اسٹیفن ہاکنگ اور ہمارے نقاد
ہم ان مضطرب نقادوں سے یہ سوال کرنا چاہتےہیں کہ کیا اشیاء کے کسی بھی ضخیم مجموعے یا ان کے مابین نسبتوں کےکسی بھی سلسلے کو جمع کرنے کا یہ مسئلہ فلسفیانہ ہے یا سائنسی؟ دونوں صورتوں میں ایک ایسے حل تک کیوں کر پہنچا جائے جہاں جواب یوں حتمی ہو کہ کم از کم عملی اعتبار سے کوئی دو رائے ممکن نہ ہوں؟ کیا کائنات میں موجود”لامتناہی“ سلسلوں سے متعلق یہ سوالات مثلاً ”یہ کائنات کتنی بڑی ہے؟ “ ، ”اس کی حدود کیا ہیں؟ “ ، ” اس کا پھیلاؤ کیوں کر اور کس درجہ ہے؟ “ کا تجزیہ خالص فلسفیانہ منہج سے ممکن ہے یا پھر خالص سائنسی منہج سے؟ کیا یہ نظری طبیعات کے سوالات ہیں یا فلسفیانہ مابعدالطبیعات کے؟ یا پھر ”حقیقت کیا ہے؟ “ کا بنیادی ترین سوال ہی کہیں بین بین ڈول رہا ہے؟
ظاہر ہے کہ مسلسل بڑھتے ہوئے یہ سوال جلد از جلد اُس اقلیمِ علم میں داخل ہوتے جا رہے ہیں جہاں سائنسی منہج ہی کچھ ایسے جوابات تک رسائی دے سکتا ہے جو ممکنہ حد تک تعین پر اصرار کر سکتے ہوں۔ اگر ہمارے ہاں کے مقامی اہلِ فلسفہ اپنی کسی معذوری کے باعث سائنسی یا ریاضیاتی منہج سے دور رہنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں تو پھر انہیں فلسفۂ مذہب و اخلاق، ادبی تعبیر اوربچے کھچے مابعدالطبیعاتی یا نفسیاتی مسائل کے دائرے ہی میں تحقیق جاری رکھنی چاہیے۔ جہاں تک فلسفۂ ذہن و شعور، لسانیات اور مظہری مباحث کا سوال ہے تو وہاں پر پہلے ہی ایک نیم سائنسی منہج اپنی جگہ بنا چکا ہے اور متعین تعبیری خاکے تیزی سے مبہم تعبیرات کی جگہ لے رہے ہیں۔ اپنے تعصب یا احساس کمتری میں علم دشمنی پر ڈٹ جانا کوئی مثبت سماجی مظہر نہیں۔
واضح رہے کہ ہمارے ہاں کے اس محدود تنقیدی منظرنامے سے بڑھ کرفلسفیانہ منہج میں شامل ابہام پسندی اور فلسفیانہ تحقیق میں ترقی کا یہ مسئلہ ایک وسیع عالمی تناظر رکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اسٹیفن ہاکنگ اپنے پاکستانی نقادوں سے مخاطب تو نہیں تھے۔ فلسفیانہ منہج کے اس عمومی تناظرسے واقفیت کے لیے پچھلی ایک دہائی میں ”میٹا فیلوسفی“ یا مہافلسفہ میں ہونے والی اہم تحقیق پر ایک نظر ڈال لینی چاہیے۔ علاوہ ازیں عمومی فلسفیانہ مسائل یعنی انگریزی عرفِ عام میں ”پرابلمز آف فلاسفی“ پر قلم کشائی کی روایت بہت پرانی ہے اور فلسفے کو عوامی حیثیت میں متعارف کروانے والے کئی اہلِ فلسفہ نے اس عنوان سے مستقل کتابیں بھی تحریر کی ہیں۔ اس عنوان کے تحت شائع شدہ تحقیقی مواد کا کم از کم ڈیڑھ سو سال کا ایک عمومی خاکہ بھی فلسفے کے شائق قارئین کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے تاکہ فلسفے اور سائنس کی ثنویت پسندی میں اپنا حصہ ڈالتے ہمارے ہاں کہ اہل فلسفہ و مذہب کی تنقیدوں کی سطحیت کا درجہ دریافت کرنے میں آسانی ہو۔
یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ کم از کم ڈیڑھ سو سال میں مہا فلسفے یا عمومی فلسفیانہ منہج میں تحقیق کا یہ سلسلہ ہمارے زمانے تک پہنچتے پہنچتے خود اپنے اوپربھی تعین پسند سائنسی منہج کا اطلاق کر چکا ہے۔ اس کی سادہ سی وجہ یہی ہے کہ ابہام پسندی پر مبنی دعوؤں کی جانچ پڑتال، مشاہدے اور تجزیے کے لیے خود فلسفے کے اندر کوئی ایسے طریقے ایجاد نہیں ہو سکے جن کو حتمی مانا جا سکے اور اجتماعی علمی مسائل کے حل میں ان سے مدد لی جا سکے۔ یہ بعینہٖ وہی فرق ہے جو اردو بازار لاہور سے شائع ہونے والی فلسفیانہ مباحث پر مبنی نیم سرقہ زدہ کتابوں اور خالص معطیات (یعنی ڈیٹا) کی بنیاد پر ماقبل تجربی مفروضہ بندی کو جانچ پڑتال کے عمل سے گزار کر تنقید کو کم از کم زبانِ اردو ہی کے مقامی مجلوں میں اشاعت کے لیے پیش کرنے میں ہے۔
مہافلسفے پر سائنسی منہج کا اطلاق اور مبنی بر معطیات تجزیوں کا ایک دلچسپ مظاہرہ دیکھنا ہو توڈیوڈ بورگٹ اور ڈیوڈ چالمرز کا ا یک حالیہ سروے ضرور ملاحظہ کیجئے جس کا عنوان ہے:”فلسفی کیا مانتے ہیں؟ “ (Bourget David, and David J. Chalmers. What do philosophers believe? “ Philosophical Studies 170, no. 3 (2014): 465. 500. )۔
یہ تیس سوالوں پر مشتمل ایک سروے ہے جو امریکہ، یورپ اور براعظم آسٹریلیا کی جامعات میں چوٹی کے نناوے شعبہ ہائے فلسفہ کو بھیجا گیا۔ تجزیاتی فلسفوں سے متعلق تقریباً دو ہزار فلسفیوں نے ان سوالات کا جواب دیا۔ بالفرض اس سروے میں شامل دلچسپ سوالات کے جوابات سے کوئی بھی نتیجہ نہ نکالا جائے تو یہ فی نفسہٖ اس کڑوی گولی کی نشاندہی کے لیے کافی ہیں جو ہمارے ہاں کے نقادوں کے لیے نگلنی مشکل ہے۔ پھر اگر بالفرض ان سوالوں کو چھوڑ بھی دیا جائے جو بظاہر خالص اعتقادی یا تجزیاتی ہیں جیسے وجودِ خدا، جبر و قدر یا اخلاقیات تو بھی یہ کڑوی گولی وہیں کی وہیں رہتی ہے۔ تجریدیت پسندی یعنی مجرد حقیقت کے وجود کے بارے میں انتالیس فی صد فلسفی فلاطونیت پسند جب کہ اڑتیس فی صد اسمائیت پسند ہیں۔ باقی ماندہ کہیں بیچ میں ڈول رہے ہیں۔
