کیا چوہدری نثار نے نواز شریف کو فرعون کہا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چوہدری نثار علی خان مسلم لیگ نواز کے سابق صدر اور موجودہ قائد میاں محمد نواز شریف سے خفا خفا سے ہیں۔ اس ناراضی کا اظہار وہ کئی بار کر چکے ہیں۔ انہوں نے کچھ عرصہ قبل یہ بھی کہا تھا کہ وہ نواز شریف کی قیادت قبول کر سکتے ہیں، انہیں شہباز شریف بطور لیڈر قبول ہیں، لیکن مریم نواز کے تحت وہ کام نہیں کر سکتے۔ کیونکہ مریم تو ان کے بچوں کی جگہ ہیں۔

اس ناراضی میں مزید تلخی مشہور زمانہ ڈان لیکس کے بعد سامنے آئی تو اس وقت بھی چوہدری نثار علی خان لکیر کی دوسری جانب کھڑے تھے۔ ڈان لیکس کا اژدھا وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کو فوراً جبکہ طارق فاطمی اور راؤ تحسین کو تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد نگل گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اکثر باخبر حلقوں کا خیال تھا کہ ڈان لیکس کا ہوّا حکومت کو دباؤ میں لانے اور کچھ نئے ابھرتے ہوئے لوگوں کو شروع ہی میں بریک لگانے کے لیے اٹھایا گیا تھا۔

پانامہ کیس فیصلے کے نتیجے میں نواز شریف نا اہل ہوئے، اس دوران چوہدری نثار علی خان اور نواز شریف کے درمیان تعلقات کافی سَرد پڑ چکے تھے۔ نواز شریف کو اپنے دیرینہ اور وفادار ساتھی سے جس قسم کی توقعات تھیں، وہ پوری نہ ہوئیں، اس مشکل وقت میں پرویز رشید، سعد رفیق، عابد شیر علی، دانیال عزیز اور طلال چوہدری جس طرح میڈیا ٹاکس میں کشتوں کے پشتے لگا رہے تھے اور قیادت کا دفاع کر رہے تھے۔ عین اسی سمے نثار علی خان نواز شریف کو ان کی غلطیاں یاد دلانے لگے اور انہوں نے نواز شریف کے مشیروں کو ایک سے زائد بار خوشامدی قرار دیا۔ اشارہ ان کا پرویز رشید وغیرہ کی طرف تھا۔

چوہدری نثار علی خان نے پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد کم و بیش ہر پریس کانفرنس اور انٹرویو میں خود کو صاف گو اور دبنگ سیاسی کارکن باور کرانے کی کوششش کی اور کہتے رہے کہ وہ ایسے کارکن نہیں بن سکتے جو لیڈر پر جائز تنقید نہ کر سکیں، مسلسل خوشامد اور سب اچھا ہے کا راگ الاپنا اُن کے بس میں نہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کہیں بھی یہ تاثر نہیں دیا کہ وہ پارٹی چھوڑ رہے ہیں یا کسی فاروڈ بلاک کی تشکیل کا ارادہ رکھتے ہیں۔

دوسری جانب مسلم لیگ نواز کے سینئر زعما بھی صحافیوں کی جانب سے سوالات کی بوچھاڑ کے باوجود چوہدری نثار علی خان کے بارے میں محتاط رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں، پرویز رشید نے البتہ ان کے بارے میں دو چار مرتبہ سخت جملے کہے ہیں، پرویز رشید کا خیال ہے کہ نثار مشکل وقت میں پارٹی قیادت کا ساتھ نہیں دیتے اور جب حالات معمول پر آجائیں تو ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لیتے ہیں۔ میرے خیال میں اس کی بنیاد وہی تلخی ہے جو انہیں نثار کی جانب سے بالواسطہ خوشامدی کہنے کے بعد ان کے بیچ در آئی۔ دوسری جانب دو دن قبل وزیر داخلہ احسن اقبال نے ایک ٹی وی مباحثے میں پوچھے گئے چوہدری نثار سے متعلق سوال کے جواب میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنے دیا۔

اب مسلم لیگ نواز کی قیادت باقاعدہ شہباز شریف کے ہاتھ میں جا چکی ہے۔ اور یہ تاثر عام ہے کہ شہباز شریف اور چوہدری نثار کے درمیان گاڑھی چھنتی ہے۔ یہ رائے کچھ ایسی غلط بھی نہیں کیونکہ ان دونوں کے درمیان ابھی تک کوئی واضح اختلاف سامنے نہیں آیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ شہباز شریف اور چوہدری نثار مسلم لیگ نواز کے دو ایسے لیڈر ہیں جن کے بارے میں اسٹیبلشمنٹ کے دِل میں ’میل‘ نہیں ہے، اس لیے بعید نہیں کہ شہباز شریف آنے والے دنوں میں چوہدری نثار علی کو منا لیں۔ یہ بظاہر اسی صورت میں ممکن ہو سکے گا کہ پارٹی میں کوئی ایسا فارمولا متعارف کرایا جائے جس کے تحت مریم نواز کو اپنا ’باس‘ تسلیم کیے بغیر چوہدری نثار کو مناسب جگہ میسر آ سکے۔

چوہدری نثار کی پارٹی قیادت سے ناراضی کے بعد صحافی جب بھی ان سے بات چیت کرتے ہیں تو نثار وہی پرانی کہانی سُنا کر انہیں بغیر کسی خبر کے رخصت کر دیتے ہیں، کھود کرید البتی جاری رہتی ہے۔ رواں ماہ 19 مارچ کو دنیا ٹی وی کے اینکر کامران شاہد نے چوہدری نثار کا تفصیلی انٹرویو کیا، اس انٹرویو میں چوہدری نثار نے کوئی خاص نئی بات نہیں کی، انہوں نے مستقبل میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنے یا کوئی اور پارٹی جوائن کرنے کے تاثر کی واضح الفاظ میں نفی کی، جب کامران شاہد ان کے اور نواز شریف کے درمیان موجود سرد مہری سے متعلق کرید کرید کر پوچھ رہے تھے تو انہوں نے نواز شریف سے ہونے والی ایک ملاقات کا ذکر کیا اور کہا کہ ’میں نے میاں صاحب سے کہا کہ میں ہمیشہ جب آپ سے میٹنگ میں یا انفرادی طور پر بات کرتا تھا تو آپ کے چہرے پر فران (FROWN) نہیں آتا تھا، لیکن ان چار سالوں میں مَیں نے دیکھا ہے کہ جب میں تلخ بات کروں تو آپ کے چہرے پر فران (FROWN) آجاتا ہے۔ میں quote on quote وہی الفاظ publicly کہہ رہا ہوں۔ آگے سے میاں صاحب نے کہا کہ نہیں چوہدری صاحب! مجھے آپ کے جذبات کا بھی احساس ہے، آپ کے Role کا بھی احساس ہے اور آپ نے میرے ساتھ بڑی وفاداری نبھائی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں، اور آپ نیک نیتی سے یہ ساری باتیں کرتے ہیں، تو اس کو بالکل جاری رکھیں، یہ علیحدہ بات ہے کہ میاں صاحب نے یہ کہا ضرور لیکن۔ ۔ ۔ اس کے بعد حالات کچھ اور ہو گئے‘ خیال رہے کہ فران (FROWN) انگریزی لفظ ہے جس کا تلفظ (froun) ہے، جس کا مطلب ہے ’چہرے پر ناپسندیدگی یا ناگواری کے تاثرات‘

یہ انٹرویو ریکارڈڈ تھا۔ جب انٹرویو چلا تو اسکرین پر مسلسل یہ پٹی تھرکتی دکھائی دیتی رہی کہ ’چوہدری نثار نے نواز شریف کو فرعون کیوں کہا‘ حیرت ہے وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا، وہی ٹی وی اینکر کو بھا گئی اور بنا سوچے سمجھے نشر بھی کر دی گئی۔ موجودہ سیاسی صورت حال میں یہ چٹپٹی لائن ظاہر ہے کافی اہم خبر کے طور پر لی گئی۔ پھر اس پر ہی بس نہیں ہوئی، اگلے دن 20 مارچ کو روزنامہ دنیا کے صفحہ اول پر سُپر لیڈ (دوسری بڑی خبر) کے الفاظ دیکھ کر مجھے حیرت کا جھٹکا لگا۔ خبر کی سُرخی یوں جمائی گئی ’نواز شریف کے چہرے پر فرعونیت دیکھی، شہباز شریف کو احکامات نہیں ملنے چاہییں: نثار‘

اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح ایک لفظ کو غلط انداز میں سمجھا گیا اور اسے ایک چٹپٹی خبر کے طور پر نشر اور شائع کر کے سنسنی پھیلائی گئی۔ میں نے اس جانب زیادہ توجہ نہیں دی کہ اب تو یہ معمول بن چکا ہے۔ اخبارات کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں، جنہیں وہ پالیسی قرار دیتے ہیں، لیکن جب کل شب مجھے جب ایک فون کال موصول ہوئی اور استفسار کیا گیا کہ سنا ہے چوہدری نثار نے نواز شریف کے بارے میں بہت سخت الفاظ استعمال کیے ہیں، تو اندازہ ہوا کہ ایک خبر میں دانستہ یا نادانستہ ڈالا گیا ’مسالہ‘ کس طرح بڑی غلط فہمی کو جنم دے سکتا ہے۔ خیال تھا کہ اگلے دن اخبار اپنی اس غلطی پر اعتذار شائع کرے گا کہ یہ صحافتی اخلاقیات کا تقاضا ہے، اور ایسا ماضی میں ہوتا بھی رہا ہے۔ تاہم تادمِ تحریر کسی قسم کی معذرت یا وضاحت سامنے نہیں آئی۔

میں نے اس انٹرویو کو بار بار سنا، اس میں کہیں ’فرعونیت‘ یا ’فرعون‘کا ذکر ہی نہیں تھا، نثار کے الفاظ تھے‘ان چار سالوں میں مَیں نے دیکھا ہے کہ جب میں تلخ بات کروں تو آپ کے چہرے پر فران (FROWN) آجاتا ہے‘، سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس جملے کو موڑ توڑ کر‘فرعونیت‘ کیونکر بنایا جا سکتا ہے؟ پرنٹ میڈیا سے وابستہ لوگ جانتے ہیں کہ اخبارات میں صفحات فائنل ہونے سے قبل کئی ذمہ دار پروفیشنلز (جنہیں صحافتی اصطلاح میں گیٹ کیپرز بھی کہا جاتا ہے) کے سامنے سے گزرتے ہیں۔ خبروں اور مواد کو بار بار ویری فائی کیا جاتا ہے۔ خبری صفحات میں یہ کانٹ چھانٹ رات کے تیسرے بہر تک چلتی رہتی ہے۔ اورصفحہ اول اور بیک پیج پر تو خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ لیکن صفحہ اول پر یہ سُپر لیڈ دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ صرف الیکٹرانک میڈیا ہی بڑے بلنڈرز نہیں کرتا بلکہ اب اس کے اثرات اب موقر سمجھنے جانے والے پرنٹ میڈیا میں بھی دَر آئے ہیں، خدا خیر کرے۔

پس نوشت: یہاں تک کی تحریر ویب پر شائع ہو چکی تھی، پھر مجھے اطلاع ملی کہ اخبار نے آج وضاحتی ترجمان نثار علی کے حوالے سے خبر شائع کی ہے اور اینکر نے اپنے اگلے پروگرام کے شروع میں اس کی وضاحت بھی کی ہے۔ وضاحتی ویڈیو کلپ بھی میں نے دیکھا۔ میں نے اس کالم کو رکوا دیا۔ جہاں تک وضاحتی خبر کا تعلق ہے تو وہ فرنٹ پیج پر کافی نیچے سنگل کالم شائع کی گئی، حالانکہ صحافتی اقدار کے مطابق اسے پہلے شائع ہونے والی غلط خبر کے برابر نہ سہی تو کم از کم نمایاں تو شائع کرنا چاہیے۔ نثار علی خان کی جانب سے کی گئی وضاحت اگر نہ بھی ہوتی تو واضح تھا کہ اس گفتگو کو لکھتے ہوئے اخبار کی جانب سے غلطی ہوئی ہے اور پروگرام کی ویڈیو ایڈیٹنگ کے دوران کی این ایل ای اور پروڈیوسر کی سماعت گھپلا کر گئی ہے۔ لیکن چھوڑئیے، ہو گیا جو ہونا تھا، بے چین تجسس کےہاتھوں تنگ آکر میں نے ابھی ایک بار پھر پروگرام کا ویڈیو کلپ سنا اور یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ آخر کس طرح اس جملے یعنی ’آپ کے چہرے پر فران (FROWN)آ جاتا ہے‘ کو ’چہرے پر فرعونیت دیکھی ’ سمجھا جا سکتا ہے۔ سمجھ نہیں آئی، لگتا ہے کہ ڈیسک کے لوگوں نے پرانے زمانے کے کاتبوں کی طرح خود ہی جو مناسب سمجھا وہ چلا دیا اور کسی ’بڑے‘ نے اس جانب توجہ نہیں دی۔ اس واقعے سے ہمیں سمجھنا چاہیے کہ بعض اوقات لفظوں کا ہلکا سا ہیر پھیر کس طرح کے منفی نتائج کا موجب بن جاتا ہے۔ ہمیں اس جانب توجہ دینی ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •