پانی کا عالمی دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمیں لگتا ہے کہ انسان بہت ظالم ہے، نہایت سفاک۔ حیوانِ ناطق ہے اِس لیے حیوانیت سے باز نہیں آتا۔ اشرف المخلوقات بنا پھرتا ہے لیکن جہاں کہیں خود سے کمزور دکھائی دے، ہر قسم کی شرافت بالائے طاق رکھ کہ طلم کرنے سے نہیں چوکتا۔ عقل و دانش کا معیار ملاحظہ کیجئے مجال ہے جو ظلم و ذیادتی کرتے ہوے لمحہ بھر کو انجام کے بارے میں سوچے۔ یہ انسان اگر طاقتور مرد ہے تو کمزور عورت اِس کا شکار ہے۔ طاقتور جوان ہے توکمزور بزرگوں کو خاطر میں نہیں لاتا، بچوں کو اپنی دہشت سے مغلوب رکھتا ہے۔ مالک ہے تو نوکر کو جوتی کی نوک پہ نہیں رکھتا۔ معلم ہے تو شاگردوں کو خوف میں مبتلا رکھتا ہے۔ حاکم ہے تو رعایا پہ جبر بن کر طاری رہتا ہے۔ لیکن یہ ظلم و جبر کی حد نہیں، ہمارا خیال ہے کہ انسان تو خود پر بھی قیامتیں ڈھائے رکھتا ہے۔ خود کو بھی نقصان پہنچانے سے باز نہیں آتا۔ یقین کیجیے! انسان خود پہ بھی ظلم کرتا ہے۔

* انسان خود پہ ظلم کرتا ہے جب اپنے اردگرد ماحول کا خیال نہیں رکھتا۔ اِسے آلودہ کرتا ہے۔
* جب اس کی گاڑیوں، مِلوں، فیکٹریوں سے دھواں و دیگر فضلہ یہ زمین اور اِس کی فضا کو برباد کرتے ہیں، آلودہ کرتے ہیں۔ تو یہ بھی انسان کا خود پہ ہی ظلم ہوا۔
* انسان خود پہ ظلم کرتا ہے جب وہ اِک درخت کاٹتا ہے۔ جب اِس کے سامنے اک شجرِ سایہ دار کو کاٹا جاے اور یہ خاموشی سے دیکھتا رہے تو خود پہ ظلم کرتا ہے۔
* اور ذرا اِس ظلمِ عظیم پہ غور کیجیے جو ہم خود پہ روا رکھتے ہیں وہ ہے اللہ تبارک تعالیٰ کی سب سے انمول نعمت پانی کا ضیاع ہے۔

اِس وسیع و عریض کائنات میں زمین ایک ممتاز سیارہ ہے کہ یہاں پر زندہ رہنے کو آکسیجن و پانی دستیاب ہے۔ ہمیں مفت میں یہ دونوں نعمتیں عطا ہوئی ہیں۔ شاید اسی وجہ سے ہمیں ان کی رتی بھر قدر نہیں۔ واللہ! پانی کی کمی کے ہماری زندگی پر کیا اثرات ہوں گے نہ ہم اس سے واقف ہیں نہ احساس ہے۔ آئے لمحہ بھر کو سوچتے ہیں کہ ہمارے پاس کچھ کھانے کو میسر نہیں ہوگا تو گھاس پھوس مٹی پتھر کھائیں گے؟ یا ایک دوسرے کو کاٹ کھائیں گے؟ اور پانی نہ ملا تو کیا ایک دوسرے کا خون پئیں گے۔ اور بھلا کیا جسم میں خون بھی ہوگا۔

بے شک انسان خسارے میں ہے۔ اِس نے وافر و مفت ملی نعمت کی بے قدری کرنی ہے ہے۔ صاف اور میٹھے پانی کے ساتھ ہمارا سلوک تو کسی جذباتی ڈرامے کی ظالم ساس یا سوتیلی ماں سے بھی برا ہے۔ ہم اپنے گھروں، بازاروں، سڑکوں نہ جانے کہاں کہاں یہ میٹھا پانی ضایع نہیں کرتے۔ بے شک ہم (انسان) خسارے میں ہیں۔ بارشوں کی کمی و موسمیاتی تغیر کیا تباہ کن تبدیلیاں رائج کرنے کے درپے ہیں، اؔس کا الارم بج چکا ہے۔ اپنے پاکستان کو ہی لے لیجیے، صرف 2018 میں دو مرتبہ تربیلا و منگلا ڈیمز کی سطح آب خطرے کی حد سے نیچے جاچکی ہے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ ہم انسان جس پہ ظلم ڈھاتے ہیں سال کا ایک دن اس کے نام کردیتے ہیں مثلآ یومِ خواتین، یومِ اطفال و یومِ مزدور وغیرہ۔ بالکل اسی طرح ہر سال 22 مارچ کو اقوامِ متحدہ کے تحت ”بین الاقوامی یومِ آب“ مانایا جاتا ہے۔ بات عجیب سی ہے لیکن لاکھوں سال سے اس زمین پہ بسنے والے انسان، جس کی زندگی کا محور ہی پانی ہے، کو پانی کی اہمیت کا ادراک کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اے بھولے انسان! اس میٹھے صاف پانی کی قدر کر۔

* دیکھ یہ صاف میٹھا پانی نہ رہا تو پھولوں میں خوشبو کو ترسو گے۔
* پھلوں میں رس کو ترسو گے۔
* کھلیانوں میں سبزے کو ترسو گے۔
* لہلہاتی فصلوں سے ملنے والی گندم کے آٹے اور گنے سے ملنے والی مٹھاس (گڑ اور چینی) کو ترسو گے۔
* خشک گرم سڑک پہ کڑی دھوپ میں گھومتے ہوے گھنے پیڑ کی چھاؤں کو ترسو گے۔
* اگر سوکھے پیڑ آکسیجن دینے میں نخرے پہ اتر آئے ناں تو سانس لینے کو ترسو گے۔

ہر سال بین الاقوامی یومِ آب کا ایک تھیم چنا جاتا ہے۔ سال 2018 کا تھیم ہے
“Nature of Water”
اس تھیم کا مقصد یہ ہے کہ پانی کی کمی اور آلودگی سے متعلقہ مسائل و چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کچھ قدرتی حل ڈھونڈے جائیں۔ اِس تحریر میں اوپر جو بحث کی گئی ہے وہ اسی تناظر میں ماحولیاتی نظام کی تباہی کی طرف ہی اشارہ کرتی ہے۔ ہم اپنے ایکو سسٹم کو خاطر میں نہیں لارہے تو فطرت نے ہم سے انتقام لینا ہی ہے۔ یقین کیجیے یہ شدید اور انتہائی سخت انتقام ہوگا۔ غور کیجیے آُج کا تباہ حال ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) انسانی استعمال میں آنے والے پانی کو کیسے تباہ کررہا ہے۔ اس وقت تقریبآ دو ارب سے زائد آبادی ہے دنیا کی جو ٹھنڈے، میٹھے، صاف پینے کے پانی کو ترس رہی ہے۔ یہ کافی بری صورت حال ہے۔

یہ تھیم ترغیب دیتا ہے کہ قدرتی وسائل کو بروئے کار لا کر کارآمد پانی کو بچایا جائے۔ سبزہ زاروں کو ہرا بھرا رکھا جائے۔ حکومتوں کو چاہیے کہ جھوٹے دعووں کو بالائے طاق رکھ چھوڑیں۔ شہری و دیہی آبادیوں میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر چھوٹے چھوٹے جنگلات بسائیں۔ پہاڑوں اور پہاڑی علاقوں کو درختوں سے بھر دیں۔ دریاؤں سے تالابوں، نہروں ندیوں کو پانی جانے کے راستے دیں۔ بارانی علاقوں کو بچائیں۔ یہ سب قدرتی وسائل ہیں اور ہمیں ان کو بچانا ہے۔ ہمیں ٹھنڈا، میٹھا صاف پانی بچانا ہے۔

یومِ آب سے اگلے دن یومِ پاکستان منایا جائے گا۔ اِس مناسبت سے ہمیں ایک قرارداد ٹھنڈے میٹھے پانی کو محفوظ کرنے کی بھی سامنے لانی چاہیے۔ اس قراردا پر عمل؛ یعنی ہماری تھوڑی سی محنت، ذرا سا خیال اور نیچر سے ہماری محبت ہماری آنے والی نسلوں پہ احسان ہوگا۔ احسانِ عظیم ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •