نواز شریف کی منافقت اور سینیٹ الیکشن
چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے بعد سینیٹ کا مرحلہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ حزب اختلاف نے یہ مرحلہ 46 کے مقابلہ میں 57 ووٹوں سے جیت لیا۔ مگر کمال اس کے ساتھ یہ ہوا کہ ووٹ کی عزت کا نعرہ لگانے والے لوگوں نے ووٹ کا تقدس ماننے سے انکار کر دیا۔
جی ہاں یہ دلچسپ صورت حال سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب کے بعد سامنے آئی جب حکومتی اتحاد کے قوم پرست اور جذباتی اراکین نے چیئرمین کے انتخاب میں دھاندلی، نوٹ اور طاقت کے استعمال کا شکوہ بلند کرتے ہوئے صادق سنجرانی کے انتخاب کو جمہوریت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے، پارلیمنٹ کا منہ کالا ہونے اور جمہوری قوتوں کے مقابلے میں غیر جمہوری قوتوں کی فتح کے مترادف قرار دیا۔ میر حاصل بزنجو جنہیں کچھ بھی حاصل نہ ہوا سینیٹ میں دورانِ خطاب ان پر ازحد مایوسی اور تقریباً رقت کا عالم طاری تھا۔ محمود خان اچکزئی کو بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی اور سینیٹرز کے گیم الٹا دینے میں نادیدہ قوتوں کا ہاتھ دکھائی دینے لگا اور نواز شریف نے سنجرانی ہاؤس کو دربار قرار دیا جہاں بقول ان کے سبھی ایک ہو گئے۔
عدالت عظمیٰ کے ہاتھوں اپنی نا اہلی کے بعد جہاں نواز شریف پر یہ انکشاف ہوا کہ وہ نظریاتی ہو چکے ہیں وہیں ان پر کچھ دیگر انکشافات بھی ہوئے۔ ان میں ملک میں عدل کی عدم فراہمی اور ووٹ کے تقدس اور عزت کی پامالی بھی شامل ہیں۔ چناچہ نواز شریف صاحب نے اپنے اوپر چلنے والے بدعنوانی کے مقدمات کو تو رکھا ایک طرف کہ سیاست جانے اور مقدمات جانیں اور خود بیڑا اٹھا لیا عوام کو یہ بتانے کا کہ ستر سال سے اس ملک میں میعاری اور سستا عدل ناپید ہے۔ مگر اس میں انہیں ان مقدمات کی مثال دینا یاد نہیں رہی جن میں انہیں افتخار محمد چوہدری کی سپریم کورٹ نے بری کر دیا تھا۔ ان کو صرف وہی مقدمات یاد آ رہے ہیں جن میں ان کی گردن پھنسی ہوئی ہے۔ پھر وہ متوجہ ہوئے ووٹ کی عزت اور تقدس کی جانب اور بستی بستی لوگوں کو جا کر یہ بتانا شروع کیا کہ ان کے ووٹ پر ستر سال سے ڈاکا ڈالا جا رہا ہے۔ اس میں بھی نواز شریف صاحب ڈنڈی مار گئے۔ انہیں عوام کو یہ بتانا یاد نہیں رہا کہ 1990 اور 1996 میں وہی تھے جنہوں نے سازشوں کے جال بچھا کر بے نظیر بھٹو کی حکومتوں کا نہ صرف خاتمہ کروایا تھا بلکہ اقتدار میں آ کر پیپلز پارٹی کے سیاست دانوں کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات بھی قائم کیے تھے۔
نواز شریف قومی احتساب بیورو کا سہرا پرویز مشرف کے سر باندھتے ہیں مگر قوم کو یہ نہیں بتاتے کہ پاکستان میں سب سے پہلے احتساب بیورو ان کے دوسرے دور حکومت میں قائم ہوا جس کے سربراہ بدنام زمانہ سینیٹر سیف الرحمٰن تھے جن کو بعد ازاں احتساب الرحمٰن کے نام سے بھی یاد کیا جاتا رہا۔ کاش نواز شریف قوم کو یہ بھی بتائیں کہ ضیا ءالحق کے مارشل لا کے دوران جب غیر جماعتی انتخابات کی بنیاد پر حکومت بنی تو یہ نواز شریف ہی تھے جنہوں نے اپنے سیاسی اور روحانی پیر کے کانوں میں پھونکیں مار مار کر محمد خان جونیجو کی حکومت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ آصف زرداری کی صدارت کے دور میں پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی عدالت عظمیٰ کے ہاتھوں برطرفی پر خوشی کے شادیانے نواز شریف نے ہی بجائے تھے۔ کالا کوٹ پہن کر ایک جمہوری حکومت کے خلاف عدالت میں بھی نواز شریف ہی گئے تھے۔
سیاست مفادات کا کھیل ہے۔ 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں مسلم لیگ نواز کے وزرا شامل ہوئے۔ بعد میں اختلافات کی بنا پر الگ ہوئے اور شہباز شریف نے آصف زرداری کو الٹا لٹکانے، پیٹ پھاڑنے اور سڑکوں پر گھسیٹنے کے دعاویٰ کیے اور پھر جب ضرورت پڑی تو گھر بلا کر معافی بھی مانگ لی۔ زور خطابت بھی ہو گیا۔ پھر جب آصف زرداری نے اینٹ سے اینٹ بجانے والی تقریر کی تو نواز شریف نے ان سے ملنے اور بات تک کرنے سے انکار کر دیا۔ اب جب نواز شریف مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور پریشان ہیں کہ عدالتیں ان کے خلاف فیصلےدے رہی ہیں تو ایسے میں سینیٹ کے انتخابات میں انہیں پھر آصف زرداری کی یاد آگئی۔
کہتے ہیں مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔ آصف زرداری ایک بار ڈسے جا چکے ہیں دوسری بار وہ پہلو بچا گئے۔ وہ سینیٹ میں اپنا چیئرمین لانا چاہتے تھے مگر عمران خان اس مرتبہ حیران کن طور پر سیاست کھیل گئے اور اپنے تمام سینیٹرز بلوچستان کے نو منتخب وزیر اعلیٰ کے آزاد سینیٹرز کے پینل کے حوالے کر دیے اور شرط یہ لگا دی کہ ووٹ اس صورت میں ہو گا جب چیئرمین سینیٹ بلوچستان سے ہو۔ آصف زرداری کو بھی مجبور ہو جانا پڑا کہ وہ بلوچستان کے آزاد امیدوار کی حمایت کریں ورنہ دوسری صورت میں نواز شریف اپنا امیدوار کامیاب کروا لیتے۔ چناچہ سینیٹ میں زبردست سیاست ہوئی اور نواز شریف اور ان کے اتحادیوں کو شکست ہو گئی۔ اب چاہے وہ اسٹیبلشمنٹ پر الزام لگائیں یا اپنی صفوں میں غدار ڈھونڈتے پھریں۔ سانپ نکل چکا ہے۔ اب صرف لکیر ہی پیٹی جا سکتی ہے۔
اصل مزہ لیکن تب آیا جب نواز شریف نے کل احتساب عدالت کے باہر یہ کہا کہ وہ آئندہ انتخابات میں کسی قدوس بزنجو کو وزیر اعظم نہیں بننے دیں گے۔ ووٹ کے تقدس اور عزت کے نعرے لگانے والے ایک سیاست دان کو 500 ووٹوں کی یہ توہین زیب نہیں دیتی۔ قدوس بزنجو ایک منتخب رکن اسمبلی ہیں۔ وہ اپنے حلقے کے عوام کے ووٹ لے کر اسمبلی میں پہنچے ہیں۔ رکن اسمبلی چاہے ایک لاکھ ووٹ لے کر اسمبلی میں آئے یا ایک سو ووٹوں سے منتخب ہو وہ قابل احترام ہے اور اسے بھی وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم بننے کا اتنا ہی حق ہے جتنا آپ کو تھا۔ آپ کو ان کو عزت دینی پڑے گی نواز شریف صاحب ورنہ آپ کے ووٹ کے تقدس کے نعرے محض کھوکھلے اور مفاد پرستانہ کہلائیں گے۔ عوام یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کیا صرف وہی ووٹ مقدس ہے جو نواز شریف کے نام پر ڈالا جائے؟ کیا کسی دوسرے کو ڈالے جانے ووٹ کی کوئی عزت نہیں؟ جواب آپ کو دینا ہے نواز شریف صاحب اور مفروضوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ ٹھوس اور واضح جواب۔ ورنہ دوسری صورت میں انتخابات میں آپ کے خلاف جو نعرہ لگے گا وہ یہی ہو گا۔ ساڈا کتا، کتا تے تہواڈا کتا ٹامی؟


