۔ پھر ٹین نے چینی لوک گیت گنگنانا شروع کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ تم بھی کچھ سناؤ۔ میں نے منصور ملنگی کا “ نی اک پھل موتیے دا مار کے جگا سوہنیے” سنایا۔ انہیں سمجھ تو کچھ نہ آئی لیکن انہوں نے دلچسپی بھی کم نہ ہونے دی۔

اس رات یوں لگتا تھا کہ تیز جگمگاتے تارے ابھی ابھی آپ کی جھولی میں گر جائیں گے۔ ایک طرف لہروں کا شور تھا تو دوسری طرف بیچ پر لگے کھانے کے ٹیبلوں کے پیچھے رنگ برنگی موسیقی کی دھنیں۔ بیچ کے کنارے کچھ سیاح شراب پی رہے تھے، کچھ کھانے میں مصروف تھے اور کچھ اپنی اپنی محبوباوں کی کمر پر ہاتھ رکھے ڈانس کر رہے تھے۔ یہ ایک مسحور کن شام تھی۔ ٹین کی دوست نے ایک دم کہا کہ رات کا ایک بج گیا ہے، دو بجے ان کا ہوٹل بند ہو جائے گا اب چلنا چاہیے۔

واپسی پر پانی مزید اونچا ہو چکا تھا۔ ہم تینوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑے۔ میں نے جیب سے پیسے نکال کر دانتوں میں دبا لیے تاکہ گیلے نہ ہوں۔ تقریبا بیس فٹ لمبا لیکن پرخطر راستہ طے کر کے جب ہم ساحل کی ریت تک پہنچے تو تینوں کمر تک گیلے ہو چکے تھے۔

میں نے اگلے دن گال جانا تھا، وہی گال جہاں کا کرکٹ اسٹیڈیم بہت مشہور ہے۔ ہمیں پتا تھا کہ اب ہم دوبارہ مل نہیں سکیں گے۔ ہم نے الوداعی سلام لیے اور اپنے اپنے ہوٹلوں میں آ گئے۔ میں صبح سویرے دوبارہ بیچ پر گیا تو ماہی گیر مچھلیاں پکڑ رہے تھے۔ یہ بیچ اس قدر خوبصورت ہے کہ تھوڑا سا پانی میں اتریں تو رنگ برنگی مچھلیاں نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ میریسا میں بلیو وہیلز کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ سری لنکا دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس میں ایک ہی دن انسان ہاتھی اور بلیو ویلز دیکھ سکتا ہے۔

صبح دس بجے کے قریب ہم ساوتھ ساحل کے کنارے کنارے گال کی طرف چل دیے۔ یہ پوری ساحلی پڑی انتہائی خوبصورت ہے اور ہر چند کلومیٹر بعد ایک دلفریب بیچ نظر آتا ہے۔ دائیں طرف سڑک ہے درمیان میں سمندری ہوا کے سازوں پر سر ہلاتے پپیتے، کیلے، ناریل اور پام کے درخت ہیں اور بائیں جانب محبت بھری صدائیں لگاتا ہوا سبزی مائل سمندر۔

گال سری لنکا میں پرتگالی آرکیٹیکٹ کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ میں نے کرکٹ میچز میں صرف گال اسٹیڈیم ہی دیکھا ہوا تھا لیکن اس کے ساتھ ہی واقع سولہویں صدی کا تعمیراتی شاہکار گال فورٹ بھی شاندار ہے۔ اس کے اندر ایک شہر آباد ہے اور دیواریں اس قدر چوڑی ہیں کہ ان پر گاڑی چلائی جا سکتی ہے۔ سمندرے کے کنارے واقع اس آہنی قلعے میں جہاں کبھی توپوں کے لیے جگہ رکھی گئی تھی اب وہاں ایک دوسرے کے ہونٹوں پر محبت کی مہریں ثبت کرتے سری لنکن لڑکیاں لڑکے نظر آتے ہیں۔ سری لنکا میں اس قدر سر عام محبت کا اظہار میں نے صرف گال میں دیکھا۔ اس شہر کو تقریبا تین سو سال قبل ڈچ جہاز رانوں نے آباد کیا تھا۔ پہلے یہ بھی مچھیروں کی ایک چھوٹی سے بستی تھی اور مقامی لوگوں کا کل اثاثہ پپیتے، ناریل، پام اور مچھلیاں تھیں۔ گال گورے جسموں والے سیاحوں سے بھرا پڑا تھا۔ نوئریلیا کے سرد پہاڑی علاقے کے علاوہ باقی سبھی علاقوں میں سیاح شارٹس اور ٹی شرٹوں میں نظر آتے ہیں۔

میں ابھی گال میں ہی تھا کہ ٹین کا مسیج آیا کہ اگر تم واپس میریسا آو تو شام کا کھانا میں کھلاوں گی۔ اس کے پندرہ منٹ بعد ہی ڈانئیل کا مسیج آیا کہ وہ بھی میریسا واپس آ رہا ہے کیوں کہ تامل علاقوں میں ہر مارکیٹ شام سات بجے بند ہو جاتی ہے۔

میں یہ آخری رات ہیکوا ڈور بیچ پر گزارنا چاہتا تھا۔ پاکستان کے مشہور کمپئر توثیق حیدر اور میرے مشترکہ دوست ارشاد خان نے مجھے کہا تھا اس بیچ پر ڈوبتا ہوا سورج انسان پر سحر طاری کر دیتا ہے۔
میں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد سمن سے پوچھا کہ کیا ہم واپس اسی ہوٹل میں دوبارہ ٹھہر سکتے ہیں؟
سمن کی آنکھوں میں ایک شریر سی مسکراہٹ تھی۔ تم ٹین کی وجہ سے جا رہے ہو؟ میں نے کہا کہ نہیں ڈانیل بھی وہاں پہنچ رہا ہے۔

رات کو ہم چاروں دیر تک میریسا کے بیچ پر گھومتے رہے۔ لہریں، پانی، چاند اور لہروں کی واپسی کے ساتھ پاوں تلے سے سرکتی ریت ماحول کو خوشگوار بنا رہی تھیں۔ جب رات ایک بجے کے قریب میں ہوٹل واپس آ رہا تھا تو تین چار بہت بڑے بڑے کچھوے پانی سے نکل کر ریت کرید رہے تھے تاکہ انڈے دے سکیں۔ میں وہاں کچھ دیر کے لیے کھڑا ہو گیا۔
ایک لڑکی نے کہا کہ پلیز آپ میری ان کے ساتھ تصویر بنا دیں گے۔ میں نے کہا ضرور، یہ صوفی تھی اور فرانس سے آئی ہوئی تھی۔

ہم میں رسمی سے گفتگو ہوئی اور میں ہوٹل واپس آ گیا۔ اگلی صبح صبح اٹھا تو بالکونی پر دو جنگلی مور بیٹھے ہوئے تھے۔ میں خاموشی سے ان کو، ان کے پیچھے ناریل کے درختوں اور تاحد نظر پھیلے ہوئے پانی کو دیکھتا رہا۔ رقبے کے لحاظ دنیا بھر میں سب سے زیادہ متنوع پرندے سری لنکا میں ہی پائے جاتے ہیں۔ صبح ہوتے ہی پرندوں کی سریلی آوزیں کانوں میں رس بھر دیتی ہیں۔

جانے سے پہلے میں میریسا بیچ کا مغرب کی جانب واقع آخری پتھریلا کونا دیکھنا چاہتا تھا۔ سمن گاڑی میں سامان رکھ رہا تھا کہ میں اس طرف نکل گیا۔
یہ بھی ایک چھوٹی سی پہاڑی تھی جو پام کے درختوں سے بھری ہوئی تھی۔ تیز ہوا کے جھونکوں سے پتوں میں سریلی آواز پیدا ہو رہی تھی۔ چھوٹے چھوٹے کیکڑے پتھروں پر چڑھنے کی کوشش کرتے تو تیز لہریں دوبارہ انہیں سمندر میں بہا کر لے جاتیں۔

میں اپنی سیلفی بنانے لگا تو پیچھے سے ایک آواز آئی میں بنادوں۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو انتہائی مختصر کپڑوں میں ملبوس صوفی کھڑی تھی۔ صوفی فرانس کی کسی پراڈکٹ فرم کے لیے کام کرتی تھی۔ جو دوسرے ملکوں سے اشیاء تلاش کر کے پورپی منڈی میں لانچ کرتی تھی۔ وہ دنیا کے نوے سے زاید ممالک گھوم چکی تھی۔ میں نے پوچھا کہ تمہیں سب سے اچھا ملک کونسا لگا تو اس کا جواب تھا میں بس سری لنکا میں دوسری مرتبہ آئی ہوں اور شاید تیسری مرتبہ بھی آوں۔ میرا خیال تھا کہ شاید وہ کئی ایک دوسری یورپی خواتین کی طرح سری لنکا کے “بیچ بوائز” کی تلاش میں آئی ہے لیکن وہ سری لنکا کے قدرتی حسن اور خوش اخلاق لوگوں سے متاثر تھی۔
اس نے پوچھا کہ شام کا کھانا مل کر کھائیں؟ میں نے جواب دیا کہ میری آج شام فلائٹ ہے۔

میں واپس ہوٹل گیا تو ٹین اس کی سہیلی اور ڈانیل الوداعی ملاقات کے لیے پہنچ چکے تھے۔ یہ ایک حسین سفر کا افسردہ کر دینے والا اختتام تھا۔ وہاں سے نکلا تو راستے میں ربڑ کے درخت دیکھتے ہوئے میں سیدھا کولمبو پہنچا۔ سری لنکا کی موٹروے اور نادرا کا سسٹم بالکل پاکستان کی کاپی ہیں۔

کولمبو کے سرکاری ٹیلی وژن میں دھنوشکے سے ملاقات پہلے ہی طے تھی۔ اس سے فیس بک پر دوستی میرے ایک صحافی دوست کے ذریعے ہوئی تھی۔ میں نے اپنے ایک فیس بک فرینڈ نعمان کو بھی ادھر ہی بلا لیا۔ نعمان سے واقفیت ہم سب کی وجہ سے ہوئی کہ وہ وہاں پر میرے چند آرٹیکل پڑھ چکا تھا۔ نعمان گورا چٹا اور خوبصورت پٹھان ہے اور کولمبو میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ ان سے ملاقات کے بعد فارغ ہوئے تو سمن نے یاد دلایا کہ ہم نے پاکستانی رقاصاوں سے ملاقات کرنی ہے لیکن پتا نہیں کیوں میں نے سمن سے کہا کہ میں جانے سے پہلے آخری مرتبہ اس جادو نگری کے ساحل سے ڈوبتا ہوا سورج دیکھنا چاہتا ہوں۔ سمن مجھے کولمبو کے ایک ساحل پر لے گیا۔
رات دس بجے فلائٹ سے کچھ دیر پہلے ٹین کا میسیج آیا کہ ڈینئل اور ہم تمیں مس کر رہے ہیں۔ میں ہلکا سا زیر لب مسکرایا اور یوگا کرتے ہوئے بدھا کی طرح آنکھیں بند کر لیں۔ (ختم شد)

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3