کیا آپ ایک دن میں پچاس دفعہ ہاتھ دھوتے ہیں؟


جب آپ کسی بھی چیز کو چھوتے ہیں تو کیا آپ کے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ آپ کے ہاتھ گندے ہو گئے ہیں۔ پھر آپ ہاتھ دھونا چاہتے ہیں اور جب ہاتھ دھو لیتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ ہاتھ پوری طرح صاف نہیں ہوئے اور آپ دوسری بار ہاتھ دھوتے ہیں پھر تیسری بار پھر چوتھی بار اور پھر پانچویں بار۔ آخر ایک دن میں آپ پچاس دفعہ سے بھی زیادہ بار ہاتھ دھوتے ہیں۔ اگر یہ صورتِ حال ہے تو یوں لگتا ہے آپ OBSESSIVE COMPULSIVE DISORDER کے نفسیاتی عارضے کا شکار ہیں جسے لوگ اختصار سے OCD کہتے ہیں۔

او سی ڈی کے مریض صرف ہاتھ ہی دن میں بار بار نہیں دھوتے وہ جب غسل کرنے لگتے ہیں تو اپنے جسم پر صابن لگاتے ہیں اور اس پر پانی بہاتے ہیں لیکن اس سے گندگی کا احساس نہیں جاتا اس لیے دوسری بار پھر تیسری بار پھر بار بار صابن لگاتے ہیں اور پانی بہاتے ہیں۔ میری ایک مریضہ دو گھنٹے تک نہاتی رہتی ہے۔ بعض دفعہ تو اس کے خاندان کا سب گرم پانی ختم ہو جاتا ہے اور اس کا بھائی ناراض ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے لیے گرم پانی نہیں بچتا۔

او سی ڈی کے بعض مریض بار بار تالا لگاتے ہیں لیکن تسلی نہیں ہوتی،۔ بعض بار بار چولھا چیک کرتے ہیں۔ بعض ہر کام تین یا چار بار کرتے ہیں۔ بعض کپڑوں کو ایک خاص انداز سے تہہ کرتے اور لٹکاتے ہیں۔ اگر ذرا سی بھی ترتیب خراب ہو جائے تو پریشان ہو جاتے ہیں۔ یہ سب او سی ڈی کی مختلف علامات ہیں۔ لازمی نہیں کہ ہر مریض میں سب علامات موجود ہوں۔

وہ ماہرین نفسیات جو او سی ڈی پر تحقیق کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ او سی ڈی میں موروثی عوامل بھی اہم ہیں اور نفسیاتی عوامل بھی۔ وہ بچے جن کے خاندان میں او سی ڈی یا ڈیپریشن کی بیماری ہو ان کے او سی ڈی سے بیمار ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جنہیں ہر وقت صفائی اور وقت کی پابندی کا خیال رہتا ہے وہ اس سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔

او سی ڈی کے بعض مریض او سی ڈی کے ساتھ ساتھ ڈیپریشن کا بھی شکار ہوتے ہیں اور انہیں دونوں مسائل کا علاج کروانا پڑتا ہے۔

او سی ڈی کا مریض خود تو دکھی ہوتا ہی ہے لیکن اگر وہ رشتہ داروں کے ساتھ رہ رہا ہوتا ہے تو وہ سارے خاندان کو دکھی کر سکتا ہے۔ ایسا مریض دوسروں سے بھی توقع رکھتا ہے کہ وہ سارے گھر کو صاف رکھیں۔ گھر والے کوشش کرتے ہیں کہ مریض او سی ڈی کی عادات اور حرکات کو کم کرے اور مریض اصرار کرتا ہے کہ وہ بیماری کے ہاتھوں مجبور ہے۔ مجھے یہ کالم لکھتے ہوئے ایک شاعر کا شعر یاد آ رہا ہے

دیوانے کے ہمراہ بھی رہنا ہے قیامت

دیوانے کو تنہا بھی تو چھوڑا نہیں جاتا

بعض ماہرینِ نفسیات کا خیال تھا کہ او سی ڈی کے مریض مرد لاشعوری طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ گنہگار بھی ہیں اور ناپاک بھی۔ اس لیے وہ بار بار ہاتھ دھوتے ہیں اور غسل کرتے ہیں تا کہ وہ پاک ہو جائیں لیکن چونکہ ان کے لاشعور میں یہ گرہ لگی ہوتی ہے کہ وہ ناپاکی ظاہری نہیں، باطنی ہے۔ جسمانی نہیں، روحانی ہے اس لیے وہ بار بار ہاتھ دھونے اور غسل کرنے سے بھی نہیں جاتی۔