کیا کسی معروضی جمالیاتی قدر کا وجود ہے؟ پینسٹھ فی صد کا جواب ہاں جب کہ ستائیس فی صد کا نفی میں ہے۔ باون فی صد کلاسیکی منطق جب کہ پندرہ فی صد غیرکلاسیکی منطق کے حق میں ہیں۔ ستاون فی صد ذہن کے بارے میں ایک مادیت پسند نظریہ رکھتے ہیں جب کہ ستائیس فی صد اس معاملے میں غیرمادیت پسند ہیں۔ ذاتی تشخص کے سوال پر چونتیس فی صد نفسیاتی جب کہ سترہ فی صد حیاتیاتی نظریہ رکھتے ہیں۔ پچھتر فی صد سائنسی حقیقت پسند ہیں جب کہ بارہ فی صد غیرحقیقت پسند ہیں۔ انتقالِ مادہ کے اشکال پر چھتیس فی صد کا خیال یہ ہے کہ موت واقع ہوجائے گی۔ سچائی کے متعلق مختلف فلسفی مختلف نظریات رکھتے ہیں ۔ چھتیس فی صد کا خیال ہے کہ ”زومبی“ کا وجود قابلِ ادراک ہے لیکن مابعدالطبیعیاتی طور پر خارج از امکان ہے، تئیس فی صد مابعدالطبیعیاتی امکان کے حق میں ہیں، جب کہ سولہ فی صد کا خیال ہے کہ ادراک ہی ممکن نہیں۔
ہمارا سائنس کے ”میتھڈ“ پر سوال اٹھاتےنراجیت پسند ناقدین سے یہ سوال ہے کہ آپ یہی بتا دیجیے کہ آخر فلسفیانہ ”میتھڈ“ کیا ہے؟ ظاہر ہے یہ قواعد و ضوابط کا ایک ایسا طریقۂ کار ہونا چاہیے جو ہمیں کم از کم جزوقتی حتمی جوابات مہیا کرے! پھر آخر اس ”میتھڈ“ کا اطلاق کیوں کر ممکن ہو اور اس کےاصول کیا ہوں؟ بالفرض اگر دو فلسفی منطقی منہج پر ہی اتفاق کے قابل نہیں تو آخر فلسفہ تفلسف یا تجزیے کی قابلیت اور تاریخِ فلسفہ یا تاریخ فکر و تجزیہ سے بڑھ کر کیا ہے؟ دو فلسفی جب سامنے موجود شے پر بحث کے دائرۂ کار کا ضابطہ یوں نصب نہیں کر سکتے کہ بحث کم از کم نظری طور پر ہی کسی حتمی انجام کی جانب بڑھے تو اس شدید غیرحتمی منہج کے بالمقابل سائنسی منہج کا سہارا کیوں نہ لیا جائے جو کم از کم شے کے اس حد تک تفہیم و تجزیہ میں حتمی ہے کہ اس پر طبیعیاتی اجارہ داری قائم کر کے اسے انسانی اختیار و ارادے کے تابع کیا جا سکے؟
حقیقت یہ ہے کہ ادب ، فنونِ لطیفہ، لسانی تھیوری، قانون، مابعدالطبیعیات، اخلاقیات، فلسفۂ ذہن و شعور، جمالیات یہاں تک کہ مذہب سے متعلق تعبیری مسائل کی حد تک بھی فلسفہ تیزی سے سائنسی منہج یعنی ماقبل تجربی ریاضیاتی یا نیم ریاضیاتی محکم خاکہ بندی، متعین تجزیاتی ڈھانچوں مثلاً علامتی اور رسمی منطق، معطیات کی بنیاد پر ان خاکوں کی تشکیل وتوسیع، تجرباتی جانچ پڑتال اور ایک بار پھر خاکہ بندی پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے دائرے کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔ ایسے میں اہلِ فلسفہ کو منطق کے علاوہ جدید ریاضی، ڈیٹا سائنس اور تجزیاتی الگورتھم وغیرہ جیسے آلات درکار ہوں گے جن کے حصول کے لئے سماجی تحریکیں چلانا اس سے کہیں اہم ہے کہ مبہم، متروک اور ناکارہ تجزیاتی فلسفوں میں ڈوب کر التباسِ علم کی خوش فہمی سے ایک اونگھتی ہوئی قوم کے نوجوانوں کو تھپکیاں دی جائیں۔
