اٹھارہویں آئینی ترمیم اور اسٹیبلشمنٹ کی ناراضی


آٹھارویں ترمیم کی مخالفت کی سب سے بڑی وجہ آمریت کا راستہ روکنے کی شقیں ہیں جن میں مارشل لاء کو قانونی تحفظ دینے والے ججوں کے لئے سزائے موت رکھی گئی ہے جو اس سے قبل نہیں تھی ۔ ماضی میں چاروں آمریتوں کو قانونی چھتری مہیا کرنے والے جج صاحبان بغیر کسی سزا وجزا کے آزاد پھرتے رہے لیکن آٹھارویں ترمیم میں ایسے آئین شکن ججوں اور گمراہ ڈکٹیٹروں کا علاج تلاش کیا گیا ہے اور آئین معطل کرنے والے بالادست گروہ کو سبق سیکھانے کا راستہ پارلیمنٹ کی اجتماعی دانش سے نکالا گیا ہے۔

اس کے علاوہ آٹھارویں ترمیم میں صوبوں کو آئینی حقوق دئیے گئے جو گزشتہ ستر سالوں سے طالع آزماؤں کی خوف کی وجہ سے نہیں دیئے گئے تھے ۔خاص طور پر تعلیم ‛ صحت ‛ انرجی کے محکمے صوبوں کو ملنے سے مرکزکی مداخلت اور اجارہ داری کمزور کی گئی اور خاص کر تعلیم کے شبے میں نصاب تعلیم صوبوں کو دینے کی وجہ سے ریاست کے ماضی کے سرکاری بیانیے کو ٹھیس پہنچی جس میں آمروں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا رہا اور آمریت کو بہترین نظام حکومت کی داستانیں پڑھائیں جا رہی تھیں اور جمہوریت کو بدترین اور ناقص نظام حکومت سے نشبیہ دی گئی ۔ قومی سیاسی قیادت کو ملک دشمن اور غدار وطن‛ اسلام دشمن اور بد کردار ثابت کرنے کی کوشش کی گئی لیکن آٹھارویں ترمیم کے بعد چند سالوں میں ہی نصاب تعلیم میں سے ایسی گمراہ سوچوں کو منہا کرنے کی کوشش کی گئی اور جمہوریت و انصاف پر مبنی حدوجہد کرنے والے سیاسی اور قومی کرداروں کو مثبت الفاظ میں کتابوں کا حصہ بنایا گیا۔ ہر صوبے نے اپنی ثقافت اور تاریخ کو تکریم دی اس کے علاوہ ڈکٹٹیروں کی مرضی سے نصاب میں نصف صدی سے معصوم بچوں کے اذہان میں پڑوسی ممالک سے دشمنی کا درس ڈالا گیا تھا جس اثر کو آٹھارویں ترمیم کے بعد نصاب میں کافی حدتک حذف کرنے کے امکانات سامنے آئے۔

ماضی میں ریاست نے جن رہنماؤں کو غدار اور مجرم قرار دے کر سزائیں دی ان کے نام پر یونیورسٹیاں اور دیگر ادارے قائم کر کے ماضی کی غلطیوں کی اصلاح کی گئی ۔ سندھ میں ذوالفقار علی بٹھو کے نام پر درسگائیں تعمیر کی گئیں اور خیبر پختونخوا میں باچا خان اور ولی خان کے ناموں پر کالج سکول اور یونیورسٹیاں نظر آئیں یہ سب عوامل جو آٹھارویں ترمیم کے بعد سامنے آئے ریاست کے ستر سالہ پالیسی سے دو ٹوک انحراف تھا جس کی وجہ سے آٹھارویں ترمیم کو اسٹیبلشمنٹ اپنے لئے درد سر سمجھتی آ رہی ہے اوراس کے خاتمے کے لئے کوشاں بھی تھی۔

اس خدشے کا اظہار سابق چیرمین سینٹ رضا ربانی جیسے دور اندیش جمہوریت پسند ایک سال پہلے کر چکے تھے کہ آٹھارویں ترمیم کو مقتدر قوتوں نے قبول نہیں کیا ہے اور اس ترمیم کا مستقبل خطرے میں ہے اور وہی ہوا جس کا ڈرتھا پیپلزپارٹی نے جتنی محنت اس ترمیم کومنظور کروانے میں کی اتنی ہی محنت اس کے خاتمے کے لئے بھی ان چند ماہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مرضی سے کی۔ دیوار کی تحریر یہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ آٹھارویں ترمیم کی جان کے درپے ہوئی ہے اور انہوں نے اس ترمیم کی خالق جماعتوں کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کر دیا ہے اور یہ اسٹیبلشممٹ کی کھلی جیت ہے اور سیاسی قوتیں منہ کے بل گر تی نظر آئی ہیں جو تاریغ میں کبھی معاف نہیں ہو سکیں گی۔

ملال احوال دوستاں بھی

خمار آغوش مہ وشاں بھی

غبار خاطر کے باب سارے

ترے ہمارے

سوال سارے جواب سارے

بہار آئی تو کھل گئے ہیں

نئے سرے سے حساب سارے

(فیض)

Facebook Comments HS