کئی اور ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ او سی ڈی کی مریض لڑکیاں اور نوجوان خواتین کو جب حیض آنے لگتا ہے تو وہ لاشعوری طور پر خود کو ناپاک سمجھتی ہیں ۔ وہ لڑکیاں جو مذہبی ماحول میں پلی بڑھی ہوتی ہیں وہ حیض کی حالت میں خود کو جسمانی طور پر بھی ناپاک سمجھتی ہیں۔ اس طرح نفسیاتی مسئلہ اور بھی گھمبیر ہو جاتا ہے۔

سگمنڈ فرائڈ کا خیال تھا کہ او سی ڈی کے مریض روایتی طور پر مذہبی نہ ہونے کے باوجود لاشعوری طور پر مذہبی انداز سے سوچتے ہیں۔ اسی لیے ان کے RITUALS مذہبی لوگوں کی طرح ہوتے ہیں اور وہ طہارت اور پاکیزگی کا حد سے زیادہ خیال رکھتے ہیں۔

جو ڈاکٹر اور تھیریپسٹ او سی ڈی کے مریضوں کا خیال رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ان کا علاج کرنا آسان نہیں۔ اس علاج میں مندرجہ ذیل چیزیں مدد کرتی ہیں۔

1۔ تھیریپی۔ ایک ہمدرد تھیریپسٹ مریض کی بات تسلی سے سنتا ہے اور اسے ہمدردانہ مشورے دیتا ہے۔

2۔ جو ادویہ مریض کو مدد کرسکتی ہیں ان میں CHLORPROMAMINE اور SERTRALINE  جیسی ادویہ شامل ہیں جو او سی ڈی کی بھی مدد کرتی ہیں اور ڈیپریشن کی بھی۔

3۔ چند سال پیشتر DR JEFFERY SCHWATZ نے ایک کتابTHE BRAIN LOCK لکھی ہے جس سے او سی ڈی کے مریضوں کو بہت فائدہ ہوا ہے۔ اس کتاب میں ڈاکٹر شوارٹز نے دماغ کی کجی کی تشخیص کی ہے اورمریض کو چند مشورے دیے ہیں

الف۔ مریض یہ بات قبول کرے کہ اسے ایک سنجیدہ نفسیاتی مسئلہ ہے

ب۔ مریض یہ مانے کہ اس مسئلے کا تعلق اس کے دماغ کے ایک حصے سے ہے جو صحیح کام نہیں کر رہا۔ مریض خود سے کہے IT IS NOT ME IT IS OCD

ج۔ صحت مند انسان جب ہاتھ دھو لیتا ہے تو اس کے دماغ کا ایک حصہ دوسرے حصے کو پیغام بھیجتا ہے کہ ہاتھ صاف ہو گیا ہے۔ مریض کے دماغ میں وہ پیغام نہیں جاتا اور مریض بار بار ہاتھ دھوتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے صحتمند انسان کا دماغ آٹومیٹک گاڑی کی طرح ہو جس میں گیر خود بخود بدلتے جاتے ہیں لیکن مریض کے دماغ میں گیر خود بخود نہیں بدلتے اسے سٹینڈرڈ گاڑی کی طرح خود بدلنے پڑتے ہیں۔ اس لیے مریض کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ بار بار ہاتھ دھونے کی بجائے اپنی توجہ بدلے اور کوئی ایسا کام کرے جس سے وہ محظوظ ہوتا ہو، موسیقی سنے فلم دیکھے مزاحیہ ڈرامہ دیکھے، کتاب پڑھے۔ ایسی چیزیں کرنے سے وہ دماغ میں نئے راستے نئے PATHWAYS بناتا ہے جو آہستہ آہستہ راسخ ہو جاتے ہیں اور مریض خود اپنا علاج کرنا شروع کر دیتا ہے۔

مریض کے خاندان کو بھی تھیریپی کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ وہ یہ سیکھیں کہ مریض کے ساتھ کیسے ہمدردانہ سلوک کرنا ضروری ہے۔ تھیریپسٹ مریض کو بھی مشورے دیتا ہے اور خاندان کو بھی۔

او سی ڈی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ امریکہ کی شماریات بتاتی ہیں کہ معاشرے کے دو فی صد لوگ اس بیماری کا شکار ہیں۔ میں نے اپنے مریضوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ڈاکٹر شوارٹز کی کتاب انٹرنیٹ سے خریدیں تا کہ اپنی مدد آپ کر سکیں۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail